لائبریری سائنس کی تعلیم و تربیت
اسپیشل فیچر
انسانی تہذیب و تمدن کے مطالعہ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب اور کتب خانوں کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود تہذیب انسانی۔ چنانچہ کتب خانوں کی اہمیت کا اندازہ اس وقت سے کیا جانے لگا تھا جب انسان کو اپنے خیالات تحریر کے پیرائے میں محفوظ رکھنے کا خیال دامن گیر ہوا اور جوں جوں اس تحریری مواد میں اضافہ ہوتا گیا‘ اس کو کسی ترتیب و تنظیم کی شکل دینے کی فکر محسوس ہوئی تاکہ وقت ضرورت آسانی سے ان تحریروں کو پڑھا جا سکے یا سنا جا سکے۔ تہذیب کے ابتدائی مراحل میں کتابوں کے اسی ذخیرہ کی دیکھ بھال اور اس کو سرکاری یا تحقیقاتی مقاصد کے لئے پیش کرنے کا فریضہ کسی وزیر یا سلطنت وقت کے دانشور کے ذمہ ہوتا تھا۔ کتابیں جو مٹی کی الواح‘ پتھر‘ چمڑے اور دھاتوں اور درختوں کی چھالوں پر تحریر شدہ ہوتی تھیں۔ عموماً زیادہ افراد کے استعمال میں آتی تھیں۔ کتب خانے‘ شاہی محلات‘ معبد خانوں اور خانقاہوں سے ملحق ہونے کی وجہ سے مقفل اور کڑی نگرانی میں رکھے جاتے تھے۔ اس وقت کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں اور مخطوطات یا قلمی کتب کہی جاتی تھیں۔ بابلی اور مصری کتب خانے جن کا ذکر ابتدائی ابواب میں کیا جا چکا ہے‘ ان قدیم کتب خانوں کی مثال ہیں۔ ان کتب خانوں کا نظم ونسق اور دیکھ بھال کا فریضہ آج کے تربیت یافتہ لائبریرین کے ذمہ نہ تھا بلکہ اس وقت کتب خانوں کے مہتمم اپنے وقت کے جید عالم اور محققین ہوتے تھے۔ اسکندریہ کی لائبریری جو اپنی وسعت علم اور تحریری مواد کی انواع و اقسام کا نمونہ تھی‘ اپنی تربیت و تنظیم میں بھی یکتا اور منفرد حیثیت رکھتی تھی۔ اس کا مہتمم یونان کا مشہور و معروف فلسفی کالی ماکس تھا۔ اس نے اس کتب خانہ کے علمی مواد کی فہرست تیار کی تھی جو پینکس کے نام سے مشہور ہے۔ یہ 120 جلدوں پر مشتمل تھی۔ اس نے کیٹلاگ سازی کے چند ابتدائی اصول بھی وضع کیے تھے۔ اس طرح وہ دنیائے کتابداری اور لائبریری سائنس کا پہلا استاد تھا جس نے علم کتب خانہ کی بنیاد رکھی۔ اس کو پہلا لائبریرین بھی کہا جاتا ہے۔برصغیر میں سنسکرت ادب میں کتب خانوں کا وجود ملتا ہے۔ ان کو پستک بھنڈار یا پستک کالیہ کہا جاتا تھا۔ اس کے معنی ایسی عمارت کے ہیں جس میں کتابیں موضوع کے لحاظ سے درجہ بندی اور فہرست کے ساتھ الماریوں میں یا طاقوں میں سنبھال کر رکھی جاتی تھیں۔ چونکہ قدیم دور میں کتابیں چھپی ہوئی نہ تھیں اور ہاتھ سے لکھ کر تیار کی جاتی تھیں۔ لہٰذا منتر ٹو نے لکھ کر ان کو چوروں اور کتابوں کے دشمن حشرات الارض وغیرہ سے محفوظ کیا جاتا تھا جبکہ آج کے متمدن دور میں طباعت کی ایجاد اور کرشمہ سازی نے کتابوں کو دلکش اور خوبصورت بنا کر نہ صرف انسانوں کے دلوں کو علم کی روشنی بخشی بلکہ شہروں‘ گلیوں اور کوچوں کو بھی چکاچوند کر دیا ہے‘ لہٰذا جہاں کتابوں کا معقول ذخیرہ موجود ہے‘ اسے کتب خانہ کہا جاتا ہے۔ یہاں آ کر سبھی لوگ بغیر کسی تفریق کے اپنے علم کی پیاس کو بجھاتے ہیں۔ بقول کسی دانشور کے اچھی کتابوں کا مجموعہ ہی دور جدید کی سچی یونیورسٹی ہے۔ ڈاکٹر محمود حسین مرحوم جوا علیٰ پائے کے مؤرخ اور کتب خانوں کے سرپرست اعلیٰ تھے‘ کہا کرتے تھے کہ کسی جامعہ کا دل اس کا کتب خانہ ہوتا ہے۔ ایک اچھا منتظم کتب خانہ ہی صحیح وقت میں صحیح قارئین کو صحیح مواد فراہم کر سکتا ہے۔ جبکہ کسی کتب خانہ کی اچھی تنظیم اور اس کا نظم و نسق صرف اور صرف ایک تربیت یافتہ لائبریرین ہی کر سکتا ہے۔ چنانچہ قارئین اور محققین کی بہتر خدمات اور مدد کیلئے تربیت یافتہ لائبریرین کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس طرح طباعت کی بدولت کتب خانوں میں علمی مواد کی وافر مقدار میں آمد نے وہاں کام کرنے والوں کو روایتی تعلیم و تربیت سے ہٹ کر سکولوں میں باقاعدہ ٹریننگ اور فنی تربیت حاصل کرنے پر مجبور کیا۔ اس سلسلہ میں ایکول نیشنل ڈس چارٹس (Ecole National Descharts) قائم شدہ 1810ء وہ پہلا سکول تھا جس نے سب سے پہلے 1847ء میں ببلیو گرافی کی تربیت کا اہتمام کیا۔ اس ٹریننگ میں آرکائیوز اور دوسرے متعلقہ مضامین مثلاً مخطوطات‘ آثار قدیمہ‘ کتاب سازی پر زور دیا جاتا تھا۔ ببلیو گرافی اس زمانے میں ایک باقاعدہ پیشہ کی حیثیت اختیار کر چکا تھا اور فن ببلیو گرافی کو فرانس میں علم کتابداری کے طور پر تصور کیا جانے لگا تھا۔ چنانچہ ایکول نیشنل ڈیس چارٹس میں ببلیو گرافی کے فن میں ٹریننگ کی کرسی 1869ء میں قائم کی گئی۔تربیت کا یہ پروگرام تین حصوں پر منقسم تھا۔ پہلا حصہ اطلاعاتی اور تحقیقی کتابوں کی درجہ بندی اور توسیعی فہرستوں کی تیاری سے متعلق تھا۔ دوسرا حصہ کتاب کی نمایاں خوبی سے متعلق تھا اور تیسرا حصہ زیادہ تر مختلف فہرستوں کی تیاری سے متعلق تھا۔ نیز خدمات کتب خانہ کی بتدریج تاریخی ترقی اور قانونی بنیاد پر مشتمل تھی۔٭…٭…٭