بہاولپور کے مشہورقلعے

بہاولپور کے مشہورقلعے

اسپیشل فیچر

تحریر : شیخ نوید اسلم


بہاولپور جو کبھی ’’سوڑھا کی جھوک‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور جسے امیر بہائول خان نے 1748ء میں آباد کیا، ہزاروں برس قبل یہاں سرسوتی اور ہاکڑہ نامی دریا بہتے تھے۔ انگریز مورخ ڈاکٹر موبرٹ کے مطابق ایک ہزار سال قبل از مسیح دریائے سرسوتی سوکھ گیا۔ جبکہ 150ء میں دریائے ہاکڑہ کے سوتے بھی خشک ہوگئے، امیر بہائول خان کو اپنی سلطنت کے لیے ایک ایسے دارالحکومت کی ضرورت تھی جو ریاست کے وسط میں ہو۔ اس خیال کے پیش نظر بہاولپور میں دکانیں اور مکان بنا کر عوام میں مفت تقسیم کیے گئے اور یوں یہ شہر آباد ہوتا گیا۔ بہاولپور ایک فصیل بند شہر تھا۔ امیر محمد مبارک نے شہر کے گرد فصیل تعمیر کروائی تھی۔ شہر کے گرد نو دروازے بنائے گئے جن میں فرید گیٹ، موری گیٹ، لاہوری گیٹ، ملتانی گیٹ، بوہری گیٹ، شکار پوری گیٹ، احمد پور گیٹ، دلاوری گیٹ اور دوآوڑی گیٹ تھے جن کے آثار آج بھی قائم ہیں۔ ان گیٹوں پر دائیں بائیں محرابیں تھیں جن میں محکمہ کمیٹی کے دفاتر تھے جہاں شہر میں سامان لانے والوں سے محصول لیا جاتا تھا، کہتے ہیں ہندوستان میں سب سے زیادہ قلعے ریاست بہاولپور میں ہیں۔ ہزاروں برس سے یہاں قلعے تعمیر ہوتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے اکثریت کا نام و نشان مٹ گیا۔ تاہم چولستان میں اب بھی متعدد قلعے موجود ہیں۔ چولستان، بہاولپور کے تین اضلاع بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان تک پھیلا ہوا ہے۔ قلعہ پھلڑہ: قدیم قلعہ جسے بیکانیر کے راجہ نے تعمیر کرایا تھا‘ 1751ء تک یہ قلعہ بالکل کھنڈر بن گیا تھا لیکن قائم پور تحصیل حاصل پور کے بانی قائم خان نے اسے ازسرنو تعمیر کیا۔ قلعہ کے چاروں کونوں پر مینار ہیں، جنوبی حصے میں ایک تین منزلہ عمارت بھی ہے جو کبھی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ قلعہ کے باہر تین کنوئیں ہیں جن کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ حفاظت کے لیے قلعہ کے اوپر تین توپیں بھی موجود ہیں۔قلعہ مہروٹ بہاولنگر: یہ قلعہ 1491ء میں تعمیر ہوا ‘اصل نام مہروٹ ہی تھا لیکن بگڑ کر مروٹ بن گیا۔ قلعہ کے اندر ایک محل کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ ملتان اور دہلی کی معروف شاہراہ پر واقع ہونے کے باعث اپنے زمانے کا بہت مصروف قلعہ تھا۔ قلعہ جام گڑھ:1788ء میں تعمیر ہوا۔ بیرونی فصیل کے سوا تمام چنائی مٹی کی تھی۔ قلعہ کے اندر کچھ رہائشی مکانات بھی تھے جو تعمیر و مرمت نہ ہونے کے باعث اپنی چھتوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ مرکزی گیٹ بھی شکست وریخت کا شکار ہے لہٰذا اب فقط آثار ہی رہ گئے ہیں۔قلعہ موج گڑھ: ضلع بہاولنگر میں قلعہ مروٹ سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع قلعہ موج گڑھ اس اعتبار سے منفرد ہے کہ یہاں پہنچنا دیگر قلعوں کی نسبت انتہائی دشوار ہے۔ قلعہ کے ساتھ ایک خوبصورت مسجد اور قلعہ کے بانی معروف خان کا مقبرہ بھی ہے۔ معروف خان نے یہ مقبرہ اپنی زندگی ہی میں تعمیر کرالیا تھا۔ قلعے کے مشرقی حصے میں ایک تالاب بھی ہے جو اب خشک ہو چکا ہے۔ قلعہ مبارک پور: چشتیاں میں واقع اس قلعے کو نواب مبارک نے 1157ء میں تعمیر کرایا۔ اس کی تمام چنائی مٹی سے کی گئی ہے۔ یہ قلعہ خاص طور پر کسی ممکنہ شورش کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ قلعہ فتح گڑھ نواب بہاول خان دوم نے اس قلعے کو 1799ء میں اموکہ ریلوے سٹیشن سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کرایا۔ قلعے کی تمام تعمیر مٹی کی تھی اس کے اندر ایک گہرا کنواں تھا جبکہ قلعے کے باہر بھی دو کنوئیں تھے۔ بارشیں ہوتیں تو یہ کنوئیں پانی سے بھر جاتے پھر اس پانی کو بعدازاں ضروریات زندگی کے لیے استعمال کیا جاتا۔ قلعہ جیجل: ضلع بہاولنگر میں حاصل سوڑھو کے مقام پر مٹی کا ایک بلند ٹیلہ ہے ماضی میں یہاں قلعہ جیجل ہوا کرتا تھا۔ قلعہ میرتھ: 1803ء میں تعمیر ہونے والے اس قلعے میں رہائشی مکانات اور پانی کے دو کنوائیں ہوا کرتے تھے ‘اس وقت قلعے کی برائے نام فصیل باقی ہے۔قلعہ بہاول گڑھ: 1791ء میں نواب بہاول خان دوم نے اسے دفاعی قلعے کے طور پر تعمیر کرایا قلعے کے نزدیک5 ایکڑ پر مشتمل باغ بھی تھا۔قلعہ سردار گڑھ: یہ قلعہ نواب مبارک خان نے 1763ء میں تعمیر کرایا تھا۔قلعہ مچھکی: 1779ء میں صوبے دار لال خان نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ قلعہ دراوڑ کی مشرقی جانب تین میل کے فاصلے پر تھا ‘اب یہ بھی مٹی کے ایک ٹیلے میں تبدیل ہوگیا ہے۔قلعہ قائم پور: 1747ء میں قائم خان ربانی کے دور میں قائم ہوا۔ اب یہ قلعہ تو منہدم ہو چکا ہے البتہ کچھ کچھ آثار باقی ہیں۔قلعہ مرید والا:1777ء میں حاجی خان نے یہ قلعہ چولستان میں تعمیر کرایا تھا‘ قلعہ دراوڑ کی جنوب میں 25 میل کے فاصلے پر تھا۔ قلعہ خان گڑھ: 1783ء میں بہاول خان دوم نے تعمیر کرایا۔ خراسان، ایران اور کابل کے راستے پر واقع ہونے کے باعث یہ کبھی تجارتی مسکن ہوا کرتا تھا۔ قلعہ رکن پور: 1776ء میں معروف خان کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ قلعہ کنڈیرا: 1746ء میں فضل خان جانی کے دور میں تعمیر ہوا۔ قلعہ صاحب گڑھ: 1777ء میں یہ قلعہ رحیم یار خان میں تعمیر ہوا۔ قلعہ رنجھروٹ: 1778ء میں تعمیر کرایا گیا۔ شہاب الدین نے اسے مسمار کرا دیا لیکن 1787ء میں اس کی تعمیر نو کی گئی۔قلعہ دین گڑھ: 1757ء میں بہادر خان بدانی نے تحصیل صادق آباد میں تعمیر کرایا‘ اب صرف فصیلیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔قلعہ اوچ شریف: اس قلعے کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے۔ قلعہ اسلام گڑھ: 1665ء میں تعمیر ہوا۔ پرانا نام قلعہ بھیم در تھا۔ 1766ء میں اس کی تعمیر نو ہوئی ۔آج بھی اس قلعے کے چند آثار موجود ہیں۔قلعہ مٹو مبارک: سینکڑوں سال قبل تعمیر کیے گئے اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے سترہ حملوں نے تباہ کر دیا تھا‘ بعدازاں اس کی تعمیر نو ہوئی۔ قلعے میں حضرت شیخ حمید الدین حاکمؒ کا مزار ہے۔قلعہ دراوڑ: 1834ء میں تعمیر کیے گئے اس قلعے کا قدیم نام دیو راول تھا۔ اسے ایک ہندوراجہ دیور اول نے تعمیر کرایا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس قلعے کا نام بگڑ کر دراوڑ بن گیا۔ قلعے میں ایک عالیشان مسجد ہے جس کی تعمیر مسلمانوں کے طرز تعمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ اس کے علاوہ شاہی قبرستان بھی موجود ہے جس میں نواب بہاول اول کے علاوہ تمام شاہی افراد کی قبریں موجود ہیں۔ دفاع کے لیے استعمال کی جانے والی توپیں اور ان میں استعمال ہونے والے گولے دیکھنے والے کو فوراً ماضی میں لے جاتے ہیں۔(پاکستان کے آثارِ قدیمہ)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نو عمر لڑکے کا کمال

