کلیم عثمانی . . . شاندار فلمی نغمات اور ملی گیتوں کا شاعر

کلیم عثمانی . . . شاندار فلمی نغمات اور ملی گیتوں کا شاعر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


برصغیر کی فلمی تاریخ میں کچھ نغمہ نگار ایسے بھی تھے جنہیں صرف گیت نگاری کی وجہ سے ہی شہرت نہیں ملی بلکہ انہیں ایک عمدہ غزل گو کی حیثیت سے بھی جانا جاتا تھا۔ جیسے قتیل شفائی، مجروح سلطانپوری، شکیل بدایونی، سیف الدین سیف، تنویر نقوی، جانثار اختر اور کئی دوسرے، ان میں ایک نام کلیم عثمانی کا بھی تھا۔ جنہوں نے بے مثال فلمی گیت تخلیق کئے اور اس کے علاوہ ایک خوبصورت غزل گو کی حیثیت سے بھی اپنے آپ کو منوایا۔28فروری1932ء کو دیو بند ضلع سہارنپور (بھارت) میں پیدا ہونے والے کلیم عثمانی کا اصل نام احتشام الٰہی تھا۔ جبکہ کلیم تخلص تھا۔ ان کے خاندان کا تعلق مولانا شبیر احمد عثمانی سے جا ملتا ہے۔ کلیم عثمانی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ والد فضل الٰہی بیگل بھی اپنے زمانے کے اچھے شاعر تھے۔ شروع میں والد سے شاعری میں اصلاح لی۔1947ء میں ان کا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ گیا۔ کلیم عثمانی نے یہاں احسان دانش کی شاگردی اختیار کی۔ ان کی آواز میں ترنم تھا اس لیے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔ ابتدا میں انہوں نے صحافت بھی کی یہی وجہ تھی کہ انہیں مشاعروں میں خوب داد ملتی تھی۔ پھر انہوں نے فلمی شاعری کے میدان میں قدم رکھا۔ سب سے پہلے انہوں نے 1955میں فلم ’’انتخاب‘‘ کے گیت تحریر کئے اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے مرتب کی تھی۔ فلم ناکام ہو گئی لیکن کلیم عثمانی ناکام نہیں ہوئے۔1957ء میں انہوں نے فلم ’’بڑا آدمی‘‘ کے گیت تحریر کئے ۔ مبارک بیگم اور احمد رشدی کی آواز میں یہ دوگانا ’’کاہے جلانا دل کو چھوڑو جی غم کے خیال کو‘‘ بہت مقبول ہوا پھر1959ئمیں ان کے لکھے ہوئے فلم’’راز‘‘ کے گیتوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔ اس فلم کی موسیقی بھی فیروز نظامی کی تھی۔ زبیدہ خانم کی آواز میں گایا ہوا یہ گیت’’میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا‘‘ اس کے بعد وہ ایک مسلمہ نغمہ نگار بن گئے۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا تمام فلموں کے ہدایت کار ہمایوں مرزا تھے ۔ 1966ء میں کلیم عثمانی نے ’’ہم دونوں‘‘ اور ’’جلوہ‘‘ کے گیت تخلیق کئے جس سے ان کی شہرت کو پر لگ گئے۔’’جلوہ‘‘ کے یہ دو گیت انتہائی اعلیٰ درجے کے تھے۔1۔ کوئی جا کے ان سے کہہ دے ہمیں یوں نہ آزمائیں(مجیب عالم)2۔ لاگی رے لاگی لگن یہی دل میں(مہدی حسن)’’ہم دونوں‘‘ میں ان کی گائی ہوئی اس غزل نے رونا لیلیٰ کو بے مثال شہرت سے نوازا۔ اس غزل کے مطلع کا پہلا مصرع کچھ یوں تھا’’ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا‘‘ اس کے بعد کلیم عثمانی نے ’’عصمت، جوش انتقام اور ایک مسافر ایک حسینہ‘‘ کے گیت لکھے جو بہت ہٹ ہوئے 1969ء میں انہوں نے ’’نازنین‘‘ اور ’’عندلیب‘‘ کے جو نغمات تحریر کئے انہیں بہت شہرت ملی۔یہاں ان فلموں کے صرف دو گیتوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے:1۔ مستی میں جھومے فضا۔نازنین2۔ پیار کر کے ہم بہت پچھتائے۔ عندلیب1971ء میں فلم ’’دوستی‘‘ میں انہوں نے قتیل شفائی اور تنویر نقوی کے ہمراہ گیت لکھے اور ان کے گیت بھی بہت پسند کئے گئے۔ ایک گانا تو بہت پسند کیا گیا۔’’روٹھے سیاں کو میں تو اپنے خود ہی منانے چلی آئی‘‘ پھر فلم ’’بندگی‘‘ میں ان کا لکھا ہوا یہ گیت تو دل کے تاروں کو چھو لیتا ہے۔’’خاموش ہیں نظارے، اک بار مسکرا دو‘‘ 1973ء میں ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا ’’گھرانہ‘‘ کے خورشید کی یہ فلم بھارتی فلم ’’دو راستے ‘‘ کا چربہ تھی۔ بہرحال ’’گھرانہ‘‘ بہت کامیاب رہی۔ اس فلم میں نیرہ نور نے پہلی بار فلمی نغمہ گایا۔ جس نے نیرہ نور کو شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔ اس گانے کے بول تھے ’’تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں‘‘ اس بے مثل گیت کو کلیم عثمانی نے تحریر کیا تھا۔1974ئمیں فلم ’’شرافت‘‘ ریلیزہوئی اس میں کلیم عثمانی کے لکھے ہوئے ایک گیت کو وہ شہرت نصیب ہوئی جس کی مثال ملنا مشکل ہے، اس گیت کی موسیقی بے بدل موسیقار روبن گھوش نے ترتیب دی تھی۔اس گیت کے بول تھے:’’تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی‘‘اگر یہ کہا جائے کہ کلیم عثمانی کو بطور ایک نغمہ نگار زندہ رکھنے کے لیے یہی ایک گیت کافی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کے بعد1978ء میں انہوں نے فلم ’’زندگی‘‘ کے جو گیت لکھے انہیں بھی بہت پذیرائی ملی۔ خاص طور پر فلم ’’زندگی‘‘ کا یہ نغمہ بہت مقبول ہوا’’تیرے سنگ دوستی ہم نہ توڑیں کبھی‘‘کلیم عثمانی نے ملی نغمات بھی تحریر کیے اور اس میدان میں بھی انہوں نے اپنے فن کا سکہ جمایا۔ مندرجہ ذیل ملی نغمہ تو ان کی پہچان بن چکا: یہ وطن تمہارا ہے ،تم ہو پاسباں اس کےاس شعری مجموعے کے شروع میں ہی ان کا یہ شعر ان کی فنی عظمت کی گواہی دیتا ہوا نظر آتا ہے۔چنتا رہوں میں حرفوں کی دیوار کب تلکاے کرب ذات سامنے آ کر دکھا مجھے98غزلیات کے اس مجموعے کے شروع میں انہوں نے تحریر کیا ہے کہ یہ 1950ء سے 1958 ء تک کے کلام کا بے رحمانہ انتخاب ہے۔کلیم عثمانی کی غزلوں میں ہمیں رومانویت کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں اور عصری صداقتوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک صاف گو اور اصول پسند شخص تھے جنہوں نے زندگی بھر سچائی سے محبت کی اور منافقت سے نفرت۔ ذیل میں ان کی غزلوں کے کچھ اشعار کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔میں نے سمجھا تھا ملے گی مجھ کو ہمدردی کی بھیکلوگ تو میرے غموں سے دل کو بہلانے لگےروز مصلوب ہوئے اپنی انا کے ہاتھوںہم نے دنیا میں بہت کم ہی قلندر دیکھےکیا شخص تھا کیا اس کے خدوخال بتائیںکلیاں بھی اسے دیکھ کے ملتی رہیں آنکھیںجب سے وہ شخص میری نگاہوں میں بس گیااپنی طرف بھی دیکھنے کو میں ترس گیادور ہوں میں منافقت سے کلیمجیسا اندر ہے ویسا باہر ہےکلیم عثمانی آج اس دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کا شعری خزانہ موجود ہے۔ ان کے فلمی گیت اور غزلیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اب کپڑے خریدنا ہوا مزید آسان

