جوزف پریسٹلے (1733 ء تا 1804 ء)
اسپیشل فیچر
کیمسٹری کا لفظ عربی لفظ الکیمیا سے مشتق ہے۔ ’’ال‘‘ حرفِ تخصیص ہے جیسا کہ الجبرامیں ہے۔ کیمیا مصر کا پُرا نا نام ہے۔اور ’’کیمیاگری‘‘ یہیں سے شروع ہوئی۔ آہستہ آہستہ کیمیا گری پیشہ کی سطح سے نکل کر ایک علم کے قالب میں ڈھلی ۔ یوں ’’کیمیا‘‘ (کیمسٹری) کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔پہلے پہل کیمیا گری مصری کاہنوں کا ایک خفیہ مسلک تھی۔ اس سے شیشہ بنانے دھاتیں ڈھالنے، رنگ دُور کرنے اور ممیوں میں مسالہ بھرنے کا علم پیدا ہوا۔ لیکن یورپ میں ساتویں صدی تک کیمیا گری صرف ایک محدود تصور تک محدود رہی۔ یعنی اکسیریا پارس پتھر ڈھونڈا جائے جو عام دھات کو بھی سونے میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ خیال بھی کیا جاتا تھا کہ کیمیا کا جادوشباب کو بحال کر سکتا ہے۔ صدیوں تک کیمیا گر شب و روز اپنی انگیٹھیوں اور بھٹیوں پر پسینہ بہاتے رہے اور ہر قسم کے مرکبات کی آزمائش کرتے رہے۔ ان میں سے بعض تجربہ کرنے والے افراد دیانتدار اور سائنسی نقطہ نظر کے مالک تھے۔ لیکن زیادہ تر دیانت سے محروم تھے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ کسی نے بھی رُک کر یہ نہیں سوچا کہ اگر کوئی چیز ایسی مل بھی گئی جو کسی بھی دھات کو سونا بنا سکتی ہو تو سونا اتنا سستا ہو جاے گا کہ اس کی قیمت دھات سے زیادہ نہیں رہے گی۔کیمیاگری کی تمام لغویات کے بطن سے ایک مدت کے بعد کیمیا کی عظیم سائنس نے جنم لیا جو آج کی تہذیب کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ سترہویں صدی کا ایک انگریز، جس کا نام رابرٹ لائل تھا اور جو آئزک نیوٹن سے عمر میں پندرہ برس بڑا تھا، علم کیمیا کے پیشروئوں میں سب سے اہم ہے۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ علم کیمیا کو دوسری سائنسوں سے الگ ایک مستقل سائنس تصور کیا جانا چاہیے۔ اب اس نے اس بات پر زور دیا کہ اجزائے بسیط ایسے جوہر ہیں جنہیں توڑا نہیں جا سکتا، اور صرف ایسے ہی اجزاء ہوتے ہیں۔ لیکن اس نے مقدار کے اعتبار سے چیزوں کو ناپنے کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا جس سے اس بات کی آزمائش ہو سکے کہ وہ محض سادہ اجزا ہیں یا ایک سے زیادہ جوہروں سے بنے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر اس کے زمانے میں گیسوں کے متعلق بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ گیسوں کو مختلف اقسام کی ہوا سمجھا جاتا تھا۔ جب کسی جوہر کو جلایا جاتا تھا تو یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ اس سے کوئی التہابی عمل ’’فلوجسٹن‘‘ پیدا ہو رہا ہے۔ یہ کسی شے کے لیے بھاری بھرکم یونانی لفظ تھا جس میں تمام سائنسدان یقین رکھتے تھے مگر اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ اگر لکڑی کا کوئی ٹکڑا جل رہا ہوتا تو اس کے متعلق یہ خیال کیا جاتا کہ اس میں چونکہ ’’فلوجسٹن‘‘ ہے اس لیے وہ جل رہا ہے۔ پتھر کا ٹکڑا اس لیے نہیں جلتا تھا کہ اس میں ’’فلوجسٹن‘‘ نہیں تھی۔بائل کی پیدائش کے ایک صدی کے کچھ بعد ایک اور انگریز سائنسدان جوزف پریسٹلے نے اس میدان کو اپنی سرگرمیوں کے لیے منتخب کیا۔ وہ کیمیا کے میدان میں زیادہ اہم پیشرو بن گیا۔ زندگی کے ہر شعبے کے دوسرے عظیم انسانوں کی طرح اس کی ابتدا بھی بڑی حقیر تھی۔ لسٹیرز کے قریب ایک گائوں میں وہ غریب والدین کے یہاں پیدا ہوا۔ کئی اعتبار سے وہ ایک غیر معمولی ذہین آدمی تھا اور زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی حیرت ناک صلاحیت لے کر پیدا ہوا تھا۔ اس نے لاطینی، یونانی، اسرائیلی، اطالوی، فرانسیسی، جرمن، کلدانی اور سریانی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔پریسٹلے اپنے تصورات کے اعتبار سے انتہا پسند تھا۔ وہ دینیات، سیاست اور سائنس میں انتہا پسندانہ خیالات رکھتا تھا اور کئی مرتبہ اس بنا پر مصیبت میں مبتلا ہوا اور اپنے بہت سے دوستوں کو کھو بیٹھا۔ مثال کے طور پر اس نے انقلابِ فرانس کی اس وقت حمایت کی جب برطانیہ میں ایسا کرنا نہایت برا سمجھا جاتا تھا۔ اپنی زندگی کے آخر میںجس وقت وہ برمنگھم میں رہتا تھا اور سائنسدان کی حیثیت سے دنیا بھر میں مشہور ہو چکا تھا تو ایک کلیسا میں مذہبی رہنما کے عہدے پر بھی فائز تھا۔ کلیسا سے متعلق انتہا پسند مقلدوں نے اچانک اس پر یہ الزام لگایا کہ وہ کلیسا اور شاہ کا دشمن ہے۔ ایک مشتعل ہجوم اس کے گھر کی طرف لپکا۔ عین وقت پر وہ اپنے اہلِ خاندان کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن ہلڑ بازوں نے اس کے گھر کو منہدم کر دیا۔ اس کے تمام آلات، اس کی بیش بہا لائبریری اور مسودوں کو تباہ کر دیا۔ اس پر طرّہ یہ کہ انہوں نے اس کے کلیسا کو بھی تباہ و برباد کر دیا۔ یہ 1791 ء کا ذکر ہے۔ اسی شہر برمنگھم نے پریسٹلے کی موت پر اپنے گناہوں کی تلافی کے طور پر اس کا ایک مجسمہ تعمیر کیا۔مر گئے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیااس کو بے مہرئ عالم کا صلہ کہتے ہیںاس ہنگامہ کے تین برس بعد وہ دل شکستہ ہو کر برطانیہ چھوڑ کر چلا گیا اور اس نے امریکہ جا کر پناہ لی۔ نیپلیونیا کی یونیورسٹی نے اسے علم کیمیا کی پروفیسری پیش کی، لیکن وہ اتنا بددل ہو چکا تھا کہ نئی زندگی کے آغاز کے لیے تیار نہیں تھا۔علاوہ ازیں اب وہ جوان نہیں رہا تھا۔ اپنی زندگی کے آخری ایام اس نے پنسلوینیا کے شہر نارتھمبرلینڈ میں خاموش اور تنہائی میں بسر کیے اور یہیں وہ دفن ہے۔ کیمیاوی سائنس کے میدان میں پریسٹلے کا تمغہ امریکہ کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔جس دریافت کے لیے پریسٹلے مشہور ہے وہ اس کو بہت پہلے 1774 ء ہی میں حاصل کر چکا تھا۔ لیکن وہ اتنا غریب تھا کہ اس کے پاس سازوسامان خریدنے کے لیے روپیہ ہی نہیں تھا۔ اس نے چیزوں کو بڑا کرکے دکھانے والا شیشہ (محدّب شیشہ) سورج کی شعاعوں کو مرکوز کرکے حرارت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ (برمنگھم کے مجسمہ کے ہاتھ میں وہ شیشہ کے ساتھ دکھایا گیا ہے) اس نے تجربہ سے یہ بات بھی معلوم کی کہ سرخ پارے کا آکچبنی مرکب بذریعہ حرارت سیمابی دھات اور بے رنگ گیس میں منقسم ہو جاتا ہے۔ یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ تمام دنیا کے لیے ایک نئی بات تھی۔ اس نے اس کو ڈیفلوجٹیکٹیئرہوا کا نام دیا۔ وہ اپنی اس دریافت کی اہمیت کو سمجھ ہی نہ سکا، جسے سائنس کی عظیم ترین دریافت کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کو فرانس کے ایک اور سائنس دان نے ایک نام دیا اور وہ گیس آج بھی اسی نام سے پکاری جاتی ہے۔(ولیم آلیور سٹیونز کی کتاب’’نامور سائنسدان‘‘ناشر:بُک ہوم)٭…٭…٭