اک سفرسحر اانگیز وادیوں کا...! ناران، کاغان اور جھیل سیف الملوک
اسپیشل فیچر
لاہور سے کاغان اور ناران کا سفر گرچہ بہت لمبا ہے، لیکن جب آپ اس سحر انگیز وادی میں پہنچتے ہیں تو یہ لمبا سفر اور اس سے منسلک تھکاوٹ آپ کے ذہن سے فورا محو ہو جاتی ہے۔میرا یہ سفر یوگا گروپ کے ہمراہ تھا، جو ہر سال شمالی علاقہ جات کا ایک ٹرپ ارینج کرتے ہیں۔ اس دفعہ ہماری منزل کاغان اور ناران تھی۔ ہماری پہلی منزل بالاکوٹ تھی۔ یہاں ایک رات قیام کے بعد ہمیں شوگراں روانہ ہونا تھا۔اگلی صبح کا آغاز یوگا کے ساتھ ہوا۔ آلودگی سے پاک فضا میں یوگا کرنے سے جسم میں تازگی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ہماری اگلی منزل شوگراں تھی۔ با لا کوٹ سے شوگراں کا سفر حسین مناظر سے بھرپور تھا۔ کبھی ہم تیز و تند دریا کے اوپر سے گزرتے تو کبھی راستے میں کوئی آبشار آ جاتی۔ شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لئے یہ مناظر بہت روح افزا ہوتے ہیں۔ قدرت کی خوبصورتی انسانی روح پر کئی راز آشکار کرتی ہے۔ یہاں آ کر لگا کہ ہم جس لاحاصل دوڑ میں لگے ہیں، اس نے ہماری روحوں کو مردہ کر دیا ہے۔یہ تیز و تند پانی نہ جانے کتنے سالوں سے اسی برق رفتاری سے رواں دواں نہ جانے کتنے راز اپنے اندر سموئے ہوا ہے۔ بالا کوٹ سے شوگراں صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔شوگراں میں خوبصورت ریسٹورنٹ اور متعدد دکانیں موجود ہیں۔ یہ خوبصورت مقام فطری صناعی کا ایک نمونہ ہے۔ وسیع و عریض میدان سرسبز گھاس اور پھولوں سے سجے ہوئے ہیں۔ یہاں کی آب و ہوا بہت خوبصورت ہے۔ شدید گرمی میں بھی تسکین بخش خنکی اور ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ سردیوں میں شدید سردی پڑتی ہے۔ شوگراں کے قریب سیاحتی مقام سری پائے ہے۔ اگرچہ شوگراں سے اس کا فاصلہ چند کلومیٹر تھا ،لیکن بارش کی وجہ سے راستہ بہت پر خطر تھا۔یہ سفر صرف جیپوں میں ہی طے کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم اوپر سری پائے کے مقام پر پہنچے تو کافی تیز بارش شروع ہو چکی تھی،جس کی وجہ سے ہم جیپوں میں ہی بیٹھے رہے۔ اب ہمیں واپس شوگراں جا کر وہاں سے ناران کے لیے روانہ ہونا تھا۔ شوگران سے ناران کا سفر تقریبا تین سے چار گھنٹے تھا۔وادی کاغان کی سب سے اہم اور مرکزی سیاحت کی وادی ،وادی ناران ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 8200 فٹ بلند ہے۔ جب ہم TDCP ہوٹل ناران پہنچے ،تو شدید تھک چکے تھے۔ لہٰذا ہمارے آگنائزر فیق جعفر نے اعلان کیا کہ صبح ہم ہوٹل میں ہی قیام کریں گے۔اگلی صبح کا آغاز بھی معمول کے مطابق یوگا سے ہوا۔ ہمارے کچھ فاصلے پر دریا بہہ رہا تھا۔ پرسکون ماحول میں دریا کی آواز نے ایک طلسماتی احساس پیدا کیا ہوا تھا۔ اپنے اندر جھانکنے کا موقع ملا جو شہری زندگی کی گونا گو مصروفیات اور آلودگی سے بھرپور فضا میں بہت کم ملتا ہے۔ شہروں میں فضائی آلودگی کے ساتھ ذہنوں کی بھی آلودگی ہے۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں اس قدر کینہ، نفرت اور دوسرے منفی جذبات رکھتے ہیں کہ فضا بھی بوجھل ہو جاتی ہے۔