غیر سیاسی تنظیموں نے خواتین پارلیمنٹیرین کی تربیت کی

غیر سیاسی تنظیموں نے خواتین پارلیمنٹیرین کی تربیت کی

اسپیشل فیچر

تحریر :


شرکا:شاہد ہ جمیل بیریسٹر اور سابق وفاقی وزیر قانون و ہیومن رائٹس سید صارم برنی چیئرمین ، صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ صبیحہ شاہ چیئرپرسن ، ویمن ڈویلپمنٹ فائونڈیشن پاکستانرشیدہ شبیرجنرل سیکریٹری، گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر ڈاکٹر انیسہ حنا صدر ، ازل سوشل ویلفیئر آرگنائیزیشن میزبان غلام محی الدین میگزین ایڈیٹریاسمین طحہسینیرسب ایڈیٹررپورٹ : اعجازالحسن عکاسی : محمد مہدی*****٭جب تک ہم خود قدم نہیں بڑھائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے،ہمارے ملک میں خواتین کے گھمبیر مسائل ہیں ان کے حل کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا،شاہدہ جمیل٭لیاری جیسے علاقے میں تبدیلی دیکھی ہے جہاں لڑکیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی وہاں آج خواتین مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، صبیحہ شاہ*****٭ ظلم مردوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے،عورت مضبوط ہے لیکن جب باہر نکلتی ہے تو کمزور ہوجاتی ہے، عورت ہی مظلوم ہے ایسا نہیں ، معاشر ے میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں عورت نے ظلم کیا،صارم برنی٭اپنے حق کے لیے خودکو مضبوط کرناہوگا۔این جی اوز خواتین کی فلاح بہبود کے لیے بہت کام کررہی ان کو مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا،رشیدہ شبیر*****کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں غیر سیاسی سماجی تنظیمیں اہم کردار کرتی ہیں۔پاکستان میں بھی بے شمار غیر سیاسی تنظیمیں اس حوالے سے سرگرم ہیں جن کی کارکردگی کے بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں ۔ کچھ کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف پیپر ورکنگ پر اکتفا کررہی ہیں ۔ کچھ محض پروپیگنڈے کی حد تک سماجی کاموں میں مصروف ہیںاور چراغ تلے اندھیرا کے مصداق ان کے اپنے ادارے کے لوگ تنخواہوں کے حصول کے لیے پریشان رہتے ہیں لیکن ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں کی مثل کچھ کی کارکردگی قابل قدر ہے اور لوگ ان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کیے جانے والے کاموں کے معترف ہیںاور ایسی ہی این جی اوز دراصل فنڈز کی مستحق ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان این جی اوز کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جائے جو محض کاغذی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں ۔پاکستان میں کام کرنے والی بیشتراین جی اوز کے بارے میں لوگوں کی رائے ہے کہ یہ محض تصویروں میں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو جہاں حقیقی سماجی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔وہیں فلاحی کام بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ باقاعدہ اس کاروبار میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور اسے ثواب کے بدلے منافع بخش بزنس بنادیاگیا ہے جب کہ غیر سماجی تنظیموں کے اہم مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ یہ کسی منافع کے لیے وجود میں نہیں آتی ہیں جہاں تک خواتین کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کا تعلق ہے تو یہ خواتین کے حقوق کی بحالی کے لیے سب سے پہلے عورتوں میں شعور اور اعلیٰ صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں اور اس حوالے سے مختلف کانفرنس ورک شا پس اور سیمینارکا اہتمام کرتی ہیں۔غیر سماجی تنظیموں کا پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود میں کیاکردار ہے ۔ اس موضوع کو زیر بحث لانے کے لیے ہم نے گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹرکے تعا ون سے ایک فورم کا انعقاد کمیونٹی سینٹرکے ہال میں کیا ۔****** دنیا: اخبارکی کوشش رہی ہے کہ بزم دنیا کے تحت عوام کے مسائل حل کیے جائیں اورسماجی ، معاشی اورمعاشرتی مسائل کو اجاگر کیا جائے ۔ تاکہ ماہرین کے مشاہدوں اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔انسان جب سے دنیا میں آیا ہے اپنی فطرت ساتھ لایا ہے جس کے مختلف پہلو ہیں جس کے تحت وہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے اور بھلائی کے کام کرتاہے ، دنیا بھر کے ادارے اور اخبارات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں پاکستان میں سماجی کام جس انداز سے ہوتے ہیں وہ شاید ہی کہیں اورہوتے ہوں ، خواتین بھی ان کاموں میں کسی سے پیچھے نہیں، پاکستان میں خواتین کی بے شمار تنظیمیں فلاحی کام بخوبی سرانجام دے رہی ہیں ۔ان ہی باتوں کومدنظر رکھتے ہوئے ہم نے سوچا کہ خواتین کے مسائل پر بات کی جائے ، آج کا موضو ع ہے ــ’’ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے این جی اوز کے کردار، خواتین کے حوالے سے اہم مسائل پر بات کرنے کے لیے صوبائی وزیر ویمن ڈیولپمنٹ سوشل ویلفیئر روبینہ قائم خانی نے آنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن اب فون نہیں اٹھا رہی ہیں ۔ شاہدہ جمیل کے متعلق اتنا ضرور کہوں گی کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف کی کابینہ میں تھیں تو یہاں ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اسی دن کابینہ کا اجلاس تھا انہوں نے یہ کہہ کر کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی میں جن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہوںوہاں جانا زیادہ ضروری ہے اس لیے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتی ۔اس کے بعد پرویز مشرف نے کابینہ میں ایک دن مخصوص کردیا تھا کہ اس دن کابینہ کا اجلاس نہیں ہوگا تاکہ خواتین اپنی دیگر مصروفیات پوری کرسکیں ۔یہ طریقہ ہوتا ہے لوگوں کے مسائل میں شامل ہونے کا ۔ اب میں دعو ت دوں گی صبیحہ شاہ کووہ اپنی این جی اوز کے بارے میںہمیںکچھ بتائیں ۔ صبیحہ شاہ: خواتین این جی اوز عورتوں کے لیے بہت کام کررہی ہیں ، میرا تعلق لیاری کے علاقے سے ہے جو آج کل اخبارات اور چینل کی زینت بنا ہوا ہے ، لیاری میں پیدا ہوئی وہیں ہوش سنبھالا اور وہیں سے کام کا آغاز کیاآج وہاں کی صورت حال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے خواتین کو اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے، لیاری جیسے علاقے میں تبدیلی دیکھی ہے جہاں لڑکیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی وہاں آج خواتین مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، ہمارے سیاست دانوں نے سیاست چمکانے کے لیے لیاری کے غریب عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر کلاشنکوف دے دی، کہتے ہیں کسی قوم کو تباہ کرنا ہوتو اس کے ہاتھ سے قلم لے لووہ خود تباہ ہوجائے گی۔ ہماری این جی اوز کے تحت لیاری میںبچیوں کی شادیاں اوبے سہار ا لڑکیوںکو روزگار کے لیے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ معاشر ے میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرسکیںاس کے علاوہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جہاں عورتوں کوپڑھنے کی اجازت نہیں ہم نے وہاں جاکر ان کے والدین کو سمجھایا ان کو پڑھائیں۔ ایک خاتون سے معلوم کیا کہ تم تعلیم حاصل کررہی ہو اس کاکوئی فائدہ ہے اس نے جواب دیا پہلے میں بس میںسفر کرتی تھی لوگوں سے بس کا معلوم کرتی تھی اورکہیں کی کہیں چلی جاتی تھی مجھے بس کے نمبر کا معلوم نہیں ہوتا تھا اب میں بس کا نمبر پڑھ کر دیکھ کر سوار ہوتی ہیں کسی سے معلوم نہیںکرنا پڑتا۔ خواتین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ خود کفیل نہیں ہوتیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔ خواتین کے لیے گھروں میںسلائی کڑھائی، دست کاری اور چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرائے جائیں۔ چیزوں کو اتناآسان بنادیں جو کام کرنے کا منع کرتی ہیں وہ کرنے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ عورت کو اپنے گھر بار اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے سارے کام کرنے ہوتے ہیں جن عورتوں نے وقت نکال کر اضافی کام کئے ان کے مسائل کم ہوئے اور گھر میں تبدیلی آنا بھی شروع ہوگئی، ان چیزوں کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے عورت کو اس کا شعور دینا ہے کہ سارے کام کرنے کے ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے تب ہی یہ کام ممکن ہوسکتے ہیں ۔ عورتوں کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جو گھر کے کام کے ساتھ ساتھ روزگاراور فلاحی کام بھی کرتی ہیں۔ دنیا: ڈاکٹر انیسہ آپ کی تنظیم کے تحت کیا فلاحی کام کیے جاتے ہیں؟ڈاکٹر انیسہ حنا : خواتین کو معاشرے میں باہمت اور برسرروزگار کرنے کے لیے دست کاری، سلائی کڑھائی اور دیگر کام کرارہے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں عزت اور ہمت کے ساتھ اپنے گھر بار چلا سکیں اس کے علاوہ ہم غریب بچیوں کی شادیاں بھی کررہے ہیں۔دنیا : رشیدہ شبیر کو دعوت دیں گے کہ وہ گل ِرعنا نصرت کمیونٹی سینٹر کے بارے میں کچھ بتائیں جو کئی برسوں سے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔رشیدہ شبیر : گل رعنا کی تاریخ بہت پرانی ہے اسے پاکستان کا قدم یم ترین ادارہ کہا جاسکتا ہے 1949 میں یہ قائم ہوا۔ تقسیم ہند کے بعد مہاجرین کی آمد کے بعد اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کہ خواتین کی فلاح بہود کے لیے ایک ادارہ ہونا چاہیے جو خواتین کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو، ان ہی وجوہات کی بناء پر بیگم رعنا لیاقت علی نے ان کی بنیاد ڈالی ، یہ ادارہ ہمارا گھر بن چکا ہے جس میں نہ صرف مسائل کے حل کا ادراک کیا جاتاہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کیا جاتاہے۔ دنیا : شاہد ہ جمیل اپنے تجربات کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے این جی اوز کا کیا کردارہے۔شاہدہ جمیل : پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو این جی اوز کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ، ہم نے خواتین پارلیمنٹیرین کی تربیت کی کہ کس طرح ایوانوں میں خواتین کے مسائل پر آواز اٹھائی جاتی ہے ۔ساری سیاسی جماعتیں اگر مل کر فیصلہ کرلیں کے خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنی ہے تو مسائل کا حل ناممکن نہیں۔