انسانی کلوننگ کا مستقبل؟
اسپیشل فیچر
کلوننگ کے ذریعے بھیڑ ’’ڈالی‘‘ کی پیدائش اور اس کے بعد انسان کی کلوننگ کی کوششوں اور اس کے متوقع نتائج کی روشنی میں سائنسدان اور عمرانیات کے ماہرین ایک دوراہے پر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم نے کلوننگ کے مستقبل کو نظرانداز کر دیاتو انسانیت اور اس کی بھلائی کے امکانات سے صرف نظر کرنے پر مستقبل شاید ان کو معاف نہ کرے اور اگر اس پرخطر راہ پر قدم آگے بڑھائے گئے تو اس کے عمل اور ردعمل سے جو صورت پیدا ہونے کے امکانات ہیں ان کے اثرات کا ابھی پوری طرح اندازہ نہیں ہو سکا۔ اب تک کے تجربات کے نتائج سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کلوننگ کے ذریعے وجود میں آنے والے اجسام اپنے اصل کی ہو بہو نقل ہوں گے۔ مشابہت جسمانی اور جینیاتی ہوگی۔ اس کے برعکس قدرتی عمل کے نتیجے میں وجود میں آنے والے بچے ماں اور باپ دونوں کے جین کی ملاوٹ کی وجہ سے نئی شخصیت اور نئے جسم کے مالک ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ والدین میں سے کس کے جینز حاوی ہوں گے اور کس کی وراثت زیادہ اثر انداز ہوگی۔حیاتیات کے طالب عمل بہتر جانتے ہیں کہ جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے اس وقت اس کا ذہن بالکل کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے۔ انسانی دماغ کی ساخت کچھ گوبھی کے پھول جیسی ہوتی ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دماغ کے کچھ حصوں میں اعضائے رئیسہ یعنی دل و دماغ، نظام ہضم، گردے ، جگر وغیرہ کے افعال اور حواس خمسہ قدرت کی جانب سے ودیعت ہوتے ہیںجب کہ دماغ کا بیش تر حصہ بالکل سادہ کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد سے بچے کا دماغ اپنے حواس خمسہ کی مدد سے معلومات یا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نوزائیدہ بچہ ناسمجھ ہوتا ہے لہٰذا اس کی موجودگی میں کچھ کرنے یا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے کے حواس خمسہ بہت تیز ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ جو بچے کے اطراف ہوتا رہتا ہے اس کی ساری تفصیل اس کے دماغ میں محفوظ ہوتی رہتی ہے۔ انہیں معلوماتی بنیادوں (ڈیٹا بیس) پر انسان کی زبان، اس کی عادتیں، ا س کا کردار اور اس کی فنی صلاحیتوں کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہمارے مذہب کے بزرگوں نے تاکید کی ہے کہ پالنے میں جھولنے والے بچے ناسمجھ تو ہوتے ہیں مگر ان کے سامنے جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ سب ان کے دماغ میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا بچوں کے سامنے بدکلامی سے باز رہو اس لیے کہ اس کی وجہ سے ان کی شخصیات میں نامناست باتیں در آئیں گی۔ اگر بچوں کے سامنے ماں باپ جھوٹ بولیں گے تو بچہ جھوٹ بولے گا۔اس کا یہ مطلب ہوا کہ جینیاتی خصوصیات سے قطع نظرجن سے انسان کا جسم اور اس کی ظاہری ساخت وجود میں آتی ہے۔ اگر دو ہم شکل جڑواں الگ الگ پروان چڑھیں تو ان کے ذہن اور ان کی شخصیت الگ الگ ہوں گی۔ کلوننگ کے ذریعے دو بچے اگرچہ شباہت، جینیاتی اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے اپنے اصل کی ہوبہو نقل ہوں گے مگر یہ ضروری نہیں کہ دونوں کی عادتیں ایک جیسی ہوں ، سوچ ایک ہو، علم و دانش ایک ہو اور اندازہ بھی ایک جیسا ہو ۔ انسان جو کچھ بھی بناتا ہے وہ مادے کے استعمال سے بناتا ہے تو پھر اصل خالق وہی ہوا جو مادے کا خالق ہو۔ خدا کی صفات میں سے ایک صفت ’’بدیع‘‘ ہے۔ بدیع عربی زبان کا مصدر بدع سے مشتق ہے جس سے بدعت وغیرہ بنے ہیں۔ عربی کی لغت کے مطابق بدیع کے معنی وہ بنانے والا جس کی ہر خلقت انوکھی ہوتی ہے۔ اب ذرا غور کیجیے کہ کائنات میں ازل سے لے کر آج تک جتنی بھی چیزیں خلق ہوئی ہیں کیا ان میں سے کوئی بھی کسی کی ہوبہوں نقل ہے۔ دنیا میں اربوں درخت ہیں جن میں ہر سال ان گنت پتیاں آتی ہیں مگر مجال ہے کہ کوئی ایک پتی بھی کسی دوسری کی سو فیصدنقل ہو۔ اتنے انسان پیدا ہو چکے ہیں، شکل و صورت، شباہت اور دانش تو کجا صرف ان کے انگوٹھے کے چھوٹے سے رقبے میں بنی ہوئی لکیریں آج تک کسی سے بالکل مشابہ نہیں پائی گئیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلوننگ کے ذریعے ہم جینیاتی، جسمانی ساخت اور صوری اعتبار سے ایک جان دار نقل تو بنا سکیں گے مگر یہ شاید کبھی ممکن نہ ہو کہ تمام خصوصیات کی حامل کوئی نقل تیار کر سکیں۔ انسان اپنے مرے ہوئے باپ کی نقل تو شاید بنا لے گا مگر کیا وہ مخلوق اس کے باپ کی محبت اور جذبات کی حامل ہو گی، یہ حتمی کلیہ ہرگز نہیں اس لیے کہ سائنس آج تک اپنے پچھلے کلیوں کو نئے سے جھٹلاتی رہی ہے۔ لہٰذا یہ بھی شاید ممکن ہو کہ انسان کے دماغ کے مکمل فنا ہونے سے قبل اس میں محفوظ اطلاعات اور تفصیلات (ڈیٹا بیس) کو کمپیوٹر کی ڈسک اور پھر کسی دماغ میں منتقل کیا جا سکے۔ ٭…٭…٭