کنگز کالج چیپل

کنگز کالج چیپل

اسپیشل فیچر

تحریر : جاوید اقبال


چھ صدیوں سے قائم علم، فن تعمیر اور تاریخ کا عظیم شاہکار
تاریخ انسانی تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہے، اور دنیا میں بے شمار ایسی تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو اپنے اندر صدیوں پر محیط ثقافت، علم، مذہب اور فن تعمیر کی داستانیں سموئے ہوئے ہیں۔ انہی عظیم یادگاروں میں انگلینڈ کی معروف کنگز کالج چیپل بھی شامل ہے، جس کی بنیاد 1441ء میں انگلینڈ کے بادشاہ ہنری ششم نے رکھی۔ آج یہ عمارت نہ صرف کیمبرج یونیورسٹی کی شناخت سمجھی جاتی ہے بلکہ برطانیہ کے بہترین تاریخی اور مذہبی ورثوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔
15ویں صدی یورپ میں علمی، مذہبی اور ثقافتی تبدیلیوں کا دور تھا۔ اسی زمانے میں بادشاہ ہنری ششم نے کیمبرج میں ایک ایسے تعلیمی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا جو اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور مذہبی اقدار کا مرکز بن سکے۔ اس مقصد کیلئے 1441ء میں کنگز کالج کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ اس کے ساتھ تعمیر ہونے والے عظیم عبادت خانے، کنگز کالج چیپل، کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ بادشاہ کا خواب تھا کہ یہ عمارت نہ صرف عبادت کیلئے استعمال ہو بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے علم اور تہذیب کی علامت بھی بنے۔
کنگز کالج چیپل کی تعمیر اگرچہ 1441ء میں شروع ہوئی، لیکن سیاسی تبدیلیوں، جنگوں اور مالی مشکلات کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ مختلف بادشاہوں نے اس تعمیر کو آگے بڑھایا اور بالآخر سولہویں صدی کے اوائل میں یہ شاہکار مکمل ہوا۔ تقریباً ستر برس تک جاری رہنے والی یہ تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ عظیم منصوبے وقت، محنت اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس عمارت کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا شاندار فن تعمیر ہے۔ یہ گوتھک طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔ چیپل کی بلند و بالا چھت، نفیس پتھروں پر کی گئی نقش و نگاری، دلکش محرابیں اور رنگین شیشوں سے مزین بڑی بڑی کھڑکیاں دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ ماہرین تعمیرات کے مطابق اس کی چھت پر بنایا گیا ''فین والٹ‘‘ دنیا کے خوبصورت ترین پتھریلے ڈیزائنوں میں شمار ہوتا ہے، جو آج بھی انجینئرنگ کا ایک حیرت انگیز نمونہ سمجھا جاتا ہے۔
کنگز کالج چیپل صرف ایک تاریخی عبادت گاہ نہیں بلکہ علم و تحقیق کی علامت بھی ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے سائنس، ادب، فلسفہ، معاشیات اور دیگر شعبوں میں بے شمار نامور شخصیات نے تعلیم حاصل کی۔ ان میں کئی نوبیل انعام یافتہ سائنس دان بھی شامل ہیں۔ اس طرح چیپل اور کالج مل کر اس علمی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں جس نے دنیا بھر میں تحقیق اور تعلیم کو فروغ دیا۔
یہ عمارت اپنی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ موسیقی کی دنیا میں بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ہر سال کرسمس کے موقع پر یہاں ہونے والی دعائیہ تقریب اور مذہبی نغمے دنیا بھر میں نشر کئے جاتے ہیں۔ کنگز کالج کا کوائر (Choir)اپنی خوبصورت آواز اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے، جسے سننے کیلئے ہزاروں افراد ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
وقت گزرنے کے باوجود کنگز کالج چیپل اپنی اصل خوبصورتی اور تاریخی وقار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ برطانوی حکومت اور متعلقہ ادارے اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم شاہکار سے مستفید ہو سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عمارت کی مرمت، صفائی اور تحفظ کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔
سیاحت کے اعتبار سے بھی کنگز کالج چیپل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں سیاح ہر سال کیمبرج آتے ہیں تاکہ اس تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھ سکیں۔ اس سے نہ صرف برطانیہ کی ثقافتی شناخت مضبوط ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے۔ تاریخی مقامات دنیا کو اس ملک کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت سے روشناس کراتے ہیں۔
کنگز کالج چیپل کی عمارت ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عظیم قومیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ قدیم عمارتیں صرف پتھروں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ماضی کی کہانیاں، تہذیبی اقدار اور قومی شناخت اپنے اندر محفوظ رکھتی ہیں۔ اگر ان کی حفاظت کی جائے تو یہ آنے والی نسلوں کیلئے علم، تحقیق اور سیاحت کا قیمتی سرمایہ ثابت ہوتی ہیں۔
آج، تقریباً چھ صدیوں بعد بھی کنگز کالج چیپل کی عمارت اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ عمارت اس بات کی زندہ مثال ہے کہ علم، فن تعمیر اور ثقافت جب ایک دوسرے سے مل جائیں تو ایسی لازوال یادگاریں وجود میں آتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کنگز کالج چیپل صرف انگلینڈ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے تاریخی اور تعلیمی ورثے کا ایک روشن باب سمجھی جاتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا منصوبہ