نو عمر لڑکے کا کمال

دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیارٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمر کبھی بھی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ آج کے دور میں نوجوان ذہن اپنی تخلیقی سوچ، اختراعی صلاحیتوں اور سائنسی مہارت کے بل بوتے پر ایسے کارنامے انجام دے رہے ہیں جو ماضی میں صرف تجربہ کار سائنس دانوں اور انجینئروں سے منسوب سمجھے جاتے تھے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مائیکرو انجینئرنگ جیسے شعبوں میں نوجوان نسل کی غیر معمولی دلچسپی نت نئی ایجادات کو جنم دے رہی ہے، جو نہ صرف سائنسی دنیا کو حیران کر رہی ہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کا رخ بھی متعین کر رہی ہیں۔ایسی ہی ایک حیران کن مثال ایک نوعمر انجینئر نے قائم کی ہے، جس نے دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ یہ اس نوجوان کی دوسری ریکارڈ ساز ایجاد ہے، جو اس کی غیر معمولی ذہانت، مسلسل محنت اور سائنسی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کامیابی نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، وسائل اور مواقع میسر ہوں تو وہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔17 سالہ طالب علم ہیتن نے رواں سال جنوری میں دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو تیار کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مائیکرو انجینئرنگ کے شعبے میں مزید عالمی ریکارڈز لانے کے خواہشمند ہیتن کا کہنا ہے کہ میرا ذاتی مقصد یہ ہے کہ میں ہر سال ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کروں۔ ہیتن کی انتہائی چھوٹی چیزیں تیار کرنے (extreme miniaturisation) سے متعلق تحقیق کے دوران ان کی نظر اس شعبے کے سابق عالمی ریکارڈ ہولڈر کیلٹن سیرا(Kelton Serra) پر پڑی، جنہوں نے 16 مئی 2024ء کو یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ان کا تیار کردہ روبوٹک بازو 44.49 ملی میٹر (1.75 انچ) لمبا تھا۔ہیتن کی ریکارڈ ساز کوشش میں تیار کیا گیا روبوٹک بازو اس سے 5 ملی میٹر چھوٹا تھا۔ اس کی لمبائی صرف 39.25 ملی میٹر (1.54 انچ) تھی، یعنی یہ تقریباً ایک عام پیپر کلپ سے کچھ ہی بڑا تھا۔ہیتن جانتے تھے کہ ریکارڈ بنانے کی اس کوشش کا ایک اہم مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ انتہائی درستگی کے حامل مائیکرو مینوفیکچرنگ کیلئے کسی بڑے اور جدید ترین لیبارٹری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے میکینکل نظاموں کو چھوٹے پیمانے پر ایک سادہ گھریلو ورک اسپیس میں بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے، ہیتن نے ایسے ''آسانی سے دستیاب پرزہ جات‘‘ تلاش کرنے پر وقت صرف کیا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جدید ترین اور عالمی معیار کی جدت طرازی عام دستیاب ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔انہوں نے اپنے ڈیزائن کے ابتدائی خاکے بنانا شروع کیے اور صرف دو ماہ بعد ان کے پاس دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو کا ایک مکمل طور پر فعال نمونہ (Prototype) تیار تھا۔ دنیا کا سب سے چھوٹا روبوٹک بازو بنانے کے تجربے کے بارے میں پوچھے جانے پر ہیتن نے بتایا کہ میں نے جدید سی اے ڈی (CAD) سافٹ ویئر کی مدد سے میکینکل ڈھانچے کا ڈیزائن بالکل ابتدا سے تیار کرنا شروع کیا۔ جب ڈیجیٹل سمیولیشن(digital simulation) کامیاب اور درست نظر آئی تو میں نے اس کے بیرونی خول اور بیس پلیٹس (Baseplates) تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیں۔ہیتن نے یہ مکمل منصوبہ اپنے گھر میں موجود ورک اسپیس سے ہی مکمل کیا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جگہ کی کمی ان کیلئے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔انہوں نے کہاکہ 39.250 ملی میٹر کے انتہائی مختصر فریم میں کنٹرول ماڈیول، پیچیدہ وائرنگ اور ایکچیویٹرز (Actuators) کو نصب کرنا بعض اوقات انتہائی پریشان کن مرحلہ ثابت ہوا۔ اس دوران مجھے کئی ناکام پروٹوٹائپس کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جگہ بچانے کیلئے اگر میں تھری ڈی پرنٹ شدہ ڈھانچے کو بہت زیادہ پتلا بنا دیتا تو وہ کمزور ہو جاتا اور موٹرز کے ٹارک (Torque) کے دباؤ کو برداشت نہ کر پاتا اور ٹوٹ جاتا۔ہیتن کا تیار کردہ ڈیزائن نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا شاندار ثبوت ہے بلکہ کئی صنعتوں کیلئے ایک اہم اور مثبت پیش رفت بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طبی شعبے میں ان کی ایجاد جیسی مائیکرو روبوٹک ٹیکنالوجی مستقبل میں پیچیدہ جراحی (سرجری) کے دوران مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ الیکٹرانکس کی صنعت میں یہ انتہائی درستگی کے ساتھ مائیکرو چِپس کی تیاری میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ہیتن کے مطابق، انتہائی باریک اور درست پیمانے پر کام کرنے والی یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جہاں چھوٹے سے چھوٹا آلہ بھی بڑے اور اہم کام انجام دے سکے گا۔اب دو مرتبہ گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے ہیتن کی میکینکل کامیابیاں بھی ایک دوسرے سے بالکل مختلف نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ روبوٹک بازو تیار کرنے کیلئے جسمانی اور الیکٹرو مکینیکل ٹارک پر عبور حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایسی چیز بنانا جو صرف معلومات کو پراسیس نہ کرے بلکہ بڑے صنعتی روبوٹس کی طرح تین محوروں میں حرکت بھی کر سکے، حقیقی طور پر چھوٹی اشیا تک پہنچ سکے، انہیں مضبوطی سے پکڑ سکے اور بغیر گرائے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکے، ایک بالکل مختلف قسم کا میکینکل چیلنج تھا۔مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور الیکٹرانکس سے گہری دلچسپی رکھنے والے ہیتن کی صلاحیتیں صرف روبوٹک بازو بنانے تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک آف لائن اشاروں کی زبان کا ترجمہ کرنے والی موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی ہے، جس کا مقصد ابلاغی رکاوٹوں کو کم کرنا اور سماعت سے محروم افراد کیلئے رابطے کو آسان بنانا ہے۔

