غیر سیاسی تنظیموں نے خواتین پارلیمنٹیرین کی تربیت کی
اسپیشل فیچر
شرکا:شاہد ہ جمیل بیریسٹر اور سابق وفاقی وزیر قانون و ہیومن رائٹس سید صارم برنی چیئرمین ، صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ صبیحہ شاہ چیئرپرسن ، ویمن ڈویلپمنٹ فائونڈیشن پاکستانرشیدہ شبیرجنرل سیکریٹری، گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹر ڈاکٹر انیسہ حنا صدر ، ازل سوشل ویلفیئر آرگنائیزیشن میزبان غلام محی الدین میگزین ایڈیٹریاسمین طحہسینیرسب ایڈیٹررپورٹ : اعجازالحسن عکاسی : محمد مہدی*****٭جب تک ہم خود قدم نہیں بڑھائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے،ہمارے ملک میں خواتین کے گھمبیر مسائل ہیں ان کے حل کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا،شاہدہ جمیل٭لیاری جیسے علاقے میں تبدیلی دیکھی ہے جہاں لڑکیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی وہاں آج خواتین مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، صبیحہ شاہ*****٭ ظلم مردوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے،عورت مضبوط ہے لیکن جب باہر نکلتی ہے تو کمزور ہوجاتی ہے، عورت ہی مظلوم ہے ایسا نہیں ، معاشر ے میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں عورت نے ظلم کیا،صارم برنی٭اپنے حق کے لیے خودکو مضبوط کرناہوگا۔این جی اوز خواتین کی فلاح بہبود کے لیے بہت کام کررہی ان کو مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا،رشیدہ شبیر*****کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں غیر سیاسی سماجی تنظیمیں اہم کردار کرتی ہیں۔پاکستان میں بھی بے شمار غیر سیاسی تنظیمیں اس حوالے سے سرگرم ہیں جن کی کارکردگی کے بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں ۔ کچھ کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صرف پیپر ورکنگ پر اکتفا کررہی ہیں ۔ کچھ محض پروپیگنڈے کی حد تک سماجی کاموں میں مصروف ہیںاور چراغ تلے اندھیرا کے مصداق ان کے اپنے ادارے کے لوگ تنخواہوں کے حصول کے لیے پریشان رہتے ہیں لیکن ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں کی مثل کچھ کی کارکردگی قابل قدر ہے اور لوگ ان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کیے جانے والے کاموں کے معترف ہیںاور ایسی ہی این جی اوز دراصل فنڈز کی مستحق ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان این جی اوز کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جائے جو محض کاغذی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں ۔پاکستان میں کام کرنے والی بیشتراین جی اوز کے بارے میں لوگوں کی رائے ہے کہ یہ محض تصویروں میں سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کو جہاں حقیقی سماجی تنظیموں کی اشد ضرورت ہے۔وہیں فلاحی کام بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ باقاعدہ اس کاروبار میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور اسے ثواب کے بدلے منافع بخش بزنس بنادیاگیا ہے جب کہ غیر سماجی تنظیموں کے اہم مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ یہ کسی منافع کے لیے وجود میں نہیں آتی ہیں جہاں تک خواتین کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کا تعلق ہے تو یہ خواتین کے حقوق کی بحالی کے لیے سب سے پہلے عورتوں میں شعور اور اعلیٰ صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہیں اور اس حوالے سے مختلف کانفرنس ورک شا پس اور سیمینارکا اہتمام کرتی ہیں۔