بہاولپور کے مشہورقلعے

بہاولپور کے مشہورقلعے

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


بہاولپور جو کبھی ’’سوڑھا کی جھوک‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور جسے امیر بہائول خان نے 1748ء میں آباد کیا، ہزاروں برس قبل یہاں سرسوتی اور ہاکڑہ نامی دریا بہتے تھے۔ انگریز مورخ ڈاکٹر موبرٹ کے مطابق ایک ہزار سال قبل از مسیح دریائے سرسوتی سوکھ گیا۔ جبکہ 150ء میں دریائے ہاکڑہ کے سوتے بھی خشک ہوگئے، امیر بہائول خان کو اپنی سلطنت کے لیے ایک ایسے دارالحکومت کی ضرورت تھی جو ریاست کے وسط میں ہو۔ اس خیال کے پیش نظر بہاولپور میں دکانیں اور مکان بنا کر عوام میں مفت تقسیم کیے گئے اور یوں یہ شہر آباد ہوتا گیا۔ بہاولپور ایک فصیل بند شہر تھا۔ امیر محمد مبارک نے شہر کے گرد فصیل تعمیر کروائی تھی۔ شہر کے گرد نو دروازے بنائے گئے جن میں فرید گیٹ، موری گیٹ، لاہوری گیٹ، ملتانی گیٹ، بوہری گیٹ، شکار پوری گیٹ، احمد پور گیٹ، دلاوری گیٹ اور دوآوڑی گیٹ تھے جن کے آثار آج بھی قائم ہیں۔ ان گیٹوں پر دائیں بائیں محرابیں تھیں جن میں محکمہ کمیٹی کے دفاتر تھے جہاں شہر میں سامان لانے والوں سے محصول لیا جاتا تھا، کہتے ہیں ہندوستان میں سب سے زیادہ قلعے ریاست بہاولپور میں ہیں۔ ہزاروں برس سے یہاں قلعے تعمیر ہوتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے اکثریت کا نام و نشان مٹ گیا۔ تاہم چولستان میں اب بھی متعدد قلعے موجود ہیں۔ چولستان، بہاولپور کے تین اضلاع بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان تک پھیلا ہوا ہے۔ قلعہ پھلڑہ: قدیم قلعہ جسے بیکانیر کے راجہ نے تعمیر کرایا تھا‘ 1751ء تک یہ قلعہ بالکل کھنڈر بن گیا تھا لیکن قائم پور تحصیل حاصل پور کے بانی قائم خان نے اسے ازسرنو تعمیر کیا۔ قلعہ کے چاروں کونوں پر مینار ہیں، جنوبی حصے میں ایک تین منزلہ عمارت بھی ہے جو کبھی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ قلعہ کے باہر تین کنوئیں ہیں جن کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ حفاظت کے لیے قلعہ کے اوپر تین توپیں بھی موجود ہیں۔قلعہ مہروٹ بہاولنگر: یہ قلعہ 1491ء میں تعمیر ہوا ‘اصل نام مہروٹ ہی تھا لیکن بگڑ کر مروٹ بن گیا۔ قلعہ کے اندر ایک محل کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ ملتان اور دہلی کی معروف شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث اپنے زمانے کا بہت مصروف قلعہ تھا۔ قلعہ جام گڑھ:1788ء میں تعمیر ہوا۔ بیرونی فصیل کے سوا تمام چنائی مٹی کی تھی۔ قلعہ کے اندر کچھ رہائشی مکانات بھی تھے جو تعمیر و مرمت نہ ہونے کے باعث اپنی چھتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مرکزی گیٹ بھی شکست وریخت کا شکار ہے لہٰذا اب فقط آثار ہی رہ گئے ہیں۔قلعہ موج گڑھ: ضلع بہاولنگر میں قلعہ مروٹ سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قلعہ موج گڑھ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ یہاں پہنچنا دیگر قلعوں کی نسبت انتہائی دشوار ہے۔ قلعہ کے ساتھ ایک خوبصورت مسجد اور قلعہ کے بانی معروف خان کا مقبرہ بھی ہے۔ معروف خان نے یہ مقبرہ اپنی زندگی ہی میں تعمیر کرالیا تھا۔ قلعے کے مشرقی حصے میں ایک تالاب بھی ہے جو اب خشک ہو چکا ہے۔ قلعہ مبارک پور: چشتیاں میں واقع اس قلعے کو نواب مبارک نے 1157ء میں تعمیر کرایا۔ اس کی تمام چنائی مٹی سے کی گئی ہے۔ یہ قلعہ خاص طور پر کسی ممکنہ شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ قلعہ فتح گڑھ نواب بہاول خان دوم نے اس قلعے کو 1799ء میں اموکہ ریلوے سٹیشن سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کرایا۔ قلعے کی تمام تعمیر مٹی کی تھی اس کے اندر ایک گہرا کنواں تھا جبکہ قلعے کے باہر بھی دو کنوئیں تھے۔ بارشیں ہوتیں تو یہ کنوئیں پانی سے بھر جاتے پھر اس پانی کو بعدازاں ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جاتا۔ قلعہ جیجل: ضلع بہاولنگر میں حاصل سوڑھو کے مقام پر مٹی کا ایک بلند ٹیلہ ہے ماضی میں یہاں قلعہ جیجل ہوا کرتا تھا۔ قلعہ میرتھ: 1803ء میں تعمیر ہونے والے اس قلعے میں رہائشی مکانات اور پانی کے دو کنوائیں ہوا کرتے تھے ‘اس وقت قلعے کی برائے نام فصیل باقی ہے۔قلعہ بہاول گڑھ: 1791ء میں نواب بہاول خان دوم نے اسے دفاعی قلعے کے طور پر تعمیر کرایا قلعے کے نزدیک5 ایکڑ پر مشتمل باغ بھی تھا۔قلعہ سردار گڑھ: یہ قلعہ نواب مبارک خان نے 1763ء میں تعمیر کرایا تھا۔قلعہ مچھکی: 1779ء میں صوبے دار لال خان نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ قلعہ دراوڑ کی مشرقی جانب تین میل کے فاصلے پر تھا ‘اب یہ بھی مٹی کے ایک ٹیلے میں تبدیل ہوگیا ہے۔قلعہ قائم پور: 1747ء میں قائم خان ربانی کے دور میں قائم ہوا۔ اب یہ قلعہ تو منہدم ہو چکا ہے البتہ کچھ کچھ آثار باقی ہیں۔قلعہ مرید والا:1777ء میں حاجی خان نے یہ قلعہ چولستان میں تعمیر کرایا تھا‘ قلعہ دراوڑ کی جنوب میں 25 میل کے فاصلے پر تھا۔ قلعہ خان گڑھ: 1783ء میں بہاول خان دوم نے تعمیر کرایا۔ خراسان، ایران اور کابل کے راستے پر واقع ہونے کے باعث یہ کبھی تجارتی مسکن ہوا کرتا تھا۔ قلعہ رکن پور: 1776ء میں معروف خان کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ قلعہ کنڈیرا: 1746ء میں فضل خان جانی کے دور میں تعمیر ہوا۔ قلعہ صاحب گڑھ: 1777ء میں یہ قلعہ رحیم یار خان میں تعمیر ہوا۔ قلعہ رنجھروٹ: 1778ء میں تعمیر کرایا گیا۔ شہاب الدین نے اسے مسمار کرا دیا لیکن 1787ء میں اس کی تعمیر نو کی گئی۔قلعہ دین گڑھ: 1757ء میں بہادر خان بدانی نے تحصیل صادق آباد میں تعمیر کرایا‘ اب صرف فصیلیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔قلعہ اوچ شریف: اس قلعے کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے۔ قلعہ اسلام گڑھ: 1665ء میں تعمیر ہوا۔ پرانا نام قلعہ بھیم در تھا۔ 1766ء میں اس کی تعمیر نو ہوئی ۔آج بھی اس قلعے کے چند آثار موجود ہیں۔قلعہ مٹو مبارک: سینکڑوں سال قبل تعمیر کیے گئے اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے سترہ حملوں نے تباہ کر دیا تھا‘ بعدازاں اس کی تعمیر نو ہوئی۔ قلعے میں حضرت شیخ حمید الدین حاکمؒ کا مزار ہے۔قلعہ دراوڑ: 1834ء میں تعمیر کیے گئے اس قلعے کا قدیم نام دیو راول تھا۔ اسے ایک ہندوراجہ دیور اول نے تعمیر کرایا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس قلعے کا نام بگڑ کر دراوڑ بن گیا۔ قلعے میں ایک عالیشان مسجد ہے جس کی تعمیر مسلمانوں کے طرز تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ اس کے علاوہ شاہی قبرستان بھی موجود ہے جس میں نواب بہاول اول کے علاوہ تمام شاہی افراد کی قبریں موجود ہیں۔ دفاع کے لیے استعمال کی جانے والی توپیں اور ان میں استعمال ہونے والے گولے دیکھنے والے کو فوراً ماضی میں لے جاتے ہیں۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ خط نویسی