ٹال مٹول :کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ

ٹال مٹول :کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ

کیا آپ خوابوں میں کھوئے رہنے والے ہیں، باغی مزاج ہیں یا ہر وقت ایک کام سے دوسرے کام کی طرف بھٹکتے رہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ممکن ہے آپ بھی ٹال مٹول (Procrastination) کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہوں۔ عام طور پر کام کو مؤخر کرنا محض سستی یا کاہلی سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ اس رویے کے پیچھے مختلف ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ماہرین نے ٹال مٹول کرنے والے افراد کی نو مختلف اقسام کی نشاندہی کی ہے، جن میں فکر مند، کمال پسند، خوابوں میں کھوئے رہنے والے، بار بار توجہ بدلنے والے، باغی مزاج، سنسنی کے متلاشی، فوری آسائش پسند اور شدید تھکن کے شکار افراد شامل ہیں۔ ہر قسم کی اپنی الگ وجوہات اور مسائل ہیں، اسی لیے ان کے حل بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر انسان اپنی شخصیت اور رویوں کو صحیح طور پر پہچان لے تو نہ صرف ٹال مٹول کی عادت پر قابو پا سکتا ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کر سکتا ہے۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹال مٹول کرنے والے افراد درحقیقت نو مختلف اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں۔ اگر آپ ''ڈریمر‘‘ یعنی ''خوابوں میں کھوئے رہنے والے‘‘ ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ مستقبل کے حسین خواب دیکھنے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حال میں انجام دیے جانے والے ضروری کام نظر انداز ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ''باغی مزاج‘‘ افراد کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی پر ان کا اختیار کم ہے، اس لیے وہ اپنی خودمختاری ظاہر کرنے اور اختیار رکھنے والوں کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر کام کو جان بوجھ کر مؤخر کرتے ہیں۔جبکہ ''زگ زیگر‘‘ (Zigzagger) وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی توجہ بار بار مختلف کاموں اور سرگرمیوں کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے، اس لیے وہ کسی ایک ضروری کام پر اتنی دیر تک توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے کہ اسے مکمل کر سکیں۔کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ محقق ڈاکٹر اتامار شاٹز (Dr Itamar Shatz) نے ٹال مٹول کرنے والوں کی ان تمام نو اقسام کیلئے مؤثر طریقۂ کار بھی پیش کیا ہے۔ان کے بقول ٹال مٹول پر قابو پانے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ اپنے دن کے ہر لمحے کو زیادہ سے زیادہ پیداواری بنائیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ آپ وہ کام، جو آپ کرنا چاہتے ہیں، اپنی مرضی کے وقت بغیر کسی احساسِ جرم یا ذہنی دباؤ کے انجام دے سکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وقت گزارنے کا فیصلہ آپ خود کریں، نہ کہ ٹال مٹول کی عادت آپ سے یہ اختیار چھین لے۔یہ خیالات ڈاکٹر ایتامار شاٹز نے اپنی نئی کتاب میں پیش کیے ہیں، جس میں انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ لوگ آخر ٹال مٹول کیوں کرتے ہیں اور اس عادت پر قابو پانے کیلئے کون سے مؤثر طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاٹز کے مطابق ٹال مٹول صرف حوصلے کی کمی یا وقت کے ناقص انتظام کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے پس پردہ مختلف نفسیاتی اور جذباتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ ٹال مٹول دراصل انسان کے اندر موجود دو متضاد رجحانات کی کشمکش کا نتیجہ ہے، ایک طرف وہ محرکات جو ہمیں عمل پر آمادہ کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ عوامل جو ہمیں کام مؤخر کرنے پر اکساتے ہیں۔فکر مند افراد اس خدشے میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر وہ کوئی قدم اٹھائیں گے تو کہیں معاملات خراب نہ ہو جائیں، اسی لیے وہ مشکلات سے بچنے کی خاطر ضروری کام بھی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس مایوس مزاج لوگ اپنی کامیابی کے امکانات کو بہت کم سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کوشش کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔کمال پسند افراد ہر کام کو بے عیب اور مکمل انداز میں انجام دینا چاہتے ہیں، لیکن غلطی کے خوف یا ناقابلِ حصول معیار کی وجہ سے وہ اکثر کام شروع کرنے یا مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔اسی طرح سنسنی کے متلاشی افراد آخری وقت میں شدید دباؤ کے تحت کام کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ فوری آسائش پسند لوگ موجودہ لمحے کی راحت اور خوشی کو ترجیح دیتے ہیں اور ضروری ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔آخر میں شدید تھکن کے شکار افراد جسمانی یا ذہنی طور پر اس قدر نڈھال ہوتے ہیں کہ ضروری کام انجام دینے کی توانائی نہیں پاتے۔ عموماً اس کی وجہ حد سے زیادہ کام کرنا یا ایسا کام ہوتا ہے جو ذہنی دباؤ، بے مقصدیت یا شدید تھکاوٹ کا باعث بن رہا ہو۔ٹال مٹول سے بچنے کا حلجہاں تک ٹال مٹول پر قابو پانے کا تعلق ہے، ڈاکٹر شاٹز کا کہنا ہے کہ اس کا حل اس بات پر منحصر ہے کہ آپ ٹال مٹول کرنے والوں کی کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں، اگرچہ مختلف اقسام کیلئے تجویز کردہ بعض طریقوں میں ایک دوسرے سے مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔اگر آپ فکر مند (Worrier) ہیں تو وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے خوف کو واضح طور پر پہچانیے، بڑے کام کو چھوٹے اور قابلِ عمل حصوں میں تقسیم کیجیے، کمال پسندی کی عادت ترک کیجیے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتمادبڑھانے کی کوشش کیجیے۔اس کے برعکس بار بار توجہ بدلنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ واضح اور ٹھوس اہداف مقرر کریں، ان کے حصول کیلئے درکار چھوٹے چھوٹے مراحل تحریری شکل میں طے کریں تاکہ توجہ برقرار رہے اور کام ادھورا نہ رہ جائے۔اسی طرح سنسنی کے متلاشی افراد کیلئے بہتر ہے کہ وہ اپنے لیے متعدد چھوٹی ڈیڈ لائنز مقرر کریں، اپنے جسمانی اور ذہنی معمولات کے مطابق کام کا شیڈول بنائیں اور اگر کسی کام کو مؤخر کرنا ہی ہو تو اس دوران کسی دوسرے مفید اور ضروری کام میں مصروف رہیں۔اگرچہ یہ مشورے بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ٹال مٹول کی عادت پر قابو نہ پایا جائے تو یہ انسان کی ذاتی زندگی، تعلیمی کارکردگی اور پیشہ ورانہ مستقبل کیلئے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ٹال مٹول کرنے والے افراد کی اقسام سینکڑوں تحقیقی مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر شاٹز نے ٹال مٹول کرنے والے افراد کی نو اقسام کی نشاندہی کی ہے۔(1) فکر مند (Worriers)، (2)مایوس مزاج (Pessimists)، (3)کمال پسند (Perfectionists)، (4) شدید تھکن کے شکار (Burnouts)(5)بار بار توجہ بدلنے والے (Zigzaggers)، (6)باغی مزاج (Rebels)،(7) سنسنی کے متلاشی (Thrill Seekers)، (8)فو ری آسائش پسند (Hedonists) (9) خوابوں میں کھوئے رہنے والے (Dreamers)