جب تک ہم خود قدم نہیں بڑھائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ہمارے ملک میں خواتین کے گھمبیر مسائل ہیں ان کے حل کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔دنیا : صارم برنی خواتین این جی اوز کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کریںکہ انہیں کن کن مشکلات کا سامنا ہوتاہے ۔صا رم برنی : پاکستان میں بہت ساری خواتین این جی اوز صرف کاغذوں میں کام کررہی ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہورہا ۔ عورت مضبوط ہے لیکن جب باہر نکلتی ہے تو کمزور ہوجاتی ہے ۔ عورت ہی مظلوم ہے ایسا نہیں ، معاشر ے میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں عورت نے ظلم کیا ۔ایک لڑکی نے اپنے باپ اور بھائی کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر ذبح کیا تھا آج بھی جیل میں موجود ہے ۔ عورت اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھے اگر یہ عقل مندی سے کام لے تو مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ شاہد ہ جمیل: معاشرے میں عورتوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں ایسے گھر بھی ہیں جہاں بیویوں نے ساس کی پٹائی کروائی ہے گھریلو سیاست میں خواتین کا کردا ر اہم ہوتاہے مرد کے پیچھے لگے رہنا اس کے دماغ کو گھمادینا ، عورت عورت کی دشمن ہے یہ کہنا غلط ہے اس میںدونوں کے مزاج کا عمل دخل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے ہمارے قانون میں خامیاں موجودہ ہیں اس میں قصورقانون بنانے والے کا ہے ۔ جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس میں ہمارے تحفظات ہیں اس کو بدلنا ہوگا ورنہ اسلام بدنام ہوگا ان چیزوں کو سمجھ کر آگے چلنا ہوگاتب ہی کام یاب ہوں گے ۔صارم برنی : قوانین میں بہت کچھ موجود ہے لیکن ہم جذبات میں آکر خود اس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیںاپنے رویّے کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ ظلم صرف عورتوں کے ساتھ ہورہا ہے مردوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے ہماری عورت کو مرد کے ساتھ چلنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے عورت کو اللہ نے وہ طاقت نہیں دی جو مرد کو دی ہے ۔دکھ میں دونوں برابر ہیں ،عورتیں صرف اپنی زبان پر قابو کرلیں تو حالات بہت بہتر ہوجائیں گے ۔عورت تو مرد کی کمزوری ہوتی ہے اگر یہ زبان کا صحیح استعمال کرے تومرد کیسے ظلم کرے گا۔عورت صرف عورت نہیں وہ ماں بہن ساس بہو نند ہے ہر عورت سے پوچھو ابو کیسے ہیں جواب ملے گا بہت اچھے ہیں کیا ابو مرد نہیں ، جب ابو اچھے ہیں تو شوہر برا ہوسکتا ہے مرد نہیں ۔آپ مردوں کے خلاف بات نہیں کریں اس شخص کے خلاف بات کریں جو ظلم کرتا ہے ۔ہم اس بحث میں نہیں جاتے جوظلم کرتاہے وہ براہے ۔اس کے خلاف سب کو مل کر کھڑاہونا چاہیے ۔عورت کمزور ہے تو پٹ جاتی ہے اگر طاقت عورت کے پاس ہوتی توسارے مرد چھپتے پھرتے۔شاہدہ جمیل : عورتوں کے تحفظ کے حوالے سے صارم برنی کی بات حوصلہ افزا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میںرواج ہے عورت کوبے وقوف سمجھتے ہیں، ماراپیٹا جاتا ہے یہ معاملہ ہرجگہ موجود ہے ۔ معاشرے میں ایسی بہت سے مثالیں ہیں جس میں عورتوں پر تشدد کرکے ہڈیاں توڑی جاتی ہیں ، تیزاب پھینکا جاتاہے ،اپاہج کیاجاتا ہے اس میں شعور کی ضرورت ہے مہذب اور اسلامی معاشرہ بھی اس بات کی اجازت نہیںدیتا ۔ان چیزوں کو کنڑول کرنے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔دنیا : این جی اوز کا عملی کردارکیاہے ۔ فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔شاہدہ جمیل : کچھ این جی اوز لوگوںکو ذہنی طور پر الجھا دیتی ہیں جس سے والدین پریشا ن ہوجاتے ہیں۔والدین کو چاہے معلومات کرکے این جی اوز کے پاس جائیں جو این جی اوز عورتوںکے مسائل حل کرنے کے بجائے پریشان کررہی ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔صبیحہ شاہ : این جی اوز سے مراد بڑے بڑے اداروں سے فنڈز لینا ہی مقصود نہیں ۔ ہمارے پاس اتنے فنڈز نہیں ہوتے۔ مخیر حضرات کے تعاو ن سے سا لانہ پروگرام کرتے ہیں جس میںخواتین کی شادیاں کرائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ان ٹیسٹ کا آغاز کیاجو خواتین کی شادی سے پہلے ضروری ہوتے ہیں ۔ ایک این جی اوز کے پاس تربیت کے لیے گئی وہاںدیکھا زیادہ تر خواتین شوہر سے لڑائی جھگڑے کا کیس لے کر آتی ہیں جن کی مصالحت کرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تاکہ عورت کا گھرٹوٹنے سے بچ جائے۔بہت سی این جی اوزاس حوالے سے اہم کردار اد کررہی ہیں کہ اگر یہ عورت طلاق لے لے گی تو اخراجات کیسے پورے ہوںگے بچوںکی دیکھ بھال کون کرے گامعاشرے میں اس کا کیا مقام ہوگا کیونکہ جس معاشرے میںہم رہ رہے ہیں اس میں قصوروار عورت ہی ہوتی ہے چاہے غلطی شوہر کی ہو۔ان معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری کوشش کی جاتی ہے صلح ہوجائے ۔کئی حکومتی مراکز میںجاکر بھی مسائل حل کرائے ہیںسب این جی اوز خراب نہیں ہوتیں ۔ رشیدہ شبیر : گل رعنا میںزیادہ تر غریب عورتوں کے مسائل حل کئے جاتے ہیں، اپنے حق کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرناہوگا۔این جی اوز خواتین کی فلاح بہبود کے لیے بہت کام کررہی ان کو مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا، کمیٹی میں اتنے فنڈز موجود ہوتے ہیں جس سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلیتے ہیں ۔