’’مسیح الملک‘‘ حکیم اجمل خان
اسپیشل فیچر
حکیم اجمل خان 1864ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے مشہور و معروف حکیم اور طبی محقق تھے۔ عربی اور فارسی کے علاوہ آپ نے بیس سال کی عمر میں فلسفہ، طبیعات، حدیث، تفسیر قرآن مجید اور طب یونانی کا گہرا مطالعہ کر کے ان میں مہارت حاصل کر لی۔ یہاں تک کہ آپ کی مہارت کا ڈنکا ساری دنیا میں بجنے لگا۔ ان کی مہارت کا ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے:فرانس کے شہر پیرس میں ایک خاتون کے پیروں میں تشنج کے باعث کھنچاؤ اور پیٹ میں شدید درد اٹھنے لگا۔ پیرس کے ڈاکٹر اس خاتون کے مرض کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ ہر قسم کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ وہاں کے ڈاکٹروں کے سامنے جب طب یونانی کا ذکر کیا گیا، تو انھوں نے اس کا مذاق اڑایا، مگر حکیم اجمل خان نے اس خاتون کے کیس کو ایک چیلنج کی طرح قبول کیا اور تشخیص کر کے اس کا شافی علاج کیا۔ حکیم صاحب نے اس خاتون کے مشاغل کے بارے میں دریافت کرنا شروع کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ ٹینس کھیلتی ہے اور گھوڑ سواری کی شوقین ہے۔ یہ سن کر حکیم صاحب نے تھوڑی دیر غور کیا اور ایک دوا تجویز کی اور کہا کہ اس دوا کو روزانہ صبح مکھن کے ساتھ استعمال کریں۔ دو ہفتوں میں ہی وہ خاتون شفا یاب ہو گئیں۔حکیم صاحب مغربی طب (Allopathy) کی خوبیاں اپنانے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔ خاص طور سے جراحت کا۔ 1926ء میں حکیم اجمل خان نے آیورویدک اور یونانی دواؤں پر تحقیقات کے لیے ایک ادارہ بنام ’’مجلس تحقیقات علمی‘‘کی داغ بیل ڈالی۔ حکیم صاحب اور ان کے رفقائے کار نے مل کر علی گڑھ میں ایک اسلامی یونیورسٹی ’’جامعہ ملیہ‘‘ کی بنیاد ڈالی، جسے بعد میں دہلی منتقل کر دیا گیا۔ حکیم صاحب اس کے پہلے وائس چانسلر مقرر کیے گئے۔ آپ نے محسوس کر لیا تھا کہ انگریزی حکومت دیسی طریقہ علاج کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ یونانی اور آئیوویدک میں تحقیق کا ذوق، اسکی باقاعدہ اور باضابطہ تعلیم کا نہ ہونا بھی اس خدشہ کی تقویت کا سبب بنا۔ اس خلاء کو پورا کرنے کے لیے آپ نے دہلی میں ایک آئیوویدک اور یونانی کالج کی بنیاد ڈالی۔ غریبوں کی امداد کے لیے اپنا دوا خانہ جو ’’ہندوستانی دواخانہ‘‘ کے نام سے مشہور تھا، غریبوں کے لیے وقف کر دیا۔ افسوس کہ آزادی کے بعد حکومت ہند نے نہ صرف جامعہ ملیہ کا اسلامی کیریکٹر ختم کر دیا بلکہ آئیوویدک اور طبی کالج کو بھی آیورویدک کے لیے مخصوص کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اب قرول باغ میں جو طبیہ کالج حکیم اجمل خان مرحوم کا قائم کردہ ہے وہ پہلے کے مقابلے میں کا فی سکڑ گیا ہے۔حکیم اجمل خان راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کے حکیم تھے۔ ان کے علاج کے لیے سفر بھی کیا کرتے تھے، لیکن غریبوں اور ناداروں کے لیے نہ صرف وہ وقت اور خدمات دیا کرتے تھے بلکہ وہ ان کے لیے اپنی جیب بھی کھلی رکھتے تھے۔ آپ کے علاج سے انگریزوں نے بھی کافی فائدہ اٹھایا۔ حکومت برطانیہ نے آپ کو ’’حاذق الملک‘‘ کا خطاب دیا، لیکن ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘ ( India Quit) تحریک کے دوران آپ نے وہ خطاب واپس کر دیا۔ اس پر قوم نے آپ کو ’’مسیح الملک‘‘کا قابل قدر خطاب دیا، جس سے وہ آج بھی پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کے تجربات کا مجموعہ مع طبی ادویات کے نام ’’حاذق‘‘کے نام سے موجود ہے، جس سے تمام ہی اطباء فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حکیم اجمل خان ملکی سیاست میں بھی دخیل تھے۔ مسلم لیگ کے قیام سے قبل آپ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر تھے۔ گاندھی جی آپ کا بہت خیال اور لحاظ رکھتے تھے۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کے لیے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ حکیم صاحب کا انتقال 29 دسمبر 1927ء کو رامپور میں ہوا۔(ڈاکٹرابو طالب انصاری کی کتاب ’’ اُجالے ماضی کے‘‘ سے ماخوذ)