مستقبل کی حیران کن ٹیکنالوجی
اسپیشل فیچر
شیشے کے ایک ٹکڑے میں دو ملین کتابوں کا ڈیٹا
دنیا میں ڈیٹا کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہر روز اربوں فائلیں، تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات تخلیق ہو رہی ہیں مگر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ معلومات آنے والی نسلوں تک محفوظ رہ سکیں گی؟ روایتی سٹوریج ڈیوائسز جیسے ہارڈ ڈرائیوز، میگنیٹک ٹیپس اور SSD عموماً چند سال یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں تک قابلِ اعتماد رہتی ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے ایک حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس میں شیشے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر ڈیٹا ہزاروں سال تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔یہ نئی ٹیکنالوجی امریکی ادارے مائیکروسافٹ ریسرچ کے سائنسدانوں نے تیار کی ہے جسے پروجیکٹ سلیکا کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں عام شیشے کے ایک باریک مربع ٹکڑے میں لیزر کی مدد سے ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس چھوٹے سے شیشے میں تقریباً دو ملین کتابوں کے برابر معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں اور تحقیق کے مطابق یہ ڈیٹا کم از کم 10 ہزار سال تک محفوظ رہ سکتا ہے۔
شیشے میں ڈیٹا لکھنے کا طریقہ
اس ٹیکنالوجی میں انتہائی طاقتور اور نہایت مختصر دورانیے کی لیزر شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں جنہیں فیمٹو سیکنڈ لیزر کہا جاتا ہے۔ فیمٹو سیکنڈ دراصل وقت کی انتہائی چھوٹی اکائی ہے جو ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتی ہے۔ یہ لیزر شعاعیں شیشے کے اندر نہایت باریک تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جن کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات کو کوڈ کیا جاتا ہے۔ لیزر کے ذریعے شیشے کے اندر ننھے ننھے تین جہتی نقاط بنائے جاتے ہیں جنہیں ووکسَل (Voxel) کہا جاتا ہے۔ ہر ووکسل دراصل ایک چھوٹے ڈیجیٹل پکسل کی طرح ہوتا ہے جو ڈیٹا کا ایک حصہ محفوظ کرتا ہے۔ ان ووکسلز کو مختلف گہرائیوں اور تہوں میں ترتیب دے کر بہت زیادہ مقدار میں معلومات ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔
حیران کن گنجائش
سائنسدانوں نے تجربے کے طور پر تقریباً 12 مربع سینٹی میٹر کے ایک شیشے کے ٹکڑے میں 4.8 ٹیرابائٹ ڈیٹا محفوظ کیا۔ یہ مقدار تقریباً دو ملین کتابوں یا پانچ ہزار ہائی ڈیفینیشن فلموں کے برابر ہے۔ اس ڈیٹا کو شیشے کے اندر سینکڑوں تہوں میں محفوظ کیا گیا، جس سے سٹوریج کی گنجائش کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
ہزاروں سال تک محفوظ ڈیٹا
اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی پائیداری ہے۔ روایتی سٹوریج ڈیوائسز وقت کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں جبکہ شیشے میں محفوظ ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بجلی یا مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تجربات میں شیشے کو انتہائی درجہ حرارت تک گرم کر کے بھی جانچا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ معلومات 10 ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔مزید یہ کہ شیشے کی یہ سٹوریج ٹیکنالوجی پانی، حرارت، مقناطیسی میدان اور دیگر بیرونی اثرات کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اسے طویل مدتی محفوظ آرکائیوز کے لیے بہترین سمجھا جا رہا ہے۔
مستقبل میں ممکنہ استعمال
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد روزمرہ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کے لیے اسٹوریج فراہم کرنا نہیں بلکہ طویل مدتی ڈیجیٹل آرکائیوز بنانا ہے۔ مثال کے طور پر: قومی یا عالمی تاریخی ریکارڈ، موسمیاتی اور سائنسی ڈیٹا، ثقافتی اور ادبی ورثہ، حکومتی دستاویزات۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ دنیا کی بڑی لائبریریاں اور آرکائیوز لاکھوں کتابوں اور دستاویزات کو شیشے کی چھوٹی پلیٹوں میں محفوظ کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج انسانیت بے شمار ڈیجیٹل معلومات تخلیق کر رہی ہے لیکن موجودہ سٹوریج ٹیکنالوجی اس معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنے کے قابل نہیں۔ اس صورتحال کو بعض ماہرین ڈیجیٹل ڈارک ایج کا خطرہ بھی قرار دیتے ہیں یعنی آنے والی نسلیں ممکن ہے ہمارے دور کی معلومات تک رسائی نہ حاصل کر سکیں۔ شیشے پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی اس مسئلے کا ممکنہ حل فراہم کر سکتی ہے۔شیشے میں ڈیٹا محفوظ کرنے کی یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے ڈیجیٹل آرکائیوز کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک چھوٹے سے شیشے کے ٹکڑے میں لاکھوں کتابوں کے برابر معلومات کو ہزاروں سال تک محفوظ رکھنا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیران کن پیش رفت ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگتی ہے تو ممکن ہے کہ آنے والی صدیوں میں انسانی علم و تہذیب کے بڑے ذخیرے شیشے کے ننھے ٹکڑوں میں محفوظ ہوں۔