موتی مسجد
اسپیشل فیچر
شاہی قلعہ لاہور میں فنِ تعمیر کا شاہکار
شاہی قلعہ لاہور میں واقع موتی مسجد مغل دور کی تعمیرات میں ایک نہایت دلکش اور روحانی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کی گئی یہ مسجد اپنے حسن، سادگی اور روحانی وقار کے باعث تاریخی و مذہبی دونوں حوالوں سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مغل فنِ تعمیر کی روایت میں یہ مسجد نہ صرف جمالیاتی خوبیوں کی نمائندہ ہے بلکہ اس دور کی مذہبی اور ثقافتی سوچ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔موتی مسجد کی تعمیر 1654ء میں مغل شہنشاہ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ شاہجہاں کا زمانہ مغل فنِ تعمیر کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے۔ اسی عہد میں تاج محل جیسی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اُس دور کی عمارتوں میں سنگِ مرمر کا استعمال، نفیس نقش و نگار اور متوازن طرزِ تعمیر نمایاں نظر آتے ہیں۔لاہور کے شاہی قلعے کے مغربی حصے میں واقع یہ مسجد نسبتاً چھوٹے سائز کی ہے مگر اس کی خوبصورتی اور نفاست اسے قلعے کی اہم ترین عمارتوں میں شامل کرتی ہے۔ اسے مکمل طور پر سفید سنگِ مرمر سے تعمیر کیا گیا جو راجستھان کے علاقے مکرانہ کی کانوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ سنگِ مرمر اپنی چمک اور پائیداری کی وجہ سے مغل عمارتوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا۔
موتی مسجد کا نام اس کے سفید اور چمکدار سنگِ مرمر سے منسوب ہے۔ سنگِ مرمر کی چمک کسی موتی کی طرح محسوس ہوتی ہے اسی لیے اسے موتی مسجد کہا جاتا ہے۔ مغل دور میں مساجد کو قیمتی پتھروں کے ناموں سے منسوب کرنے کی روایت بھی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسی نام کی مساجد آگرہ اور دہلی میں بھی موجود ہیں۔موتی مسجد شاہی قلعہ لاہور کے مغربی جانب واقع ہے۔ قلعے کی مجموعی عمارتیں زیادہ تر شمال جنوب سمت میں تعمیر کی گئی ہیں مگر مسجد کی سمت اس اصول سے مختلف ہے۔مسجد تک رسائی ایک چھوٹے سے دروازے کے ذریعے ہے جو شمال مشرقی سمت میں واقع ہے۔ یہ دروازہ قلعے کے مکتب خانہ کے قریب واقع ہے۔ جب کوئی شخص اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پہلے ایک طویل اورخاموش برآمدہ آتا ہے۔ یہ برآمدہ ماحول میں ایک خاص سنجیدگی اور خاموشی پیدا کرتا ہے۔جب زائر اس برآمدے سے گزر کر مسجد کے صحن میں داخل ہوتا ہے تو اچانک سفید سنگِ مرمر سے بنی روشن اور چمکتی ہوئی عمارت سامنے آ جاتی ہے۔ یہ منظر نہایت دلکش اور روح پرور محسوس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ایک پاکیزہ اور روحانی ماحول میں قدم رکھ دیا گیا ہو۔
موتی مسجد کی پیشانی پانچ حصوں یا محرابی دہانوں پر مشتمل ہے۔ درمیان والا حصہ قدرے آگے کی طرف ابھرا ہوا ہے جو اسے نمایاں کرتا ہے۔ پانچ محرابی دہانوں پر مشتمل یہ طرزِ تعمیر مغل فنِ تعمیر کا ایک پسندیدہ انداز تھا۔اس طرز کو مریم زمانی مسجد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بعد میں یہی انداز مغل دور کی بیشتر بڑی مساجد میں اختیار کیا گیا۔تاہم موتی مسجد کی ساخت میں ایک اہم فرق بھی ہے۔ اس میں مغربی دیوار کے ساتھ دو عرضی راہداریاں بنائی گئی ہیں جبکہ مریم زمانی مسجد میں صرف ایک راہداری ہے۔ اس تبدیلی نے مسجد کے اندرونی حصے کو زیادہ کشادہ اور متوازن بنا دیا۔
موتی مسجد کی بیرونی شکل و صورت نسبتاً سادہ اور غیر نمائشی ہے۔ مغل دور کی کئی عظیم عمارتوں کے برعکس اس مسجد میں زیادہ تزئین و آرائش نظر نہیں آتی۔ لیکن یہی سادگی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔ سفید سنگِ مرمر کی سطح سورج کی روشنی میں چمکتی ہے اور عمارت کو ایک خاص وقار عطا کرتی ہے۔مسجد کے صحن اور نماز گاہ میں داخل ہونے کے بعد جو سکون اور خاموشی محسوس ہوتی ہے وہ اس کے روحانی ماحول کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک روحانی مقام بھی سمجھی جاتی ہے۔
ثقافتی اور تاریخی اہمیت
لاہور کا شاہی قلعہ برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ مغل دور میں یہ قلعہ شاہی رہائش گاہ اور حکومتی مرکز کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس قلعے کے اندر موجود عمارتیں مغل فنِ تعمیر کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتی ہیں۔ موتی مسجد ان عمارتوں میں خاص مقام رکھتی ہے کیونکہ یہ مغل دور کی مذہبی تعمیرات کی بہترین مثال ہے۔ یہ مسجد نہ صرف سیاحوں بلکہ تاریخ اور فنِ تعمیر کے ماہرین کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔شاہی قلعہ آنے والے سیاح موتی مسجد کی خوبصورتی اور سکون بخش ماحول سے ضرور متاثر ہوتے ہیں۔ شاہجہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد نہ صرف مغل فنِ تعمیر کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ لاہور کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا بھی اہم حصہ ہے۔