تاریخی شہر بہاول پور
اسپیشل فیچر
بہاول پور شہر، نواب بہاول خان نے آباد کیا جو ان کے نام پر ہی بہاول پور کہلایا۔ ایک مدت تک یہ شہر ریاست بہاول پور کا دارالحکومت رہا۔ عباسی خاندان یہاں حکمران رہا اور تاریخی حوالے سے بہاول پور کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ پاکستان کے بننے کے بعد پاکستان سے الحاق کرنے والی پہلی ریاست بہاول پور ہی ہے۔یہ پاکستان کا بارہواں بڑا شہر ہے،اوراس شہر کی پانچ تحصیلیں ہیں۔ یہاں کے نور محل، دربار محل اور گلزار محل اس کی خوبصورتی میں بہت اضافہ کرتے ہیں۔ قلعہ دراوڑ بہاول پور کو مزید پرکشش اور تاریخی شہر کا درجہ دیتا ہے۔ یہاں کاتاریخی پارک ’’نیشنل پارک‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس شہر کی تہذیب و ثقافت بہت پرانی ہے۔ بہت بڑا اور خوبصورت نور محل اس وقت کے نواب آف بہاول پور نے بنوایا تھا۔ اب یہ سرکاری دفاتر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید عمارات میں لائبریری ، سٹیڈیم ، جامعہ اسلامیہ (اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور) ، صادق پبلک اسکول، قائداعظمؒ میڈیکل کالج، کامرس کالج، طلبا و طالبات کے لیے دیگر متعدد کالج اور فنی ادارے شامل ہیں ۔ اگر بہاول پور شہر کے کلچر کی بات کی جائے تو اسے نوابوں کا شہر بھی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ یہاں بہت سے نواب اور بادشاہ اپنی زندگی بسر کر چکے ہیں۔بہت سی تاریخی عمارات کی وجہ سے یہ شہر سیاحوں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے۔یہاں مختلف ثقافتوں کے لوگ رہتے ہیں۔ صحرائی علاقوں میں زیادہ ترلوگ مٹی کے گھروں اور جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ جو موسمی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے رہتے ہیں ۔ بہاول پور شہر میں بہت سے شاپنگ مال بھی قائم ہیںجن میں رکھی ہوئی چیزیں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں ۔ مچھلی بازار اور فرید گیٹ دو پر رونق جگہیں ہیں جہاں ہر وقت لوگوں کا ہجوم لگا رہتا ہے۔ بہاول پور ایک زرخیز اور زرعی علاقہ ہے ۔یہاں کی کپاس، گنا، گندم، چاول پیاز، ٹماٹر، گوبھی، گاجر اور آلو بھی کافی مشہور ہیں ۔جبکہ آم، امرود اور کھجوریں دوسرے ممالک کو بھی برآمد کیے جاتے ہیں ۔ اس شہر کی مشہور شخصیات میں سابق کرکٹر اعجاز اختر، فٹ بال کے کھلاڑی محمد عادل، مرتضیٰ حسن (مستانہ) ، شاعرہ نوشی گیلانی ، پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین شاہد خان، سابق پی سی بی چیئرمین ذکاء اشرف اور ضیاء احمد کرکٹر بھی شامل ہیں۔