شخصیت کی خصوصیات
اسپیشل فیچر
معروف ماہر نفسیات اور نظریہ دان کارل گسٹاف ژونگ کے نزدیک شخصیات کی دو اصناف یا اقسام ہیں۔ ایک دوروں بین (انٹرو ورٹ) اور دوسری بروں بین شخصیت۔پہلی قسم کی شخصیت رکھنے والا فرد بیرونی حالات اور دوسرے لوگوں میں زیادہ دلچسپی لینے کی بجائے اپنی سوچوں اور اندرونی کیفیات پر دھیان دیتا ہے۔ یہ شخص کم گو اور تنہائی پسند ہوتا ہے اور غور و فکر میں مصروف نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس بروں بین (ایکسٹرو ورٹ) شخصیت کا حامل فرد باہر کی دنیا میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کی دلچسپی کا مرکز اپنی ذات سے زیادہ ارد گرد کے لوگ، واقعات اور چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ فرد ملنسار، ہنس مکھ اور گہما گہمی کا دلدادہ ہوتا ہے۔ تاہم کوئی بھی فرد مکمل طور پر اندروں یا بین بروں بین نہیں ہوتا بلکہ ہر فرد کی شخصیت میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ البتہ ایک خصوصیت غالب ہوتی ہے۔ جب ایک فرد بیرونی دنیا کی بجائے اپنی دنیا میں زیادہ دلچسپی لے تو اسے دروں بین کہا جاتا ہے اور اگر فرد بیرونی ماحول میں زیادہ دلچسپی لے اور اپنی ذات پر زیادہ دھیان نہ دے تو اسے بروں بین قرار دیا جاتا ہے۔ ژونگ کے مطابق شخصیت کے چار تفاعل ہیں۔تفکر:فرد کااپنی ذات اور ماحول کو سوچ بچار کی مدد سے سمجھنا تفکر کہلاتا ہے۔ احساس:واقعات اور اشیا کا ہیجانی سطح پر تجربہ کرنا احساس کہلاتا ہے۔ اس میں انہیں خوشگوار یا نا خوشگوار اور اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے۔ تجسس: حقائق کا حواس کی مدد سے ادراک کرنا تجسس کہلاتا ہے۔ وجدان: واقعات کا کسی ظاہری ذریعے کے بغیر ادراک کر لینا وجدان کہلاتا ہے۔ ژونگ کے نزدیک ہر فرد میں یہ چاروں تفاعل موجود ہوتے ہیں لیکن ہر فرد میں یہ مختلف درجات میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا تفاعل کے لحاظ سے چار اقسام کی شخصیتیں سامنے آتی ہیں اور جب انہیں شخصیت کی دو بنیادی اصناف یا اقسام یعنی دورں بین اور بروں بین کے ساتھ ملا کر ان کا جائزہ لیا جائے تو شخصیت کی آٹھ قسمیں بنتی ہیں۔ مثلاً تفکر کے حوالے سے تفکری بروں بین اور تفکری دروں بین۔ تفکری دروں بین شخصیت سوچ بچار کی مدد سے اپنے ذہنی اعمال کا جائزہ لیتی ہے جبکہ تفکری بروں بین شخصیت سوچ بچار کی مدد سے بیرونی حقائق اور چیزوں کا مطالعہ کرتی ہے۔ اسی طرح باقی تین تفاعل اور دو بنیادی اصناف مل کر شخصیت کی مزید چھ قسمیں بناتے ہیں۔ ژونگ کا خیال تھا کہ عورتوں میں احساسی تفاعل زیادہ ترقی یافتہ ہوتا ہے اور مردوں میں تفکری تفاعل۔ اس نے فرائڈ کے اس نقطہ نظر سے بھی اختلاف کیا کہ شخصیت کی بنیاد عمر کے پہلے پانچ سال میں قائم ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کو کئی ادوار میں تقسیم کرتا ہے اور چالیس سال سے شروع ہونے والی دہائی کو زندگی کا اہم ترین موڑ قرار دیتا ہے۔ اسی عمر میں فرد جوانی کی دلچسپیوں اور مشاغل کی بجائے اپنی توجہ روحانی اور تخلیقی قوتوں کے فروغ پر صرف کرتا ہے۔ صحت مند اور بھرپور شخصیت کی تعمیر کے لیے یہ عمل ضروری ہے۔ اپنے مریضوں کے خیالات، خوابوں اور تخلیقی تجربات کے مطالعے کے بعد ژونگ اس نتیجے پر پہنچا کہ فرد کے ذاتی تجربات اور اجتماعی لاشعور کے امتزاج سے اس کی منفرد شخصیت وجود میں آتی ہے۔ اس عمل میں دروں بینی اور بروں بینی کے بنیادی اوصاف کے ساتھ چار بنیادی تفاعل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عناصر کسی نہ کسی درجے میں ہر فرد میں موجود ہوتے ہیں۔ اگر فرد کے دروں بینی اور بروں بینی کے رجحانات اور چاروں تفاعل متوازن طریقے سے نشوونما پا کر ہم آہنگ ہو جائیں تو اس کے نتیجے میں ایک مربوط اور صحت مند شخصیت تشکیل پاتی ہے اور فرد ایک بھرپور تخلیقی اور مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ ژونگ نے انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے مختلف مذاہب، قدیم تاریخ، مختلف قوموں کی ثقافتوں اور فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ خود بھی صوفیانہ رجحان اور مذہبی مزاح کا مالک تھا۔ ان عوامل کی جھلک اس کے نظریات میں واضح نظر آتی ہے۔ اجتماعی لاشعور کا تصور اس کا ایک بنیادی تصور ہے، جسے سائنسی طور پر ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یہ ڈھیلا ڈھالا اور مبہم تصور ہے۔ البتہ ادب، آرٹ اور علم بشریات سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس کے نظریات سے بہت متاثر نظر آتے ہیں۔