صارم برنی : این جی اوز کا مطلب نان گورنمنٹ آرگنائزیشن ہوتاہے جو مدرسہ ، مسجد بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ عالمی سطح پربھی کام کررہے ہوتے ہیں۔ باہر سے فنڈز کاغذی کارروائی پر آتے ہیں کاغذو ںمیں رپورٹ بھیج دی جاتی ہے اور فنڈز آجاتے ہیں۔ این جی اوزپر سوالات بہت اٹھتے ہیں۔دنیا : روزنامہ دنیاکی طرف سے ہم رشیدہ شبیر کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کے مسائل پربات کرنے کے لیے ہمیں پلیٹ فارم مہیا کیا۔*****این جی اوزکا تاریخی پس منظر: رفاہِ عامہ کے لئے رضا کارانہ خدمات سرانجام دینے کا تصور بہت پرانا ہے۔ اسلامی تاریخ تو رفاہی و غیر سرکاری تنظیموں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اسپتال، سڑکیں، پل جیسی بنیادی ضروریات اور انتظامات تو انفرادی و اجتماعی سطح پر قائم کئے گئے۔ وقف کا نظام دور اسلام کے آغاز سے ہی چلا آرہا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی قیمتی جائیدادیں وقف کیں۔ ان کے یہ اوقاف اپنی خدمات صدیوں تک انجام دیتے رہے۔ لیکن اس دور کی یہ تنظیمیں NGOs نہ کہلاتی تھیں۔ اگر NGOs کی بات کی جائے تو ان کا زیادہ چرچا 90,80,70 کی دہائی میں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب مساوات مرد و زن اور حقوق نسواں کی تحریکوں اور مسائل نے زور پکڑا تھا۔انسانی معاشرے کی ترکیب،ابتداء سے ہی افراد کے مختلف نوع کے پیشے اختیار کرنے کے باعث سماجی اور معاشرتی اعتبار سے مختلف رہی ہے۔ جب کرنسی کا رواج نہ تھا تو اجناس اور ہنر آپس میں بانٹ لئے جاتے تھے۔ انسان نے جب اجتماعیت اور آبادیوں میں رہنا شروع کیا تو قیادت کی جبلی دوڑ شروع ہوئی۔ جس کے لئے طاقت اور پیسہ ہزاروں سال سے معیار کی کسوٹی رہی۔ انسان نے اپنے درمیان حکمرانی کے جو بھی اصول وضع کئے ان کی بنیاد جمہوریت کی شکل میں اکثریت یعنی اثر و رسوخ یا آمریت رہی جس میں طاقت اور دولت کا بے رحمانہ استعمال شامل ہے۔ اپنے ہی بنائے ہوئے اس نظام نے طبقاتی نظام کو جنم دیا اور Have اور Have not کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔تمام الہامی نظام انسانوں کی برابری یکسانیت اور معاشروں کو انسانی خداؤں سے بے زار کرکے حقیقی رب کی غلامی کی جانب مائل کرتے رہے ہیں۔ جس نے الہامی اور انسانی نظام کی کشمکش کو جنم دیا۔ ایسے ممالک جہاں وہ اپنے نظریات براہ راست یا بزور بازو ٹھونسنے سے عاجز ہیں وہاں کی تجارت کو انہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور معاشرتی نظام کو NGOs کے ذریعے کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا۔******شرکا کے سوالات:سوالات کے سیشن کے دوران ایک خاتون نے کہا بد قسمتی سے پاکستا ن میں جتنی سیاسی جماعتیں برسراقتدار آتی ہیں سارے فنڈز اپنے لوگوں میں تقسیم کردیتی ہیں ۔حکومتی اداروں میں ایسی این جی اوز کی آواز دبادی جاتی ہےجن سے ان کاتعلق نہیں ہوتا تاکہ ان کو فنڈز نہ دینے پڑیں۔یہ این جی اوز فنڈز کے لیے اگر لوگوں کے دروازوں پر جائیں تو ان کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی این جی اوز اپنے مقاصد میںکام یاب نہیں ہوتیں۔ مذاکرے میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر تشدد کرتا ہے اس سے سوال کیاگیا کہ شوہر تشدد کیوں کرتا ہے ،ماں بات کے پاس کیوں نہیں گئی کیا بہن بھائی کچھ نہیں کرتے جو یہاں آئی ہو کیا وجوہات ہیں لیکن وہ ڈر کی وجہ سے زیادہ نہیںبتاسکی ۔ اس موقع پر صارم برنی نے بتایا کہ اس کا شوہربہت ظلم کرتا ہے والدین اس کوروکنے کی جرات نہیں کرتے ہیں ، اس نے ہمت کرکے اپنی آواز ہم تک پہنچائی ہم اس کو حقوق دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایسے مظلوموں کی اگر مدد نہیں کریں گے تو لوگ ڈر ڈر کے مر جائیں گے خدارا آگے آئیں اور ان لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں تاکہ یہ مقابلہ کرسکیں ، میں جو کچھ کررہا ہوں صرف ایک کوشش ہے ان کو انصاف مل جائے ۔ایک شوہر نے اپنی بیوی کی ناک دانتوں سے کاٹی اور باقاعدہ کھائی تھی اس کو پکڑ کرجیل بھجوادیا گیا بعد میں معلوم ہوا کے کسی نے ترس کھاکر اس کو رہا کرادیا ۔اس کو سزا ہوتی تو ظالم شوہروں کو عبرت ملتی لیکن یہاں کسی کو سزا نہیں ملتی ہے ہمارے معاشرے میںایسے افسوس ناک واقعات کی کمی نہیںان ہی کی روک تھام کے لیے کوشش کررہے ہیں۔جو لوگ ظلم کا شکار ہورہے ہیں ہم سے رابطہ کریں جتنا ممکن ہوسکے گا مدد کریں گے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گندم کی کٹائی اور گہائی

گندم کی کٹائی اور گہائی

محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔

سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی گہرائیوں میں پوشیدہ اسرار ہمیشہ سے انسان کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث رہے ہیں۔ حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک پراسرار ''سنہری انڈا‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوا، جس نے ابتدا میں سائنسدانوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس عجیب و غریب شے کی ساخت اور مقامِ دریافت نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا، حتیٰ کہ بعض حلقوں میں اسے خلائی مخلوق سے بھی جوڑ دیا گیا۔ تاہم تین سال کی مسلسل تحقیق اور سائنسی تجزیے کے بعد ماہرین نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جو نہ صرف سمندری حیات کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔سمندر کی تہہ میں دریافت ہونے والی یہ عجیب شے، جس کا سائز تقریباً چار انچ (10 سینٹی میٹر) سے کچھ زیادہ تھا، خلیجِ الاسکا کے نیچے دو میل (3.25 کلومیٹر) سے زائد گہرائی میں پائی گئی تھی۔سمندری حیاتیات کے ماہرین کی تحقیق کے باوجود اس کی اصل حقیقت جاننے کیلئے کئی سالوں پر مشتمل ایک پیچیدہ تحقیق درکار ہوئی۔ آخرکار معلوم ہوا کہ یہ نہ تو ایلین کے انڈے جیسا تھا، نہ کوئی نئی عجیب نوع بلکہ درحقیقت یہ انڈا تھا ہی نہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ نام نہاد ''سنہری انڈا‘‘ دراصل مردہ خلیات کا ایک گچھا تھا، جو گہرے سمندر میں پائے جانے والے ایک بڑے اینیمون (anemone) کی بنیاد کا حصہ تھا۔ یہ زرد رنگ کا گچھا اصل میں اس جاندار کو چٹان کے ساتھ جوڑنے کا کام کرتا تھا، تاہم بعد میں یا تو یہ اینیمون مر گیا یا کسی نئی جگہ منتقل ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے باقیات وہیں رہ گئیں۔اس موضوع پرتحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسٹیون آسکاوِچ (Dr Steven Auscavitch)، جو اسمتھسونین انسٹیٹیوشن (Smithsonian Institution)کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے وابستہ ہیں کے مطابق اس معمہ کو حل کرنا انتہائی تسلی بخش ہے۔ اس کی دریافت کے کئی سال بعد بھی ہمیں اس کی شناخت کے بارے میں مسلسل سوالات موصول ہوتے رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے سیارے کی ان چھوٹی مگر عجیب چیزوں کی جانب توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ ''سنہری انڈا‘‘ 2023ء میں ایک گہرے سمندر کی مہم کے دوران دریافت ہواتھا، جس کی قیادت نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے کی تھی۔ ریموٹ سے چلنے والی آبدوز ''ڈیپ ڈسکورر‘‘ کے آپریٹرز سمندر کی تہہ کے اوپر گشت کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک ایسی چیز نظر آئی جس کی کوئی وضاحت ممکن نہ تھی۔ یہ شے ہموار، چمکدار اور نرم تھی اور اس کے سامنے کی جانب ایک بڑا سا سوراخ موجود تھا۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کسی نئی قسم کے اسفنج یا کسی جانور کے انڈے کا خول ہو سکتا ہے۔دریافت کے وقت ایک محقق نے بتایا تھاکہ کچھ اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر باہر نکلنے کی۔تاہم جب اس سنہری گچھے کو تحقیقی جہاز اوکیانوس ایکسپلورر (Okeanos Explorer) پر لایا گیا تو صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ یہ کسی حیاتیاتی (جاندار) نوعیت کی چیز ہے۔ آن لائن دنیا میں اس پراسرار شے کے بارے میں قیاس آرائیاں تیزی سے پھیل گئیں اور بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کہیں سائنس دان واقعی کسی خلائی مخلوق تک تو نہیں پہنچ گئے۔ کچھ سنجیدہ رائے رکھنے والوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ کوئی نئی نوع ہو سکتی ہے، کیونکہ گہرے سمندروں میں پائی جانے والی تقریباً دو تہائی مخلوقات اب تک سائنس کیلئے نامعلوم ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کسی سمندری جانور کے انڈے کا خول ہو۔ معمہ حل نہ ہونے پر محققین نے اس نمونے کو اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری بھیج دیا، جہاں یہ ایک بار پھر توقع سے زیادہ پیچیدہ پہیلی ثابت ہوا۔ ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر ایلن کولنز کہتے ہیں کہ ہم سیکڑوں مختلف نمونوں پر کام کرتے ہیں اور مجھے امید تھی کہ ہمارے معمول کے طریقۂ کار اس معمہ کو حل کر دیں گے۔ لیکن یہ ایک خاص کیس بن گیا جس کیلئے مختلف ماہرین کی خصوصی مہارت اور توجہ درکار تھی۔ یہ ایک پیچیدہ معمہ تھا جسے حل کرنے کیلئے ساختی، جینیاتی، گہرے سمندر اور بائیو انفارمیٹکس کی مہارتوں کی ضرورت پڑی۔آخرکار، دونوں نمونوں کے مائٹوکانڈریا میں موجود ڈی این اے کی ترتیب (سیکوینسنگ) سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ واقعی ''Relicanthus daphneae‘‘ہی ہے۔ یہ دیوہیکل سمندری اینیمون دو میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں تیرتے ننھے جانداروں کو شکار بناتے ہیں۔ یہ سنیڈیرینز (Cnidarians) میں سب سے بڑے شمار ہوتے ہیں اور عموماً سمندر کے ان مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں جہاں زیر آب آتش فشانی دہانے غذائیت سے بھرپور پانی خارج کرتے ہیں۔شریک مصنفہ شارلٹ بینیڈکٹ کے مطابق یہ نوع گہرے سمندر کی تحقیق کیلئے ایک علامت (ماسکوٹ) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف ان جانداروں کی حیرت انگیزی کو ظاہر کرتی ہے جو ایسے مشکل اور ناقابلِ رسائی ماحول میں زندہ رہتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم اب تک ان کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ تاہم، سنہری انڈے کا معمہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ مس بینیڈکٹ کے مطابق اس سنہری گول شے کے بارے میں ایک بڑی الجھن یہ تھی کہ اگر یہ واقعی ریلیکنٹس ہے تو اس کا باقی حصہ کہاں گیا اور یہ اس سے الگ کیسے ہوا؟ کیا یہ جاندار مر گیا اور یہ باقیات چھوڑ گیا، یا پھر اینیمون کا باقی حصہ الگ ہو کر سرک گیا؟

