کوٹ ڈیجی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کی کہانی
اسپیشل فیچر
ملکِ عزیز پاکستان کی سرزمین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی امین ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کو طویل عرصے تک موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا لیکن 1957-58ء میں سندھ کے تاریخی مقام کوٹ ڈیجی میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں نے اس تصور کو نئی جہت عطا کی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے اُس وقت کے سربراہ ڈاکٹر ایف اے خان کی سربراہی میں ہونے والی ان کھدائیوں نے ثابت کیا کہ وادیٔ سندھ کی ترقی یافتہ شہری تہذیب اچانک وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک قدیم اور منظم ثقافتی پس منظر موجود تھا۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی معروف تہذیب سے پہلے کی ایک اہم ثقافتی کڑی ہے۔ اس دریافت نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ارتقا کا عمل کئی صدیوں پر محیط تھا۔
قلعہ بند شہر اور منظم شہری زندگی
کوٹ ڈیجی کا آثارِ قدیمہ کا مقام دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک بلند قلعہ نما حصہ اور دوسرا اس کے گرد پھیلا ہوا شہری علاقہ۔ کھدائیوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کے باشندوں نے مضبوط دفاعی فصیلیں تعمیر کی تھیں جن میں پتھر اور کچی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ دیواروں کو برجوں کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے لوگ دفاعی حکمتِ عملی اور تعمیراتی مہارت سے بخوبی واقف تھے۔کھدائی کے دوران کشادہ کمروں، فرشوں، ذخیرہ گاہوں اور رہائشی ڈھانچوں کے آثار بھی دریافت ہوئے۔ گھروں میں مٹی کے برتن، ذخیرہ کرنے کے بڑے مرتبان، بچوں کے کھلونے، گیندیں، کنچے، چوڑیاں اور مختلف قسم کے زیورات ملے۔ یہ اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے ایک منظم اور نسبتاً خوشحال معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں کے مکانات منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہری نظم و نسق اور اجتماعی منصوبہ بندی کا تصور اس دور میں بھی موجود تھا جو بعد میں ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی ترقی یافتہ شہری تہذیب میں مزید نکھر کر سامنے آیا۔
کوٹ ڈیجی کی منفرد ثقافت اور فن
ڈاکٹر ایف اے خان کی رپورٹ میں کوٹ ڈیجی کے برتنوں کو اس تہذیب کی نمایاں ترین خصوصیات میں شمار کیا گیا ہے۔ یہاں سے دریافت ہونے والی مٹی کی اشیا نہایت عمدہ معیار کی ہیں۔ ان کا رنگ گلابی سے سرخی مائل ہے اور ان پر سیاہ، بھورے اور سرخی مائل رنگوں سے دلکش نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔خاص طور پر مچھلی کے چھلکوں جیسے ڈیزائن، لہردار خطوط، حلقے اور دیگر جیومیٹریکل نمونے اس فن کے اعلیٰ معیار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بعض برتنوں پر سینگوں والے دیوتا کی تصویر بھی پائی گئی جسے ڈاکٹر خان نے نہایت منفرد اور نادر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کا ڈیزائن اس سے پہلے برصغیر کی کسی قدیم تہذیب کے برتنوں پر دریافت نہیں ہوا ۔یہ برتن اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے نہ صرف فنی ذوق رکھتے تھے بلکہ ان کے ہاں ایک مضبوط ثقافتی شناخت بھی موجود تھی۔ کوٹ ڈیجی طرز کے برتن ہڑپہ اور دیگر مقامات پر بھی دریافت ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ثقافت کے اثرات وسیع علاقے تک پھیلے ہوئے تھے۔
موئن جو دڑو سے پہلے کی تہذیب
کوٹ ڈیجی کی سب سے بڑی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کے بارے میں رائج تصورات کو تبدیل کر دیا۔ کھدائیوں سے واضح ہوا کہ موئن جو دڑو کی ابتدائی آبادی دراصل کوٹ ڈیجی کے قدیم باشندوں کی بستی کے اوپر آباد ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی ترقی یافتہ تہذیب سے پہلے موجود تھی۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب ممکنہ طور پر 3000 قبل مسیح کے آس پاس موجود تھی، جبکہ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی تہذیب کا دور عموماً 2500 تا 2300 قبل تھا۔ اس طرح کوٹ ڈیجی وادیٔ سندھ کی تہذیبی تاریخ کو کئی صدیوں پیچھے لے جاتی ہے۔کھدائیوں میں آگ اور سیلاب کے شواہد بھی ملے اور قلعے کے بالائی حصوں میں جلی ہوئی مٹی کی موٹی تہہ دریافت ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آتش زدگی کے کسی بڑے واقعے نے اس بستی کو تباہ کیا۔ ڈاکٹر خان کا خیال ہے کہ اسی تباہی کے بعد ہڑپہ اور موئن جو دڑو سے وابستہ ثقافت نے اس مقام پر جگہ بنائی۔یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب مقامی ارتقائی عمل کا نتیجہ تھی۔ اگرچہ اس کے بیرونی روابط موجود تھے لیکن اس کی بنیادی ترقی اسی خطے میں ہوئی۔ کوٹ ڈیجی اس ارتقائی سفر کی ایک اہم کڑی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی تہذیبیں اچانک جنم نہیں لیتیں بلکہ صدیوں کے تجربات، اختراعات اور ثقافتی ترقی کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہیں۔کوٹ ڈیجی کی کھدائیاں آج بھی پاکستان کی آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مقام نہ صرف سندھ بلکہ پوری جنوبی ایشیا کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اس خطے کے باشندے پانچ ہزار سال قبل بھی تعمیر، فن، تجارت اور سماجی تنظیم کے اعلیٰ معیار سے واقف تھے۔