عالمی یومِ خط نویسی

خط سے ڈیجیٹل پیغام تکیکم ستمبر کو دنیا کے مختلف حصوں میں خط نویسی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس خوبصورت روایت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے انسان صدیوں سے اپنے خیالات، جذبات، تجربات اور پیغامات دوسروں تک پہنچاتے آئے ہیں۔ خط صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات، یادوں اور تعلقات کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں لکھنے والے کی شخصیت اور جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ آج کا زمانہ تیز رفتار مواصلات اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، لیکن خط نویسی کی اہمیت اور کشش آج بھی ختم نہیں ہوئی۔خط نویسی کی تاریخانسان نے جب تحریر ایجاد کی تو اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے خطوط کا سہارا لیا۔ قدیم تہذیبوں میں بادشاہوں، حکمرانوں، سفیروں اور عام لوگوں کے درمیان خطوط کے ذریعے رابطہ قائم رہتا تھا۔ ریاستی معاملات، جنگی منصوبے، تجارتی امور اور ذاتی پیغامات خطوط کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔برصغیر میں بھی خط نویسی ہماری تہذیبی اور ادبی روایت کا اہم حصہ رہی ہے۔ اردو ادب میں خطوط نے نہ صرف ذاتی تعلقات کو محفوظ کیا بلکہ ادبی نثر کو بھی ایک منفرد انداز عطا کیا۔ غالب کے خطوط اس کی بہترین مثال ہیں۔ ان کے خطوط میں ہمیں ان کی شخصیت، مزاح، روزمرہ زندگی اور معاشرتی حالات کی جھلک ملتی ہے۔ یوں خط محض پیغام نہیں رہتا بلکہ تاریخ اور ادب کا ایک اہم دستاویز بن جاتا ہے۔خط کی اصل خوبصورتیخط لکھنے کا عمل انسان کو سوچنے اور اپنے خیالات کو ترتیب دینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب کوئی شخص قلم اور کاغذ لے کر کسی عزیز، دوست یا استاد کے نام خط لکھتا ہے تو وہ اپنے الفاظ کے انتخاب پر غور کرتا ہے۔ وہ جلدی میں چند جملے نہیں لکھتا بلکہ اپنے احساسات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔خط کی ایک خاص خوبی اس کی ذاتی نوعیت ہے۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے الفاظ میں لکھنے والے کی شخصیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ کسی کی لکھائی، دستخط، کاغذ، الفاظ اور اندازِ تحریر سب مل کر خط کو منفرد بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے برسوں پرانا ایک خط بھی انسان کے لیے انتہائی قیمتی یادگار بن سکتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور خط نویسی اکیسویں صدی میں مواصلات کے ذرائع میں حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔ موبائل فون، ای میل، سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس اور ویڈیو کالز نے دنیا کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کر دیا ہے۔ آج ہم چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود دوسرے شخص کو پیغام بھیج سکتے ہیں۔اس تیز رفتار دنیا میں روایتی خط نویسی کم ہوتی گئی ہے۔ اب کسی دوست یا رشتہ دار کو خط لکھنے کے بجائے ہم WhatsApp، Messenger یا SMS کے ذریعے مختصر پیغام بھیجتے ہیں۔ کاروباری اور سرکاری معاملات میں بھی کاغذی خطوط کی جگہ ای میل اور آن لائن دستاویزات کی ترسیل نے لے لی ہے۔یہ تبدیلی بلاشبہ سہولت اور رفتار کے اعتبار سے بہت اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خوبصورت انسانی روایت بھی کمزور ہوئی ہے۔ مختصر ڈیجیٹل پیغام فوری طور پر پہنچ جاتا ہے مگر اس میں وہ جذباتی گہرائی نہیں جو خط میں محسوس ہوسکتی ہے۔خط کی نئی صورتیںاس کا مطلب یہ نہیں کہ خط مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ دراصل خط نے اپنی شکل تبدیل کر لی ہے۔ آج خط کی کئی نئی صورتیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ای میل کو جدید دور کا ایک اہم خط کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ای میل کاغذ پر نہیں لکھی جاتی لیکن اس میں خط کی بنیادی خصوصیات موجود ہیں۔اسی طرح WhatsApp، Messenger اور دیگر ایپس پر بھیجے جانے والے تفصیلی پیغامات بھی بعض اوقات روایتی خط ہی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کاغذ اور ڈاک کی جگہ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔سوشل میڈیا پوسٹس بھی خط نویسی ہی کی نئی شکل سمجھی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں انسان کسی کو خط لکھتا تھا جبکہ آج وہ ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے خیالات ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔نئی نسل کیلئے خط نویسی کی اہمیتآج کے بچوں اور نوجوانوں کو خط نویسی سے متعارف کرانا خاص طور پر ضروری ہے۔ خط لکھنے سے زبان، الفاظ کے ذخیرے، اظہارِ خیال اور تحریری صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے علاوہ خط انسان کو صبر، غوروفکر اور اپنے جذبات کو مناسب الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔اس لیے ضروری نہیں کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو چھوڑ کر دوبارہ صرف کاغذی خطوط کی دنیا میں واپس چلے جائیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم روایتی خط کی خوبصورتی اور جدید ٹیکنالوجی کی سہولت کو ایک ساتھ استعمال کریں۔ کبھی کسی عزیز کو ہاتھ سے لکھا ہوا خط بھیجا جا سکتا ہے اور کبھی ایک خوبصورت تفصیلی ای میل یا پیغام۔عالمی یومِ خط نویسی ہمیں صرف ایک پرانی روایت یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہم اپنی تیز رفتار دنیا میں اپنے جذبات کو کس طرح محفوظ رکھیں؟ ٹیکنالوجی نے رابطے کو آسان، تیز اور عالمی بنا دیا ہے مگر انسانی تعلقات صرف رفتار سے مضبوط نہیں ہوتے؛ ان کے لیے وقت، توجہ اور احساس بھی ضروری ہے۔خط شاید آج پہلے جیسا عام نہیں رہا لیکن اس کی روح اب بھی زندہ ہے۔ کاغذی خط، ای میل، ذاتی پیغام، ڈیجیٹل کارڈ یا سوشل میڈیا پر لکھی گئی ایک دل سے نکلی تحریر،یہ سب دراصل اسی انسانی خواہش کی مختلف شکلیں ہیں کہ ہم اپنے دل کی بات کسی دوسرے دل تک پہنچا سکیں۔یکم ستمبر کا عالمی یومِ خط نویسی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ الفاظ کی قدر کیجیے، اپنے احساسات کا اظہار کیجیے اور کبھی کبھی چند لمحے نکال کر کسی اپنے کے نام کچھ ایسا لکھیے جسے وہ صرف پڑھ نہ سکے بلکہ محسوس بھی کر سکے۔

