پھلوں کی افزائش
اسپیشل فیچر
پھلوں کی افزائش نسل کے مختلف طریقہ کار ہیں جن میں مندرجہ ذیل طریقے پھلوں کے باغات یا باغیچے لگانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ بیج کے ذریعے افزائش: بیج سے باغات کی افزائش نسل قدرتی طریقہ کار ہے، لیکن اس طریقہ سے لگائے ہوئے پودے صحیح النسل نہیں رہتے۔ باغات میں یہ طریقہ کار ان پودوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی افزائش بذریعہ چشمہ یا پیوند موزوں نہ ہو۔ بیج کے ذریعے افزائش کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔بیج صحت مند اور صحیح النسل پودوں کے اچھی طرح پکے ہوئے اور اچھی جسامت کے پھلوں سے حاصل کریں۔ سدا بہار پودوں کے بیجوں کو زیادہ دیر تک سٹور نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر سٹور کرنا مقصود ہو تو بیجوں کو اچھی طرح دھو کر خشک کر کے بند ڈبوں میں خشک اور ٹھنڈی جگہ پر سٹور کریں۔ بعض اقسام کے بیجوں کو بونے سے قبل 24 گھنٹے تک بھگو کر کاشت کریں۔ داب کا طریقہ: اکثر باغات کی افزائش بذریعہ داب کی جاتی ہے۔ خاص طور پر ان باغات، جن کی افزائش دیگر طریقوں مثلاً قلم وغیرہ سے کامیاب نہ ہو۔ اس طریقہ میں مادر پودے کی شاخ سے جڑیں پیدا کرتے ہیں اور پھر بعد میں اسے الگ کر کے باغ میں منتقل کر دیتے ہیں داب موسم بہار یا برسات میں لگائی جاتی ہے۔ داب لگانے کے طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔ سادہ داب: اس طریقہ میں مادر پودے سے زمین کے قریب ایک شاخ بغیر توڑے جھکا کر زمین میں دبا دیتے ہیں۔ شاخ کا وہ حصہ جس کو زمین کے اندر دبانا مقصود ہو اس پر ایک ترچھا کٹ آنکھ (bud)کے نیچے شاخ کی موٹائی کے نصف حصہ تک لگا دیتے ہیں۔ اس کٹے ہوئے حصے کو جڑنے سے بچانے کے لیے اس میں پتھر وغیرہ دے دیتے ہیں۔ یہ حصہ مٹی کے اندر تین سے چار انچ گہرائی میں دبا رہتا ہے۔ مٹی کو مناسب گیلا رکھا جاتا ہے تاکہ کٹے ہوئے حصہ سے جڑیں نمودار ہو جائیں جسے بعد میں مادر پلانٹ سے الگ کر کے گملے یا باغ میں لگا دیا جاتا ہے۔ ہوائی داب: اس طریقہ میں ایک صحت مند زیادہ پتوں والی ٹہنی لے کر اس کی آنکھ کے نیچے ڈیڑھ انچ چوڑی رِنگ نما چھال اتار دیتے ہیں۔ یا عام ساکٹ دے دیتے ہیں، پھر اس کٹے ہوئے حصہ میں پتھر دے کر اس کے گرد چکنی مٹی راکھ یا لکڑی کا برادہ اور مٹی کا مرکب بنا کر باندھ دیتے ہیں، اس کے اوپر برتن کے ذریعے قطرہ قطرہ پانی دیتے ہیں یا پھر تیز گیلی مٹی کے گرد پٹ سن کا کپڑا لپیٹ کر اسے تر رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد اس میں جڑیں نکل آنے پر بعد میں مادر پودے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ قلم کا طریقہ: بعض پھلوں کی افزائش جڑوں یا شاخوں کی قلمیں لگا کر کرتے ہیں۔ قلمیں عموماً 25 سے 30 سینٹی میٹر لمبی صحت مند شاخ سے جس پر کم از کم چار سے زائد آنکھیں ہوں، منتخب کریں۔ ان قلموں کا دو تہائی حصہ زمین کے اندر ہو اور ایک تہائی حصہ باہر رہے۔ زمین کو گیلا رکھیں۔ کچھ عرصہ بعد یہ قلمیں پھوٹ آتی ہیں۔ بذریعہ چشمہ: یہ طریقہ نسبتاً آسان ہے اور وسیع پیمانے پر پھلوں کی افزائش کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس میں دو طریقے زیادہ مقبول ہیں۔ ٹی بڈنگ یا شیلڈ بڈنگ اور رنگ بڈنگ۔ اس طریقہ میں رواں سال کی شاخ کے چشمے والے حصہ کا آدھا انچ نیچے چھال تک تیز چاقو سے اتار کر پھر روٹ سٹاک پر اسی طرح کا کٹ دے کر اس پر لگا دیں اور آنکھ کے دونوں اطراف اچھی طرح باندھ دیں۔ اس حصہ کو گیلا رکھیں کچھ عرصہ بعد دونوں کی چھال آپس میں مل جائے گی، روٹ سٹاک کی باقی شاخیں چشمہ کی کامیابی پر کاٹ دیں۔ گرافٹنگ یا پیوند کاری: اس طریقہ میں ایک پودے کی وہ شاخ جس پر دو یا تین آنکھیں ہوں اسے روٹ سٹاک پر لگا دیتے ہیں۔ گرافٹنگ کے مختلف طریقے رائج ہیں مثلاً کلفٹ گرافٹنگ، وِپ گرافٹنگ، بارک گرافٹنگ، برج گرافٹنگ وغیرہ۔