اب کپڑے خریدنا ہوا مزید آسان

خریداری میں جدید ٹیکنالوجی کا انقلابآج کے ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی نے خریداری کے انداز کو بھی تیزی سے بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اب صارفین کو لباس خریدنے سے پہلے اسے پہن کر دیکھنے کیلئے اسٹور کے ٹرائل روم کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ برطانیہ میں معروف ریٹیل کمپنی ٹیسکو اپنے فیشن برانڈ ''F&F ‘‘کے کپڑوں کیلئے ایسی ورچوئل ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہی ہے، جس کی مدد سے صارفین خریداری سے پہلے یہ دیکھ سکیں گے کہ منتخب لباس ان پر کیسا دکھائی دے گا۔ یہ جدید سہولت آن لائن شاپنگ کے تجربے کو مزید آسان، دلچسپ اور حقیقت سے قریب بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔اگرچہ کبھی ٹیسکو دودھ کا پیکٹ یا ڈبل روٹی لینے کی جگہ کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن اب یہ فیشن کے شوقین افراد کیلئے بھی ایک مقبول خریداری مرکز بن چکا ہے۔سپر مارکیٹ کے F&F ملبوسات کے شعبے کو خاصی مقبولیت حاصل ہے، تاہم خریدار اکثر وہاں کپڑے تبدیل کرنے کے کمروں کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔اب ٹیسکو کا خیال ہے کہ اس مسئلے کا حل ورچوئل ٹرائی آن سسٹم کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ٹیسکو کے سینڈہرسٹ ایکسٹرا اسٹور میں اس نظام کی آزمائش کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے خریدار خواتین اور مردوں کے ملبوسات پر مشتمل F&F کے 1,500 مختلف آئٹمز کو ورچوئل طور پر پہن کر دیکھ سکیں گے۔ یہ خبر بہت سے خریداروں کیلئے خوش آئند ثابت ہو گی، کیونکہ وہ اکثر سوشل میڈیا پر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اسٹور میں کپڑے پہن کر دیکھنے کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ایک خاتون صارف نے اسٹور کے فرش پر ہی پتلون پہن کر دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا پر سوال کیا: ''ٹیسکو، کیا ہمیں کبھی کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے ملیں گے؟‘‘خریدار اسٹور کے ملبوسات کے شعبے کے ایک کونے میں نصب اسکرین کے ذریعے ورچوئل ٹرائی آن سسٹم تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس نظام میں صارف کو اپنی تصویر کھینچنے، پہلے سے موجود تصویر اپ لوڈ کرنے یا اپنے جسمانی سائز کے مطابق ایک ڈیجیٹل ماڈل منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس کے بعد صارف 1,500 مختلف ملبوسات میں سے اپنی پسند کے کپڑے منتخب کر سکیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت (AI) انہیں دکھائے گی کہ یہ لباس ان کے جسم پر پہننے کے بعد کس طرح نظر آئیں گے۔ ان اسکرینوں کے ذریعے خریدار اسٹاک، قیمتوں، دستیاب سائز اور دیگر اسٹورز میں موجودگی بھی چیک کر سکیں گے۔ٹیسکو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ''ورچوئل ٹرائی آن اسکرین سینڈھرسٹ ایکسٹرا (Sandhurst Extra)میں F&F کی وسیع تر تجدید کا حصہ ہے، جس میں نئے کپڑے تبدیل کرنے کے کمرے اور خریداری مکمل کرنے اور اشیا واپس کرنے کے عمل کو آسان بنانے کیلئے ایک مخصوص سروس ہب بھی شامل ہے‘‘۔ کمپنی کے مطابق، صارفین کو اسٹور میں F&F کے ملبوسات کی زیادہ وسیع رینج بھی دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ نئی سائن بورڈز، بہتر روشنی اور جدید انداز کے ذریعے اسٹور کی ظاہری شکل و صورت کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے، جبکہ خواتین، مردوں اور بچوں کے ملبوسات کی F&F رینج کو نمایاں انداز میں پیش کرنے پر توجہ دی جائے گی۔یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خریداروں کی ایک بڑی تعداد ہائی اسٹریٹ برانڈز کو چھوڑ کر سپر مارکیٹوں کے ملبوسات کی جانب راغب ہو رہی ہے۔ یہ صرف عام خریدار ہی نہیں جو اپنی پسندیدہ سپر مارکیٹوں کی ملبوسات کی رینج کے دیوانے ہو رہے ہیں، بلکہ معروف شخصیات بھی ان برانڈز کی تشہیر اور فیشن لائنز کا حصہ بن رہی ہیں۔ٹیسکو کے F&F برانڈ کیلئے بھی زارا میک ڈرموٹ اور ایبی کلینسی جیسی معروف شخصیات اپنی ملبوسات کی خصوصی لائنز متعارف کرا چکی ہیں۔صارفین نے ٹک ٹاک کا رخ کرتے ہوئے دوسروں کو بھی کم قیمت اور جدید ملبوسات کی رینج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے۔ بعض صارفین نے دستیاب ڈیزائنز کے بارے میں کہا کہ وہ ان کے ''دیوانے‘‘ ہو چکے ہیں۔ ایک صارف نے ٹک ٹاک پر لکھا: ''F&F میرے سارے پیسے لے لو! میں نے بہت سے ملبوسات خرید لیے ہیں۔ کام کیلئے کوآرڈینیٹڈ لباس، اسکرٹس، بلیزرز اور کارڈی گنز خریدی ہیں۔ مجھے ان کے ڈیزائنز بے حد پسند ہیں‘‘۔ ایک اور صارف نے کہا: ''کوئی مجھے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس موسم خزاں میں F&F کے کپڑے انتہائی شاندار اور فیشن ایبل نہیں ہیں۔ موسم بدلتے ہی میں وہاں کے تقریباً سبھی کپڑے پہنوں گا‘‘۔جبکہ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا:''ٹیسکو، برا نہ ماننا، لیکن مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تمہارا فیشن کے میدان میں اتنا بڑا کھیل ہے۔

