راولپنڈی سے اسلام آباد تک
اسپیشل فیچر
ایک ہزار سال قبل تک یہاں کسی بڑی آبادی کا نام و نشان نہیں تھا۔اس علاقے میں جہاں آج راولپنڈی اور اسلام آباد واقع ہیں یہاں پر سولان ، آدڑہ اور گجنی پور کی چھوٹی آبادیاں تھیں ۔830 میں بھٹی راجپوتوں کے سردار راجہ باجم پال نے گجنی پور میں ایک قلعہ تعمیر کروایا جس کے آثار آج بھی ایوب پارک کے ساتھ باقی ہیں ۔راجہ باجم پال کے راول نامی ایک بیٹے نے دریائے کورنگ کے کنارے ایک قصبے کی بنیاد رکھی جو اسی کے نام سے موسوم ہوا اور بنتے بگڑتے راولپنڈی ہو گیا ۔راولپنڈی کے ساتھ ٹیکسلا سے اڑھائی سے تین ہزار سال پہلے کی تہذیب کے کھنڈرات ملے ہیں ۔دریائے سواں کے کنارے روات سے لے کر مورگاہ تک پتھرکے جو اوزار دریافت ہوئے ہیں ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق وہ پانچ سے دس لاکھ سال پہلے کے دور سے تعلق رکھتے ہیں جن سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ ساڑھے بارہ لاکھ سال پہلے یہاں پر سوسانی تہذیب اپنے جوبن پر تھی ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی سواں کی تہذیب کو دنیا کی سب سے قدیم تہذیب قرار دیا ہے ۔گویا یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے تہذیبوں کے شگوفے پھوٹے ۔سکھ عہد میں راولپنڈی کو 1814 میں تخت لاہور کے ماتحت کر دیا گیا ۔1849 میں انگریزوں نے بریگیڈئر جنرل جان نکلسن کو یہاں کا حکمران مقرر کیا۔ 1850 میں انگریزوں نے راولپنڈی کو اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کا درجہ دے دیا ۔1947 میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو یہاں پاک فوج کا ہیڈ کوارٹر اسی وجہ سے بنا تھا کہ یہ متحدہ ہندوستان کی سب سے بڑی چھائونی تھی۔1951 کی مردم شماری کے تحت راولپنڈی کی آبادی4,4000تھی جو1998میں بڑھ کر 19,28000ہو چکی تھی ۔1959 میں ایک کمیشن نے دارلحکومت کراچی سے منتقل کر کے ایک نئی جگہ بسانے کا فیصلہ کیا جس کا نام اسلام آباد رکھا گیا ۔2015 میں ایک اندازے کے مطابق اس کی آبادی دوگنا ہو چکی ہے ۔1998 کی مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 8,5235 تھی اور اب سترہ سال بعد اس کی آبادی کتنی ہو چکی ہے؟ ایک سروے کے مطابق دارلحکومت کی آبادی بیس لاکھ کے قریب ہے ۔اس کی وجہ ماہرین بتاتے ہیں کہ ملک بھر سے بالعمو م فاٹا ، خیبر پختونخواہ ،گلگت بلتستان ، پنجاب اور بلوچستان سے آباد کاروں کا ایک سیلاب آیا ہے جس کی وجہ سے اس کی آبادی دوگنا سے بھی زائد ہو گئی ہے۔ اگر چار سال پہلے یہ آبادی بیس لاکھ تھی تو اب پچیس لاکھ ہو چکی ہو گی ۔اسلام آباد کے مقابلے پر راولپنڈی میں زمینیں سستی ہیں اس لئے پچھلے پندرہ سالوں میں راولپنڈی جتنا ایک نیا شہر بحریہ ٹائون اور اس کے گردو نواح میں وجود میں آچکا ہے ۔اگر راولپنڈی کی آبادی کو بھی دوگنا سمجھ لیا جائے تو اس وقت ان جڑواں شہروں کی آبادی کم و بیش تقریبا70لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ ملک کے دوسرے بڑے میٹرو پولیٹن لاہور کی آبادی کا موجودہ تخمینہ 63,19000 اور تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی آبادی پنجاب ڈویلپمنٹ سٹیٹسٹک کے مطابق 2008 تک 28لاکھ تھی جو 2014 تک بڑھ کر 32لاکھ ہو چکی تھی۔ کراچی کی آبادی کا تخمینہ دو کروڑ تیس لاکھ ہے ۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو راولپنڈی اسلام آباد نہ صرف فیصل آباد کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں بلکہ وہ آبادی کے لحاظ سے لاہور کے مقابلے پر ہیں ۔1960 میں جب اس شہر کی بنیاد رکھی گئی تو اس کا راولپنڈی سے فاصلہ کم و بیش 25کلومیٹر تھا مگر آج یہ حا ل ہے کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کس شہر کی سرحد کہاں شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہو جاتی ہے ۔جڑواں شہروں کو درمیان کی ایک سڑک آئی جے پرنسپل روڈ جدا کرتی ہے ۔اسلام آباد سے روات تک ایکسپریس ہائی وے جو 25کلومیٹر طویل ہے اس کے اطراف میں دونوں شہر ایک دوسرے میں مدغم ہو چکے ہیں ،پیرودھائی موڑ سے مارگلہ کی پہاڑیوں تک جی ٹی روڈ کے ارد گرد بھی یہی صورتحال ہے ۔یہی وجہ کہ اکثر جرائم کی جائے وقوعہ دونوں شہروں کی پولیس کے درمیان وجہ تنازعہ بن جاتی ہے۔اسلام آباد کے ساتھ ایک دیہی علاقہ بہارہ کہو ہے جس کی آبادی بہت برق رفتاری سے پھیلی ہے مگر اس کے ارد گرد کافی علاقہ پنجاب کا ہے۔فتح جنگ میں اسلام آباد کا نیا ائیر پورٹ تکمیل کے قریب ہے پہلے یہ علاقہ ضلع اٹک میں تھا مگر اب اس کا کچھ علاقہ اسلام آباد میں آچکا ہے اور یوں یہاں اسلام آباد ،راولپنڈی اور اٹک تینوں ضلعوں کی پولیس ابھی صحیح طرح سے اپنی حدود کا تعین نہیں کر سکی۔ اسلام آباد کا نیا ائیر پورٹ زیرو پوائنٹ سے تقریبا تیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس کے ارد گرد اب بیسیوں چھوٹی بڑی ہائوسنگ سکیمیں بھی بن چکی ہیں جن میں نئی آبادیاں بن رہی ہیں اس طرح اگلے پانچ سالوں میں نئی آبادیوں کا رحجان اسی علاقے میں ہو گا ۔ جڑواں شہروں میں امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ اس کا جغر افیہ بھی ہے ۔ایک قدم آگے بڑھ جائیں تو اسلام آباد پیچھے ہٹ جائیں تو پنجاب ،چنانچہ مجرموں کے لئے یہ بڑی آئیڈیل بات ہے اور انھیں جرم کے بعد غائب ہونے کی آسانی رہتی ہے ۔دونوں شہروں کی پولیس جب تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ استوار کرتی ہے مجرم اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں غائب ہو جاتے ہیں ۔ (بشکریہ تجزیات)