تم جو مل گئے ہو تو لگتا ہے کیفی اعظمی۔۔۔۔ایک بے مثل غزل گو اور گیت نگار
اسپیشل فیچر
برصغیر پاک و ہند میں ایسے شعرا گزرے ہیں جو نہ صرف غزل گو تھے بلکہ انہوں نے اعلیٰ درجے کے فلمی نغمات بھی تخلیق کئے۔ ان شعرا میں تنویر نقوی ، قتیل شفائی، سیف الدین سیف، کلیم عثمانی، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، جانثار اختر اور گلزار شامل ہیں۔ اس فہرست میں اگر کیفی اعظمی کا نام شامل نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہو گی۔ انہوں نے شاندار غزلیں لکھیں اور باکمال فلمی نغمات تخلیق کئے۔ ان میں سے کئی نغمات امر ہو گئے۔14جنوری1919ء کو اعظم گڑھ (بھارت) میں پیدا ہونے والے کیفی اعظمی کا اصل نام سید اختر حسین رضوی تھا ۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے انہوں نے پہلی غزل 11 برس کی عمر میں لکھی۔ ان کی غزل کا ایک مصرع کچھ یوں تھا ’’ اتنا تو زندگی میں کسی کا خلل پڑے۔‘‘ پھر انہیں ایک مشاعرے میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔ وہاں انہوں نے اپنی غزل پڑ ھی جسے صدر مشاعرہ مانی حبیبی نے بے حد پسند کیا۔لیکن بہت سے لوگ، جن میں ان کے والد بھی شامل تھے، کا خیال تھا کہ کیفی اعظمی نے اپنے بڑے بھائی کی غزل پڑ ھی ہے۔ جب بڑے بھائی نے اس امر کی تردید کی توکیفی کے والد نے سوچا کیوں نہ اپنے بیٹے کی صلاحیتوں کا امتحان لیں، انہوں نے غزل کا ایک شعر کیفی کو لکھ کر دیا اور کہا کہ وہ اس بحر میں غزل لکھ کر دکھائے۔کیفی اعظمی نے یہ چیلنج قبول کر لیا اور غزل لکھ دی، اس غزل کو بیگم اختر نے بڑے دلکش انداز میں گایا۔کیفی اعظمی نے اردو اور فارسی کی تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں شمولیت اختیار کر لی۔ یہ 1943ء کی بات ہے۔ اسی دوران وہ لکھنؤ کے ترقی پسند ادیبوں کی نظر میں آ گئے۔ وہ کیفی اعظمی کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہو گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سب کیفی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ 24 برس کی عمر میں انہوں نے کانپور کی ٹیکسٹائل مل کے علاقوں میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مشاعروں میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔ ممبئی میں انہوں نے علی سردار جعفری کے ساتھ پارٹی کے اخبار ’’قومی جنگ‘‘ میں لکھنا شروع کر دیا ۔1947ء میں ایک مشاعرے میں حصہ لینے کے لئے وہ حیدرآبادگئے۔ وہاں ان کی ملاقات شوکت اعظمی سے ہوئی جن سے انہوں نے شادی کر لی، وہ بعد میں تھیٹر اور فلم کی مشہور اداکارہ بن گئیں۔ ان کے دو بچے ہیں ایک شبانہ اعظمی اور دوسرا بابا اعظمی ۔شبانہ اعظمی نے اداکاری کے میدان میں جھنڈے گاڑے جبکہ بابا اعظمی نے ایک اعلیٰ کیمرہ مین کی حیثیت اپنے آپ کو منوایا۔ بہت سے اردو شعرا کی طرح کیفی اعظمی نے غزل کی طرف توجہ دی اور شاندار غزلیں لکھنا شروع کر دیں۔ چونکہ ان کی وابستگی ترقی پسند تحریک سے تھی اس لئے وہ شاعری کرنا شروع کی جس سے لوگوں میں بیداری پیدا ہو۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ایک نئے سماجی نظام کی بات کرنے لگے۔ ایسا نظام جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال نہ ہو، لیکن انہوں نے اپنی شاعری کو پروپیگنڈا سے محفوظ رکھا ۔ ان کی نظمیں بھی متاثرکن ہیں، ان میں بڑی خوبصورت علامتیں اور استعارے استعمال کئے گئے ہیں۔ ان نظموں میں احساس کی شدت نمایاں ہے۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’جھنکار‘‘ کے نام سے 1943ء میں شائع کیا گیا۔ ان کے دیگر مجموعوں میں ’’آخر شب، سرمایہ اور کیفیت‘‘ شامل ہیں۔ ان کی بہترین نظموں میں ’’عورت، دائرہ، مکان، سانپ اور بہروپن‘‘ شامل ہیں۔کیفی اعظمی بعد میں ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے سامنے آئے، ان کی پہلی فلم ’’ بزدل‘‘ تھی جس کی ہدایات شاہد لطیف نے دی تھیں اور موسیقار ایس ڈی برمن تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواجہ احمد عباس اور بمل رائے نے ’’نیا سینما‘‘ تخلیق کرنے کی کوشش کی جبکہ ساحر لدھیانوی ، جانثار اختر، مجروح سلطان پوری اور کیفی اعظمی نے ہندی فلموں کے گیتوں کو نئی زبان دی۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ تھا کہ چیتن آنند کی فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کے مکالموں کو شعروں کی صورت دی۔ یہ ایک زبردست کام تھا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم ’’گرم ہوا‘‘ کا سکرپٹ اور مکالمے لکھے جسے بہت پسند کیا گیا ۔ ’’گرم ہوا‘‘ عصمت چغتائی کے افسانے سے ماخوذ تھی۔ اگرچہ انہوں نے بے شمار فلموں کے گیت لکھے لیکن انہیں گورودت کی ’’کاغذ کے پھول‘‘ اور چیتن آنند کی فلم ’’حقیقت‘‘ کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اب ہم کیفی اعظمی کے چند فلمی گیتوں کا ذکر کریں گے۔ 1۔ یہ دنیا، یہ محفل۔۔۔ فلم ہیررانجھا۔ 2۔ تم جو مل گئے ۔۔۔ فلم ہنستے زخم۔ 3۔ بے تاب دل کی تمنا ۔۔۔ فلم ہنستے زخم۔ 4۔ چلتے چلتے ۔۔۔ فلم پاکیزہ۔ 5۔ ابھی کیا سنو گے ۔۔۔فلم ستیا کام۔ 6۔ ڈر لگے دنیا سے ۔۔۔ فلم بزدل۔ 7۔ جا ری پونیا پیا کے دیس ۔۔۔ فلم دو بوند پانی۔ 8۔ جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ۔۔۔ فلم شعلہ اور شبنم ۔9۔ جس دن سے میں نے تم کو ۔۔۔ فلم پروانہ۔10۔ تم اتنا جو مسکرا رہے ہو۔۔۔ فلم ارتھ10 مئی 2002ء کو یہ نادر روزگار شخص عالم جاوداں کو سدھار گیا۔ ان کا نام بھی زندہ رہے گا اور کام بھی۔ ٭…٭…٭