آج کا دن

آج کا دن

ناگاساکی پر ایٹمی حملہ9 اگست 1945ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کے بی29 بمبار طیارے نے جاپان کے شہر ناگاساکی پر ''فیٹ مین‘‘ نامی ایٹم بم گرایا۔ اس تباہ کن حملے میں تقریباً 35 ہزار افراد فوری طور پر ہلاک ہوگئے، جن میں تقریباً28ہزار جاپانی جنگی صنعتوں کے کارکن، تقریباً 2 ہزار جبری مشقت پر مامور کوریائی مزدور اور 150 جاپانی فوجی شامل تھے۔ اس ایٹمی حملے نے شہر کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا اور انسانی تاریخ کے ہولناک ترین واقعات میں اپنا نام درج کروا لیا۔سوویت ''مارس مشن7‘‘1973ء مارس 7 خلا میں روانہ کیا گیا، یہ سوویت یونین کے خلائی پروگرام کا ایک مشن تھا، اس کا مقصد مریخ کے گرد مدار میں داخل ہونا اور وہاں سے سیارہ کی فضا، سطح اور دیگر سائنسی پہلوؤں کا مطالعہ کرنا تھا۔ یہ دراصل ''مارس 4ایم‘‘ سیریز کے مشنز میں شامل تھا، جنہیں 1973ء میں سوویت یونین نے مریخ کی کھوج کیلئے بھیجا۔ مارس 7 تکنیکی خرابی کے باعث اپنے مقررہ ہدف تک نہ پہنچ سکا اور مریخ کی سطح پر اترنے کے بجائے تقریباً 1,300 کلومیٹر کے فاصلے سے گزر گیا۔ پہلابوائے اسکاؤٹس کیمپ 1907ء میں آج کے روز انگلینڈ کے جنوبی حصے میں براؤن سی آئی لینڈ پر بوائے اسکاؤٹس کا پہلا کیمپ اختتام پذیر ہوا۔ اسکاوٹنگ نوجوانوں کی ایک تحریک ہے جو بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں مقبول عام ہوئی۔ اس تحریک کا مقصد لڑکوں میں جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت فراہم کرنا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ لڑکیوں اور مختلف عمروں کے افراد تک پھیل گئی۔سنگا پور کی آزادیسنگاپور دنیا کا واحد ملک ہے جسے بنا مانگے آزادی ملی ہے۔9اگست 1965ء کو ملائیشیا نے نہ چاہتے ہوئے بھی سنگاپور کو آزادی دی۔ملائیشیا سے علیحدگی کے بعدسنگاپورکو بڑے پیمانے پر بے روزگاری، مکانات کی قلت اور قدرتی وسائل مثلاً پیٹرولیم کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن 20 ویں صدی کے آخر تک سنگا پورایک ترقی پزیر ملک کے طور پر سامنے آیا۔منچوریا پر سوویت حملہجاپان کے زیر انتظام ریاست منچوریا پر 9اگست 1945ء کو سوویت یونین حملہ آور ہوا۔ اس حملے کو ''منچورین اسٹریٹجک آپریشن‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔اس جنگ نے سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کی یونین اور جاپان کی سلطنت کے درمیان تقریباً چھ سال کے امن معاہدے کو ختم کر دیا۔ لانسا فلائٹ حادثہلانسا فلائٹ 9 اگست 1970ء کو پیرو میں پرواز کرنے کے کچھ ہی دیر بعد گر کر تباہ ہو گئی۔ چار انجنوں والا یہ جہازکو سکو سے لیما جا رہا تھا۔ اس میں 8 عملے کے لوگ اور 92 مسافر سوار تھے۔ ایک شخص کے علاوہ تمام افراد ہلاک ہو گئے۔جہاز میں 49امریکی ہائی سکول کے طلبا بھی سوار تھے ۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق حادثہ عملے کی طرف سے انجن آؤٹ کرنے کے طریقہ کار کو غلط طریقے سے انجام دینے کی وجہ سے پیش آیا۔

