ایسٹ انڈیا کمپنی کے مظالم
اسپیشل فیچر
ہم ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام بہت سنتے ہیں۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی یا برطانوی شرق الہند کمپنی جزائر شرق الہند میں کاروباری مواقع کی تلاش کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ لیکن اس نے چین کی چنگ بادشاہت کے ساتھ تجارت شروع کی۔ یہ ایک تجارتی ادارہ تھا لیکن اس نے تجارت کے علاوہ سیاست بھی کی، سازشیں بھی اور عسکری کارروائیاں بھی کیں۔ اس نے برصغیر میں کاروبار شروع کیا اور بالآخر برطانیہ کے قبضے کی راہ ہموار کی۔ یہ کم و بیش پورے ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔ 1857ء کی جنگ آزادی تک ہندوستان پر اسی کمپنی کی حکومت تھی لیکن اس کے بعد تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ لارڈ میکالے کے مطابق کمپنی شروع دن سے تجارت کے ساتھ سیاست میں بھی ملوث رہی۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو 31 دسمبر 1600ء کو انڈیز میں تجارت کرنے کی اجازت ملکہ الزبتھ کی جانب سے ملی۔ جلد ولندیزیوں نے جزائر شرق الہند میں انگریزوں کی نقل و حمل کو محدود کر دیا۔ اس صورت حال میں کمپنی نے ہندوستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ پھرممبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد شہر ایک اہم تجارتی بندرگاہ بن گیا۔ اٹھارہویں صدی کے آنے سے قبل کمپنی نے علاقوں پر قبضے شروع کر دیے تھے۔ 1858ء میں یہ کمپنی ختم کردی گئی اور اس کے تمام اختیارات تاج برطانیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ تاہم 1874ء تک کچھ اختیارات کمپنی کے ہاتھ میں رہے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی پہلی لمیٹڈکمپنی تھی۔ یہ ایک ایسی کمپنی بھی تھی جس کے عسکری اور سیاسی مقاصد تھے۔ اس کے پاس کبھی ڈھائی لاکھ سپاہیوں کی ذاتی فوج ہوا کرتی تھی۔ جہاں تجارت سے منافع ممکن نہ ہوتا وہاں طاقت کا استعمال کیا جاتا۔1757ء میں جنگ پلاسی کا واقعہ پیش آیا جس میں انگریزوں کو کامیابی حاصل ہوئی، جس کے بعد بنگال کے علاقوں پر انگریزوں کا کنٹرول ہو گیا۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کے نتیجے میں 1765ء میں لارڈ کلائیو مغل نے بادشاہ شاہ عالم ثانی سے مشرقی صوبوں بنگال، بہار اور اڑیسہ کی ’’دیوانی‘‘ یعنی ٹیکس وصول کرنے اور عوام کو کنٹرول کرنے کے حقوق، چھبیس لاکھ روپے سالانہ کے عوض حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے بعد انگریزوں کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے مزید اختیارات کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے۔ زوال پذیر سلطنت میں ان کے لیے متعدد مواقع پوشیدہ تھے۔ کمپنی نے ان نسبتاً کمزور مہاراجوں پر بھی تسلط حاصل کر لیا جو مغلیہ سلطنت کے زوال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کی خود مختیاری کا اعلان کرچکے تھے۔ اب انگریزوں کو سلطنت کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل ہو گیا۔اٹھارہویں صدی میں جنوبی علاقوں میں بہت بڑا قحط آیا۔ دراصل یہ قحط 1769ء میں شروع ہوا اور 1773ء میں ختم ہوا۔ اس سے بہار سے لے کر بنگال تک کا علاقہ متاثر ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق اس قحط کی وجہ سے ایک کروڑ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ وارن ہاسٹنگ اس وقت گورنر جنرل تھا۔ اس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہائی آبادی بھوک کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔ دراصل اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں برصغیر میں بہت سے قحط آئے۔ اس کی بنیادی وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی پالیسیاں تھیں۔ اگرچہ موسمی حالات فصلوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے لیکن کمپنی نے بھاری ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی جاری رکھی جس کے نتیجے میں دیہی آبادی کنگال ہو گئی۔ نیز وہ غلہ برآمد کرتے رہے۔ نوبیل انعام یافتہ معیشت دان امرتیا سین کے مطابق بنگال میں آنے والا قحط قدرت نہیں انسان کا پیدا کردہ تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی مسلسل جنگی کارروائیوں اور سازشوں میں شامل رہی۔ 1757ء میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ (جو فرانس کا اتحادی تھا) کو شکست دینے کے بعد کمپنی کے اعلیٰ ترین افسران نے بنگال میں یکے بعد دیگرے کئی نواب مقرر کیے اور ہر ایک سے رشوت لے کر لاکھوں پاؤنڈ اپنی جیب میں ڈالے۔ مقامی تنازعات میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے فوجی کرائے پر فراہم کرتی تھی۔ کمپنی مقامی حکمرانوں کو اجرت کے عوض فوجی خدمات فراہم کرتی تھیں۔ لیکن ان فوجی اخراجات سے مقامی حکمران جلد ہی کنگال ہو جاتے تھے اور اپنی حکمرانی کھو بیٹھتے تھے۔ یوں کمپنی کے لیے میدان خالی ہو جاتا اوروہ اپنے قبضے میں اضافہ کرتی جاتی۔کمپنی نے اپنے منافع کے لیے انسانی المیوں سے بھی فائدہ اٹھایا۔ بنگال کے قحط نے کمپنی کے افسران کو امیر بننے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔ چاول جو ایک روپے میں 120 سیر ملتا تھا ایک روپے میں صرف تین سیر ملنے لگا۔ ایک جونیئر افسر نے اس طرح 60 ہزار پاونڈ منافع کمایا۔ ایک تحقیق کے مطابق برصغیر میں پچھلے دو ہزار سالوں میں 17 دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120 سالہ دور میں 34 دفعہ قحط پڑا۔ مغلوں کے دور حکومت میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان بڑھا دیا۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے۔برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز نے 1813ء میں تھامس مونرائے، جسے 1820ء میں مدراس کا گورنر بنایا گیا، سے جاننا چاہا کہ آخر صنعتی انقلاب کے بعد برطانیہ کے بنے ہوئے کپڑے ہندوستان میں کیوں نہیں بک رہے تو اس نے جواب دیا کہ ہندوستانی کپڑے کہیں زیادہ بہتر کوالٹی کے ہوتے ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ میں ایک ہندوستانی شال سات سال سے استعمال کر رہا ہوں مگر وہ آج بھی نئی جیسی ہے۔ اگر کوئی مجھے یورپ کی بنی شال تحفے میں بھی دے تو میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔ اس کے بعد ایسی ظالمانہ پالیسیاں اپنائی گئیں کہ برطانیہ کی ایکسپورٹ جو 1815ء میں 25 لاکھ پاؤنڈ تھی وہ 1822ء تک 48 لاکھ پاؤنڈ ہو گئی۔برطانیہ میں بنے کپڑے کو مقبول بنانے کے لیے مقامی کپڑے کی صدیوں پرانی صنعت کو بڑی بے رحمی سے تباہ کیا گیا۔ اگر کوئی جولاہا کپڑے بیچتا ہوا نظر آ جاتا تو اس کے ہاتھ کا انگوٹھاتک کاٹ دیا جاتا تھا تاکہ وہ زندگی بھر کپڑا نہ بن سکے۔ کسانوں کی آمدنی پر ٹیکس 66 فیصد کر دیا گیا جو مغل دور میں 40 فیصد تھا۔ 1857ء کی ناکام جنگ آزادی کے بعد انگریز دہشت پھیلانے کے لیے حریت پسندوں کو سرعام پھانسی دیتے تھے۔ جنگ آزادی کے بعد پشاور میں باغیوں کو توپ سے اڑانے کی ’’تقریب‘‘ منعقد ہوئی۔ چونکہ توپیں کم تھیں اور باغی زیادہ اس لیے یہ ’’تقریب‘‘ دو قسطوں میں انجام پائی۔