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

گھر کی خاموش دیواروں، لکڑی کے فرنیچر اور کتابوں کے ڈھیروں میں ایک ایسا دشمن پل رہا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خاموش تباہی پھیلانے والا کیڑا دیمک کہلاتا ہے۔ دیمک نہ صرف گھروں اور عمارتوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ قیمتی دستاویزات، کتب اور لکڑی سے بنی اشیاء کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی موجودگی کا اندازہ اس وقت کرتے ہیں جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیمک کی بروقت شناخت اور اس کا سدباب نہ کیا جائے تو یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑے معاشی نقصان میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔دیمک کا رنگ عموماً سفید بھورا ہوتا ہے، اس لئے اس کو سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک بھی کالی چیونٹی کی طرح خوراک کی طرف قطار بنا کر سفر کرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کالی چیونٹی سورج کی روشنی میں بھی کام کر سکتی ہے جبکہ دیمک سورج کی روشنی میں کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے دیمک مٹی کی سرنگ بنا کر اس سرنگ کے اندر قطار بنا کر سفر کرتی ہیں۔ دیمک ایک سوشل کیڑا ہے، اس کی کالونی میں ملکہ اور بادشاہ، سولجرز اور ورکرز ہوتے ہیں۔جب دیمک کی کالونی فل سائز میں پہنچتی ہے تو اس میں 60ہزار سے 2لاکھ تک ورکرز ہوتے ہیں۔ کالونی میں حکمرانی ملکہ کی ہوتی ہے جو 10ہزار سے 20ہزارتک ایک دن میں انڈے دیتی ہے اور اس کی عمر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دیمک کی خوراک عموماً لکڑی ہے اس کے علاوہ وہ کتابیں، کپڑے، فرنیچر، قیمتی پیپرز بھی کھا جاتی ہے۔کماد یا دوسری فصلوں میں دیمک کا حملہ جڑ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی مرغوب غذا بھی سوکھی ہوئی جڑیا تنا ہوتا ہے۔ کھیت میں سوکھے ہوئے پودے اس کے حملہ کی نشانی ہیں۔ اگر ان پودوں کو اُکھاڑا جائے تو جڑیں کٹی ہوئی ملیں گی۔ سوکھی ہوئی جڑیں ختم کرنے کے بعد دیمک تنے پر موجود سوکھے ہوئے پتوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ان کے خاتمہ کے بعد سبز پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ درختوں پر حملہ کی صورت میں پودے کی پہلے ایک شاخ سوکھتی ہے اور اس طرح تمام شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور پودا پورا ختم ہو جاتا ہے۔ کنو شاید واحد پودا ہے جو اس موذی کیڑے کا آخری دم تک مقابلہ کرتا ہے۔ کئی شاخیں سوکھ جانے کے باوجود بھی پودہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔کپاس ، گندم، مرچ اور دوسری سبزیوں وغیرہ میں دیمک کے حملہ کی صورت میں کھیت میں کئی پودے مختلف فاصلوں پر خشک ہو جاتے ہیں اور کئی دفعہ یہ نقصان معاشی حد سے زیادہ ہو جاتا ہے اور دیمک مارا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔فصلوں والی زمینوں پر عمارات بنائی جاتی ہیں تو ان عمارات میں بھی دیمک کا حملہ ہو جاتا ہے۔ عمارات کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے انجینئرز، آرکٹیکٹس اور کنسلٹنٹس دیمک مار دوائی کا استعمال تعمیرات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ انتہائی آسان، کم خرچ اور موثر ترین ہے۔ عمارات میں دیمک مار دوائی کا استعمال قبل از تعمیر اور تعمیر کے بعد کیا جاتا ہے قبل از تعمیر پہلی دفعہ بنیادیں کھودنے کے بعد بنیادوں کے فرش پر سپرے کیا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ فرش بندی کیلئے مٹی ڈال کر ہموار کرنے کے بعد پریشر پمپ کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے۔تعمیر شدہ عمارات جہاں دیمک کی مٹی کی سرنگیں موجود ہوں ماہر حشریات( انٹو مولوجسٹ) کی نگرانی میں کسی صحیح اور سفارش کردہ دیمک مار دوائی کا بذریعہ ڈرل اور انجیکشن کا طریقہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عمارت کی دیواروں کے اندر اور باہر ساتھ ساتھ 2فٹ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل کچی مٹی تک سوراخ کرکے دوائی کا محلول تقریباً 4لیٹر فی سوراخ بذریعہ پریشر مشین زیر زمین پہنچانا ضروری ہے تاکہ دیواروں کے ساتھ ساتھ دوائی کی تہہ لگ جائے اور دیمک الماریوں اور دروازوں تک دوائی کی تہہ کو پار کرنے کی کوشش کرے تو مرجائے۔ ایک بات بہت ضروری ہے کہ آج کل عطائی ڈاکٹروں کی طرح دیمک کنٹرول کے پروفیشن میں بھی عطائی قسم کے لوگ داخل ہو گئے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ادویات بھی جعلی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیمک کنٹرول کا کام صرف اور صرف انٹو مولوجیسٹ کی زیر نگرانی کروانا چاہئے اور اس سلسلہ میں دیمک مار دوائی بھی بااعتماد پارٹی سے خرید کرکے استعمال کروانی چاہئے۔ دیمک کنٹرول کے عمل کا خرچہ مقابلتاً گھر، عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ دروازوں، کھڑکیوں کو دیمک مار دوائی لگانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا جب تک عمارت کو دیمک سے صحیح طریقہ یعنی ڈرل اور پریشر مشین سے دوائی انجیکٹ نہ کی جائے تاہم فرنیچر وغیرہ دیمک مار دوائی لگانے کی وجہ سے دیمک اور گھن سے محفوظ رہتا ہے۔

فلاسفر!

