آج کا دن
اسپیشل فیچر
جان کیبوٹ کی شمالی امریکہ آمد
24 جون 1497ء کو اطالوی ملاح جان کیبوٹ شمالی امریکہ کے ساحل پر پہنچا۔ وہ انگلستان کے بادشاہ ہنری ہفتم کی سرپرستی میں بحرِ اوقیانوس کے پار نئی تجارتی راہوں کی تلاش کے لیے روانہ ہوا تھا۔ مؤرخین کے مطابق وہ موجودہ کینیڈا کے علاقے نیوفاؤنڈ لینڈ یا اس کے قریبی ساحل تک پہنچا۔ جان کیبوٹ نے اپنے جہاز ''میتھیو‘‘ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس عبور کیا اور ایک ایسے خطے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے بارے میں یورپ میں بہت کم معلومات موجود تھیں۔ بعد کی صدیوں میں برطانیہ نے کینیڈا اور شمالی امریکہ کے دیگر علاقوں میں جو نوآبادیاں قائم کیں ان کے دعوؤں کی تاریخی بنیاد جان کیبوٹ کی دریافت کو قرار دیا گیا۔
نپولین کا روس پر حملہ
24 جون 1812ء کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے روس پر حملہ شروع کیا۔ تقریباً چھ لاکھ فوجیوں پر مشتمل یہ لشکر اس وقت یورپ کی سب سے بڑی فوجی قوت سمجھا جاتا تھا۔ نپولین نے دریائے نیمن عبور کرکے روسی سرزمین میں داخل ہونے کا حکم دیا اور یوں تاریخ کی ایک عظیم ترین فوجی مہم کا آغاز ہوا۔ابتدائی طور پر فرانسیسی فوج تیزی سے روس کے اندر داخل ہوئی لیکن روسیوں نے پسپائی اختیار کی اور راستے میں موجود خوراک اور وسائل تباہ کرتے گئے۔ جب فرانسیسی فوج ماسکو پہنچی تو شہر تقریباً خالی اور آگ کی لپیٹ میں تھا۔ شدید سردی، بھوک اور بیماری نے فرانسیسی فوج کو تباہ کر دیا۔روس سے واپسی کے دوران نپولین کی فوج کا بیشتر حصہ ختم ہو گیا۔
جنگِ سولفیرینو
24 جون 1859ء کو شمالی اٹلی کے مقام سولفیرینو میں ایک عظیم جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں تقریباً تین لاکھ فوجیوں نے حصہ لیا اور ایک ہی دن میں ہزاروں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ انیسویں صدی کی یہ خونریز ترین لڑائیوں میں سے ایک تھی۔جنگ کے بعد سوئس تاجر ہنری ڈونانٹ میدانِ جنگ سے گزرا اور زخمی فوجیوں کی حالت دیکھ کر شدید متاثر ہوا۔ اس نے زخمیوں کی امداد کے لیے رضاکارانہ خدمات کے تصور کو فروغ دیا اور بعد ازاں اپنی مشہور کتاب ''اے میموری آف سولفیرینو‘‘ تحریر کی۔ہنری ڈونانٹ کی انہی کوششوں کے نتیجے میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی وجود میں آئی اور جنیوا کنونشنز کی بنیاد پڑی۔
ماسکو وکٹری پریڈ
24 جون 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم میں نازی جرمنی پر فتح کے بعد سوویت یونین نے ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں ایک عظیم الشان وکٹری پریڈ کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب جنگ کے اختتام کے بعد سوویت افواج کی کامیابی اور لاکھوں قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔اس پریڈ کا سب سے یادگار منظر وہ تھا جب جرمن فوج کے قبضے میں لیے گئے جھنڈے اور فوجی نشانات لینن کے مزار کے سامنے پھینکے گئے۔ اس عمل کو نازی جرمنی کی مکمل شکست اور سوویت فتح کی علامت سمجھا گیا۔یہ تقریب نہ صرف جنگ کے خاتمے کی یادگار بنی بلکہ اس نے سوویت یونین کی عالمی طاقت کے طور پر ابھرتی ہوئی حیثیت کو بھی نمایاں کیا۔