80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ تو کر ہی رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے OpenAI کے اس انکشاف نے دنیا بھر کے ریاضی دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ اس کے ایک AI ماڈل نے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش کے اُس مسئلے کا نیا حل تجویز کیا ہے جوتقریباً 80 سال سے ریاضی دانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔ اس پیش رفت کو بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ محض تیز رفتار حساب کتاب ہی نہیں بلکہ ایک نئے ریاضیاتی ماڈل کی دریافت سے متعلق ہے۔یہ مسئلہ ہنگری کے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش (Paul Erdos) نے 1946ء میں پیش کیا تھا۔ ایرڈوش بیسویں صدی کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے ہزاروں ریاضیاتی مسائل اور نظریات پر کام کیا۔تاہم ان کا مذکورہ مسئلہ کئی دہائیوں تک دنیا بھر کے ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
مسئلہ کیا تھا؟
ایرڈوش نے سوال اٹھایا تھا کہ
اگر ایک ہموار سطح پر بہت سے نقطے لگائے جائیں تو ان نقطوں کے درمیان ایسے نقطوں کی جوڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے جن کا باہمی فاصلہ بالکل ایک یونٹ ہو۔ ایسے دو نقاط جن کے درمیان فاصلہ ایک یونٹ ہو، یونٹ ڈسٹنس جوڑی (Unit Distance Pair) کہلاتے ہیں۔اس مسئلے کو Planar Unit Distance Problem کہا جاتا ہے اور بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے موجود ریاضی انتہائی پیچیدہ ہے۔ کئی دہائیوں تک ریاضی دان مختلف جیومیٹریکل ترتیبوں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنے نقاط اس انداز میں رکھے جا سکتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک یونٹ فاصلے والے جوڑوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ایک عمومی تصور قائم ہو گیا کہ سکوئر گرڈ (Square Grid)اس مسئلے کے لیے تقریباً بہترین حل فراہم کرسکتا ہے، اگرچہ اس تصور کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا لیکن بیشتر ماہرین اسے درست مانتے تھے۔بہرکیف اس مسئلے سے متعلق کئی دہائیوں تک تحقیق جاری رہی۔
مصنوعی ذہانت نے کیا نیا دریافت کیا؟
جب ایک جدید AI ماڈل کے ذریعے ریاضی کے اس مسئلے پر غور کیا گیا تو حیران کن طور پر اس ماڈل نے ایک ایسی نئی جیومیٹریکل شکل (Construction) تجویز کی جو مروجہ نظریات سے مختلف تھی۔اس نئی جیومیٹریکل شکل نے اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ کئی دہائیوں سے رائج گرڈ سکوئر کا تصور مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ دوسرے الفاظ میں AI نے ایک ایسا حل دریافت کیا جس نے پرانے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اس حل تک پہنچنے کے لیے ریاضی کے ایک نسبتاً غیر متوقع شعبے، Algebraic Number Theory، سے تعلق رکھنے والے خیالات استعمال کیے ہیں۔ عام طور پر اس مسئلے کے بارے میں سوچتے وقت ریاضی دان جیومیٹری پر زیادہ توجہ دیتے تھے لیکن AI نے مختلف ریاضیاتی شعبوں کے درمیان تعلق تلاش کرتے ہوئے ایک نئی راہ دریافت کی۔یہی وہ پہلو ہے جس نے ماہرین کو سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسے راستے تلاش کر سکتی ہے جن کے بارے میں انسانوں نے پہلے غور نہ کیا ہو۔
ماہرین ِ ریاضی کا ردِعمل
اس پیش رفت پر دنیا کے کئی ممتاز ریاضی دانوں نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ معروف برطانوی ریاضی دان ٹموتھی گوورز (Timothy Gowers) جو فیلڈز میڈل حاصل کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر یہی نتیجہ کسی انسانی محقق کی جانب سے پیش کیا جاتا تو میں اسے اعلیٰ درجے کے جرنل میں شائع کرنے کی سفارش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔اسی طرح دیگر ماہرین نے بھی اس کام کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ بعض ریاضی دانوں کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ایسا ریاضیاتی نتیجہ پیش کیا ہے جو اپنی ذات میں تحقیقی اہمیت رکھتا ہے اور جسے صرف کمپیوٹر کی حسابی طاقت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ بعد میں انسانی محققین نے اس دریافت کا تفصیلی جائزہ لیا اور مزید بہتریاں بھی تجویز کیں لیکن بنیادی خیال مصنوعی ذہانت کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو AI اور انسانی تحقیق کے اشتراک کی ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔
کیا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا؟
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI نے پورے Planar Unit Distance Problemکا مکمل حل پیش نہیں کیا اور مسئلہ اب بھی ریاضی دانوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے کئی پہلو ابھی تحقیق طلب ہیں۔البتہ مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے سے متعلق ایک معروف اندازے کو غلط ثابت کر کے تحقیق کا رخ موڑ دیا ہے۔ ریاضی کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا مکمل حل حاصل ہونے سے پہلے کئی اہم جزوی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ دریافت بھی انہی اہم سنگِ میل میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے۔
مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کردار
اس پیش رفت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت سائنسی اور ریاضیاتی تحقیق میں ایک فعال معاون بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ AI انسانی محققین کی جگہ نہیں لے گی لیکن یہ پیچیدہ مسائل میں نئی راہیں اور غیر متوقع خیالات ضرور فراہم کر سکتی ہے۔ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور دیگر سائنسی شعبوں میں ایسے بے شمار مسائل موجود ہیں جن پر کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ نئی دریافتوں اور نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے۔