آج کا دن
اسپیشل فیچر
پیرس کمیون کا قیام
18 مارچ 1871ء کو پیرس میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی جسے پیرس کمیون کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب فرانس اورپروشیا جنگ میں فرانس کو شکست ہوئی اور حکومت نے جرمنی کے ساتھ صلح کا فیصلہ کیا۔پیرس کے شہریوں اور قومی محافظ دستے نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور شہر میں ایک انقلابی حکومت قائم کر لی جس نے مزدوروں کے حقوق، مفت تعلیم اور ریاست و کلیسا کی علیحدگی جیسے اصلاحی اقدامات شروع کیے۔یہ حکومت تقریباً دو ماہ تک قائم رہی۔ اس کے باوجود پیرس کمیون کو مزدور تحریکوں اور انقلابی سیاست کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
برلن انقلاب
18 مارچ 1848ء کو برلن میں عوامی بغاوت ہوئی جو جرمن انقلابات 1848ء تا 1849ء کا اہم حصہ تھی۔ اس تحریک کا مقصد آئینی حکومت قائم کرنا، شہری آزادیوں کو بڑھانا اور سیاسی اصلاحات حاصل کرنا تھا۔ اُس وقت پروشیا کے بادشاہ فریڈرک ولیم چہارم حکمران تھے۔ جب عوام نے اصلاحات کا مطالبہ کیا تو مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ عوامی دباؤ کے باعث بادشاہ کو اصلاحات کا اعلان کرنا پڑا اور فوج کو وقتی طور پر شہر سے واپس بلانا پڑا۔ یہ تحریک مکمل کامیاب نہ ہو سکی لیکن اس نے جرمنی میں جمہوریت اور قومی اتحاد کی تحریک کو مضبوط کیا۔
پہلی خلائی چہل قدمی
18 مارچ 1965ء کو سوویت خلا باز الیکسی لیونوف نے انسانی تاریخ کی پہلی خلائی چہل قدمی کی۔ لیونوف تقریباً بارہ منٹ تک خلا میں رہے اور ایک حفاظتی رسی کے ذریعے جہاز کے ساتھ منسلک تھے۔مشن کے دوران ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی کیونکہ خلا میں دباؤ کی وجہ سے ان کا خلائی لباس سخت ہو گیا اور وہ آسانی سے جہاز میں واپس داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔ بڑی مہارت سے انہوں نے لباس کا دباؤ کم کیا اور محفوظ طریقے سے واپس جہاز میں داخل ہو گئے۔ یہ تجربہ بعد کے خلائی پروگراموں کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔
گیلی پولی کی لڑائی
پہلی جنگ عظیم کے دوران 18 مارچ 1915ء کو گیلی پولی مہم کا ایک اہم مرحلہ پیش آیا۔ اس دن اتحادی افواج نے آبنائے داردانیلز پر بڑا بحری حملہ کیا تاکہ استنبول تک راستہ حاصل کیا جا سکے۔اتحادی ممالک جن میں برطانیہ اور فرانس شامل تھے، نے عثمانی سلطنت کے دفاعی مورچوں پر شدید گولہ باری کی تاہم عثمانی افواج نے سخت مزاحمت کی اور کئی اتحادی جنگی جہاز تباہ ہو گئے۔یہ جنگ عثمانی سلطنت کے لیے ایک بڑی دفاعی کامیابی سمجھی جاتی ہے ۔ترکی میں آج بھی 18 مارچ کو اس جنگ کی یاد منائی جاتی ہے۔
کریمیا کا الحاق
18 مارچ 2014ء کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا کہ کریمیا کو روس میں شامل کر لیا گیا ہے۔یہ فیصلہ ایک عوامی ریفرنڈم کے بعد کیا گیا تھا جسے یوکرین اور کئی مغربی ممالک نے تسلیم نہیں کیا۔ اس کے نتیجے میں روس اور مغربی ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی اور روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔یہ واقعہ بعد میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی اور تنازع کا ایک اہم سبب بن گیا۔