سیاحت، معیشت کی ترقی کا اہم وسیلہ

سیاحت، معیشت کی ترقی کا اہم وسیلہ

ہر سال 27 ستمبر کو عالمی یومِ سیاحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد سیاحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا، مختلف ممالک اور تہذیبوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا اور اس شعبے کے معاشی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی اثرات کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے۔ سیاحت محض ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف معاشروں، تہذیبوں، زبانوں اور روایات کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کی سیر انسان کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ اس کے تجربات اور سوچ کے دائرے کو بھی وسیع کرتی ہے۔سیاحت دنیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لاکھوں افراد کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاحت سے وابستہ ہے۔ ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ، سفری خدمات، دستکاری، مقامی بازار اور تفریحی مراکز سیاحوں کی آمد سے معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سیاحت مقامی آبادی کیلئے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں موجود قدرتی اور تاریخی مقامات کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کرکے وہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے سیاحت کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ شمالی علاقہ جات کے بلند پہاڑ، سرسبز وادیاں، جھیلیں، دریا اور برف پوش چوٹیاں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہیں۔ گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں مختلف نوعیت کے سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ دوسری جانب موہنجو دڑو، ٹیکسلا، لاہور کا تاریخی قلعہ، بادشاہی مسجد اور دیگر آثار قدیمہ ملک کی قدیم تہذیبوں اور شاندار تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔سیاحت کے فروغ کیلئے صرف خوبصورت مقامات کا موجود ہونا کافی نہیں بلکہ وہاں محفوظ اور معیاری سفری سہولتیں، سڑکیں، رہائش، صفائی، معلوماتی مراکز اور ہنگامی خدمات بھی ضروری ہیں۔ سیاحوں کیلئے بہتر سہولتیں فراہم کرکے نہ صرف ملکی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ مقامی لوگوں کو بھی سیاحت کے معاشی فوائد میں شریک کرنا ضروری ہے تاکہ سیاحتی سرگرمیوں کے ثمرات وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچ سکیں۔تاہم سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پہاڑی علاقوں میں کچرے، پلاسٹک اور بے ہنگم تعمیرات سے قدرتی حسن متاثر ہوتا ہے۔ جنگلات، دریاؤں، جھیلوں اور تاریخی مقامات کی حفاظت کیلئے ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیاحوں کو بھی چاہیے کہ وہ قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کریں اور اپنے سفر کے دوران صفائی کا خیال رکھیں۔عالمی یومِ سیاحت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سفر انسان کو صرف نئی جگہیں نہیں دکھاتا بلکہ اسے نئی ثقافتوں، تاریخوں اور انسانی تجربات سے روشناس کراتا ہے۔ اگر سیاحت کو منصوبہ بندی، ذمہ داری اور ماحول دوست انداز میں فروغ دیا جائے تو یہ روزگار، معاشی ترقی، ثقافتی ہم آہنگی اور عالمی روابط کیلئے ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!منیر حسین: آواز آج بھی زندہ (1995-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!منیر حسین: آواز آج بھی زندہ (1995-1930ء)