فلاسفر!

آخر اس گرم سی شام کو میں نے گھر میں کہہ دیا کہ مجھ سے ایسی تپش میں نہیں پڑھا جاتا۔ ابھی کچھ اتنی زیادہ گرمیاں بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ امتحان نزدیک تھا اور تیاری اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک قسم کا بہانہ تھا۔ گھر بھر میں صرف مجھے امتحان دینا تھا۔ حامد میاں امتحان سے فرنٹ ہوچکے تھے کہ اگلے سال دیں گے۔ ننھی عفت کو خواہ مخواہ اگلی جماعت میں شامل کردیا گیا تھا۔ باقی جو تھے وہ سب کے سب پاس یا فیل ہوچکے تھے۔لازمی طور پر میری ناز برداریاں سب سے زیادہ ہوتیں۔ طرح طرح کے ناشتے، ذرا ذرا دیر کے بعد پینے کی سرد چیزیں، اور ادھر ادھر کے کمروں میں مکمل خاموشی! بچوں کو ڈرایا جاتا کہ خبردار جوان سے بات کی تو، خبردار جوان کے کمرے کے نزدیک سے گزرے، خبردار جو یہ کیا جو وہ کیا، یہ امتحان دے رہے ہیں!ادھر امتحان کم بخت ایسا زبردست تھا کہ کسی طرح کتابیں قابو میں نہ آتی تھیں۔ آخر تنگ آکر میں نے کہہ ہی دیا کہ مجھ سے یہاں نہیں پڑھا جاتا۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ پہاڑ پر جاؤں گا۔ کئی دنوں تک گھر میں یہی ذکر ہوتا رہا۔ آخر ایک دن مجھ سے کہا گیا کہ تیار ہو جاؤں۔ ابا کے کوئی خاں صاحب یا خان بہادر کی قسم کے عزیز دوست ایک مہینے سے پہاڑ پر جا چکے تھے۔ وہاں تار بھیجا گیا اور انہوں نے مجھے بلا لیا۔ گھر میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں میری ہم عمر ایک لڑکی بھی ہے۔ اس پر میرے کان کھڑے ہوئے، چنانچہ تقریباً سارے گرم سوٹ ڈرائی کلین کرانے کیلئے دے دیے گئے۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ وہ فلسفہ پڑھتی ہے اور عینک لگاتی ہے۔ لا حول ولا قوۃ! چلو اس کا بھی فیصلہ ہو گیا۔ اب مزے سے پڑھیں گے۔ لیکن عجیب الجھن سی پیدا ہوگئی۔ فلسفی لڑکی! اس پر طرہ یہ کہ عینک لگاتی ہے۔میں وہاں پہنچا۔ ایک صاحب مجھے لینے آئے۔ میری عمر کے ہوں گے۔ بولے ''میں ہوں تو رفیق، لیکن مجھے رفو کہا جاتا ہے‘‘۔ ان کے مکان تک آٹھ دس میل کی چڑھائی تھی۔ وہ کار میں آئے تھے، لیکن ہم نے کار واپس بھیج دی کہ مزے مزے سے پیدل چلیں گے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں۔ پتہ چلا کہ وہ بھی کسی امتحان کے پھیر میں ہیں۔ وہ خان صاحب (یا خان بہادر) کے کچھ چچا کے ماموں کی بھتیجی کی خالہ کے پوتے کے چچازاد بھائی کی قسم کے عزیز تھے۔ کافی دیر حساب لگانے کے پتہ چلا کہ وہ تقریباً ان کے بھتیجے تھے۔ پھر ان فلاسفر صاحبہ کا ذکر ہوا۔ شکیلہ نام تھا۔ ہم دونوں سے عمر میں دوتین سال بڑی تھیں اور فلسفے کی کوئی بڑی ساری ڈگری لینے کی فکر میں تھیں۔ چلتے چلتے کافی دیر ہوگئی تھی۔ رفو ہاتھ سے اشارہ کر کے بولے ''بس یہ موڑ اور رہ گیا ہے‘‘۔سامنے بادل ہی بادل چھائے ہوئے تھے۔ آگے راستہ نظر نہ آتا تھا۔ رفو بولے ''ایک عجیب بات ہے۔ اس موڑ پر ہمیشہ یا تو بادل ہوتے ہیں یا دھند‘‘، اب ہم دھند میں سے گزر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ دھند صاف ہوئی تو موڑ کے بعد ان کی کوٹھی یکلخت سامنے نظر آنے لگی۔ بس ایک گہرا سا کھڈ تھا بیچ میں۔ لیکن ابھی آدھ میل کا چکر اور تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کوٹھی کے قریب درختوں کے جھنڈ میں ایک پتھر پر کوئی خاتون کھڑی تھیں۔ چھریرا قد، لہراتے ہوئے پریشان بال، ہلکا گلابی چہرہ اور ناک پر کالے فریم کی ایک عینک۔''