یہ پیالہ نما جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا 1420 فٹ اور چوڑائی 450فٹ کے قریب ہے۔اگلی صبح ہمیں جھیل لولو پت سر کے لیے روانہ ہونا تھا۔ یہ سحر انگیز اور جادوئی جھیل سطح سمندر سے تقریبا 11200فٹ کی اونچائی پر ہے۔یہ جھیل ناران سے 60 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے ا س کے قریب ہی پوربی نار کا مقام ہے جہاں انگریزوں نے سینکڑوں مجاہدین شہید کر دیئے تھے۔ اس وجہ سے اس جگہ کو شہید کٹھ بھی کہتے ہیں۔جھیل لولوسر کا علاقہ ، مختلف دیو ، جنوں اور پریوں کی کہانیاں اسے جادوئی بناتی ہیں۔ یہ مکمل غیر آباد علاقہ ہے۔ اس جھیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار مغل بادشاہ کی نابینا بیٹی نے اس جھیل میں غسل کیا تو اس کی بینائی لوٹ آئی۔جھیل لو لو سر کا سفر بھی جیپوں پر طے کیا گیا۔ یہ سفر انتہائی خوبصورت تھا۔ راستے میں گلیشیر بھی دیکھنے کو ملے۔ چونکہ راستہ پکی سڑک کا تھا ۔لہٰذا سفر قدرے آرام دہ اور خوبصورت تھا۔جھیل پر پہنچتے ہی ایک خوشگوار احساس نے روح کو سر شار کر دیا۔ جھیل ایک پرسکون جگہ پر واقع ہے۔ جھیل کا سبز پانی اپنے اندر ایک عجیب سکون سموئے ہوئے تھا۔ اس جگہ کا سکون روح کے اندر تک اتر گیا۔اگلے روز ہم نے جھیل سیف الملوک جانا تھا۔جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے تقریبا 10500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس جھیل سے وابستہ شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی رومانوی داستان بہت مشہور ہے۔ داستان گو یہ داستانیں سنا کر سیاحوں سے پیسے بھی کماتے ہیں۔ یہ پیالہ نما جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا 1420 فٹ اور چوڑائی 450فٹ کے قریب ہے۔ اس جھیل کو دیکھنے کی تمنا مجھے یہاں کھینچ لائی تھی۔میں نے سنا تھا کہ یہ جھیل اتنی خوبصورت ہے کہ یہاں پریاں اترتی ہیں۔ شہزادہ سیف الملوک اور پری بدیع الجمال کی کہانی اس جھیل سے منسوب ہے۔جھیل تک کا راستہ تھوڑا مشکل ہے۔ راستے میں گلیشیئر بھی آئے۔ پہلے یہ سفر پیدل طے کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ سفر جیپوں کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر یہ احساس ہوا کہ واقعی کبھی یہاں پریاں اترتی ہوں گی لیکن اس کے ساتھ ایک تکلیف دہ بات کا ادراک بھی ہوا۔ یہاں آنے والے سیاحوں نے کوڑا ڈال کر اس خوبصورت جگہ کی خوبصورتی کو گہن لگا دیا ہے۔ پہلے یہاں جھیل میں کشتیاں چلتی تھیں، لیکن سیاحوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے وہ کشتیاں جلا دی گئیں ہیں۔یہاں آنے والے سیاح کشتی کی سیر کے دوران اس میں کوڑا کرکٹ ڈالتے تھے ،جس کی وجہ سے جھیل آلودہ ہو رہی تھی۔چناچہ کمشنر کے حکم پر یہ کشتیاں جلا دی گئیں۔ شاید کمشنر نے سوچا ہو گا ’’ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘ لیکن یہ بات میرے ذہن پر کئی سوال چھوڑ گئی۔ ہماری قوم کب ایک باشعور اور ذمہ دار قوم بنے گی۔جھیل سیف الملوک کی سیر کے ساتھ ہی ہمارا سفر مکمل ہو گیا اور اگلے روز ہم سفر کی خوبصورت یادوں کو سمیٹے ہوئے واپس روانہ ہو ئے۔٭…٭…٭