خلائی ملبہ: جدید خلائی دوڑ کا بڑھتا ہوا خطرہ

خلائی ملبہ: جدید خلائی دوڑ کا بڑھتا ہوا خطرہ

زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ٹکڑے موجود، ہر لمحہ تصادم کا خطرہ انسان نے گزشتہ چند دہائیوں میں خلائی تحقیق کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ مصنوعی سیاروں، خلائی اسٹیشنوں، بین السیارہ مشنز اور نجی خلائی کمپنیوں کی سرگرمیوں نے کائنات کے نئے راز دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ زمین پر مواصلات، موسمیاتی پیش گوئی، نیوی گیشن اور دفاعی نظام کو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔ تاہم اس حیرت انگیز ترقی کا ایک تاریک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے جسے ''خلائی ملبہ‘‘ (Space Junk) کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اب صرف سائنس دانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے، کیونکہ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں خلائی سرگرمیاں شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ماہرین کے اندازوں کے مطابق زمین کے گرد مدار میں تقریباً 17کروڑ ایسے ٹکڑے موجود ہیں جنہیں خلائی ملبہ کہا جاتا ہے۔ یہ ملبہ مختلف خلائی مشنز کے بعد خلا میں رہ جانے والے اجزا پر مشتمل ہے، جن میں استعمال شدہ راکٹوں کے بڑے حصے، ناکارہ مصنوعی سیارے، دھاتی ٹکڑے، پیچ، بولٹ، دھماکوں سے پیدا ہونے والے ذرات اور یہاں تک کہ رنگ (پینٹ) کے نہایت باریک ذرات بھی شامل ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام ملبہ تقریباً 700 ارب امریکی ڈالر (555 ارب برطانوی پاؤنڈ) مالیت کے فعال خلائی انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی زمین کے گرد گردش کر رہا ہے، جس سے ہر لمحہ تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔اگرچہ خلائی ملبے کے لاکھوں ٹکڑے مدار میں موجود ہیں، مگر ان میں سے صرف 27 ہزار ٹکڑوں کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ باقی ملبہ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے مسلسل ٹریک کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ بے ضرر ہے۔ یہ ذرات تقریباً 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ اس رفتار پر چند ملی میٹر کا ایک ذرہ بھی کسی مصنوعی سیارے، خلائی جہاز یا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے ٹکرا جائے تو وہ شدید نقصان پہنچانے یا مکمل تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی ملبہ آج خلائی صنعت کیلئے سب سے بڑے خطرات میں شمار کیا جاتا ہے۔اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مختلف ممالک اور تحقیقی ادارے نئے طریقوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن خلا کا ماحول زمین سے بالکل مختلف ہونے کی وجہ سے روایتی ٹیکنالوجی وہاں مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر سکشن کپ خلا میں موجود خلا (ویکیوم) کے باعث کام نہیں کرتے، جبکہ انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے ٹیپ اور گوند جیسی چپکنے والی اشیا بھی اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ اسی طرح مقناطیس پر مبنی آلات بھی زیادہ کارآمد نہیں، کیونکہ زمین کے گرد گردش کرنے والے زیادہ تر خلائی ملبے میں مقناطیسی خصوصیات موجود ہی نہیں ہوتیں۔خلائی ملبہ ہٹانے کیلئے بعض سائنس دانوں نے ہارپون (Harpoon) ، جال (Nets) اور روبوٹک بازوؤں جیسے طریقے تجویز کیے ہیں، لیکن ان پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان طریقوں میں ملبے کے ساتھ براہِ راست اور طاقت کے ساتھ رابطہ کرنا پڑتا ہے، جس سے وہ غیر متوقع سمت میں جا سکتا ہے اور مزید تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔ یوں مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین کی تشویش صرف ملبے کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کے مقام سے بھی وابستہ ہے۔ زمین کا نچلا مدار اس وقت سب سے زیادہ مصروف علاقہ ہے، جہاں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، ہبل خلائی دوربین، مواصلاتی اور نیوی گیشن سیٹلائٹس کے علاوہ مختلف ممالک کے انسانی خلائی مشن بھی موجود ہیں۔ اسی طرح جیو اسٹیشنری مدار (Geostationary Orbit) بھی انتہائی اہم ہے، جہاں مواصلاتی، موسمیاتی اور نگرانی کے مصنوعی سیارے مستقل طور پر ایک ہی مقام پر کام کرتے ہیں۔ ان دونوں علاقوں میں خلائی ملبے کی بڑھتی ہوئی مقدار مستقبل کے خلائی منصوبوں کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔اگر خلائی ملبے کی تعداد اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب ایک تصادم دوسرے تصادم کو جنم دے گا اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ اس کیفیت کو کیسلر سنڈروم (Kessler Syndrome) کہا جاتا ہے، جس میں مدار اتنا آلودہ ہو جاتا ہے کہ نئے مصنوعی سیاروں کا بھیجنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ، موبائل مواصلات، بینکاری، موسم کی پیش گوئی، فضائی سفر، بحری جہازوں کی رہنمائی اور عالمی نیوی گیشن جیسے بے شمار شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔خلائی ملبے میں اضافے کے دو بڑے واقعاتسائنسدانوں کے مطابق خلائی ملبے میں غیر معمولی اضافے کے پیچھے دو بڑے واقعات نے اہم کردار ادا کیا۔ پہلا واقعہ فروری 2009ء میں پیش آیا، جب امریکی کمپنی اریڈیم کا ایک ٹیلی کمیونیکیشن مصنوعی سیارہ روس کے فوجی سیٹلائٹ ''کوسموس2251‘‘ سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں ہزاروں نئے ملبے کے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے۔ دوسرا اہم واقعہ جنوری 2007ء میں پیش آیا، جب چین نے ایک پرانے فینگ یون موسمیاتی مصنوعی سیارے کو اینٹی سیٹلائٹ میزائل سے تباہ کر کے اپنے ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس کارروائی سے بھی خلائی مدار میں بڑی مقدار میں خطرناک ملبہ پیدا ہوا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔خلائی ملبہ زمین پر بسنے والوں کیلئے بھی خطرناک؟خلائی ملبہ بظاہر خلا کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات براہِ راست زمین پر بسنے والے انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین زور دے رہے ہیں کہ خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ خلائی صفائی کو بھی عالمی ترجیح بنایا جائے۔ نئی ٹیکنالوجی کی تیاری، بین الاقوامی قوانین، خلائی مشنز کی ذمہ دارانہ منصوبہ بندی اور عالمی تعاون ہی وہ راستے ہیں جن کے ذریعے اس بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انسان کی خلائی کامیابیاں مستقبل میں اسی خلائی ملبے کے بوجھ تلے دب سکتی ہیں۔

