سسرال کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے
اسپیشل فیچر
اولاد والدین کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، جس کی حفاظت وہ خود سے بڑھ کر کرتے ہیں۔ والدین اولاد کیلئے بہترین ڈھال ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد والدین کی سوچ کا محور صرف اولاد ہوتی ہے۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد والدین اسکی رخصتی کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں جبکہ بیٹے کی پیدائش پر ارمانوں کے ڈھیر لگا لیتے ہیں کہ چاند سی بہو لائیں گے۔ غرضیکہ پیدائش بچے کی ہو یا بچی کی خوشی اور تحفظ کے جذبات دونوں کیلئے یکساں ہوتے ہیں مگر ہاں! بیٹی کی پیدائش پر اُس کے نصیبوں سے خوف کا جذبہ والدین کے دل میں جنم لیتا ہے مگر لاکھ خوف و خدشات کے باوجود اسلامی اور معاشرتی اقدار کی بنا پر والدین کو اپنے لخت جگر کو خود سے دور کر کے ہمیشہ کیلئے پرائے گھر رخصت کرنا پڑتا ہے۔ در حقیقت والدین بیٹی کی رخصتی پر دہرے جذبات سے گزرتے ہیں، ایک طرف تو فرض کی ادائیگی پر خوش ہوتے ہیں، تو دوسری طرف اُسکے نصیبوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے کون سے اصولوں پر عمل کیا جائے کہ جس سے نیا شادی شدہ جوڑا اور اُنکے خاندان والے ایک دوسرے سے راضی رہیں۔ یہاں نوبیاہتا جوڑوں کیلئے کچھ ہدایات ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وہ اپنے آپس کے تعلقات مضبوط اور خوشگوار بنا سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے خاندانوں کا دل جیت کر اُنکے دلوں پر راج کر سکتے ہیں۔نو بیاہی دلہن کو چاہیے کہ سسرال میں ساس سُسر کو اپنے والدین کی طرح عزت اور پیار دے اور اس غلیظ سوچ کو جنم نہ دے کہ صرف میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہونا ضروری ہے، چاہے سسرال کے ساتھ رشتہ کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ اصل لڑائی جھگڑے اور فساد کی جڑ یہی سوچ بنتی ہے۔ ہر بچی کو سب سے پہلے اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے کہ اُس کا رشتہ محض ایک لڑکے کے ساتھ نہیں جڑا بلکہ مہذابانہ طریقے سے ایک خاندان کے ساتھ جڑا ہے۔ اگر لڑکا اور لڑکی کا رشتہ ہی سب کچھ ہوتا تو اسلام بالغ مرد اور عورت کو بغیر کسی گواہ کے شادی کرنے کی اجازت دیتا مگر اسلام جو کہ مکمل دین ہے، احترامِ انسانیت اور اخوت و محبت کا درس دیتا ہے۔ یہاں ایک سوال توجہ طلب ہے میں نے دورِ جدید میں کچھ لڑکیوں کو کہتے سنا ہے کہ شریعت میں اُن پر ساس سُسر کے کام کرنا واجب نہیں۔ ارے نادان بہنو! ہمارے دین نے تو بڑوں کے احترام کو واجب قرار دیا ہے اور اللہ رب العزت اپنے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا فرماتے تو بیوی کو کہتے کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔در حقیقت جب لڑکی بیاہ کے سسرال آتی ہے تو وہ اپنی عادات و خصائص سے اپنے خاندان کا عکس دکھاتی ہے لہٰذا نئی دلہن کو چاہیے کہ زبان کی تیزی کو قابو میں رکھ کر صبر اور حوصلے سے کام لے اور اگر خدانخواستہ بچی کو سسرال اُسکے مطابق نہ ملے تو پھر دو ہی راستے بچتے ہیں۔ پہلا راستہ ہے کہ صبرو تحمل سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں دوسرا راستہ ہے کہ شوہر سے علیحدگی کر لے۔ پہلا راستہ نہایت سادہ اور بہترین ہے مگر تھوڑا مشکل ہے جبکہ دوسرا راستہ نامناسب ہے کیونکہ خاندانی بچیاں پوری کوشش کرتی ہیں کہ گھر کو بسایا جائے مگر ہاں جب صبر کی حد تجاوز کر جائے تو دونوں گھرانوں کی باہمی مشاورت کے ساتھ کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔بچیوں کو چاہیے کہ سسرال میں سب کا دل جیتنے کی کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے شکایات اور ناراضی سے پرہیز کریں کیونکہ اکثر انجانے میں بچیاں شوہروں سے اپنے سسرال کی شکایات کر بیٹھتی ہیں جس سے شوہر کے دل میں بیوی کیلئے وہ احترام اور پیار نہیں رہتا جس کی وہ حقدار ہوتی ہے اگر خاوند شکایات سن کر بظاہر خاموش بھی رہیں پھر بھی ان کے رشتے میں کمزوری پیدا ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے کچھ ناسمجھ لڑکیاں شوہر کو صرف اپنی ذات تک محدود کرنے کیلئے ایسی غلطیاں کر بیٹھتی ہیں اور شوہرسے زبان کی تیزی کا استعمال کر کے باتیں منوا کر فخر محسوس کرتی ہیں حالانکہ اگر زبان کی تیزی کے باعث شوہر تمہاری بات مان کر درگزر کر رہا ہے تو یہ آپ کے لیے باعثِ ندامت ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے اندر وہ صلاحیت ہی نہیں جو خاندانی اور شریف بچیوں میں خوش اخلاقی سے سب کا دل جیتنے میں ہوتی ہے۔ بحث کرنے والی عورت سے شوہر کو کبھی اُنس نہیں ہو سکتا ہاں مگر آپ اُس کی مجبوری بن سکتی ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ شوہر کی مجبوری بن کر زندگی گزارنا چاہتی ہیں یا اُسکی زندگی بن کر۔اپنے خاوند کا موازنہ دوسرے کے شوہروں کے ساتھ نہ کریں کیونکہ موازنہ کرنے سے تعلقات کمزور ہوتے ہیں اور نہ ہی پیسوں کا ہر وقت رونا روئیں۔ اگر آپ کا شوہر ذمہّ دار ہے اُسے اپنی ذمہّ داریوں کی ادائیگی کا پتہ ہے تو بے جا پیسوں کی ڈیمانڈ سے اُسے ذہنی طور پر پریشان نہ کریں کیونکہ جو بچیاں ہر وقت پیسوں کی ڈیمانڈ کرتی ہیں تو شوہروں کے ذہن میں یہ بیٹھ جاتا ہے کہ اسے میری ذات سے نہیں پیسے سے پیار ہے لہٰذا ایسی غلطی ہر گز نہ کریں کیونکہ یہ دلوں میں فاصلوں کو جنم دیتا ہے۔بچیوں کو چاہیے کہ شوہر کو کبھی بھی اسکے والدین اور بہن بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کچھ بچیاں شوہر کو صرف اپنی ذات تک محدود کر کے باقی سب سے بیگانہ کر دینا چاہتی ہیں حالاں کہ یہ سراسر جہالت اور کم عقلی ہے کیوں کہ اگر آپکے پاس شوہر کیلئے بے لوث محبت اور احساس ہے تو وہ آپ کا ہی رہے گا۔ ہاں! اگر آپ میں اخلاقیات کی کمی ہے تو پھر چاہے اُسے اپنا بنانے کی لاکھ کوشش کر بھی لیں اور بظاہر وہ آپ کی طرف متوجہ ہو بھی جائے مگر اُسکے دل میں آپکی وہ جگہ کبھی نہیں ہو سکے گی جو ایک با اخلاق بیوی اپنے شوہر کے دل میں بناتی ہے۔ جیسے آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا داماد آپکی بیٹی کو یا آپ کا بہنوئی آپکی بہن کو اہمیت دے۔ اپنی بیوی کی قدر کیجیے۔ اُسکے کام کو سراہیں۔ اپنے اعلیٰ اخلاق سے بیوی کے دل میں گھر بنائیں نا کہ ڈانٹ ڈپٹ کر بات منوانے کو ترجیح دیں۔ اگر آپ کی بیوی آپ کی سپورٹ کیلئے جاب کرتی ہے تو خصوصاً اُسکی صحت کا دھیان رکھیں کہ کہیں دہری ذمہّ داریوں (گھر اور جاب) سے اُسکی محبت تو متاثر نہیں ہو رہی۔جب بھی لڑائی جھگڑا ہو تو کبھی یہ انتظار مت کریں کہ دوسرا ساتھی پہل کرے بلکہ خود پہل کر کے دوسرے کو یہ احساس دلائیں کہ آپ کے نزدیک انا سے زیادہ اہم رشتے کی مضبوطی اور پیار ہے کیونکہ جب لڑائیاں طویل ہوتی ہیں تو غلط فہمیاں اُسی رفتار سے بڑھتی ہیں۔ ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ اعتماد ہی رشتے کو مضبوط اور قائم رکھتا ہے۔ اگر آپ ان باتوں پر عمل کریں گے تو نہ صرف آپ کی زندگی سکون سے گزرے گی بلکہ آپ کو اپنی زندگی جنت کی مانند لگے گی۔ ٭…٭…٭