یہ منصوبہ کرہ ارض کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے: ماہرین خلائی ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسان کیلئے کائنات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب خلا صرف سائنسی تحقیق، سیاروں کی کھوج یا مصنوعی سیاروں کی تنصیب تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اسے مستقبل کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے خواب بھی دیکھ رہی ہیں۔ اسی تناظر میں ارب پتی کاروباری شخصیات ایلون مسک اور جیف بیزوس کی جانب سے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے تصور نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس منصوبے کے حامیوں کا خیال ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں پورا کر سکتے ہیں، جبکہ زمین پر توانائی کے دباؤ اور گرمی کے اخراج میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین ماحولیات اور خلائی سائنسدان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اس منصوبے پر بغیر جامع منصوبہ بندی کے عمل کیا گیا تو راکٹ لانچز میں اضافے، خلائی ملبے، کاربن اخراج اور ماحولیاتی اثرات کے باعث یہ منصوبہ کرہ ارض اور خلائی ماحول دونوں کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کا یہ تصور جہاں ٹیکنالوجی کے مستقبل کی ایک انقلابی جھلک پیش کرتا ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات نے بھی دنیا بھر کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایلون مسک کی کمپنی ''سپیس ایکس‘‘ (SpaceX) اور جیف بیزوس کی ''بلیو اوریجن‘‘ ان نمایاں کمپنیوں میں شامل ہیں جو خلا میں ڈیٹا سینٹرز کو مدار میں بھیجنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے کئی فوائد ہیں، جن میں سورج سے مفت اور تقریباً لامحدود توانائی کا حصول، کم آپریٹنگ اخراجات اور زیادہ مؤثر کارکردگی شامل ہیں۔تاہم تمام ماہرین اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ارتھ جسٹس کی نمائندگی میں سائنسدانو ں کے ایک گروپ نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) سے درخواست کی ہے کہ خلا میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے وابستہ ماحولیاتی خطرات کا جامع اور تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر لاکھوں مصنوعی سیاروں کو زمین کے گرد مدار میں بھیجا گیا تو اس سے نہ صرف زمین کے ماحول میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں بلکہ جنگلی حیات بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ رات کا قدرتی آسمان ہمیشہ کیلئے اپنی موجودہ شکل کھو سکتا ہے۔''پبلک ایمپلائز فار انوائرنمنٹل ریسپانسبلٹی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹِم وائٹ ہاؤس نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ماحولیاتی جائزے کے بغیر مدار میں ڈیٹا سینٹرز کی اجازت دینا صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام نہیں بلکہ انتہائی خطرناک اور لاپرواہی پر مبنی فیصلہ ہو گا۔ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، خلائی ملبہ اور فضا کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، نیز جنگلی حیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات، ایسے اہم مسائل ہیں جن پر ان منصوبوں کو لائسنس جاری کرنے سے پہلے نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ غور کیا جانا چاہیے۔حالیہ برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے میں دلچسپی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا تیزی سے فروغ ہے، جس نے کمپیوٹنگ طاقت اور ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی ضرورت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال جیف بیزوس نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ 10 سے 20 برسوں کے دوران خلا میں ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ ایلون مسک نے مختصر الفاظ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھاکہ اسپیس ایکس یہ کام ضرور کرے گی۔اس منصوبے کے حامیوں کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو زمین کے بجائے مدار میں منتقل کرنے سے دو بڑے مسائل حل ہو سکتے ہیں، جن میں توانائی کی فراہمی اور ماحولیاتی اثرات سرفہرست ہیں۔ زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کیلئے بے پناہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، جبکہ خلا میں انہیں سورج سے تقریباً لامحدود اور مسلسل توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی طرح زمینی ڈیٹا سینٹرز کے قریب رہنے والے افراد اکثر ان کے ماحولیاتی اثرات، توانائی کے زیادہ استعمال، شور اور حرارت کے اخراج پر اعتراض کرتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مراکز خلا میں منتقل کر دیے جائیں تو ان مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد کمپنیوں نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن سے زمین کے نچلے مدار میں لاکھوں مصنوعی سیارے تعینات کرنے کیلئے لائسنس کی درخواستیں دی ہیں۔ تاہم اپنی نئی درخواست میں ماحولیاتی سائنس دانوں نے ایف سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر فوری پیشرفت کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لے اور منظوری دینے سے پہلے اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا مکمل اور جامع جائزہ لیا جائے۔ماحولیاتی خدشات رکھنے والے ماہرین کے مطابق مصنوعی سیاروں کے ماحول پرسنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں، جن سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق راکٹوں کی لانچنگ اور مشن مکمل ہونے کے بعد ان کی زمین کی فضا میں واپسی کے دوران ہونے والے اخراج انتہائی زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ یہ عمل اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