زیادہ پروٹین، خاموش قاتل؟

زیادہ پروٹین، خاموش قاتل؟

ماہرین نے مسلز بڑھانے کے شوق کو خطرناک قرار دے دیاپروٹین انسانی جسم کی نشوؤنما، پٹھوں کی مضبوطی اور خلیات کی مرمت کیلئے ایک نہایت اہم غذائی جزو ہے، تاہم ہر مفید چیز کی طرح اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں جسمانی فٹنس، باڈی بلڈنگ اور عضلات بڑھانے کے رجحان نے پروٹین سے بھرپور غذا اور پروٹین سپلیمنٹس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ مگر اب ایک نئی اور جامع طبی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ پروٹین کا استعمال نہ صرف گردوں، جگر اور دل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے بلکہ یہ قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے، جبکہ کسی بھی غذائی جزو کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر فٹنس ماہرین اور انفلوئنسرز اپنے پیروکاروں کو وزن کم کرنے اور پٹھے مضبوط بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ پروٹین استعمال کرنے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔اس رجحان کے نتیجے میں پروٹین مصنوعات، جیسے پروٹین شیکس، پروٹین بارز اور پروٹین پاؤڈرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 2024ء کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 56 فیصد صارفین پروٹین سے بھرپور خوراک اور مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم اب 350 سے زائد تحقیقی مقالات کے جائزے پر مبنی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار میں اعتدال یا کمی لانا وزن گھٹانے، دل کی بیماریوں سے بچاؤ اور حتیٰ کہ عمر میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن کے محققین کے مطابق پروٹین کی محدود مقدار جسم کے میٹابولزم کو بہتر بناتی ہے، سوزش میں کمی لاتی ہے اور خلیات کو اس نقصان سے بچاتی ہے جو جسم میں تیز رفتار بڑھاپے کا سبب بنتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پروٹین صحت مند غذا کا ایک نہایت اہم جزو ہے۔ یہ غذائی عنصر پٹھوں کے ریشوں، جسمانی اعضا اور ٹشوزکی مرمت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔تاہم ماضی کی متعدد تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ مکھیوں اور چوہوں پر کیے گئے تجربات میں پروٹین کی کم مقدار نے ان کی اوسط عمر میں اضافہ کیا۔اسی طرح حالیہ برسوں میں انسانوں پر کیے گئے کئی کلینیکل ٹرائلز سے بھی معلوم ہوا ہے کہ پروٹین کی مقدار کم کرنے سے نہ صرف وزن میں کمی آتی ہے بلکہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نتائج اس حقیقت کے باوجود سامنے آئے کہ پروٹین کی کم مقدار استعمال کرنے والے افراد مجموعی طور پر زیادہ کیلوریز استعمال کرتے تھے۔ ''سیل پریس بلیو‘‘ (Cell Press Blue) جریدے میں شائع ہونے والے اس تازہ تحقیقی جائزے میں متعدد ممکنہ وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ آخر پروٹین کی مقدار میں کمی صحت کیلئے کیوں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جب خوراک میں پروٹین کم ہوتی ہے تو جسم میں ''فائبروبلاسٹ گروتھ فیکٹر 21‘‘ (FGF21) نامی ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون جسم کی توانائی خرچ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، خون میں شوگر کی سطح کو بہتر انداز میں قابو میں رکھتا ہے اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق کے زیادہ تر شواہد جانوروں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں، اس لیے ضروری نہیں کہ یہی نتائج من و عن انسانوں پر بھی لاگو ہوں۔ چوہوں پر کی گئی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں میں ''FGF21‘‘ ہارمون کی مقدار زیادہ تھی، وہ عام چوہوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ مزید یہ کہ یہ مثبت اثر مادہ چوہوں کی نسبت نر چوہوں میں زیادہ نمایاں تھا۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انسانوں میں بھی پروٹین کی مقدار کم کرنے سے اس ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔اس تحقیقی جائزے میں بعض امینو ایسڈز (Amino Acids)، جو پروٹین کے بنیادی اجزا ہیں، کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہی امینو ایسڈز کی ضرورت سے زیادہ مقدار ان منفی اثرات کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔مختلف مطالعات سے پتا چلا ہے کہ بعض امینو ایسڈز کا حد سے زیادہ استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کر