شب برات بخشش و مغفرت کی رات
اسپیشل فیچر
شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو’’شب برأ ت‘‘ کہاجاتاہے۔شب کے معنی رات اوربرأت کے معنی چھٹکارے کے ہیں اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ بنی کلب تھا۔ اس رات اللہ رب العزت کی اپنی مخلوق پر خصوصی رحمتیں ہوتی ہیںاللہ رب العزت کی رحمت دوطرح کی ہے ایک عام اوردوسری خاص ۔ مسلمان ہویاکہ کافر،یہودی ہویاکہ نصرانی ، حیوان ہویاکہ پتھرآپ خوداندازہ کریں کہ جب بارش ہوتی ہے توہرایک کے کھیت چاہے امیر کا ہو یا غریب کا،نیک کاہویاکہ بُرے کا سب میں پڑتی ہے یعنی وہ ہرایک کیلئے یکساں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے حالات کے مطابق مانگتاہے ۔اللہ پاک اسے بھی عنایت فرماتاہے۔شب برأت ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ پاک دونوں طرح کی رحمتوں کانزول فرماتاہے جسکا ہرذی روح کوفائدہ پہنچتاہے۔پندرہ شعبان کی رات کتنی نازک رات ہے۔ انسان بعض اوقات غفلت میں پڑارہتاہے اوراسکے بارے میں کچھ کاکچھ ہوچکاہوتاہے۔ اس رات سال بھرمیں ہونیوالے تمام امور کائنات، عروج وزوال ، کامیابی،ناکامی، رزق میں وسعت وتنگی موت وحیات اورکارخانہ قدرت کے دوسرے شعبہ جات کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ فرشتوں کوان کے کاموں کی تقسیم کردی جاتی ہے۔یوںتوشعبان المعظم کا سارامہینہ برکت والا ہے مگراس کی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے اس رات اللہ رب العزت گناہ گاروں کودوزخ کی آگ سے نجات دیتا ہے ۔آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کیلئے اللہ کی طرف سے شب برأت ایک نعمت عظمٰی ہے۔حدیث پاک میں ہے اللہ کے رسولؐ نے شعبان المعظم کی تیرہویں رات کوبارگاہ خداوندی میں اپنی امت کیلئے شفاعت کی درخواست کی توایک تہائی امت کی بخشش قبول ہوئی۔پھرچودھویں رات میں دعاکی تودوتہائی امت کی شفاعت عطاکی گئی۔ پھر پندرہویں رات ’’شب برأت‘‘میں دعاکی تو ساری امت کے حق میںشفاعت قبول ہوگئی ہے۔ سوائے ان نافرمان بندوں کے جواللہ کی اطاعت سے اونٹ کی طرح بدک کربھاگتے ہیں۔یعنی نافرمانی کرکے اللہ سے دوربھاگے۔ (مکاشفۃ القلوب)ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ فرماتی ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ؐپورے ماہ شعبان میں روزے رکھتے یہاں تک کہ اسے رمضان المبارک سے ملادیتے۔میں نے عرض کیایارسولؐ اللہ ماہ شعبان کے روزے آپ ؐکودوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں؟ توآپ ؐنے ارشادفرمایا’’ہاں اے عائشہؓ !جوبھی سال بھرمیں فوت ہوتاہے اسکاوقت(وفات) شعبان ہی کے مہینے میں لکھ دیاجاتاہے تویہ بات مجھے محبوب ہے کہ میرے وصال کاوقت اس حال میں لکھاجائے کہ میں اپنے رب کی عبادت اورنیک کام میں مشغول ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا ’’اے عائشہؓ اسی مہینے میں ملک الموت فوت ہونے والوں کے نام لکھ لیتے ہیں تومجھے یہ پسند ہے کہ میرانام روزہ کی حالت میں لکھا جائے۔‘‘ (درمنثور)حضرت علاء بن حارث ؓسے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ نے فرمایاکہ رسولؐ اللہ رات کواٹھے اورنمازپڑھنے لگے اوراتنے لمبے سجدے کیے کہ مجھے یہ خیال ہواکہ آپؐ کی وفات ہوگئی ہے۔میں نے جب یہ معاملہ دیکھا تو میں اٹھی آپؐکے پائوں کے انگوٹھے کوحرکت دی اس میں حرکت ہوئی میں واپس لوٹ آئی جب آپ ؐنے سجدے سے سراٹھایا اورنمازسے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’اے عائشہ! یا فرمایا اے حمیراء!کیا تمہارے دل میں یہ سوچ پیداہوگئی کہ اللہ تمہاراخیال نہ کریں گے؟‘‘ تومیں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ !بخدایسی بات نہیں درحقیقت مجھے یہ خیال ہواکہ شایدآپؐ کی وفات ہوگئی ہے کیونکہ آپؐ نے سجدے بہت لمبے کیے۔ آپؐ نے فرمایا ’’جانتی بھی ہویہ کیسی رات ہے؟‘‘ میں نے عرض کیااللہ اوراس کے رسولؐ ہی زیادہ جانتے ہیں،تب آپؐ نے فرمایا ’’یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے۔اللہ پاک اس رات اپنے بندوں پرنظرِرحمت فرماتاہے اور بخشش چاہنے والوں کی مغفرت فرمادیتاہے رحم مانگنے والوں پررحم کردیتاہے مگردل میں عنادرکھنے والوں کوان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘ (بیہقی فی شعب الایمان )ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ہی ایک اور روایت ہے کہ بے شک رسولؐ اللہ نے فرمایاکہ ’’ (اے عائشہ)تم جانتی ہوکہ یہ کونسی رات ہے ؟ ‘‘میں نے عرض کیا، یارسولؐ اللہ ! نصف شعبان کی رات ،اس میں خاص بات کیاہے؟توآپ ؐ نے فرمایا’’اس (رات) سال بھرمیں پیداہونیوالے اورمرنے والے لوگوں کی فہرست مرتب کی جاتی ہے ۔اس رات بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اس رات لوگوں کارزق اتاراجاتاہے۔‘‘ام المومنین فرماتی ہیں، میںنے عرض کیا،یارسولؐ اللہ! کیاہرکوئی اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا؟ تو سرکارعلیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام نے فرمایا ’’ہاں، کوئی شخص ایسانہیں جواللہ کی رحمت کے بغیرجنت میں داخل ہو۔‘‘اوریہ کلمات آپؐ نے تین مرتبہ فرمائے ۔میں نے عرض کیا اور آپؐ بھی ، یارسولؐ اللہ ؟ توآپؐ نے اپنا دست مبارک سرپررکھ کرفرمایا’’اورمیں بھی جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال نہ ہو‘‘یہ کلمہ بھی آپؐ نے تین بارفرمایا۔(بحوالہ بیہقی ) حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سال میں جوکام ہوناہے اسے متعلقہ فرشتے کے جوانجام دینے والاہوتاہے اس کے سپرد کردیا جاتا ہے۔حضرت عثما ن بن محمدبن مغیرہ بن اخنسؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایاکہ ’’ زمین والوں کی عمریں ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لکھ دی جاتی ہیںیہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتاہے اس کے بچے پیداہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام مُردوں میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔‘‘ (تفسیرابنِ کثیر) یہی حدیث ایک اورمضمون کی ساتھ آئی ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ ہیں کہتے ہیں کہ رسول ؐاللہ نے فرمایاکہ ’’ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک مدت حیات کاختم ہونالکھ دیا جاتاہے یہاں تک کہ آدمی شادی کرتاہے۔ا س کے بعدبچہ پیداہوتاہے حالانکہ اس کانام مرنے والوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔‘‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ؐ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’چار راتوں میں اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، انہی میں سے ایک شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات میں وفات کے اوقات روزے اورحج کرنیوالوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔‘‘ (درِمنثور)حضرت راشدبن سعدؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا ’’پندرہ شعبان کواللہ تعالیٰ سال بھرمیں قبض کی جانیوالی روحوں کی فہرست ملک الموت کے حوالے کردیتاہے۔‘‘(روح المعانی) حضرت عطاربن یسارؒ فرماتے ہیںکہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے توخداکی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کودی جاتی ہے اورحکم دیاجاتاہے کہ ان لوگوں کی روحوں کواس سال قبض کرلیناہے جن کے نام اس فہرست میں شامل ہیں خواہ ان میں سے کوئی باغ کے درخت لگا رہا ہو یا کوئی شادی کررہاہو یا مکان کی تعمیر کر رہا ہو۔غرض یہ کہ انکانام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے نظام کے اصول بڑے احسن طریقے سے مقررشدہ ہیں اور انکی حکمت اللہ ہی کومعلوم ہے۔دنیامیں انسان ہروقت کسی نہ کسی کام میں لگارہتاہے۔مگراللہ پاک کی بارگاہ میں اس کانام مرنے والوں کی فہرست میںلکھاہوتاہے اللہ پاک یہ نہیں دیکھتاکہ (انسان) کسی بڑے سے بڑے کام میں مصروف ہے۔یہ تواللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس کادنیاسے فوت ہوجانے کاسب سے بہتروقت کونساہے۔اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس رات میں اللہ رب العزت بے شمارلوگوں کے گناہ بخش دیتاہے جوآدمی اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے معافی مانگ لیتاہے اللہ پاک اس کی سب خطائیں معاف کر دیتاہے۔اللہ رب العزت کایہ فرمان ہے کہ’’جسے چاہے گا بخشے گا جسے چاہے عذاب دیگا۔‘‘لہٰذاہم سب کو چاہیے کہ اس رات صدق دل سے اپنے ر ب کی بارگاہ سے توبہ کرلیں اللہ پاک کی طرف سے توبہ کادروازہ ہروقت کھلارہتاہے ۔حضرت عثمان بن العاص ؓنبی اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیںکہ آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ کیاکوئی مغفرت کاطالب ہے کہ میں اسکی مغفرت کروں۔ کیاکوئی مانگنے والاہے کہ میں اسے عطا کروں اس وقت جوشخص اپنے رب سے جوکچھ مانگتا ہے اسے مل جاتاہے لیکن بدکار اورمشرک کو کچھ بھی نہیں ملتا۔‘‘(بیہقی، فی شعب الایمان) ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ سب کی بخشش فرمادیتاہے سوائے مشرک اورکینہ پرورکے۔‘‘(مجمع الزوائد جلد ۸صفحہ ۵۶) حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیںکہ ایک رات میںنے رسولؐ اللہ کو گھر میںنہ پایاتومیں آپؐ کی جستجومیں نکلی ،کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ؐجنت البقیع میں تشریف فرماہیں۔آقاؐ نے فرمایا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ اور اسکارسولؐ تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے‘‘۔پھرنبی کریم ؐ نے فرمایا ’’بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ پندرہ شعبان کی رات آسمان دنیاپر(اپنی شان کے مطابق )جلوہ گر ہوتا ہے اورقبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوںکی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت فرماتا ہے۔‘‘ (ترمذی جلدنمبر۱صفحہ ۶۵۱،ابن ماجہ صفحہ۱۰۰، مسند احمد جلد ۶صفحہ۸۳۲،مشکوٰۃ ص ۷۷۲) حضرت عبداللہ بن عمر،عمروبن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا ’’پندرہ شعبان کی رات اللہ اپنی مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہوئے سب کی بخشش فرماتاہے سوائے دوآمیوں کے۔1۔کینہ پرور 2۔کسی کوناحق قتل کرنیوالا۔‘‘ قاتل کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے ترجمہ ’’ جوکسی مسلمان کوجان بوجھ کرقتل کرے اس کی سزاجہنم ہے اورمدتوں اس میں رہے اللہ نے اس پر غضب کیااورلعنت کی اوراس کیلئے بڑاعذاب تیارکرکھا ہے ۔( النساء آیت نمبر۳۹ ) قاتل کے بارے میں حدیث میں آیاہے کہ ’’قیامت کی دن مقتول (جوقتل ہو گیا تھا) اللہ کی بارگاہ میں اس طرح آئے گاکہ قاتل کے سر کا اگلا حصہ مقتول کے ہاتھ میں ہوگااوریہ کہتا ہوا آئے گاکہ یااللہ اس نے مجھے قتل کیا تھا۔وہ اپنا مقدمہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریگا۔‘‘(مشکوٰۃ)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے ارشادفرمایا ’’ میرے پاس جبرائیل امین ؑ شعبان کی پندرہویں رات کوتشریف لائے اورمجھ سے فرمایا اے صاحب مدحِ کثیر! اپنا سرآسمان کی طرف اٹھائیے میں نے پوچھایہ کونسی رات ہے؟جبرائیل امین ؑ نے فرمایایارسول ؐاللہ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ اپنی رحمت کے تین سو دروازے کھول دیتاہے کافراورمشرک کے سوا سب کوبخش دیتاہے مگریہ کہ وہ جادوگر ہو،کاہن، شراب،،سود کاعادی بدکار ہوان مجرموں کواپنے اپنے گناہ سے توبہ کرنے سے پہلے نہیں بخشتا(یعنی توبہ کرلیں توتوبہ قبول کرتا ہے) پھر رات کا جب چوتھائی حصہ ہوا تو جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اورعرض کیااے صاحب مدح عظیم! اپناسر اٹھائیے سرکارؐ نے سر اٹھا کر دیکھا کہ جنت کے سب دروازے کھلے ہیںپہلے دروازے پرایک فرشتہ ندادے رہاہے کہ اس رات میں رکو ع کرنے والوں کو بشارت ہو، دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ آواز دیتا ہے۔ اس رات میں سجدہ کرنیوالوں کو بشارت ہو، تیسرے دروازے پرایک فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اس رات میں دعاکرنیوالوں کیلئے بھلائی ہو، چوتھے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتا ہے کہ اس رات میں ذکرکرنیوالوں کومبارک ہو۔ پانچویں دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات میں خداکے ڈرسے رونے والوں کومبارک ہو جنت کے چھٹے دروازے پرایک فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اس رات تمام مسلمانوںپرخداکی رحمت ہو۔ ساتویں دروازے پر ایک فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والاکہ اسے بخش دیا جائے۔آٹھویں دروازے پرایک فرشتہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی کچھ مانگنے والاکہ اسے منہ مانگی مراددی جائے۔میں نے پوچھااے جبرائیلؑ یہ دروازے کب تک کھلے رہتے ہیں!توانہوں نے فرمایا رات کے شروع ہونے سے لیکر صبح کے نمودار ہونے تک کھلے رہتے ہیںپھر فرمایااے حمد والے! اس رات میں اللہ تعالیٰ قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بال کی تعدادمیںلوگوںکوجہنم سے آزاد کرتا ہے۔‘‘(غنیہ الطالبین) ٭…٭…٭