پاکستان کا نوجوان: مستقبل کا معمار

کسی بھی ملک کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ان میں توانائی، صلاحیت، تخلیقی سوچ اور نئے راستے تلاش کرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ پاکستان بھی نوجوانوں کا ملک ہے اور اس کی نوجوان نسل ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو درست سمت، بہتر تعلیم اور اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں۔ وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سائنس، تحقیق، آن لائن کاروبار اور جدید مہارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان بھی ان شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن تعلیم اور دیگر جدید شعبوں میں نہ صرف اپنے لیے روزگار پیدا کر رہے ہیں بلکہ ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستانی نوجوان ذہانت اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی نوجوان تعلیم، طب، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی، کاروبار، کھیل اور دیگر شعبوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر یہی مواقع پاکستان کے اندر بھی وسیع پیمانے پر فراہم کیے جائیں تو نوجوان نسل ملکی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ہنر سیکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ آج کامیابی کیلئے صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ عملی مہارت، تخلیقی سوچ، ٹیکنالوجی سے واقفیت اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ہر نوجوان کیلئے کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں کامیاب ہو سکتا ہے، کوئی کاروبار میں، کوئی فنون میں، کوئی کھیل میں اور کوئی تحقیق کے میدان میں۔ پاکستان میں نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرنے میں حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر نوجوانوں کو بہتر رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملازمت حاصل کرنے والے بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ بھی نوجوانوں کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کو سمجھنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔ ہر نوجوان میں کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف اسے پہچاننے اور بہتر انداز میں نکھارنے کی ہے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کریں۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو صرف تفریح کیلئے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، کاروبار اور معلومات کے حصول کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کامیاب ہونے والے بہت سے نوجوانوں نے محدود وسائل سے آغاز کیا، لیکن مسلسل محنت، سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کا نوجوان صرف ملک کا مستقبل نہیں بلکہ آج بھی ملک کی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، تحقیق، کھیل اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔

 گدھے شماری

گدھے شماری

''یرقان بھائی‘‘''ہاں فرقان بھائی‘‘''بھائی بہت اداس اوررنجیدہ اورملول وغیرہ دکھائی دے رہے ہو، کیا ہوگیا؟‘‘''جو ہونا تھا ہوگیا۔ برا ہوا یا بھلا ہوا۔‘‘''یرقان بھائی تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگتی جواتنے پرانے فلمی گانے الاپ رہے ہو۔‘‘''یہ گانا نہیں میرے دل کی آواز ہے۔۔۔ اورآواز دے تو کہاں ہے‘‘۔''لیکن ہوا کیا ہے۔۔۔؟‘‘''ہم بڑھ گئے ہیں۔۔۔‘‘''ہم کدھر بڑھ گئے ہیں؟‘‘''ہم تعداد میں بڑھ گئے ہیں۔‘‘''وہ تواللہ تعالیٰ کے نظام میں تمام چرند پرند اورانسان بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ اس میں فکرکی کون سی بات ہے؟‘‘''اس لیے کہ اورکچھ نہیں بڑھا، صرف ہم بڑھے گئے ہیں۔‘‘''یعنی؟‘‘''یعنی یہ کہ پاکستان میں گدھے بڑھ گئے ہیں۔‘‘''اوہو۔۔۔ یعنی گدھے۔۔۔ یعنی ڈنکیز؟‘‘''گدھے کوڈنکی کہاجائے توبھی وہ گدھا ہی رہتا ہے۔ خبر یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ پندرہ برسوں میں گدھوں کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہ شماریات کے مطابق 1971-72ء میں گدھوں کی تعداد دس لاکھ نوے ہزار تھی جو کہ اب بڑھ کر بیس لاکھ اٹھتر ہزار ہوگئی ہے۔‘‘''کمال ہے۔۔۔ اس خبر میں حیرت کا مقام یہ ہے کہ پاکستان میں ایک محکمہ شماریات کا بھی ہے۔۔۔ یہ کیا شمارکرتے ہیں؟‘‘''ظاہر ہے یہ گدھے شمار کرتے ہیں‘‘''گدھے شمار کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟‘‘''مجھے کیا معلوم کہ کیا طریقہ کار ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ سب سے پہلے تمام گدھوں کے کام شمار کر لیے جاتے ہیں۔اور پھر ان کی چار ٹانگیں، اور اس کے بعد کل کو چھ پر تقسیم کرلیا جاتا ہوگا اور یوں گدھوں کی تعداد پتہ چل جاتی ہوگی‘‘''نہیں بھئی کوئی اورطریقہ ہوگا، یہ تو ذرا پیچیدہ ہے‘‘۔''تو پھرشاید وہ ہر پاکستانی سے پوچھتے ہوں گے کہ آپ کیا ہیں۔‘‘''نہیں، نہیں اس طرح تو تعداد کروڑوں میں ہوجائے گی۔ خیرکوئی بھی طریقہ ہو یہ ان کا ڈنکی سیکرٹ ہے۔ لیکن ایک اورسوال ذہن میں آتا ہے کہ محکمہ شماریات کو گدھوں سے اتنی رغبت کیوں ہے؟‘‘''یعنی؟‘‘''یعنی یہ کہ انہوں نے پاکستان کے مگرمچھوں کوکیوں شمار نہیں کیا۔ یہاں ایک سے ایک بڑا مگرمچھ پڑا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پائے جانیوالے لگڑ بگڑ، لدھر، نیولے، گیدڑ، سور اور دیگر حیوان کیوں نہیں گنے۔ صرف گدھے کیوں۔‘‘''اس لیے کہ گدھے آپ کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں، اُف تک نہیں کرتے، روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔''یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔ ویسے ایک اور سوال ہے!‘‘''میں محکمہ شماریات میں تو نہیں، فرقان بھائی! سوال ان سے پوچھو‘‘''ان سے جاکر پوچھوں کہ آپ نے پاکستان میں صرف گدھوں کو کیوں شمارکیا ہے، گدھیوں کوکیوں شمارنہیں کیا۔‘‘''یارانہوں نے شمارکیا ہوگا‘‘''نہیں اخبارمیں صرف یہ چھپا ہے کہ پاکستان میں گدھے بڑھ گئے۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ پاکستان میں گدھے اور گدھیاں بڑھ گئے۔‘‘''بھئی وہ جوشمارکرنیوالے ہونگے، ان کو نہیں پتہ ہوگا گدھے اورگدھی میں کیا فرق ہوتا ہے۔‘‘''ایک اورسوال ہے‘‘''محکمہ شماریات سے دریافت کرو‘‘''نہیں یہ ہمارے بارے میں ہے۔ اگر پاکستان میں گدھے بڑھ گئے ہیں توتم کیوں فکرمند ہو، تم یہ کیوں کہتے ہو کہ ہم بڑھ گئے ہیں؟‘‘''بھئی گدھے وہی ہوتے ہیں ناں جو بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جن کوکھانے کو کچھ نہیں ملتا۔ اور ہمیں سب بے وقوف سمجھتے ہیں، میں بذات خود ایک گدھا ہوں۔‘‘''خیریہ توتم گدھوں کے ساتھ زیادتی کررہے ہو۔ ویسے میں پھر یہی پوچھوں گا کہ محکمہ شماریات پاکستان میں صرف گدھوں کو کیوں شمار کرتا ہے۔ اوراس کو کیسے معلوم ہے کہ پچھلے چند برسوں میں گدھے دو گنے ہوگئے ہیں۔‘‘''بالکل درست۔۔۔ تم گدھے وغیرہ تونہیں ہو،کیونکہ اگرتم ہوتے توہم بھی ہوتے۔اورہم نہیں ہیں۔۔۔ بتاؤ کیوں فکرمند ہو۔۔۔‘‘''کولمبیا کا آتش فشاں جو پھٹ پڑا ہے۔‘‘''کولمبیا کا آتش فشاں۔۔۔ اس کا پاکستانی گدھوں سے کیا تعلق ہے؟‘‘''ہے تعلق۔۔۔ بھائی فرقان! دیکھو، قافیا کیسا ملا ہے۔۔۔‘‘''یار یرقان تم تو واقعی گدھے ہو۔۔۔ یہ ایتھوپیا اورکولمبیا بیچ میں کہاں آگئے؟‘‘''دیکھو، فرقان۔۔۔ ہم جوکائنات کے بھید جاننا چاہتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم ملکوں اور صحراؤں کو جانتے ہیں۔ دنیا سکڑ گئی ہے۔ کمپیوٹر، سیارے، چاند پرقدم۔۔۔ لیکن تم ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہو کہ تم اس سے پیشتر کولمبیا کو جانتے تھے؟‘‘''ہوں۔۔۔ ہاں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ہاں بس نام سن رکھا تھا۔ اور وہ بھی شاید۔۔۔‘‘