الیکٹرک گاڑی کی بیٹری

الیکٹرک گاڑی کی بیٹری

لمبی عمر چاہیے تو ڈرائیونگ کا یہ انداز چھوڑ دیںدنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں کم اخراج، کم آپریٹنگ اخراجات اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ تاہم EV خریدنے والوں کے لیے سب سے اہم سوالات میں سے ایک بیٹری کی عمر بھی ہے۔عام طور پر بیٹری وقت اور استعمال کے ساتھ اپنی اصل گنجائش کا کچھ حصہ کھو دیتی ہے مثال کے طور پر جو بیٹری نئی حالت میں مکمل چارج ہونے پر جتنی توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے کئی سال استعمال کے بعد اتنی توانائی ذخیرہ نہیں کر پاتی نتیجتاً گاڑی کی فی چارج رینج کم ہو سکتی ہے، کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور مستقبل میں بیٹری تبدیل کرنے کی صورت میں خاصا خرچ بھی آ سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ ڈرائیونگ کا انداز خود EV بیٹری کی عمر پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت جارحانہ انداز میں گاڑی چلانا بیٹری کے لیے خاصا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ڈرائیونگ کے اثراتالیکٹرک گاڑی میں تیز رفتاری حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے کیونکہ الیکٹرک موٹر فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کر سکتی ہے۔ یہی خصوصیت EV کو تیز رفتار اور فوری رفتار دیتی ہے لیکن اگر ڈرائیور بار بارایکسیلیریٹر پوری قوت سے دبائے تو بیٹری سے بہت زیادہ کرنٹ حاصل کیا جاتا ہے۔چین کی شنگھائی ڈیانجی یونیورسٹی کے محققین نے 15 الیکٹرک گاڑیوں سے ایک سال کا حقیقی ڈرائیونگ ڈیٹا حاصل کیا۔ ان گاڑیوں کو شہری، مضافاتی اور ہائی وے سمیت مختلف حالات میں چلایا گیا اور ہر 10 سیکنڈ بعد گاڑی کے استعمال سے متعلق معلومات ریکارڈ کی گئیں۔محققین نے رفتار، بیٹری کرنٹ، بیٹری کا چارج، وولٹیج اور درجہ حرارت جیسے عوامل کو استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ کے مختلف اندازوں کی نشاندہی کی۔ ان میں ایک طرف ہموار ڈرائیونگ تھی جبکہ دوسری طرف انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ جس میں کم رفتار پر بار بار بہت زیادہ ٹارک اور کرنٹ کی ضرورت پیدا ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جارحانہ ڈرائیونگ اور ایکو ڈرائیونگ کی اوسط رفتار تقریباً ایک جیسی تھی لیکن بیٹری سے حاصل کیے جانے والے کرنٹ میں بہت بڑا فرق تھا۔ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ میں اوسط RMS کرنٹ تقریباً 66.02 ایمپیئر تھا جبکہ ایکو ڈرائیونگ میں یہ صرف 20.56 ایمپیئر۔2.5 گنا زیادہ بیٹری کی کھپتتحقیق کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا نتیجہ یہ ہے کہ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ کے نتیجے میں بیٹری کی کھپت ہموار ڈرائیونگ کے مقابلے میں تقریباً 2.5 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ہموار ترین ڈرائیونگ میں تقریباً 21.15 فیصد بیٹری خرچ ہوئی جبکہ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ میں 53.22 فیصد۔یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر EV میں اگر آپ تیز گاڑی چلائیں گے تو بیٹری لازماً 2.5 گنا کم ہو جائے گی۔البتہ تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بیٹری سے جتنی زیادہ اچانک اور شدید طاقت طلب کی جائے گی اتنا ہی بیٹری کی عمر پر دباؤبڑھ سکتا ہے۔EV ڈرائیور بیٹری کی عمر بڑھانے کیلئے کیا کریں؟اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ EV چلانے والے ہر وقت انتہائی آہستہ گاڑی چلائیں۔ اصل سبق ہموار ڈرائیونگ ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گاڑی کی بیٹری طویل عرصے تک بہتر حالت میں رہے تو بار بار accelerator کو مکمل طاقت سے دبانے، اچانک تیز acceleration اور پھر سخت بریکنگ سے گریز کرنا بہتر ہے۔ خاص طور پر کم رفتار سے اچانک بہت زیادہ ٹارک حاصل کرنے کی عادت بیٹری پر زیادہ دباؤ ڈال سکتی ہے۔اس کے بجائے رفتار بتدریج بڑھائیں، ٹریفک کو پہلے سے دیکھ کر بریک لگائیں اور غیر ضروری طور پر بار بار تیز acceleration اوربریک نہ کریں۔ ہموار رفتار برقرار رکھنا نہ صرف بیٹری کے لیے بہتر ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کی کھپت کم کرنے اور گاڑی کی رینج بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ یقیناً بیٹری کی عمر صرف ڈرائیونگ کے انداز پر منحصر نہیں ہوتی۔ بیٹری کا درجہ حرارت،چارج لیول ، چارجنگ پیٹرن، وقت اور بیٹری کی اپنی کمیسٹری بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کانتو کا زلزلہیکم ستمبر 1923ء کو جاپان کے علاقے کانتو میں تباہ کن زلزلہ آیا جسے جدید جاپان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ زلزلے کی شدت تقریباً 8.0 تھی۔اس قدرتی آفت کا سب سے خطرناک پہلو صرف زلزلہ نہیں تھا بلکہ اس کے فوراً بعد بھڑکنے والی آگ بھی تھی۔ اس وقت جاپان کے شہروں میں لکڑی کی عمارتیں بڑی تعداد میں تھیں،زلزلے کے وقت بہت سے گھروں میں کھانا پکایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ نتیجتاً ٹوکیو اور یوکوہاما کے بڑے حصے تباہ ہو گئے۔مجموعی طور پر اس سانحے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔اس تباہی نے جاپان کی شہری منصوبہ بندی، تعمیرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئی چہاردہم کا انتقالیکم ستمبر 1715ء کو فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم کا ورسائی میں انتقال ہوا۔ وہ فرانس کی تاریخ کے سب سے مشہور بادشاہوں میں شمار ہوتا ہے اوراس کا دورِ حکومت تقریباً 72 سال پر محیط تھا۔ اس دور میں فرانس یورپ کی ایک بڑی سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اس نے شاہی اقتدار کو مضبوط کیا اور مرکزی حکومت کے اختیار میں اضافہ کیا۔ اس کے دور میں ورسائی کا محل فرانسیسی شاہی طاقت، درباری ثقافت اور فنون کا ایک عظیم مرکز بن گیا۔ فرانس نے اس دور میں کئی بڑی جنگیں بھی لڑیں۔لوئی چہاردہم کے بعد تخت اس کے پانچ سالہ پڑپوتے لوئی پانزدہم کو ملا۔ چونکہ نیا بادشاہ نابالغ تھا اس لیے فلپ دوم، ڈیوک آف اورلیان نے ریجنٹ کی حیثیت سے حکومت کے معاملات سنبھالے۔لیبیا میں انقلاب یکم ستمبر 1969ء کو شمالی افریقی ملک لیبیا میں فوجی انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ملک کی بادشاہت ختم ہو گئی اور بادشاہ ادریس اول کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ملک کے سربراہ ادریس اول اس انقلاب کے وقت ملک سے باہر تھے اور نوجوان فوجی افسروں کے ایک گروہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم فوجی، سرکاری اور مواصلاتی مراکز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ معمر قذافی اس گروہ میں سب سے نمایاں تھے۔ نئی حکومت نے لیبیا میں غیر ملکی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور ملک کے قدرتی وسائل، خصوصاً تیل، پر قومی اختیار مضبوط کرنے کی کوشش کی۔بعد کے برسوں میں قذافی نے لیبیا کے سیاسی نظام کو اپنی سوچ کے مطابق تبدیل کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغازیکم ستمبر 1939ء کو نازی جرمنی نے پولینڈ پر حملہ شروع کیا۔ اس حملے کو یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز کا بنیادی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ 1938ء میں جرمنی نے آسٹریا کو اپنے ساتھ شامل کیا اور بعد میں چیکوسلواکیہ کے علاقوں پر قبضہ کیا۔ 1939ء میں جرمنی کی توجہ پولینڈ کی طرف مرکوز ہو گئی۔یکم ستمبر کی صبح جرمن افواج نے پولینڈ پر مختلف سمتوں سے حملہ شروع کیا۔دوسری جنگِ عظیم تقریباً چھ سال جاری رہی اور اس میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس جنگ نے عالمی سیاست، معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور دنیا کے طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اقوام متحدہ کے قیام، نوآبادیاتی نظام کے کمزور ہونے اور امریکہ اور سوویت یونین کے عالمی طاقتوں کے طور پر ابھرنے میں بھی اس جنگ کا اہم کردار تھا۔کورین ایئر لائنز سانحہیکم ستمبر 1983ء کو سرد جنگ کے دوران ایک سنگین بین الاقوامی واقعہ پیش آیا جب کورین ائیر لائنز کے مسافر طیارے کو سوویت جنگی طیارے نے مار گرایا۔ اس میں طیارے میں سوار تمام 269 افراد ہلاک ہوگئے۔یہ طیارہ نیویارک سے سیول جا رہا تھا اور راستے میں الاسکا میں رکا تھا۔ وہاں سے روانگی کے بعد طیارہ اپنے مقررہ فضائی راستے سے ہٹ گیا اور سوویت فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ سوویت فضائی دفاعی حکام نے اس طیارے کو ممکنہ طور پر امریکی جاسوس طیارہ سمجھ لیااور اسے میزائل سے نشانہ بنایا۔ مسافر طیارہ سمندر میں گر گیا اور اس میں موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سانحے میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے، جس کی وجہ سے یہ واقعہ فوری طور پر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔

