لیلیٰ اورمجنو ں کی قبریں قبر دس فٹ چوڑی اور پچاس فٹ لمبی ہوگی
اسپیشل فیچر
افغانستان میںدولت آباد کے علاقے سے ذرا آگے ’’دشت لیلیٰ ‘‘کا ایک اہم مقام قبور لیلیٰ و مجنوں کا ہے یہ مقام سڑک کے عین وسط میںواقع تھا ۔ پہلے ہمارے دائیں جانب قبر لیلیٰ آئی اور پھر سو فٹ آگے مجنوں کی قبر تھی۔ یہ قبریں کیا تھیں، لمبوترے پتھروں کے ڈھیر تھے۔ قبر دس فٹ چوڑی اور پچاس فٹ لمبی ہوگی۔ لیلیٰ و مجنوں کی تاریخ کے بارے میں میراعلم محدود ہے ، یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ قبریںاصلی ہیں یا جعلی ،مگر مقامی لوگو ں کے نزدیک یہ قبریں اصلی ہیں۔افغانستان کے اکثر صوبوں کی سرحدیں قدرتی ہیں ہر صوبہ ایک دریا اور اس کے معاون دریا پر مشتمل ہے۔لیلیٰ اور مجنوں کی قبریں بھی دریائے مرغاب اور اس کے معاون دریا کی وادیوں پر مشتمل ہے۔لیلیٰ اورمجنوں کی قبروں سے آگے دریائے مرغاب اور اس کے معاون دریا دریائے کاشان کی وادیاں ہیں۔ یہ صوبہ غیس کا حصہ ہے۔ دریائے مرغاب بڑے دریائوںمیں شمار ہوتاہے۔یہ اور اس کے معاون دریا صوبے کے مختلف حصوں میںپھیلے ہوئے ہیں۔ عمومی طور پر ان دریائوں کا بہائو جنوب مشرق سے شمال مشرق کی طرف ہے۔ یہاں ڈیموں اور آب پاشی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پہاڑیوں ، ریگستانوں اور دریائوں پر مشتمل عجیب وغریب سرزمین ہے۔جہاں ممکن ہو وہاں ڈیم بن جائیں اور پن بجلی بنانے کے منصوبوں کے علاوہ نہریں نکال لی جائیں تو پوراصوبہ باغ و بہار بن سکتاہے۔ اگر ڈیم بناناممکن نہ ہو تو ڈھلوان کی وجہ سے پانی کی نالیاں نکالی جاسکتی ہیں اس سے صوبے کی معیشت میں انقلاب آسکتا ہے اورویرانے باغات میں بدل سکتے ہیں ۔ پن بجلی اور آب پاشی کے لیے مثالی جگہیں بھی یہاں موجودہیں۔روسی توپوں کاایک قبرستان بھی یہی واقع ہے۔ اسی مقام پر نماز کے لیے رکتے ہی گاڑی کے رکتے ہی میں نے وضو کیا اورایک ہموار جگہ پر نماز پڑھی اورپھر پہاڑ کے جانب دائیں جانب شمال مغرب ہو لیا۔ اس طرف ایک شکستہ روسی عمارت تھی۔ جو کسی زمانے میں یہاں روسی توپ خانے کا ہیڈ کوارٹرہواکرتی تھی۔ اس شکستہ عمارت کے سامنے تباہ شدہ روسی توپیں اورٹینک اس طرح کھڑے تھے جیسے روسی فوجوں اور نہتے افغان مہاجرین کی جنگ کل ہی ختم ہوئی ہو۔ زمین پر ہر طرف توپوں کے گولوں کے ٹکڑے، چلی ہوئی گولیاں اور دیگر ناکارہ اسلحہ بکھرہ پڑاتھ۔ ٹینکوں کے اس قبرستان میں میں کوئی ڈیڑھ سو فٹ آگے گیا ہوں گا۔ کہ پیچھے سے میرے ہم سمت لوگ گلا پھاڑ پھاڑ کرچیخنے لگے جیسے ہی میں واپس پہنچا کہ انہوں نے بتایاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ تم زندہ واپس آگئے ہو۔ اس علاقے میں چپے چپے پر روسیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگیں موجود ہیں، ہمارے بہت سے لوگ اور مویشی ان روسی مائینوں کے پھٹنے سے مرچکے ہیں۔ حادثات کی وجہ سے انسان تو کجا مویشی بھی اس علاقے میں نہیں جاتے۔ (کتاب’’روداد افغانستان‘‘ سے منقبس)