حکایت سعدیؒ:اچھی بیوی

حکایت سعدیؒ:اچھی بیوی

نیک اور فرماں بردار بیوی فقیر کو بھی بادشاہ بنا دیتی ہے۔ بادشاہوں کی طرح اپنے گھر میں خوشی کے پانچ نقارے بجا! اگر تجھے موافقت کرنے والی رفیقہ حیات نصیب ہے۔ سارے دن کے غموں کا غم نہ کر اگر رات غم گساری کرنے والا تیرے ساتھ ہے۔ جس کا گھر آباد ہو اور محبت کرنے والی بیوی گھر میں ہو اس پر اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔ خوبصورت اور باحیا بیوی والے کیلئے یہ دنیا ہی جنت کی مانند ہے۔ اور اگر بیوی نیک اور خوش کلام ہو تو اس کا خوبصورت ہونا بھی کوئی ضروری نہیں۔ ایسے خاوند کا گھر سے باہر اور گھر میں رہنا دونوں عید سے کم نہیں۔ جس گھر سے عورت کی آواز بلند ہو اس گھر پر خوشی کا دروازہ بند سمجھ۔ ایک جو کی حفاظت نہ کرنے والی گندم کے ڈھیر کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ موافقت والی بیوی رکھنے والے کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ خوب سیرت بیوی خوبصورت سے بہتر ہے کہ گھر کو جنت نظیر بناتی ہے ، اپنی اور خاوند کے گھر کی محافظ ہوتی ہے اور اگربیوی خوبصورت ہو مگر خوب سیرت نہ ہو تو گھر جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے اور ایسے گھر سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کولمبس کی پہلی سمندری مہم 3 اگست 1492ء کو اطالوی مہم جو کرسٹوفر کولمبس سپین سے اپنی پہلی سمندری مہم پر روانہ ہوا۔ اس مہم کو سپین کے حکمران جوڑے ملکہ ازابیلا اوّل اور بادشاہ فرڈیننڈ دوئم نے مالی معاونت فراہم کی تھی۔جس کا مقصد ایشیا تک نئی تجارتی راہ تلاش کرنا تھا۔اس وقت تک زمین کے گرد سفر کا کوئی ثابت شدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا اور یورپ کے بیشتر لوگ سمجھتے تھے کہ مغرب کی جانب بحری سفر خطرناک ہے۔سلووینیا کی تاریخ کا بدترین سیلاب2023ء میں 3اگست کو یورپی ملک سلووینیا شدید بارشوں کے باعث اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب سے دوچار ہوا۔ موسلا دھار بارشوں نے دریاؤں کو بپھرا دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے۔ متعدد سڑکیں، پل، رہائشی علاقے اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کر کے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔اگادیرفضائی حادثہ3 اگست 1975ء کو ایک نجی طور پر چارٹر کیا گیا بوئنگ 707 طیارہ مراکش کے شہر اگادیر کے قریب ایک پہاڑی چوٹی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ لینڈنگ کر رہا تھا۔ طیارے میں سوار تمام 188 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت دنیا کے بدترین فضائی سانحات میں شمار کیا گیا اور بعد ازاں اس نے فضائی حفاظت، نیویگیشن اور پروازی طریقۂ کار میں مزید بہتری کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ایلپاسو فائرنگ3 اگست 2019ء کو ٹیکساس کے شہر ایلپاسو میں والمارٹ اسٹور پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ دہشت گردانہ حملے میں ایک فرد نے مبینہ طور پر 23 افراد کو ہلاک اور 23 کو زخمی کیا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے شوٹنگ کی تفتیش دہشت گردی اور نفرت انگیز جرم کے طور پر کی۔ اس واقعہ کو امریکی تاریخ میں لاطینیوں پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا گیا۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ پیٹرک ووڈ کروسیئس کو فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ سکائی ٹاور کا افتتاح3 اگست 1997ء کو نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں واقع ''اسکائی ٹاور‘‘ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ تقریباً ڈھائی سال کی تعمیر کے بعد مکمل ہونے والا یہ ٹاور اس وقت جنوبی نصف کرہ ارض کی بلند ترین عمارت تھا۔ تقریباً 328 میٹر بلند یہ ٹاور نہ صرف آکلینڈ کی شناخت بن گیا بلکہ سیاحوں کیلئے بھی ایک بڑی کشش کا مرکز ہے۔ اس میں مشاہداتی ڈیک، گھومتا ہوا ریستوران اور بنجی جمپ جیسی تفریحی سہولیات موجود ہیں، جبکہ یہ جدید انجینئرنگ اور تعمیراتی مہارت کی ایک شاندار مثال بھی شمار ہوتا ہے۔نائجر نے آزادی حاصل کی3 اگست 1960ء کو نائجر نے تقریباً چھ دہائیوں پر محیط فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے آزادی حاصل کی۔ اگرچہ ملک کو غربت، خشک سالی، سیاسی عدم استحکام اور سلامتی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم یومِ آزادی آج بھی نائجری عوام کیلئے قومی وقار، خودمختاری اور آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کی علامت کے طور پر بھرپور جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

