کلر سیّداں
اسپیشل فیچر
ضلع راولپنڈی کا قصبہ اور ایک تحصیل۔ پہلے یہ تحصیل کہوٹہ میں شامل تھا۔ یکم جولائی2007ء کو اسے تحصیل کا درجہ دے کر کہوٹہ تحصیل سے الگ کر دیا گیا۔ ابتداً اس کا نام صرف کلّرتھا۔ اسے کرّال قبیلہ کے ایک شخص کلّر شاہ نے آباد کیا تھا۔ جب سلطان التمش نے سرحدی قلعے تیار کیے تھے، تو اسی کلّر شاہ کو چند قلعوں کا صوبیدار مقرر کیا تھا۔ اس نے ارد گرد کے قبائل کو مطیع کیا ،جس سے خوش ہو کر خطہ پوٹھوہار اس کو بطور جاگیر دیا گیا تھا۔ اس نے کلر سیّداں میں ایک بڑا مضبوط قلعہ بنایا تھا۔ یہ قلعہ اس جگہ تھا، جہاں آجکل کلر سیّداں کاپولیس اسٹیشن بنا ہوا ہے۔ بعد ازاں کلر کا نام سیّدوں کی آبادی کی وجہ سے کلر سیّداں مشہور ہوا۔یہ آبی گزر گاہ کے کنارے آباد ہے۔ اس گزر گاہ میں سارا سال پانی بہتا تھا۔ اس سڑک سے گزرنے والی افواج اور ان کے جنگلی جانور تجارتی قافلے بار برداری کے جانور پیاس بجھاتے تھے۔ یہ علاقہ گکھڑوں کے ماتحت رہا، جن کا مرکز کبھی دان گلی رہا، پھر سکھ قابض ہو گئے۔ سکھوں کی حکومت کے خاتمے پر کلر سیّداں کو تحصیل کہوٹہ اور ضلع راولپنڈی کا حصہ بنایا گیا۔ انگریزی دور میں یہاں سرائے،ڈاکخانہ اور تھانہ، شفاخانہ وغیرہ تعمیر ہوئے، جس ٹبہ پر تھانہ کلر سیّداں ہے، کبھی یہ عمارت بطور ریسٹ ہائوس استعمال ہوتی تھی۔ یہ قدیمی عمارت تراشے ہوئے پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے۔سکھوں کے عہد میں کلر سیّداں سکھوں کا بڑا گڑھ رہا۔ انگریزی عہد میں یہاں تھانہ اور پوسٹ آفس قائم ہوا۔ انگریزی عہد میں بیدی گور بخش سنگھ کلر سیّداں کی ایک اہم شخصیت کا نام تھا، وہ درجہ سوم کا آنریری مجسٹریٹ تھا اور کہوٹہ اور گوجر خان کی تحصیلوں سے تعلق رکھنے والے مقدمات کی سماعت کا مجاز تھا۔ انگریزی عہد میں ہی جب پرنس آف ویلز ہندوستان آیا ،تو گوربخش سنگھ کی دعوت پر کلر سیّداں بھی گیا۔ اس زمانے میں کلر سیداں تک کوئی سڑک نہ تھی چنانچہ گوربخش سنگھ نے پرنس آف ویلز کے سفر کو آرام دہ بنانے کے لیے روات سے وہاں تک تمام راستے پر مکئی کے بھٹّے اور گھاس بچھانے کے بعد اُسے ٹاٹ سے ڈھانپ دیا۔ اس کے اُوپر ایرانی قالین بچھائے گئے۔ اسی گوربخش سنگھ نے اپنی رہائش کے لیے ایک وسیع و عریض گھر تعمیر کیا، جو بیدی محل کہلاتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد یہ محل اس کے بچوں کو منتقل ہوا، لیکن قیام پاکستان کے موقع پر ان کے ترک وطن کی وجہ سے متروکہ املاک میں شامل ہو کر گورنمنٹ ہائی سکول کے نام منتقل ہو گیا۔ اب اس عمارت کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے اور استعمال کے لیے الگ عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ پتھر سے بنائی گئی یہ چار منزلہ عمارت اب تک قائم ہے۔ محل کے صحن میں سنگِ مرمر کی ایک قبر بھی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ باوا گوربخش سنگھ بیدی فجر کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ اس نے وصیت کی تھی کہ اس کی لاش کو جلایا نہ جائے، مگر خود سر سکھوں نے جلادی۔ اس کے انتقال پر سات روز تک ماتم پُرسی کے لیے علاقہ کے رئوسا اور بڑے بڑے انگریز افسر آتے رہے۔ کلّر کے قریب ہی ایک جنگل باوا گوربخش سنگھ کی ذاتی ملکیت تھا ،جس میں وہ تیتر کا شکار کھیلا کرتا تھا۔ادب کے اعتبار سے یہاں محمد دلپذیر شاد، تنویر احمد راجا، اشرف سلیم، نصیر زندہ، طاہر یٰسین طاہرؔ، عظمت مغل، یاسر کیانی، عابد حسین جنجوعہ اور اعظم احساس کے نام نمایاں ہیں۔ ان میں سے محمد دلپذیر شاد کی کتب سانجھے سیک اور شہادت حسین، تنویر احمد راجا کے افسانوں کی کتاب خوشبوئیں بانٹنے والا، اشرف سلیم کا شعری مجموعہ ’’فیصلہ تم بھی کرو‘‘ اور اعظم احساس کا شعری مجموعہ ’’شام ہو چکی احساس‘‘ شائع ہوا۔ اعظم احساس ایم اے اُردو ہیں، فوج سے ریٹائر ہوئے اور آج کل درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ کلر سیّداں کے سب سے معروف شاعر نصیر زندہ ہیں۔ آپ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور رباعی کے شاعر ہیں ’’نقش تحیر، عرشِ سُخن اور نقدِ آرزو‘‘ آپ کے شعری مجموعے ہیں۔( اعزاز فضیلت پانے والے لکھاری اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)٭…٭…٭