غیر سماجی تنظیموں کا پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود میں کیاکردار ہے ۔ اس موضوع کو زیر بحث لانے کے لیے ہم نے گل رعنا نصرت کمیونٹی سینٹرکے تعا ون سے ایک فورم کا انعقاد کمیونٹی سینٹرکے ہال میں کیا ۔****** دنیا: اخبارکی کوشش رہی ہے کہ بزم دنیا کے تحت عوام کے مسائل حل کیے جائیں اورسماجی ، معاشی اورمعاشرتی مسائل کو اجاگر کیا جائے ۔ تاکہ ماہرین کے مشاہدوں اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔انسان جب سے دنیا میں آیا ہے اپنی فطرت ساتھ لایا ہے جس کے مختلف پہلو ہیں جس کے تحت وہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے اور بھلائی کے کام کرتاہے ، دنیا بھر کے ادارے اور اخبارات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں پاکستان میں سماجی کام جس انداز سے ہوتے ہیں وہ شاید ہی کہیں اورہوتے ہوں ، خواتین بھی ان کاموں میں کسی سے پیچھے نہیں، پاکستان میں خواتین کی بے شمار تنظیمیں فلاحی کام بخوبی سرانجام دے رہی ہیں ۔ان ہی باتوں کومدنظر رکھتے ہوئے ہم نے سوچا کہ خواتین کے مسائل پر بات کی جائے ، آج کا موضو ع ہے ــ’’ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے این جی اوز کے کردار، خواتین کے حوالے سے اہم مسائل پر بات کرنے کے لیے صوبائی وزیر ویمن ڈیولپمنٹ سوشل ویلفیئر روبینہ قائم خانی نے آنے کا وعدہ کیا تھا،لیکن اب فون نہیں اٹھا رہی ہیں ۔ شاہدہ جمیل کے متعلق اتنا ضرور کہوں گی کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف کی کابینہ میں تھیں تو یہاں ایک پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اسی دن کابینہ کا اجلاس تھا انہوں نے یہ کہہ کر کابینہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کی میں جن لوگوں کی نمائندگی کرتی ہوںوہاں جانا زیادہ ضروری ہے اس لیے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتی ۔اس کے بعد پرویز مشرف نے کابینہ میں ایک دن مخصوص کردیا تھا کہ اس دن کابینہ کا اجلاس نہیں ہوگا تاکہ خواتین اپنی دیگر مصروفیات پوری کرسکیں ۔یہ طریقہ ہوتا ہے لوگوں کے مسائل میں شامل ہونے کا ۔ اب میں دعو ت دوں گی صبیحہ شاہ کووہ اپنی این جی اوز کے بارے میںہمیںکچھ بتائیں ۔ صبیحہ شاہ: خواتین این جی اوز عورتوں کے لیے بہت کام کررہی ہیں ، میرا تعلق لیاری کے علاقے سے ہے جو آج کل اخبارات اور چینل کی زینت بنا ہوا ہے ، لیاری میں پیدا ہوئی وہیں ہوش سنبھالا اور وہیں سے کام کا آغاز کیاآج وہاں کی صورت حال دیکھ کر دکھ ہوتا ہے خواتین کو اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے، لیاری جیسے علاقے میں تبدیلی دیکھی ہے جہاں لڑکیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی وہاں آج خواتین مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، ہمارے سیاست دانوں نے سیاست چمکانے کے لیے لیاری کے غریب عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر کلاشنکوف دے دی، کہتے ہیں کسی قوم کو تباہ کرنا ہوتو اس کے ہاتھ سے قلم لے لووہ خود تباہ ہوجائے گی۔ ہماری این جی اوز کے تحت لیاری میںبچیوں کی شادیاں اوبے سہار ا لڑکیوںکو روزگار کے لیے مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ معاشر ے میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرسکیںاس کے علاوہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جہاں عورتوں کوپڑھنے کی اجازت نہیں ہم نے وہاں جاکر ان کے والدین کو سمجھایا ان کو پڑھائیں۔ ایک خاتون سے معلوم کیا کہ تم تعلیم حاصل کررہی ہو اس کاکوئی فائدہ ہے اس نے جواب دیا پہلے میں بس میںسفر کرتی تھی لوگوں سے بس کا معلوم کرتی تھی اورکہیں کی کہیں چلی جاتی تھی مجھے بس کے نمبر کا معلوم نہیں ہوتا تھا اب میں بس کا نمبر پڑھ کر دیکھ کر سوار ہوتی ہیں کسی سے معلوم نہیںکرنا پڑتا۔ خواتین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ خود کفیل نہیں ہوتیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کرسکیں۔ خواتین کے لیے گھروں میںسلائی کڑھائی، دست کاری اور چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرائے جائیں۔ چیزوں کو اتناآسان بنادیں جو کام کرنے کا منع کرتی ہیں وہ کرنے پر آمادہ ہوجائیں کیونکہ عورت کو اپنے گھر بار اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے سارے کام کرنے ہوتے ہیں جن عورتوں نے وقت نکال کر اضافی کام کئے ان کے مسائل کم ہوئے اور گھر میں تبدیلی آنا بھی شروع ہوگئی، ان چیزوں کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے عورت کو اس کا شعور دینا ہے کہ سارے کام کرنے کے ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے تب ہی یہ کام ممکن ہوسکتے ہیں ۔ عورتوں کو زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جو گھر کے کام کے ساتھ ساتھ روزگاراور فلاحی کام بھی کرتی ہیں۔ دنیا: ڈاکٹر انیسہ آپ کی تنظیم کے تحت کیا فلاحی کام کیے جاتے ہیں؟ڈاکٹر انیسہ حنا : خواتین کو معاشرے میں باہمت اور برسرروزگار کرنے کے لیے دست کاری، سلائی کڑھائی اور دیگر کام کرارہے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں عزت اور ہمت کے ساتھ اپنے گھر بار چلا سکیں اس کے علاوہ ہم غریب بچیوں کی شادیاں بھی کررہے ہیں۔دنیا : رشیدہ شبیر کو دعوت دیں گے کہ وہ گل ِرعنا نصرت کمیونٹی سینٹر کے بارے میں کچھ بتائیں جو کئی برسوں سے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔رشیدہ شبیر : گل رعنا کی تاریخ بہت پرانی ہے اسے پاکستان کا قدم یم ترین ادارہ کہا جاسکتا ہے 1949 میں یہ قائم ہوا۔ تقسیم ہند کے بعد مہاجرین کی آمد کے بعد اس بات کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کہ خواتین کی فلاح بہود کے لیے ایک ادارہ ہونا چاہیے جو خواتین کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو، ان ہی وجوہات کی بناء پر بیگم رعنا لیاقت علی نے ان کی بنیاد ڈالی ، یہ ادارہ ہمارا گھر بن چکا ہے جس میں نہ صرف مسائل کے حل کا ادراک کیا جاتاہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کیا جاتاہے۔ دنیا : شاہد ہ جمیل اپنے تجربات کی روشنی میں ہمیں بتائیں کہ پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے این جی اوز کا کیا کردارہے۔شاہدہ جمیل : پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو این جی اوز کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ، ہم نے خواتین پارلیمنٹیرین کی تربیت کی کہ کس طرح ایوانوں میں خواتین کے مسائل پر آواز اٹھائی جاتی ہے ۔