سائنسدانوں اور محققین کی وارننگمصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں تحقیق، تعلیم، صحافت اور کاروبار کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ آج طلبہ اپنی اسائنمنٹس کی تیاری سے لے کر محققین تحقیقی مواد جمع کرنے تک، ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ChatGPT، Gemini، Copilot اور دیگر جدید پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن ماہرین اب خبردار کر رہے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز پر مکمل انحصار سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً جب بات حوالہ جات اور تحقیقی ذرائع کی ہو۔حالیہ دنوں میں امریکہ میں منعقد ہونے والے مختلف سائنس میلوں اور تحقیقی مقابلوں کے ججوں نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد طلبہ اپنے پراجیکٹس میں ایسے حوالہ جات پیش کر رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے یا جن میں مصنف، جرنل، اشاعت کی تاریخ اور دیگر تفصیلات غلط درج ہوتی ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ حوالہ جات پر مشتمل تھی۔جعلی حوالہ جات کا بڑھتا ہوا مسئلہماہرین کے مطابق اے آئی کے چیٹ بوٹس بظاہر انتہائی اعتماد کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی کی زبان میں اس رجحان کو Hallucination کہا جاتا ہے۔جب کوئی صارف کسی مخصوص موضوع پر تحقیقی حوالہ جات طلب کرتا ہے تو بعض اوقات AI ایسے تحقیقی مقالوں کے نام، مصنفین اور جرائد تخلیق کر دیتا ہے جو حقیقت میں کبھی شائع ہی نہیں ہوئے۔ چونکہ یہ معلومات بظاہر مستند انداز میں پیش کی جاتی ہیں اس لیے بہت سے طلبہ اور نئے محققین انہیں درست سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں۔سائنس فیئر کے ججوں نے متعدد ایسے پراجیکٹس دیکھے ہیں جن میں حوالہ جات کی فہرست تو موجود تھی لیکن ان میں شامل کئی تحقیقی مقالے آن لائن تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکے۔ مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ حوالہ جات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔صرف طلبہ ہی نہیں محققین بھی متاثریہ مسئلہ صرف سکول یا کالج کے طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پیشہ ور محققین بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے بعض مقالات میں بھی ایسے حوالہ جات پائے گئے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔ ان جعلی حوالہ جات کو Ghost References کا نام دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی محقق غیر مصدقہ AI مواد کو براہ راست اپنے تحقیقی کام میں شامل کر لیتا ہے تو اس سے پورے تحقیقی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔تحقیق کی دنیا میں حوالہ جات کی حیثیت بنیاد کی مانند ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط معلومات پر قائم ہو تو تحقیق کے نتائج بھی مشکوک ہو جاتے ہیں؛چنانچہ تحقیقی ادارے اور جامعات اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کہاں غلطی کرتی ہے؟مصنوعی ذہانت دراصل معلومات کو سمجھنے کے بجائے زبان کےPatterns کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ حقیقی ڈیٹا بیس سے منسلک نہیں ہوتی نتیجتاً بعض مواقع پر یہ ممکنہ طور پر درست دکھائی دینے والی لیکن حقیقت میں غلط معلومات تیار کر دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تجربات میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت کو درست حوالہ جات فراہم کیے اور صرف ان کی فارمیٹنگ درست کرنے کا کہا۔ اس عمل کے دوران بھی AI نے بعض حوالوں میں مصنفین کے نام، جلد نمبر یا اشاعتی تفصیلات تبدیل کر دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف نئے حوالہ جات گھڑنے تک محدود نہیں بلکہ موجودہ معلومات میں غیر ارادی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیم وتحقیق کیلئے خطرے کی گھنٹی تعلیم اور تحقیق درست معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اگر طالب علم مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کو تصدیق کے بغیر استعمال کرنے لگیں تو غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس طرح طلبہ کے تحقیقی مقالے، تھیسس اور اسائنمنٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ماہرین مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اسے ایک مفید معاون ٹیکنالوجی قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ AI کا استعمال نہیں بلکہ اس پر اندھا اعتماد ہے۔تحقیقی کام کے دوران ہر حوالہ، ہر دعوے اوراعدادوشمار کی اصل ماخذ سے تصدیق ضروری ہے۔ اگر AI کسی تحقیقی مقالے کا حوالہ فراہم کرے تو محقق کو چاہیے کہ اس مقالے کو جرنل کی ویب سائٹ یا ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے خود تلاش کرے۔ طلبہ کو بھی سکھایا جانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کی فراہم کردہ معلومات کو حتمی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔مستقبل کا چیلنجمصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں روز بروز بہتر ہو رہی ہیں اور آنے والے برسوں میں اس کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم جوں جوں یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکزکو ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت یقیناً علم اور تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب ہے لیکن کوئی بھی مشین انسانی تحقیق، تنقیدی جائزے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی لیے AI سے مدد ضرور لیں مگر اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں۔