ناسا کی کوشش ناکام

ناسا کی کوشش ناکام

خلائی دوربین زمین سے ٹکرانے کا خطرہخلائی تحقیق نے انسان کو کائنات کے بے شمار رازوں سے آگاہ کیا ہے، لیکن خلا میں بھیجے گئے مصنوعی آلات اور سیٹلائٹس کی واپسی ہمیشہ ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔ ناسا کی ایک خلائی دوربین کو بچانے کیلئے شروع کیا گیا امدادی مشن ناکام ہونے کے بعد اب یہ دوربین بے قابو ہو کر زمین کی جانب گرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس صورتحال نے خلائی ملبے، زمین پر ممکنہ اثرات اور ناکارہ خلائی آلات کے محفوظ انتظام کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اس دوربین کے مدار اور ممکنہ مقامِ سقوط پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ناسا نے اپنی ناکارہ ہوتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کا مشن ختم کر دیا، جس کے باعث اب رواں سال کے اواخر میں اس کے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے جل کر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خلائی ادارے نے اس امید پر 3 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے کہ ایک دوسرے خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ آبزرویٹری کو بلند مدار میں پہنچایا جائے گا اور اسے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے سے بچایا جا سکے گا۔ تاہم اس کے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی حتمی تاریخ اور مقام ابھی معلوم نہیں۔ریسکیو مشن کیلئے بھیجا گیا خلائی جہاز لنک (Link) جولائی کے آغاز میں روانگی کے چند ہفتے بعد بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگرچہ پرواز کے نگرانوں نے لنک کی گردش کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، تاہم مدار میں اس کی سمت اور پوزیشن برقرار رکھنے کے مسائل بدستور موجود رہے۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے ایک بیان میں کہا: یہ وہ نتیجہ نہیں جس کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ یہ مشن کوشش کے قابل تھا۔سوئفٹ آبزرویٹری کو 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں ہونے والے طاقتور ترین دھماکوں، یعنی گاما رے برسٹ، کے علاوہ دیگر فلکیاتی اجرام اور کائناتی واقعات کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اس خلائی دوربین کو بنیادی طور پر صرف دو سالہ مشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے 21 سال تک سائنسی تحقیق جاری رکھی۔اب شمسی سرگرمی میں اضافے کے باعث سوئفٹ کا زمین کے نچلے مدار میں سفر تیزی سے زوال پذیر ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔لنک کو ایریزونا کے شہر فلیگ اسٹاف میں قائم ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ کیٹالسٹ اسپیس نے تیار کیا تھا، جو روبوٹک خلائی جہاز، مدار میں موجود سیٹلائٹس کی سروسنگ اور خودکار خلائی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہے۔ ریسکیو خلائی جہاز کو جولائی کے آغاز میں روانہ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد تقریباً 216 میل (348 کلومیٹر) کی بلندی پر موجود سوئفٹ آبزرویٹری کے قریب پہنچنا، اسے مضبوطی سے پکڑنا اور پھر کھینچ کر تقریباً 373 میل (600 کلومیٹر) بلند مدار میں منتقل کرنا تھا، جس سے دوربین کی مدتِ کار کئی سال بڑھ سکتی تھی۔ تاہم لنک کو خود بھی مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور انجینئرز کئی ہفتوں تک اسے دوبارہ قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے ٹیم نے لنک میں پوزیشن اور سمت کو کنٹرول کرنے والا نیا سافٹ ویئر اپ لوڈ کیا، جس سے اس کی بے قابو گردش کی رفتار تو کم ہوئی، لیکن وہ مکمل طور پر رک نہ سکی۔کیٹالسٹ اسپیس اور ناسا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ لنک خلائی جہاز کی مسلسل نگرانی اور جائزے کے بعد دونوں اداروں نے اس نتیجے پر اتفاق کیا ہے کہ اس کے سمت اور پوزیشن کو کنٹرول کرنے میں جاری مسائل کے باعث مشن میں ناسا کی نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو پکڑ کر اس کا مدار بلند کرنا شامل نہیں ہوگا۔ آبزرویٹری کے مدار کو بلند کرکے اس کی عملی زندگی کئی سال بڑھانا اپنی نوعیت کا امریکا کا پہلا مشن تھا۔ کیٹالسٹ کیلئے یہ ایک انتہائی پرجوش اور مشکل منصوبہ تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے لنک ریسکیو وہیکل کو غیر معمولی طور پر صرف نو ماہ کے ریکارڈ مدت میں تیار کرکے اس کے تجربات مکمل کیے۔ کیٹالسٹ کے چیف ایگزیکٹو گھونہی لی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے زیادہ خطرے اور زیادہ کامیابی کے امکانات والے اس چیلنج کو قبول کیا اور راستے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر ہمیں فخر ہے۔