یہی ہیں شکیلہ‘‘ رفو بولے۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ انہوں نے سر کی جنبش سے جواب دیا۔ اتنی بری نہیں تھیں جتنا میں سمجھے بیٹھا تھا۔ اگر وہ موٹی سی عینک نہ ہوتی تو شاید حسین کہہ سکتے تھے۔ یا کم از کم وہ بھدا سا سیاہ فریم نہ ہوتا۔ میں کنبے میں بہت جلد گھل مل گیا۔ رفو اور میں تو بالکل بے تکلف ہوگئے، لیکن شکیلہ تھیں کہ لی ہی نہیں پڑتی تھیں۔ نہ کبھی ہماری باتوں میں دلچسپی لیتیں نہ کبھی گفتگو میں شریک ہوتیں۔ ہم دونوں ان کے سامنے بہیترے ٹامک ٹوئیے مارتے، اول جلول باتیں کرتے، خوشامدیں کرتے، لیکن ان کی ناک ہمیشہ چڑھی رہتی۔ اور ان کا کام کیا تھا؟ صبح سے شام تک دس دس سیر وزنی کتابیں پڑھنا۔رات کو انگیٹھی کے سامنے بیٹھی سوچ رہی ہیں۔ اتنی سنجیدگی سے جیسے دنیا کے نظام کا دارومدار ان ہی کی سوچ بچار پر تو ہے۔ کبھی انگلی سے ہوا میں لکھنے لگتی ہیں۔ کبھی کرسی پر طبلہ بجنے لگتا ہے۔ کبھی جھنجھلا جھنجھلا پڑتی ہیں۔ پھر یکلخت ایک مسکراہٹ لبوں پر دوڑ جاتی ہے اور سرہلنے لگتا ہے، جیسے سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ دفعتاً مٹھیاں بھینچ لی جاتی ہیں اور غریب صوفے کے دوتین مکے رسید کیے جاتے ہیں۔ ادھر ہم انہیں دیکھ کر جھنجھلا اٹھتے۔ یہ تو نیم پاگل ہیں بالکل۔خان صاحب (یا خان بہادر) اور بیگم صاحبہ کا معاملہ ہی اور تھا۔ وہ ہمیشہ باتیں سیاسیات، معاشیات، فسادیات وغیرہ کی کرتے جن میں ہمیں ذرہ بھر دلچسپی نہ ہوتی۔ باقی تھے بچے وہ پہلے ہی سے احمق تھے، یا خاص طور پر احمق بنا دیے گئے تھے۔ اب بھلاہم کس سے باتیں کرتے؟ لے دے کے یہی ایک ہم عمر تھیں۔ یہی بے حد تنہائی پسند اور خشک مزاج واقع ہوئی تھیں اور ماشاء اللہ اپنی ہی دنیا میں بستی تھیں۔ کبھی منت سے کہا، ''ہمارے ساتھ بیڈ منٹن کھیل لیجیے‘‘، جواب ملا ''عینک ہے! عینک پر چڑیا لگے گی‘‘۔ کہا ''نہیں! ہم نہیں لگنے دیں گے، شاٹ نہیں ماریں گے۔ بس اچھال اچھال کر کھیلیں گے‘‘۔ کہنے لگیں، ''تو پھر وہ کھیل ہی کیا ہوا جو بے دلی سے کھیلا جائے۔ ویسے آپ دونوں تو سنگلز بھی کھیل سکتے، بھلا میں تیسری کیا کروں گی؟‘‘پھر کسی دن کہا، ''ہمارے ساتھ سیر کو چلیے‘‘، بولیں ''ابھی تو مجھے فرصت نہیں۔ بالکل فرصت نہیں۔ جب تک میں یہ تھیوری سمجھ نہیں لیتی‘‘۔ پوچھا ''تو کب تک سمجھ لیں گی آپ یہ تھیوری؟‘‘ جواب ملا ''کیا پتہ۔ شاید پانچ منٹ میں سمجھ لوں۔ اور سمجھ میں نہ آئے تو مہینے تک نہ آئے‘‘ اور جو کسی دن بہت خوش ہوئیں تو کہتیں، ''بس ابھی چلتے ہیں سیر کو، ذرا بچوں سے کہہ دیجیے کہ تیار ہوجائیں‘‘۔ بچوں کے نام پر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے، اور بات وہیں ختم ہوجاتی۔ عموماً میں اور رفو دونوں سیر کو جایا کرتے۔ کچھ دنوں تک تو یونہی ہوتا رہا۔ پھر ایک دن ہم نے تنگ آکر بغاوت کردی۔ آخر کیوں نہیں شریک ہوتیں یہ ہمارے ساتھ۔ جب ایک ہم عمر موجود ہے تو پھر ہم اس کی رفاقت سے کیوں محروم ہیں؟پہلے تو طے ہوا کہ ایک رات چپکے سے ان کی ساری کتابیں جلادی جائیں یا کسی ندی میں پھینک دی جائیں۔ پھر سوچا کہ ایک دوہفتے تک اور کتابیں آجائیں گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک تجویز رفو کے دماغ میں آئی۔ بولے، ''تو تمہیں سزا ہی دینی ہے نا انہیں؟‘‘۔ ''یقیناً!‘‘ میں نے سر ہلا کر کہا۔''تو کیوں نہ ان سے محبت کی جائے؟‘‘ وہ میرے کان میں بولے۔