اب کپڑے بھی روبوٹ پہنائے گا

مصنوعی ذہانت کا حیران کن کارنامہمصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا روز بروز ایسے حیرت انگیز کارنامے انجام دے رہی ہے جو چند برس پہلے تک صرف سائنسی فلموں اور تصوراتی کہانیوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اب ایک ایسا جدید روبوٹ متعارف کرایا گیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں انسان کو کپڑے پہنا سکتا ہے۔ یہ منفرد ایجاد نہ صرف ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کا مظہر ہے بلکہ معمر افراد، جسمانی معذوری کا شکار مریضوں اور روزمرہ زندگی میں دوسروں کی مدد کے محتاج افراد کیلئے بھی ایک بڑی سہولت ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو مستقبل میں گھریلو روبوٹس انسانی زندگی کا معمول بن سکتے ہیں، جو صرف گھریلو کام ہی نہیں بلکہ ذاتی نگہداشت کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے۔ یہ تصور سب سے پہلے اینیمیشن فلم ''والیس اینڈ گرومٹ‘‘ (Wallace & Gromit) میں دکھایا گیا تھا، جہاں ایک شخص بغیر ہاتھ لگائے کپڑے تبدیل کر لیتا ہے۔ اب سائنسدانوں نے ایسا خودکار روبوٹک لباس تیار کر لیا ہے جو محض 10 سیکنڈ میں خود ہی جسم پر چڑھ جاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لباس کے اندر پھولنے والی باریک ''بیل نما نالیاں‘‘ (Vines Inflatable) نصب کی گئی ہیں، جو آہستہ آہستہ پھیلتے ہوئے لباس کو پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس یہ نیا نظام اس وقت بھی کام کرتا ہے جب لباس پہننے والا شخص حرکت کر رہا ہو، یعنی اسے کپڑے پہننے کیلئے ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد، جسمانی معذوری کا شکار لوگوں اور ایسے مریضوں کیلئے انتہائی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے وہ دوسروں کی مدد کے بغیر خود لباس پہن سکیں گے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکاروں اور طبی عملے کو بھی چند سیکنڈ میں حفاظتی لباس پہننے میں یہ ٹیکنالوجی مدد فراہم کر سکتی ہے، جس سے قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔تحقیقی ٹیم نے اپنے مقالے میں، جو سائنسی جریدے میں شائع ہوا، لکھا ہے کہ ہم نے ایک نیا نرم روبوٹک لباس پہنانے والا نظام پیش کیا ہے، جسے ''سیلف ویئرنگ ایڈاپٹو گارمنٹ‘‘ (SWAG) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظام کھلنے اور بتدریج پھیلنے کے منفرد طریقۂ کار کے ذریعے خودکار انداز میں لباس پہننے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔ محققین کے مطابق روایتی روبوٹک ڈریسنگ سسٹمز کے برعکس ''SWAG‘‘ انسانی جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کا منفرد انفولڈنگ بیسڈ ڈیپلائمنٹ طریقہ لباس اور جلد کے درمیان رگڑ کو تقریباً ختم کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں لباس پہننے کا عمل محفوظ، آرام دہ اور مؤثر بن جاتا ہے۔اس منفرد روبوٹک لباس کو تیار کرنے والی تحقیقی ٹیم، جس میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنس دان شامل ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں اس ایجاد کا خیال اس بیل سے ملا جو دیواروں پر آہستہ آہستہ چڑھتی جاتی ہے۔ جب لباس کے اندر موجود نرم اور لچکدار ''بیل نما نالیاں‘‘ ہوا کے دباؤ سے پھولتی ہیں تو وہ لباس کو پہننے والے کے جسم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف سرکاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی بیل کسی دیوار یا سہارے پر چڑھتی ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف کم نامگیون نے بتایا کہ انہیں اس ایجاد کا خیال ایک بار بارش کے دوران آیا۔ میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ اسی لمحے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر برساتی کوٹ سائیکل چلاتے ہوئے خود بخود پہنایا جا سکے تو یہ کتنا مفید ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بیل نما روبوٹ انسان کے جسم کے قریب رہتے ہوئے لباس کو حرکت کے دوران اندر سے باہر کی جانب پلٹتے ہوئے پہناتا ہے، جس سے وہ جسم کی ساخت کے مطابق مستحکم انداز میں اوپر کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ لباس پہننے والے شخص کو بالکل ساکن کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ یہ نظام کسی پیچیدہ کنٹرول الگورتھم کے بغیر بھی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے اگلے حصے کو مسلسل آگے بڑھاتے ہوئے کام کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پارٹی میں استعمال ہونے والی کاغذی سیٹی میں پھونک مارنے پر وہ کھل کر آگے بڑھ جاتی ہے۔ ہوا بھرنے کے ساتھ یہ بیل نما نالیاں جسم کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور اسی دوران لباس کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے پہننے والے کے جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نظام پورے جسم کا لباس تقریباً 10 سیکنڈ میں پہنا سکتا ہے۔ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی ہوان کے مطابق یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے آسانی سے گزر سکتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول اور جسم کی ساخت کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور سطح چاہے پھسلن والی ہو، چپکنے والی ہو یا ڈھلوان پر مشتمل ہو، ہر حالت میں مؤثر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف بزرگ اور جسمانی معذوری کا شکار افراد تک محدود نہیں، مستقبل میں اسے ایسے تمام مواقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں کسی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر نہایت تیزی سے لباس پہن کر فوری طور پر کام پر روانہ ہونا ہو۔ اسی طرح آگ بجھانے والا عملہ، ریسکیو اہلکاروں، طبی امدادی کارکنوں اور دیگر ہنگامی خدمات انجام دینے والے افراد بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں چند سیکنڈ میں ذاتی حفاظتی لباس پہننے کے قابل بنا سکتی ہے، جس سے ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت کی بچت ممکن ہوگی۔اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو مزید آسان بنائیں گے یا مستقبل میں انسانوں کی بہت سی روایتی ذمہ داریوں کی جگہ لے لیں گے۔