موسمیاتی تبدیلیاں،  خالی کھیت اور غذائی سلامتی کے خطرات

موسمیاتی تبدیلیاں، خالی کھیت اور غذائی سلامتی کے خطرات

پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کی زد میں ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور پگھلتے گلیشیئر اس بحران کی نمایاں علامات ہیں، مگر اس کا ایک سنگین رخ اب کھیتوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے، خوراک مہنگی ہو رہی ہے اور کسان بدلتے موسم کے ساتھ نئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف زرعی پیداوار ہی نہیں بلکہ غذائی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔950 کسانوں پر حالیہ تحقیق کے مطابق صرف 22فیصد کسانوں نے فصلوں کی بوائی کا وقت تبدیل کیا،15فیصد نے خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام اپنائیں، جبکہ 25فیصد نے نئی فصلیں اُگائیں۔ ان اقدامات سے زیادہ تر کسانوں کے گھرانے نسبتاً محفوظ اور غربت سے کم متاثر پائے گئے۔اس کے باوجود بڑی تعداد میں کاشتکار اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہیں بارشوں، شدید گرمی، پانی کی کمی اور کیڑوں کے خطرات کا سامنا ہے۔زراعت کی کم ہوتی پیداواراقتصادی جائزہ 2024-25 ء کے اعدادوشمار بھی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح صرف 0.56 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 6.40 فیصد تھی۔ فصلوں کے شعبے میں 6.82 فیصد کمی ہوئی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار 13.49فیصد کم رہی۔ گندم کی پیداوار میں 8.9 فیصد، کپاس میں 30.7 فیصد، مکئی میں 15.4 فیصد، گنے میں 3.88 فیصد اور چاول میں 1.38فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ زیرکاشت رقبے میں کمی، بوائی میں تاخیر اور شدید موسمی حالات اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔گندم ملکی خوراک، کپاس آمدنی اور برآمدات، مکئی مویشیوں کی خوراک اور چاول زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے فصلوں میں کمی کا اثر پورے ملکی معاشی نظام پر پڑتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک موسمی جھٹکا کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ شدید گرمی گندم کی پیداوار کم کرتی ہے، بے وقت بارش بوائی اور کٹائی متاثر کرتی ہے، جبکہ سیلاب فصلوں، مویشیوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یوں موسمیاتی بحران بالآخر کسان کے گھر کے چولہے تک پہنچ جاتا ہے۔پاکستان میں زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کیلئے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو بہتر زرعی طریقے، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمی خطرات سے نمٹنے میں مدد دی جا رہی ہے، تاہم موجودہ اقدامات اس بڑے چیلنج کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔کسان کو محض موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی نہیں، عملی سہولتیں درکار ہیں۔ اسے گرمی برداشت کرنے والے بیج، آسان شرائط پر قرض، مقامی زبان میں موسم کی بروقت اطلاع، فصلوں کا بیمہ، پانی بچانے والے آبپاشی طریقے، زمین کی جانچ، کیڑوں سے متعلق معلومات اور منڈی کے نرخوں تک رسائی چاہیے۔ زرعی ماہرین کو فصل خراب ہونے کے بعد نہیں بلکہ نقصان سے پہلے کھیت تک پہنچنا ہوگا۔ 2025ء میں پنجاب اور سندھ کے 800 کسانوں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق پنجاب کے 87 فیصد کسان کم خرچ فصلیں اُگا رہے تھے، جبکہ سندھ میں یہ شرح 60فیصد تھی۔ بارش کا پانی محفوظ کرنے کا طریقہ پنجاب میں صرف 10 فیصد اور سندھ میں 34 فیصد کسان استعمال کر رہے تھے۔ کھیت سے دسترخوان تکغذائی سلامتی کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ عام آدمی کی اسے خریدنے کی استطاعت بھی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 42 فیصد آبادی درمیانے یا شدید درجے کی غذائی کمی کا شکار ہے۔ پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔فصل خراب ہونے سے خوراک مہنگی ہوتی ہے۔ غریب خاندان کھانے کے معیار اور مقدار میں کمی کرتے ہیں جبکہ صحت اور تعلیم جیسے ضروری اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں موسمیاتی تبدیلی کا سفر کھیت سے شروع ہو کر گھر کے دسترخوان تک پہنچتا ہے۔خالی پیٹ بھی قومی خطرہموسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غذائی کمی مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑا سماجی اور معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔ غذائی بحران مہنگائی میں اضافے، غربت کے پھیلا اور معاشرتی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان کو کسانوں کو موسمیاتی خطرات سے بچانا قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ ہر ضلع کے لیے موسم، پانی اور زمین کی صورتحال کے مطابق زرعی منصوبہ تیار کیا جائے۔ زرعی محکموں کو بروقت مشاورت کا مؤثر نظام بنانا ہوگا، جبکہ جامعات اور تحقیقی اداروں کو اپنی تحقیق کھیت تک پہنچانا ہوگی۔ سرکاری مراعات کو پانی بچانے، بہتر بیج اور زمین کی صحت سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف فصلیں تباہ نہیں کرتی بلکہ غربت، بھوک اور بے یقینی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کی آئندہ غذائی سلامتی کا فیصلہ کانفرنسوں میں نہیں بلکہ ان کھیتوں میں ہوگا، جہاں محدود وسائل رکھنے والا کسان بدلتے موسم کے مقابل اپنی فصل بچانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

