چھوٹے بچوں کے لیے اہم احتیاطیں
اسپیشل فیچر
انفیکشنز: انفیکشن یا چھوت کی بے شمار قسمیں ہیں اور ان تمام اقسام سے بچے کو محفوظ رکھنا تقریباً ناممکن ہے۔ اصل میں بیماری پھیلانے والے بعض جراثیم اس ہوا میں بھی شامل ہوتے ہیں جس میں ہم سانس لیتے ہیں پھر بھی بہت سی دوسری قسم کی بیماریوں اور انفیکشنز سے بچے کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس معاملے کی سب سے پہلی احتیاط یہ ہونی چاہیے کہ بچے کو کم سے کم ہاتھ لگایا جائے۔ اس کا تمام سامان اور سب چیزیں بالکل الگ رکھنی چاہئیں۔ بچوں کو جو متعدد امراض ہو جاتے ہیں ان میں سب سے عام ہیضہ، ڈائریا، الٹیاں، جلدی امراض اور سانس کی بیماریاں ہیں۔ اگر بچے کی دایا یا ملازم کو کوئی جلدی مرض ہو جائے تو اس کا فوراً علاج کرانا چاہیے۔ بچے کا کھانے پینے کا سامان اور برتن بالکل الگ رکھنا چاہیے اور جب بھی بچے کو باہر کا دودھ پلایا جائے تو اس سے پہلے دودھ کی بوتل اور نپل کو کھولتے ہوئے پانی سے صاف کر لینا اور ابال لینا چاہیے۔ بچے کے کپڑے نرم ہونے چاہئیں اور ان میں نمی اور رطوبت کو جذب کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ اگر ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو بچے کو بہت سی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔سونا:یہ ایک بالکل قدرتی اور فطری بات ہے کہ نوزائیدہ بچہ دن کے بیشتر حصہ میں سوتا رہتا ہے، علاوہ اس وقت کے جب اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے یا پیشاب، پاخانے کے بعد شلوار یا پیمپر بدلوانے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بعد بچہ دودھ پی کر پھر سو جاتا ہے اور یہ حالت تین ماہ تک رہتی ہے۔ جب بچہ تین مہینے کا ہو جاتا ہے تب وہ دن میں جاگنے لگتا ہے اور کھیلتا بھی ہے۔وزن:پیدائش کے پانچ ماہ میں بچے کا وزن دو گنا ہو جاتا ہے اور ایک سال کے اندر تین گنا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پیدائش کے وقت بچے کا قد تقریباً پچاس سینٹی میٹر ہوتا ہے جو ایک سال میں بڑھ کر 75 سینٹی میٹر ہو جاتا ہے۔ سال بھر کے بعد وزن میں اضافے کی شرح کم ہو جاتی ہے۔ دو سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس کا وزن پیدائش کے وزن سے چار گنا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد بچے کے وزن میں سالانہ ڈیڑھ سے دو کلو اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ سات سال سے بارہ سال کی عمر تک اضافے کی شرح ایک سے ڈیڑھ کلو رہتی ہے۔ بچے کا قد سالانہ ساڑھے سات سے دس سینٹی میٹر کی شرح سے بڑھتا ہے، یہاں تک کہ چار سال کی عمر میں بچے کا قد سو سینٹی میٹر ہو جاتا ہے۔ چار سے سات سال تک کے دوران قد میں اضافہ کی شرح ساڑھے سات سینٹی میٹر ہوتا ہے اور سات سال سے بارہ سال کی عمر کے دوران ساڑھے پانچ سینٹی میٹر سالانہ کے حساب سے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔تدابیر:ماؤں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں اور اس طرح بچوں کو اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی تحریک دیں۔ گہرے اور تیز رنگ کی چیزیں بھی بچوں کے لیے باعث کشش ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر اس کے پالنے میں تیز رنگ کے کھلونے لٹکا دیے جائیں تو یہ کھلونے اسے اپنے اردگرد کے ماحول میں دلچسپی لینے میں مدد دیں گے۔ ایسے بچے جن کے ساتھ ان کی مائیں یا کوئی عزیز کھیلتا رہتا ہے، زیادہ متحرک ہوتے ہیں اورتیزی سے بڑھتے ہیں۔ ان بچوں کے مقابلے میں جو اکیلے لیٹے رہتے ہیں ان میں ایسا کم ہوتا ہے۔نوزائیدہ بچے کو بہت ہی محترم شخصیت سمجھنا چاہیے۔ جب تک ضرورت نہ ہو اسے ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ وہ اکثر وقت سوتا رہتا ہے اور صرف دودھ پینے یا کپڑے تبدیل کرانے کے لیے جاگتا ہے۔ اس کے اس معمول کا احترام کرنا چاہیے اور اس میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔ کسی ایسے شخص کو جو زکام اور کھانسی میں مبتلا ہو بچے کے قریب نہیں آنے دینا چاہیے۔ جب تک بچہ تین چار ماہ کا نہ ہو جائے کسی دوسرے شخص کو اسے گود میں اٹھانے اور چومنے کی اجازت نہ دیں کیونکہ اس سے بچے کو طرح طرح کی بیماریاں لگ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔بچے کو گرمیوں میں نیم گرم اور سردیوں میں گرم پانی سے نہلانا چاہیے۔ بچے کے سر کو پانی میں غوطہ نہیں دینا چاہیے۔بچے کے نہانے کے لیے ایسا صابن استعمال کریں جس میں چکنائی زیادہ ہو۔ تیل کی مالش روزانہ یا تیسرے دن بچے کو نہلانے سے پہلے کرنا چاہیے۔