آج کا دن
اسپیشل فیچر
نرسنگ کا عالمی دن
12 مئی 1820ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں فلورنس نائٹنگیل پیدا ہوئیں جنہیں جدید نرسنگ کی بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے طب اور انسانی خدمت کے میدان میں ایسی مثال قائم کی جس نے پوری دنیا میں صحت کے نظام کو بدل کر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 12 مئی کو عالمی یومِ نرسنگ بھی منایا جاتا ہے۔فلورنس نائٹنگیل نے کریمیا کی جنگ کے دوران زخمی فوجیوں کی خدمت کی اور ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور مریضوں کی دیکھ بھال کے جدید اصول متعارف کروائے۔انہیںLady with the Lamp بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ رات کے وقت چراغ لے کر مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں فوجیوں کی جانیں بچیں۔ بعد ازاں انہوں نے نرسنگ کی باقاعدہ تربیت کے لیے ادارے قائم کیے اور صحتِ عامہ کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں۔
ونسٹن چرچل وزیراعظم منتخب
12 مئی کی تاریخ دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دنوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ مئی 1940ء میں یورپ جرمنی کی جارحیت سے لرز رہا تھا۔ نازی جرمنی نے فرانس، بیلجیم اور دیگر ممالک پر حملے شروع کر دیے تھے جبکہ برطانیہ شدید سیاسی دباؤ میں تھا۔ ایسے نازک وقت میں ونسٹن چرچل نے برطانیہ کی قیادت سنبھالی۔ اگرچہ ان کی تقرری 10 مئی1940ء کو ہوئی تھی لیکن 12 مئی کو ان کی جنگی حکمتِ عملی اور کابینہ کی تشکیل نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ برطانیہ جرمنی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔چرچل نے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے، جس کے نتیجے میں اتحادی قوتیں بالآخر
سوویت خلائی مشن کی ناکامی
12 مئی 1965ء کو سوویت یونین کا خلائی مشن Luna 5 چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران ناکام ہو گیا۔ اگرچہ یہ مشن کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس نے خلائی تحقیق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔Luna 5 کا مقصد چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرنا تھا تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس مشن سے سوویت سائنسدانوں کو امید تھی کہ وہ امریکہ پر سبقت حاصل کر لیں گے۔ تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے خلائی جہاز کنٹرول کھو بیٹھا اور چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔اگرچہ یہ ناکامی تھی لیکن اس سے حاصل ہونے والے تجربات نے بعد کے خلائی پروگراموں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر بعد میں کئی کامیاب قمری مشنز انجام دیے گئے۔
کولویزی قتلِ عام
12 مئی 1978ء کو افریقی ملک زائر (موجودہ جمہوریہ کانگو) کے شہر کولویزی میں ایک خوفناک بحران پیدا ہوا جسے کولویزی قتل عام کہا جاتا ہے۔ باغی گروہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا اور غیر ملکی شہریوں سمیت ہزاروں افراد خطرے میں گھر گئے۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور کے افریقی سیاسی بحرانوں میں سے ایک اہم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔باغیوں نے کان کنی کے علاقے کولویزی پر حملہ کیا جہاں یورپی انجینئرز اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ فرانسیسی اور بیلجین افواج نے مشترکہ آپریشن کیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اُس دور میں افریقہ کے کئی ممالک عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنے ہوئے تھے۔