٭... پاکستان کے ورسٹائل گلوکار منیر حسین 1930ء میں پیدا ہوئے۔٭...وہ فن موسیقی کے دلدادہ اور اس فن میں طاق گھرانے کے فرد تھے۔ یوں سُر اور ساز سے ان کی محبّت فطری بات تھی۔٭...پاکستان کے عظیم ترین موسیقار رشید عطرے ان کے ماموں تھے جبکہ ان کے خالہ زاد بھائی صفدر حسین بھی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار جانے جاتے تھے۔ ٭...فلم انڈسٹری میں موسیقار صفدر حسین نے انھیں متعارف کروایا، فلم ''حاتم‘‘ کیلئے انہوں نے گیت '' تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے‘‘ گایا۔٭...وہ پاکستانی فلموں کے پہلے مکمل آل راؤنڈ گلوکار تھے اور انھیں کلاسیکل موسیقی پر عبور بھی حاصل تھا ۔٭...وہ پاکستان کے پہلے گلوکار تھے جن کو بیک وقت اردو اور پنجابی فلموں میں کامیابی ملی ۔ ٭...38سالہ فلمی کریئر میں163فلموں کیلئے تقریباً 217 گیت گائے۔٭...27ستمبر 1995ء کو جہان فانی سے کوچ کیا۔٭... 2019ء میں انہیں ''ستارہ امتیاز ‘‘ سے نوازا گیا۔مقبول فلمی گیت٭...قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے٭... نثار میں تری گلیوں پہ،٭... دلا ٹھیر جا یار دار نظارا لیندے٭... اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے٭... رم جھم رم جھم پڑے پھوار جیسا ٭... ونجلی والڑیا ٭...لال میری پت رکھیو بلا٭...ٹر گئے خان وڈیرے٭...دلدارا، دلدارا، تو ہے جان سے پیارا٭...پنچھی تے پردیسی٭...نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا٭...محبوب کے جلوئوں میں کیا چیز نظر آئی٭...حسن تیرا اے بے وفاکچھ کم نہیں٭...پسینہ پوچھئے اپنی جبیس سے

آج کا دن

آج کا دن

گوگل کا آغازGoogle نے27 ستمبر 1998ء کو اپنی باضابطہ تاریخ آغاز قرار دیا اور اسے کمپنی کی سالگرہ کے طور پر منانا شروع کیا۔ اسی عرصے میں گوگل کا سرچ انجن انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کرنے کے ایک نئے اور مؤثر ذریعے کے طور پر سامنے آیا۔ اس کی بنیاد لیری پیج اور سرگئی برن نے رکھی تھی۔ وقت کے ساتھ گوگل دنیا کے معروف سرچ انجنوں میں شامل ہوگیا اور انٹرنیٹ پر معلومات تک رسائی کا اہم ذریعہ بن گیا۔ناسا کا تاریخی خلائی مشن27ستمبر 2007ء کو ناسا نے ڈان (Dawn) خلائی مشن روانہ کیا، جس کا مقصد مریخ اور مشتری کے درمیان واقع شہابیوں کی پٹی کا مطالعہ کرنا تھا۔ ڈان خلائی جہاز نے اس خطے میں موجود بڑے اجرامِ فلکی، خصوصاً ویسٹا اور سیرس کے بارے میں اہم معلومات حاصل کیں۔ اس مشن کے ذریعے سائنسدانوں کو نظامِ شمسی کی ابتدائی تشکیل، سیارچوں کی ساخت اور ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد ملی۔سہ افریقی معاہدہ27ستمبر1940ء کو برلن میں جرمنی، اٹلی اور جاپان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ''برلن معاہدہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک فوجی اتحاد تھا جس میں ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ، یوگو سلاویہ اور سلوواکیہ نے شمولیت اختیار کی۔یوگوسلاویہ کے اتحاد کی وجہ سے بلغاریہ میں بغاوت کو ہوا ملی جس کا جواب جرمنی، اٹلی اور ہنگری نے یوگوسلاویہ پر حملہ کر کے دیا۔ اسی کے نتیجے میں اٹلی اس معاہدے میں شامل ہوا تھا۔ اس معاہد ے کو تاریخ کے کمزور معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے جو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے۔سپین : سزائے موت کاخاتمہسپین میں سزائے موت کا آخری استعمال 27 ستمبر 1975ء کو ہوا جب مسلح باسک قوم پرست اور علیحدگی پسند گروپ کے دو ارکان اور انقلابی اینٹی فاشسٹ پیٹریاٹک فرنٹ کے تین ارکان کو سزائے موت پانے کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزادی گئی تھی۔ان مجرموں کو پولیس اہلکاروں اور سول گارڈز کے قتل کے جرم میں فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ سپین میں سزائے موت کا آخری استعمال تھا۔جاپان میں سمندری طوفان27ستمبر1959ء کو شدید سمندری طوفان ویرا نے جاپان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی اور تقریباً 5ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ طوفان جاپان میں آنے والی تباہ کن قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ شدید ہواؤں، موسلا دھار بارش اور سیلاب نے کئی علاقوں کو متاثر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ متعدد گھر تباہ ہوئے، مواصلاتی نظام متاثر ہوا اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔زوگ کا قتل عامزوگ کا قتل عام 27 ستمبر 2001ء کو زوگ میں ہوا۔ فریڈرک لیباکر نے خود کو مارنے سے پہلے 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قتل عام سے پہلے کئی برسوں تک لیباکر نے قانونی چارہ جوئی کے بہت زیادہ استعمال سے اپنی طرف توجہ مبذول کرائی۔ اس کی جانب سے دائر کئے گئے تمام مقدمات کو برخاست کر دیا گیا جس پر اس نے یہ فرض کر لیا کہ ریاست جان بوجھ کر اس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہی ہے۔ اسی سوچ نے اسے جرم کرنے پر مجبور کیا۔

میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

 میٹا کا منفرد اے آئی گیجٹ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف کمپیوٹر، اسمارٹ فون یا بڑی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے آلات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میٹا کا نیا ''میوز چارم‘‘ گیجٹ ہے، جو صارف کو فون یا کمپیوٹر کھولے بغیر اے آئی سے استفادہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تماگوچی جیسے پرانے ڈیجیٹل پالتو جانوروں کے تصور سے مشابہ یہ چھوٹا آلہ جدید ٹیکنالوجی اور ذاتی نوعیت کے اے آئی تجربے کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہے۔میٹا کے متعارف کرائے گئے آلہ کو مداح اور صارفین تماگوچی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔اس جدید ڈیوائس کا نام ''میوز چارم‘‘ ہے، جس کا اعلان میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے ''میٹا کنیکٹ‘‘ تقریب کے اختتام پر کیا۔ہتھیلی میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ صارفین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فون یا کمپیوٹر کے بغیر میٹا کی مصنوعی ذہانت استعمال کر سکیں۔ مارک زکربرگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیوائس کی چین پر لگائی جا سکتی ہے اور صارف کو ہر وقت اے آئی سے بات کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیوائس کے ایک کونے میں موجود فنگر پرنٹ سینسر کو چھوتے ہی صارف اے آئی سے گفتگو شروع کر سکتا ہے، اس کیلئے فون کو اَن لاک کرنے یا کوئی ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔میٹا کنیکٹ کی تقریب میں زیادہ تر توجہ میوز پر مرکوز رہی، جسے میٹا نے اپنا ''ذاتی اے آئی ایجنٹ‘‘ قرار دیا ہے۔مارک زکربرگ نے ابتدا میں اعلان کیا کہ میوز کو میٹا کے اے آئی چشموں میں دستیاب کیا جائے گا۔میٹا کے مطابق صارف اپنے چشموں کے ذریعے میوز سے اپنے لیے مخصوص ورزش کی رہنمائی کرنے، کھانے کا ریکارڈ درج کرنے، ضرورت کے وقت غذائیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور حتیٰ کہ نظر آنے والی مصنوعات خریدنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ صارف میوز سے کسی ملاقات کا وقت طے کرنے، پرواز کے کرائے معلوم کرنے یا گاڑی چلاتے، کھانا پکاتے یا دوڑتے ہوئے کسی گم شدہ پرزے کا سراغ لگانے کیلئے بھی کہہ سکتا ہے، اور اس دوران اسے اپنا فون نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صارف میوز کا نام لے کر اور اپنی درخواست بتا کر بھی اسے فعال کر سکتا ہے۔ میوز پس منظر میں کام کرے گا اور کام مکمل ہونے کے بعد صارف کو اس سے آگاہ کرے گا۔تاہم تقریب کے بالکل اختتام پر مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ میوز کو کمپنی کے بالکل نئے ''میوز چارم‘‘ ڈیوائس پر بھی دستیاب کیا جائے گا۔زکربرگ نے حاضرین کو یہ چھوٹا سا آلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس ننھے سے ڈیوائس میں بہت سی ٹیکنالوجی سموئی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر صارف اے آئی چشمے نہیں پہنے ہوئے تو میوز چارم اس سے میوز کے ساتھ بات کرنے اور اردگرد موجود چیزوں سے اسے آگاہ کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ثابت ہوگا۔میٹا کی جانب سے جاری کی گئی محدود تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈیوائس میں ایک چھوٹی اسکرین موجود ہے، جس پر صارف کی منتخب کردہ میوز تصویریا ویڈیو دکھائی دے گی۔ڈیوائس کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا فنگر پرنٹ سینسر بھی موجود ہے، جسے دبا کر اے آئی کو فعال کیا جا سکتا ہے۔