پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر
اسپیشل فیچر
حیدر آباد کا تاریخی ورثہ زوال کا شکار
حیدرآباد برصغیر کے اُن تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔ یہ شہر اپنے قدیم بازاروں، تاریخی عمارتوں اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی شناخت میں پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ خصوصی مقام رکھتے ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں نہ صرف سندھ کی سیاسی اور تجارتی تاریخ کی نمائندہ ہیں بلکہ فنِ تعمیر کے شاندار نمونے بھی سمجھی جاتی ہیں۔پکا قلعہ حیدرآباد کی بنیاد 1768ء میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی۔ اس قلعے کی تعمیر ایک بلند پہاڑی مقام پر کی گئی تاکہ دفاعی اعتبار سے شہر محفوظ رہے اور دریائے سندھ کے راستوں پر نظر رکھی جاسکے۔ بعدازاں 1789ء میں میر فتح علی خان تالپر نے حیدرآباد کو سندھ کا دارالحکومت بنایا، جس کے بعد پکا قلعہ سیاسی و انتظامی مرکز بن گیا۔ قلعے کے اندر شاہی محلات، دربار، حرم، باغات اور انتظامی دفاتر قائم کیے گئے۔ اس دور میں یہ قلعہ نہ صرف حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا بلکہ سندھ کی حکومت کا مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔پکا قلعہ تقریباً 33 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا اور اس کی مضبوط فصیلیں دور سے ہی اپنی شان و شوکت کا احساس دلاتی تھیں۔ قلعے کے اندر سرنگوں کا ایک قدیم نظام بھی موجود تھا۔قلعے کا مرکزی دروازہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے درجنوں سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس سے دشمن کے لیے حملہ آسان نہ تھا۔ قلعے کے اندر تعمیر کی گئی عمارتوں میں لکڑی کے ستون، چونے کا پلستر، خوبصورت راہداریاں اور مضبوط اینٹوں سے بنے فرش اُس دور کے اعلیٰ تعمیراتی فن کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چونے کا پلستر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈھلوان دار چھتیں بنائی گئی تھیں۔
1843ء میں جنگِ میانی میں تالپور حکمرانوں کی شکست کے بعد پکا قلعہ بھی زوال کا شکار ہوگیا۔ برطانوی فوج نے قلعے کے بیشتر محلات اور حرم کو مسمار کردیا۔ بعد ازاں 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران باقی ماندہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور ان کی جگہ فوجی بیرکیں اور گودام قائم کیے گئے۔ صرف چند عمارتیں ہی محفوظ رہ سکیں جن میں ایک دربار ہال اور شاہی حرم شامل ہیں۔ یہ عمارتیں آج بھی تالپور دور کے فنِ تعمیر کی خوبصورتی بیان کرتی ہیں۔بدقسمتی سے آج پکا قلعہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قلعے کے اندر آبادی قائم ہوجانے کے باعث تاریخی دیواروں میں رہائشی کمرے، باورچی خانے اور دیگر تعمیرات کردی گئی ہیں جس سے اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کئی برسوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قلعے کے اندر رہائش پذیر خاندانوں کی مناسب منتقلی اور قلعے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ عظیم تاریخی مقام محفوظ رہ سکے۔
پکا قلعے کے مرکزی دروازے سے قدیم شاہی بازار کا آغاز ہوتا تھا جو شہر کے اہم تجارتی علاقوں سے گزرتا ہوا ہیرآباد تک جاتا تھا۔ اسی شاہی بازار کے اختتام پر نول رائے مارکیٹ اور اس کا مشہور گھنٹہ گھر واقع ہے۔ یہ مارکیٹ برطانوی دور میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے ممتاز سماجی و انتظامی شخصیت دیوان نول رائے کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نول رائے میونسپل انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور شہر کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔نول رائے مارکیٹ کی تعمیر 1911ء میں شروع ہوئی اور 1915ء میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے پر اس زمانے میں ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کیے گئے جو ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس مارکیٹ کا ڈیزائن مشہور انجینئر پی سی تھدانی نے تیار کیا جنہوں نے گھنٹہ گھر کا نقشہ بھی بنایا۔ یہ مارکیٹ گوشت، مچھلی، سبزی اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریدوفروخت کا اہم مرکز تھی۔ گھنٹہ گھر میں نصب بڑی گھڑی شہریوں کو وقت سے آگاہ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ گھڑی خاموش ہوگئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک یہ مارکیٹ اپنی اصل حالت میں قائم رہی لیکن بعدازاں تجاوزات، ناقص دیکھ بھال اور شہری بے ہنگم ترقی کے باعث اس کی خوبصورتی متاثر ہونے لگی۔ اس کے باوجود آج بھی نول رائے مارکیٹ حیدرآباد کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے اور اندرونِ سندھ سے آنے والے ہزاروں افراد یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ 2017ء میں سندھ حکومت نے نول رائے مارکیٹ اور گھنٹہ گھر کو صوبائی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کی مناسب بحالی کی جائے تو یہ مقامات نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخی شناخت کو بھی دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔حیدرآباد کا پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ صرف تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، سیاست، ثقافت اور فنِ تعمیر کی زندہ علامتیں ہیں۔ ان کی حفاظت اور بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی کی عظمت سے آگاہ رہ سکیں۔