کیا دنیا میک 5 کی رفتار سے سفر کے دور میں داخل ہو رہی ہے؟امریکی ایرو سپیس کمپنی Hermeus کے تجرباتی طیارے Quarterhorse Mk 1کی پہلی کامیاب پرواز نے فضائی سفر کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ یہ طیارہ ابھی ابتدائی آزمائشی مراحل میں ہے لیکن اس کی کامیاب پرواز کو مستقبل کے ایسے مسافر بردار جہازوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیز یعنی میک 5 (Mach5) کی رفتار سے سفر کر سکیں گے ۔کوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی کامیاب پروازگزشتہ برس 21 مئی کو ریاست کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کے ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے ہوئی۔پرواز کا مقصد طیارے کے ٹیک آف، لینڈنگ، کنٹرول سسٹمز، ایویونکس اور ایروڈائنامکس کی جانچ کرنا تھا۔ کوارٹر ہارس ایم کے1 مستقبل کے ہائپر سانک طیاروں کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔کمپنی کا بنیادی مقصد ایسا مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے جو میک 5 کی رفتار سے پرواز کر سکے۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت صرف ایک نئے طیارے کی آزمائش نہیں بلکہ فضائی نقل و حمل میں ایک ممکنہ انقلاب کی بنیاد ہے۔ اگر اس منصوبے میں کامیابی ہو جاتی ہے تو اس صلاحیت کا حامل مسافر بردار طیارہ لندن سے نیویارک کا سفر محض ڈیڑھ گھنٹے کے قریب مکمل کر سکے گا جبکہ موجودہ طیاروں کو یہی فاصلہ طے کرنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں۔پہلی پرواز کیوں اہم ہے؟کوارٹر ہارس ایم کے 1نے اپنی پہلی پرواز امریکی فضائیہ کے مشہور تجرباتی مرکز ایڈورڈز ایئر فورس بیس سے کی۔ اس پرواز کا بنیادی مقصد انتہائی تیز رفتار پرواز سے پہلے طیارے کے بنیادی سسٹمز، ایویونکس، لینڈنگ گیئر، کنٹرول سسٹمز اور فضائی استحکام کا جائزہ لینا تھا۔کمپنی کے مطابق ایم کے1 ماڈل کو محض 19 ماہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا،جو جدید ہوابازی کی صنعت میں غیر معمولی رفتار سمجھی جاتی ہے۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ تھی کہ کمپنی روایتی انداز میں کئی سال تحقیق کرنے کے بجائے ''تیار کرو، آزماؤ اور سیکھو‘‘ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔رفتار اور تکنیکی خصوصیاتبنیادی طور پرایم کے 1 میک 5 کی رفتار کے لیے نہیں بنایا گیا مگر یہ مستقبل میں برق رفتار طیارے بنانے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرنا ہے۔ موجودہ آزمائشی طیارہGE J85 ٹربوجیٹ انجن کا حامل ہے جو بنیادی پرواز اور سسٹمز کی جانچ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔تاہمHermeus کا اصل ہدف ایسے انجن تیار کرنا ہے جو کم رفتار پر عام جیٹ انجن کی طرح کام کریں اور پھر انتہائی تیز رفتار پر رام جیٹ (Ramjet) نظام میں تبدیل ہو جائیں۔ اس ٹیکنالوجی کوTurbine Based Combined Cycle (TBCC) کہا جاتا ہے۔میک 5 کی رفتار تقریباً 6,100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے اور اس رفتار پر پرواز کرنے والا طیارہ شدید حرارت اور فضائی دباؤ کا سامنا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہائپرسانک طیاروں کی تیاری دنیا کے مشکل ترین انجینئرنگ منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔سب سے بڑا چیلنجہائپرسانک رفتار پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ انجن نہیں بلکہ حرارت ہوتی ہے۔ جب کوئی طیارہ میک 5 کی رفتار سے فضا میں سفر کرتا ہے تو اس کے اگلے حصے کا درجہ حرارت کئی سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔اس صورتحال میں عام ایلومینیم یا روایتی دھاتی ڈھانچے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے انجینئرز کو خصوصی دھاتوں، جدید کمپوزٹس اور حرارت برداشت کرنے والے مواد کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ کوارٹر ہارس پروگرام انہی مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔ مستقبل کا مسافر بردار طیارہکوارٹر ہارس پروگرام کا حتمی مقصد Halcyon نامی ایک ہائپرسانک مسافر بردار طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے ابتدائی تصورات کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 20 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت کا حامل ہو گا اور میک 5 کی رفتار سے بین الاقوامی سفر کو موجودہ دور کے مقابلے میں کئی گنا مختصر بنا دے گا۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نیویارک، لندن، ٹوکیو اور سنگاپور جیسے بڑے شہروں کے درمیان سفر کے اوقات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی سطح پر ہائپرسانک پروازیں شروع ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ رفتار کے ساتھ ساتھ حفاظت، ایندھن کی لاگت، شور، ماحولیاتی اثرات اور سرکاری منظوری جیسے مسائل بھی حل کرنا ہوں گے۔مستقبل کی سمتکوارٹر ہارس ایم کے1 کی پہلی پرواز اگرچہ ابتدائی قدم ہے لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے برسوں میں سپرسانک اور پھر ہائپرسانک رفتار کے حامل مسافر طیارے بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے اور دنیا ایک بار پھر فضائی سفر کے ایسے انقلاب کی گواہ بن سکتی ہے جس کا خواب کانکورڈ کے دور کے بعد تقریباً ختم ہو چکا تھا۔اب نظریں Quarterhorse کے اگلے ماڈلز پر مرکوز ہیں کیونکہ انہی کی کامیابی یا ناکامی مستقبل کے میک 5 مسافر بردار جہاز Halcyon کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