دریائے آمور

دریائے آمور

چین اور روس کے درمیان بہتا عظیم دریادنیا کے عظیم دریاؤں میں دریائے آمور ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ دریا اپنی غیر معمولی لمبائی، وسیع آبی طاس، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ تقریباً 2744 میل طویل آمور کو دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس دریا کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ چین اور روس کے درمیان قدرتی سرحد کا کام دیتا ہے، جس کی وجہ سے اسے دونوں ممالک کی جغرافیائی اور معاشی زندگی میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔دریائے آمور کا آغاز بنیادی طور پر دریائے شلکا اور دریائے ارگون کے سنگم سے ہوتا ہے۔ ارگون کا دریا چین اور منگولیا کے علاقوں سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ شلکا روس کے مشرقی خطے سے بہتا ہوا آتا ہے۔ دونوں دریاؤں کے ملنے کے بعد آمور وجود میں آتا ہے اور پھر مشرق کی سمت اپنا طویل سفر شروع کرتا ہے۔ اپنے سفر کے دوران یہ مختلف معاون دریاؤں کا پانی اپنے اندر سمیٹتا ہوا آخرکار بحرالکاہل کے قریب بحیرہ اوخوتسک میں جا گرتا ہے۔آمور کا آبی نظام انتہائی وسیع ہے اور اس کے کناروں پر روس اور چین کے متعدد علاقے آباد ہیں۔ دریا کے اطراف کی زمینیں زراعت، جنگلات اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے اہم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی روابط میں بھی دریائے آمور اور اس سے وابستہ آبی راستوں کا کردار قابل ذکر ہے۔ گرمیوں کے موسم میں مختلف علاقوں کے درمیان سامان کی نقل و حمل کیلئے اس دریا کو استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے کناروں پر واقع بندرگاہیں مقامی تجارت کو سہارا دیتی ہیں۔دریائے آمور اپنی قدرتی حیات کیلئے بھی شہرت رکھتا ہے۔ اس کے آبی طاس میں مچھلیوں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں بعض نایاب اقسام بھی شامل ہیں۔ دریا کے آس پاس واقع جنگلات اور دلدلی علاقے مختلف پرندوں اور جنگلی جانوروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتے ہیں۔ آمور کے علاقے میں پائی جانے والی قدرتی تنوع کی وجہ سے ماہرین ماحولیات اس خطے کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔سردیوں میں دریائے آمور کا بڑا حصہ شدید سردی کے باعث جم جاتا ہے، جس سے آبی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے۔ تاہم موسمِ بہار اور گرمیوں میں برف پگھلنے اور بارشوں کے باعث پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے اس کے اطراف کے علاقوں کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ یہی موسمی تبدیلیاں دریا کے کناروں پر آباد آبادیوں کی زندگی اور مقامی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔دریائے آمور کی اہمیت صرف اس کی لمبائی یا جغرافیائی حیثیت تک محدود نہیں۔ یہ دریا چین اور روس کے درمیان قدرتی رابطے اور سرحد کی علامت بھی ہے۔ اس کے پانی، قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع نے اسے مشرقی ایشیا کے اہم ترین دریاؤں میں شامل کر دیا ہے۔ آج بھی دریائے آمور دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کی زندگی، تجارت اور ماحولیات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور قدرت کے ایک عظیم شاہکار کی حیثیت سے اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