ساری سیاسی جماعتیں اگر مل کر فیصلہ کرلیں کے خواتین کے مسائل حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنی ہے تو مسائل کا حل ناممکن نہیں۔جب تک ہم خود قدم نہیں بڑھائیں گے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ہمارے ملک میں خواتین کے گھمبیر مسائل ہیں ان کے حل کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔دنیا : صارم برنی خواتین این جی اوز کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کریںکہ انہیں کن کن مشکلات کا سامنا ہوتاہے ۔صا رم برنی : پاکستان میں بہت ساری خواتین این جی اوز صرف کاغذوں میں کام کررہی ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہورہا ۔ عورت مضبوط ہے لیکن جب باہر نکلتی ہے تو کمزور ہوجاتی ہے ۔ عورت ہی مظلوم ہے ایسا نہیں ، معاشر ے میںایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں عورت نے ظلم کیا ۔ایک لڑکی نے اپنے باپ اور بھائی کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر ذبح کیا تھا آج بھی جیل میں موجود ہے ۔ عورت اپنے آپ کو مظلوم نہ سمجھے اگر یہ عقل مندی سے کام لے تو مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ شاہد ہ جمیل: معاشرے میں عورتوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں ایسے گھر بھی ہیں جہاں بیویوں نے ساس کی پٹائی کروائی ہے گھریلو سیاست میں خواتین کا کردا ر اہم ہوتاہے مرد کے پیچھے لگے رہنا اس کے دماغ کو گھمادینا ، عورت عورت کی دشمن ہے یہ کہنا غلط ہے اس میںدونوں کے مزاج کا عمل دخل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے ہمارے قانون میں خامیاں موجودہ ہیں اس میں قصورقانون بنانے والے کا ہے ۔ جو الفاظ استعمال کیے ہیں اس میں ہمارے تحفظات ہیں اس کو بدلنا ہوگا ورنہ اسلام بدنام ہوگا ان چیزوں کو سمجھ کر آگے چلنا ہوگاتب ہی کام یاب ہوں گے ۔صارم برنی : قوانین میں بہت کچھ موجود ہے لیکن ہم جذبات میں آکر خود اس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیںاپنے رویّے کو نہیں دیکھتے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ ظلم صرف عورتوں کے ساتھ ہورہا ہے مردوں کے ساتھ بھی ہورہا ہے ہماری عورت کو مرد کے ساتھ چلنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے عورت کو اللہ نے وہ طاقت نہیں دی جو مرد کو دی ہے ۔دکھ میں دونوں برابر ہیں ،عورتیں صرف اپنی زبان پر قابو کرلیں تو حالات بہت بہتر ہوجائیں گے ۔عورت تو مرد کی کمزوری ہوتی ہے اگر یہ زبان کا صحیح استعمال کرے تومرد کیسے ظلم کرے گا۔عورت صرف عورت نہیں وہ ماں بہن ساس بہو نند ہے ہر عورت سے پوچھو ابو کیسے ہیں جواب ملے گا بہت اچھے ہیں کیا ابو مرد نہیں ، جب ابو اچھے ہیں تو شوہر برا ہوسکتا ہے مرد نہیں ۔آپ مردوں کے خلاف بات نہیں کریں اس شخص کے خلاف بات کریں جو ظلم کرتا ہے ۔ہم اس بحث میں نہیں جاتے جوظلم کرتاہے وہ براہے ۔اس کے خلاف سب کو مل کر کھڑاہونا چاہیے ۔عورت کمزور ہے تو پٹ جاتی ہے اگر طاقت عورت کے پاس ہوتی توسارے مرد چھپتے پھرتے۔شاہدہ جمیل : عورتوں کے تحفظ کے حوالے سے صارم برنی کی بات حوصلہ افزا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میںرواج ہے عورت کوبے وقوف سمجھتے ہیں، ماراپیٹا جاتا ہے یہ معاملہ ہرجگہ موجود ہے ۔ معاشرے میں ایسی بہت سے مثالیں ہیں جس میں عورتوں پر تشدد کرکے ہڈیاں توڑی جاتی ہیں ، تیزاب پھینکا جاتاہے ،اپاہج کیاجاتا ہے اس میں شعور کی ضرورت ہے مہذب اور اسلامی معاشرہ بھی اس بات کی اجازت نہیںدیتا ۔ان چیزوں کو کنڑول کرنے کے لیے سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا ۔دنیا : این جی اوز کا عملی کردارکیاہے ۔ فنڈز کہاں سے آتے ہیں۔شاہدہ جمیل : کچھ این جی اوز لوگوںکو ذہنی طور پر الجھا دیتی ہیں جس سے والدین پریشا ن ہوجاتے ہیں۔والدین کو چاہے معلومات کرکے این جی اوز کے پاس جائیں جو این جی اوز عورتوںکے مسائل حل کرنے کے بجائے پریشان کررہی ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔صبیحہ شاہ : این جی اوز سے مراد بڑے بڑے اداروں سے فنڈز لینا ہی مقصود نہیں ۔ ہمارے پاس اتنے فنڈز نہیں ہوتے۔ مخیر حضرات کے تعاو ن سے سا لانہ پروگرام کرتے ہیں جس میںخواتین کی شادیاں کرائی جاتی ہیں۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ ان ٹیسٹ کا آغاز کیاجو خواتین کی شادی سے پہلے ضروری ہوتے ہیں ۔ ایک این جی اوز کے پاس تربیت کے لیے گئی وہاںدیکھا زیادہ تر خواتین شوہر سے لڑائی جھگڑے کا کیس لے کر آتی ہیں جن کی مصالحت کرانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تاکہ عورت کا گھرٹوٹنے سے بچ جائے۔بہت سی این جی اوزاس حوالے سے اہم کردار اد کررہی ہیں کہ اگر یہ عورت طلاق لے لے گی تو اخراجات کیسے پورے ہوںگے بچوںکی دیکھ بھال کون کرے گامعاشرے میں اس کا کیا مقام ہوگا کیونکہ جس معاشرے میںہم رہ رہے ہیں اس میں قصوروار عورت ہی ہوتی ہے چاہے غلطی شوہر کی ہو۔ان معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری کوشش کی جاتی ہے صلح ہوجائے ۔کئی حکومتی مراکز میںجاکر بھی مسائل حل کرائے ہیںسب این جی اوز خراب نہیں ہوتیں ۔ رشیدہ شبیر : گل رعنا میںزیادہ تر غریب عورتوں کے مسائل حل کئے جاتے ہیں، اپنے حق کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرناہوگا۔این جی اوز خواتین کی فلاح بہبود کے لیے بہت کام کررہی ان کو مزید سنجیدہ ہونا پڑے گا، کمیٹی میں اتنے فنڈز موجود ہوتے ہیں جس سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلیتے ہیں ۔صارم برنی : این جی اوز کا مطلب نان گورنمنٹ آرگنائزیشن ہوتاہے جو مدرسہ ، مسجد بھی ہوسکتی ہے ۔ یہ عالمی سطح پربھی کام کررہے ہوتے ہیں۔ باہر سے فنڈز کاغذی کارروائی پر آتے ہیں کاغذو ںمیں رپورٹ بھیج دی جاتی ہے اور فنڈز آجاتے ہیں۔ این جی اوزپر سوالات بہت اٹھتے ہیں۔دنیا : روزنامہ دنیاکی طرف سے ہم رشیدہ شبیر کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انہوں نے خواتین کے مسائل پربات کرنے کے لیے ہمیں پلیٹ فارم مہیا کیا۔*****این جی اوزکا تاریخی پس منظر: رفاہِ عامہ کے لئے رضا کارانہ خدمات سرانجام دینے کا تصور بہت پرانا ہے۔ اسلامی تاریخ تو رفاہی و غیر سرکاری تنظیموں کے تذکروں سے بھری پڑی ہے۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اسپتال، سڑکیں، پل جیسی بنیادی ضروریات اور انتظامات تو انفرادی و اجتماعی سطح پر قائم کئے گئے۔ وقف کا نظام دور اسلام کے آغاز سے ہی چلا آرہا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی قیمتی جائیدادیں وقف کیں۔ ان کے یہ اوقاف اپنی خدمات صدیوں تک انجام دیتے رہے۔ لیکن اس دور کی یہ تنظیمیں NGOs نہ کہلاتی تھیں۔ اگر NGOs کی بات کی جائے تو ان کا زیادہ چرچا 90,80,70 کی دہائی میں دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ وقت تھا جب مساوات مرد و زن اور حقوق نسواں کی تحریکوں اور مسائل نے زور پکڑا تھا۔انسانی معاشرے کی ترکیب،ابتداء سے ہی افراد کے مختلف نوع کے پیشے اختیار کرنے کے باعث سماجی اور معاشرتی اعتبار سے مختلف رہی ہے۔ جب کرنسی کا رواج نہ تھا تو اجناس اور ہنر آپس میں بانٹ لئے جاتے تھے۔ انسان نے جب اجتماعیت اور آبادیوں میں رہنا شروع کیا تو قیادت کی جبلی دوڑ شروع ہوئی۔ جس کے لئے طاقت اور پیسہ ہزاروں سال سے معیار کی کسوٹی رہی۔ انسان نے اپنے درمیان حکمرانی کے جو بھی اصول وضع کئے ان کی بنیاد جمہوریت کی شکل میں اکثریت یعنی اثر و رسوخ یا آمریت رہی جس میں طاقت اور دولت کا بے رحمانہ استعمال شامل ہے۔ اپنے ہی بنائے ہوئے اس نظام نے طبقاتی نظام کو جنم دیا اور Have اور Have not کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔تمام الہامی نظام انسانوں کی برابری یکسانیت اور معاشروں کو انسانی خداؤں سے بے زار کرکے حقیقی رب کی غلامی کی جانب مائل کرتے رہے ہیں۔ جس نے الہامی اور انسانی نظام کی کشمکش کو جنم دیا۔ ایسے ممالک جہاں وہ اپنے نظریات براہ راست یا بزور بازو ٹھونسنے سے عاجز ہیں وہاں کی تجارت کو انہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور معاشرتی نظام کو NGOs کے ذریعے کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا۔******شرکا کے سوالات:سوالات کے سیشن کے دوران ایک خاتون نے کہا بد قسمتی سے پاکستا ن میں جتنی سیاسی جماعتیں برسراقتدار آتی ہیں سارے فنڈز اپنے لوگوں میں تقسیم کردیتی ہیں ۔حکومتی اداروں میں ایسی این جی اوز کی آواز دبادی جاتی ہےجن سے ان کاتعلق نہیں ہوتا تاکہ ان کو فنڈز نہ دینے پڑیں۔یہ این جی اوز فنڈز کے لیے اگر لوگوں کے دروازوں پر جائیں تو ان کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کئی این جی اوز اپنے مقاصد میںکام یاب نہیں ہوتیں۔ مذاکرے میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کا شوہر تشدد کرتا ہے اس سے سوال کیاگیا کہ شوہر تشدد کیوں کرتا ہے ،ماں بات کے پاس کیوں نہیں گئی کیا بہن بھائی کچھ نہیں کرتے جو یہاں آئی ہو کیا وجوہات ہیں لیکن وہ ڈر کی وجہ سے زیادہ نہیںبتاسکی ۔ اس موقع پر صارم برنی نے بتایا کہ اس کا شوہربہت ظلم کرتا ہے والدین اس کوروکنے کی جرات نہیں کرتے ہیں ، اس نے ہمت کرکے اپنی آواز ہم تک پہنچائی ہم اس کو حقوق دلانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایسے مظلوموں کی اگر مدد نہیں کریں گے تو لوگ ڈر ڈر کے مر جائیں گے خدارا آگے آئیں اور ان لوگوں کا حوصلہ بڑھائیں تاکہ یہ مقابلہ کرسکیں ، میں جو کچھ کررہا ہوں صرف ایک کوشش ہے ان کو انصاف مل جائے ۔ایک شوہر نے اپنی بیوی کی ناک دانتوں سے کاٹی اور باقاعدہ کھائی تھی اس کو پکڑ کرجیل بھجوادیا گیا بعد میں معلوم ہوا کے کسی نے ترس کھاکر اس کو رہا کرادیا ۔اس کو سزا ہوتی تو ظالم شوہروں کو عبرت ملتی لیکن یہاں کسی کو سزا نہیں ملتی ہے ہمارے معاشرے میںایسے افسوس ناک واقعات کی کمی نہیںان ہی کی روک تھام کے لیے کوشش کررہے ہیں۔جو لوگ ظلم کا شکار ہورہے ہیں ہم سے رابطہ کریں جتنا ممکن ہوسکے گا مدد کریں گے