زکربرگ نے بتایا کہ کمپنی نے فی الحال اس ڈیوائس کے صرف چند نمونے تیار کیے ہیں اور اسے استعمال کرنا انتہائی خوشگوار تجربہ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کو ابھی اس ڈیوائس کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والے حتمی مٹیریل کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ اندرونی اجزا کی ترتیب بھی ابھی مکمل کی جانی باقی ہے۔تاہم ہمارا منصوبہ ہے کہ اسے تعطیلات کے موسم تک، یعنی دسمبر میں، صارفین کو بھیجنے کیلئے تیار کر لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ اسے بہت پسند کریں گے‘‘۔''میوز چارم‘‘ کا ''تماگوچی ‘‘سے موازنہ،پرائیویسی پر بحث''میوز چارم‘‘ کے بارے میں فی الحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن متعدد صارفین نے اس کا موازنہ ''تماگوچی‘‘ سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ تماگوچی ایک مشہور ڈیجیٹل پالتو جانور کا چھوٹا سا الیکٹرانک آلہ تھا، جس نے 1990ء کی دہائی میں دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی۔سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس نئے گیجٹ کے مقصد پر سوالات بھی اٹھائے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ کوئی شخص ایسی صورت حال میں تو نہیں ہوگا کہ اس کے پاس فون یا کمپیوٹر نہ ہو اور وہ یہ سوچے کہ ''اچھا ہوا میرے پاس نگرانی کرنے والا یہ ''تماگوچی‘‘ موجود ہے‘‘۔ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ''شیطانی تماگوچی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس ڈیوائس کیلئے اس سے بہتر وضاحت شاید ہی کوئی ہو۔یوں میوز چارم نے ابھی مارکیٹ میں قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے اعلان نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل، ذاتی نوعیت کے اے آئی آلات اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےسوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کے حوالے سے صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ بہت سے لوگوں نے میٹا کی اس جدت کو سراہا اور اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا۔ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''اے آئی کا اب تک کا سب سے ذہین استعمال‘‘۔ ایک اور صارف نے سوال کیا ''کیا یہی وہ چیز ہے جو ایپل کی دنیا میں خلل پیدا کرے گی؟‘‘۔ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ''بچپن میں مجھے تماگوچی کا جنون تھا، اب بالغ ہونے کے بعد غالباً مجھے اس میوز چارم کی لت لگ جائے گی۔‘‘تاہم کچھ صارفین اس ڈیوائس سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے۔ایک شکی صارف نے سوال اٹھایا ''فون یا ایپل واچ کے مقابلے میں اسے کون استعمال کرے گا؟ مجھے واقعی سمجھ نہیں آتی کہ اس کی اصل صارف برادری کون ہے، شاید مڈل اسکول کے کچھ طلبہ جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ٹھنڈا سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، جس میں بے کار الیکٹرانک کچرے کے ساتھ غیر ضروری سافٹ ویئر بھی شامل ہے‘‘۔ایک اور صارف نے لکھا ''سر ہلا کر رہ گیا ہوں، ہم باضابطہ طور پر اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اے آئی اسسٹنٹ رکھنے کیلئے اب فون کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اس رفتار سے تو جلد اے آئی جسمانی طور پر بھی ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دے گی‘‘۔ایک صارف نے قدرے تشویش ناک انداز میں صرف اتنا لکھا، ''یہ تو بلیک مرر ہے‘‘۔

برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

ڈاکٹروں کی ذمہ داریاں غیر طبی عملے کے سپردصحت کے شعبے میں معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے درست تشخیص اور بروقت طبی فیصلہ مریض کے علاج میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانیہ میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور فارماسسٹس سے ایسے طبی امور انجام دلوانے کا رجحان، جن میں ماہر ڈاکٹر کی رائے ضروری ہو، مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں دل کے دورے بروقت شناخت نہ ہو سکے، غلط تشخیص سامنے آئی اور کینسر کے مریضوں کو ماہرین کے پاس ریفر کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ یہ واقعات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ مریضوں کی سلامتی اور معیاری تشخیص کو بھی اوّلین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔برطانیہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ایسے فرائض انجام لیے جا رہے ہیں جو عموماً ڈاکٹر انجام دیتے ہیں، جس سے مریضوں کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں اس ''تشویش ناک‘‘ صورتحال پر خبردار کیا گیا ہے۔ ''برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن‘‘ (BMA) نے، جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے گئے 200 سے زائد خدشات جمع کیے ہیں۔ ڈاکٹروں نے طبی ڈگری نہ رکھنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ حدود کو ''نامناسب طور پر دھندلا‘‘ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان خدشات کا مرکز ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہیں۔ ان میں نرسیں، پیرامیڈکس، فارماسسٹس اور دیگر طبی ماہرین شامل ہیں، جو اضافی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ بعض ایسے فرائض انجام دے سکیں جو روایتی طور پر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں، مثلاً مریضوں کا معائنہ، بیماری کی تشخیص اور علاج۔تاہم بی ایم اے کے سروے میں شامل 80فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کے موجودہ طریقہ کار سے مریضوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے تقریباً نصف ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں میں موجود خلا کو پر کرنے کیلئے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باعث انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کی جگہ دیگر طبی عملے سے کام لینے کا یہ سلسلہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی ہدایات کے برخلاف جاری ہے۔رپورٹ میں مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جن میں بیماریوں کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے واقعات اور ایسے معاملات شامل ہیں جن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز سے علاج کروانے کے بعد بعض مریضوں کو نقصان پہنچا یا ان کی موت واقع ہوگئی۔ایک واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو بخار، سر درد اور گردن میں اکڑاؤ کی شکایت پر ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں لے کر گئے، انہیں خدشہ تھا کہ بچے کوگردن توڑ بخار کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک ایڈوانسڈ پریکٹیشنر نے بچے کو خون کے ٹیسٹ کیے بغیر اور مزید طبی معائنے کیلئے ریفر کیے بغیر ہسپتال سے فارغ کر دیا۔36گھنٹے کے اندر بچہ دوبارہ ہسپتال پہنچا جہاں اس میں گردن توڑ بخار کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر کے مطابق تشخیص میں تاخیر کے باعث بچے کو سنگین پیچیدگی لاحق ہوگئی اور اسے سرجری کی ضرورت پیش آئی۔ ایک اور واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ 60 سال سے زائد عمر کے ایک مریض، جو ماضی میں سگریٹ نوشی کرتے رہے تھے، کو چھ ہفتوں کے دوران مسلسل کھانسی، وزن کم ہونے اور بعد ازاں چہرے اور بازو پر سوجن کی شکایت کے باعث تین مرتبہ ایک ایڈوانسڈ نرس پریکٹیشنر نے دیکھا۔ ڈاکٹر کے مطابق مریض میں بیماری کی نشاندہی کرنے والی ''تمام اہم علامات‘‘ موجود تھیں، اس کے باوجود اسے سینے کا ایکسرے کروانے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔بعد ازاں ایمرجنسی میں اس مریض میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور چند ہی ہفتوں بعد اس کی موت ہوگئی۔رپورٹ میں دیگر واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کو ایسے عہدوں پر تعینات کیے جانے کا ذکر ہے جو عام طور پر سینئر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں۔ ان میں انتہائی نگہداشت، بچوں کے شعبے اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ایک واقعے میں ایک رجسٹرار ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ ایک ایڈوانسڈ کریٹیکل کیئر پریکٹیشنر کو رجسٹرار کی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا جا رہا تھا، حالانکہ اسے سانس کی نالی سے متعلق طبی امور کا مطلوبہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اس دوران ایک مریض کی موت بھی واقع ہوئی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض اوقات مریضوں کو یہ واضح طور پر نہیں بتایا جاتا کہ ان کا علاج کرنے والا طبی ماہر ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی اور ہیلتھ کیئر پروفیشنل ہے۔ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کے شعبے میں ڈاکٹروں کی جگہ کام کرنے والے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہمیشہ مریضوں کو اپنے عہدے اور ذمہ داری سے واضح طور پر آگاہ نہیں کرتے تھے، جس کے باعث اکثر مریض انہیں ڈاکٹر سمجھ لیتے تھے۔ ایک اور واقعہ 40 سال کی ایک خاتون سے متعلق ہے، جس نے بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونے اور قے کی شکایت کے بعد ایک فارماسسٹ ایڈوانسڈ پریکٹیشنر سے معائنہ کروایا۔ رپورٹ پیش کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم متعلقہ پریکٹیشنر اس کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہا اور اس کے بجائے ممکنہ کینسر کی تشخیص کیلئے اسے فوری طبی سروس کی جانب ریفر کر دیا۔ان خدشات کے جواب میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ڈاکٹر طبی عملے کو ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے پر واضح پابندی عائد کی جائے۔بی ایم اے کونسل کے چیئرمین ٹام ڈولفن نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز اور دیگر غیر طبی عہدوں پر موجود عملے کے ذریعے ڈاکٹروں کی جگہ لینے کی ''جلد بازی، غیر شواہد پر مبنی اور غیر محفوظ‘‘ کوششوں کو ختم کرنا ہوگا۔