سکتا ہے جو خلیات کی غیر ضروری نشوؤنما کو بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں موٹاپا، جسمانی سوزش اور عمر بڑھنے سے وابستہ دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔اس تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف ڈڈلی لیمنگ (Dudley Lamming)، جو یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پروٹین فعال افراد میں پٹھوں کی نشوؤنما اور ورزش کے بہتر نتائج کیلئے انتہائی مفید ہے، لیکن چونکہ زیادہ تر لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے، اس لیے غالب امکان ہے کہ وہ اپنی حقیقی ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین استعمال کر رہے ہیں، جو ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔تاہم مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت مند بالغ افراد کو اپنے جسمانی وزن کے ہر ایک کلوگرام کیلئے روزانہ 0.75 گرام پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔ اس حساب سے 60 کلوگرام وزن رکھنے والی خاتون کیلئے روزانہ تقریباً 45 گرام جبکہ 75 کلوگرام وزن رکھنے والے مرد کیلئے تقریباً 55 گرام پروٹین کافی سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے کہیں زیادہ پروٹین کا استعمال گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہوائی میں ہولناک آتشزدگی8اگست 2023ء کو امریکی ریاست ہوائی کے جزیرے ماؤئی میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ آگ کے نتیجے میں 17 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہوگیا، جبکہ 101 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ان آتشزدگیوں نے ہزاروں مکانات، کاروباری مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث یہ سانحہ ہوائی کی جدید تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔امریکی صدر مستعفی1974ء میں آج کے روزامریکی صدر رچرڈ نکسن نے قوم سے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے تاریخی خطاب میں اعلان کیا کہ وہ اگلے روز دوپہر سے امریکی صدرکے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ واٹرگیٹ اسکینڈل کے باعث شدید سیاسی دباؤ اور مواخذے کے خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا۔ رچرڈ نکسن امریکی تاریخ کے پہلے اور اب تک کے واحد صدر ہیں جنہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ان کے استعفے کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے صدر کا منصب سنبھالا۔گوام میں ہولناک زلزلہ8اگست 1993ء کو بحرالکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا۔ جس کے نتیجے میں عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس سے تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر کا مالی خسارہ ہوا۔ اس قدرتی آفت کے باعث 71 افراد زخمی ہوئے، تاہم بروقت امدادی کارروائیوں کی بدولت بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔خلائی شٹل اینڈیورکی روانگی2007ء میں آج کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی شٹل پروگرام کے تحت ''ایس ٹی ایس118‘‘مشن کے دوران خلائی شٹل اینڈیور (Endeavour) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک عملہ، سائنسی آلات اور ضروری سامان پہنچانا تھا۔ اس مشن کے دوران خلا بازوں نے متعدد خلائی چہل قدمیاں (Spacewalks) بھی انجام دیں۔برطانیہ :ٹرین ڈکیتی8اگست1963ء کو برطانیہ میں تاریخ کی مشہور ترین وارداتوں میں سے ایک '' گریٹ ٹرین رابری‘‘ اس وقت پیش آئی جب 15 رکنی مسلح گروہ نے گلاسگو سے لندن جانے والی رائل میل ٹرین کو روک کر اس میں موجود 26 لاکھ پاؤنڈ لوٹ لیے۔ یہ اس زمانے کی سب سے بڑی ڈکیتی سمجھی جاتی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے طویل تحقیقات کے بعد بیشتر ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ یہ واقعہ برطانوی جرائم کی تاریخ کا ایک یادگار باب بن گیا۔اینگلو افغان معاہدہ1919ء میں آج کے روز برطانیہ اور افغانستان کے درمیان اینگلو۔افغان معاہدہ پر دستخط کیے گئے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے میں ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان باہمی سرحد کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ معاہدے کے تحت برطانیہ افغان حکومت کو مالی امداد فراہم کرنے کی اپنی سابقہ ذمہ داری سے بھی آزاد ہو گیا۔ یہ معاہدہ تیسری اینگلوافغان جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