سلیمان اول

سلیمان اول

اسپیشل فیچر

تحریر : معروف آزاد


سلیمان اول سلطنت عثمانیہ کے دسویں اور طویل ترین عرصہ حکمران رہنے والے سلطان تھے۔ وہ 1520ء میں اس منصب پر فائز ہوئے اور 1566ء میں اپنے انتقال تک رہے۔ ان کے عہد میں سلطنت عثمانیہ کے انتظامی علاقوں کی آبادی ڈیڑھ سے ڈھائی کروڑ تھی جو اس زمانے کے اعتبار سے ایک بڑی آبادی تھی۔ وہ انتہائی اہم عثمانی حکمران تھے ۔ انہوں نے مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس کی بنا پر ترک انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ مغربی مصنفین ان کی عظمت کو مانتے ہیں۔ وہ انہیں سلیمان عالیشان اور سلیمان اعظم کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کی حکومت میں سرزمین حجاز، ترکی، مصر، الجزائر، عراق، کردستان، یمن، شام، بیت المقدس، خلیج فارس اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقے، یونان اور مشرقی و مغربی ہنگری شامل تھے۔ اس طرح سولہویں صدی میں نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ کے وہ ایک اہم حکمران تھے۔ جہاں انہوں نے یورپ میں مسیحیوں کے اہم مراکز کو فتح کیا وہیں صفویوں کو شکست دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے متعدد علاقے سلطنت میں شامل کیے۔ انہوں نے بحری قوت کو بہت بڑھایا جس کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کا بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ قلزم اور خلیج فارس پر حکمرانی کرتا تھا۔ وہ شاعر بھی تھے اور فنون کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان کے دور میں سلطنت عثمانیہ میں فن و ادب اور تعمیرات کے شعبوں میں بہت ترقی ہوئی۔ اس حوالے سے یہ سلطنت کا عہدزریں کہلاتا ہے۔ سلیمان 6 نومبر 1494ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے نویں سلطان تھے جبکہ والدہ کا نام عائشہ حفصہ سلطان تھا۔ سلیمان نے اپنے والد سے 16 سال تک جنگی فنون کی تربیت حاصل کی۔ سلیم اول نے اپنے بیٹے کی دینی و دنیاوی تعلیم پر مکمل توجہ دی۔سات سال کی عمر میں سلیمان کو سائنس، تاریخ، ادب، الہٰیات اور جنگی فنون سیکھنے کے لیے توپ کاپی محل، قسطنطنیہ میں بھیجا گیا۔ 1520ء میں سلیم اول کے انتقال کے بعد عثمانی سلطنت کی باگ ڈور سلیمان اول کے ہاتھوں میں آئی۔ سلیمان نے اپنے 46 سالہ دور حکومت میں خلافت عثمانیہ کو سیاسی برتری دلوانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بے انتہا کاوشیں کیں۔ اس دور میں مغربی طاقتیں بیدار اور متحد ہو رہی تھیں اور بڑی بڑی شخصیات عثمانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آگئی تھیں مثلاً شہنشاہ چارلس پنجم جو یورپ کے نصف سے زائد حصے پر حکمران تھا جس میں موجودہ سپین، بلجیم، ہالینڈ اور جرمنی شامل تھے، ادھر انگلستان میں ملکہ ایلزبتھ اول حکمران تھی اور ہنگری پر شاہ لوئی کا سکہ چل رہا تھا۔ فرانس، انگلستان اور آسٹریا نے اپنے اختلافات ختم کر لیے تھے اور مغربی طاقتیں متحد ہونے کی فکر میں تھیں۔ چنانچہ حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46سالہ دور حکومت میں سلیمان کسی نہ کسی جنگ یا مہم میں مصروف رہے حتیٰ کہ جنگ کے دوران ہی انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ انہوں نے ذاتی طور پر 13 بڑی جنگوں میں شرکت کی جن میں سے تین ایشیا میں اور 10 یورپ میں لڑی گئیں اور اس طرح سلطنت عثمانیہ کی حدود میں متعدد مرتبہ توسیع کی۔1565ء میں آسٹریا سے جنگ دوسری بار شروع ہوئی تو مغربی طاقتوں نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں۔ سلطان اس زمانے میں بیمار تھے انہیں گٹھیا کی شکایت تھی اس کے باوجود افواج کی قیادت کے لیے نکل آئے۔ آسٹریا کے قلعہ سگتوار کا محاصرہ 1565ء میں شروع ہوا اور بالآخر قلعہ فتح ہو گیا۔ اسی دوران وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی گہرائیوں میں پوشیدہ اسرار ہمیشہ سے انسان کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث رہے ہیں۔ حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک پراسرار ''سنہری انڈا‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوا، جس نے ابتدا میں سائنسدانوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس عجیب و غریب شے کی ساخت اور مقامِ دریافت نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا، حتیٰ کہ بعض حلقوں میں اسے خلائی مخلوق سے بھی جوڑ دیا گیا۔ تاہم تین سال کی مسلسل تحقیق اور سائنسی تجزیے کے بعد ماہرین نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جو نہ صرف سمندری حیات کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔سمندر کی تہہ میں دریافت ہونے والی یہ عجیب شے، جس کا سائز تقریباً چار انچ (10 سینٹی میٹر) سے کچھ زیادہ تھا، خلیجِ الاسکا کے نیچے دو میل (3.25 کلومیٹر) سے زائد گہرائی میں پائی گئی تھی۔سمندری حیاتیات کے ماہرین کی تحقیق کے باوجود اس کی اصل حقیقت جاننے کیلئے کئی سالوں پر مشتمل ایک پیچیدہ تحقیق درکار ہوئی۔ آخرکار معلوم ہوا کہ یہ نہ تو ایلین کے انڈے جیسا تھا، نہ کوئی نئی عجیب نوع بلکہ درحقیقت یہ انڈا تھا ہی نہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ نام نہاد ''سنہری انڈا‘‘ دراصل مردہ خلیات کا ایک گچھا تھا، جو گہرے سمندر میں پائے جانے والے ایک بڑے اینیمون (anemone) کی بنیاد کا حصہ تھا۔ یہ زرد رنگ کا گچھا اصل میں اس جاندار کو چٹان کے ساتھ جوڑنے کا کام کرتا تھا، تاہم بعد میں یا تو یہ اینیمون مر گیا یا کسی نئی جگہ منتقل ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے باقیات وہیں رہ گئیں۔اس موضوع پرتحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسٹیون آسکاوِچ (Dr Steven Auscavitch)، جو اسمتھسونین انسٹیٹیوشن (Smithsonian Institution)کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے وابستہ ہیں کے مطابق اس معمہ کو حل کرنا انتہائی تسلی بخش ہے۔ اس کی دریافت کے کئی سال بعد بھی ہمیں اس کی شناخت کے بارے میں مسلسل سوالات موصول ہوتے رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے سیارے کی ان چھوٹی مگر عجیب چیزوں کی جانب توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ ''سنہری انڈا‘‘ 2023ء میں ایک گہرے سمندر کی مہم کے دوران دریافت ہواتھا، جس کی قیادت نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے کی تھی۔ ریموٹ سے چلنے والی آبدوز ''ڈیپ ڈسکورر‘‘ کے آپریٹرز سمندر کی تہہ کے اوپر گشت کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک ایسی چیز نظر آئی جس کی کوئی وضاحت ممکن نہ تھی۔ یہ شے ہموار، چمکدار اور نرم تھی اور اس کے سامنے کی جانب ایک بڑا سا سوراخ موجود تھا۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کسی نئی قسم کے اسفنج یا کسی جانور کے انڈے کا خول ہو سکتا ہے۔دریافت کے وقت ایک محقق نے بتایا تھاکہ کچھ اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر باہر نکلنے کی۔تاہم جب اس سنہری گچھے کو تحقیقی جہاز اوکیانوس ایکسپلورر (Okeanos Explorer) پر لایا گیا تو صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ یہ کسی حیاتیاتی (جاندار) نوعیت کی چیز ہے۔ آن لائن دنیا میں اس پراسرار شے کے بارے میں قیاس آرائیاں تیزی سے پھیل گئیں اور بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کہیں سائنس دان واقعی کسی خلائی مخلوق تک تو نہیں پہنچ گئے۔ کچھ سنجیدہ رائے رکھنے والوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ کوئی نئی نوع ہو سکتی ہے، کیونکہ گہرے سمندروں میں پائی جانے والی تقریباً دو تہائی مخلوقات اب تک سائنس کیلئے نامعلوم ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کسی سمندری جانور کے انڈے کا خول ہو۔ معمہ حل نہ ہونے پر محققین نے اس نمونے کو اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری بھیج دیا، جہاں یہ ایک بار پھر توقع سے زیادہ پیچیدہ پہیلی ثابت ہوا۔ ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر ایلن کولنز کہتے ہیں کہ ہم سیکڑوں مختلف نمونوں پر کام کرتے ہیں اور مجھے امید تھی کہ ہمارے معمول کے طریقۂ کار اس معمہ کو حل کر دیں گے۔ لیکن یہ ایک خاص کیس بن گیا جس کیلئے مختلف ماہرین کی خصوصی مہارت اور توجہ درکار تھی۔ یہ ایک پیچیدہ معمہ تھا جسے حل کرنے کیلئے ساختی، جینیاتی، گہرے سمندر اور بائیو انفارمیٹکس کی مہارتوں کی ضرورت پڑی۔آخرکار، دونوں نمونوں کے مائٹوکانڈریا میں موجود ڈی این اے کی ترتیب (سیکوینسنگ) سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ واقعی ''Relicanthus daphneae‘‘ہی ہے۔ یہ دیوہیکل سمندری اینیمون دو میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں تیرتے ننھے جانداروں کو شکار بناتے ہیں۔ یہ سنیڈیرینز (Cnidarians) میں سب سے بڑے شمار ہوتے ہیں اور عموماً سمندر کے ان مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں جہاں زیر آب آتش فشانی دہانے غذائیت سے بھرپور پانی خارج کرتے ہیں۔شریک مصنفہ شارلٹ بینیڈکٹ کے مطابق یہ نوع گہرے سمندر کی تحقیق کیلئے ایک علامت (ماسکوٹ) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف ان جانداروں کی حیرت انگیزی کو ظاہر کرتی ہے جو ایسے مشکل اور ناقابلِ رسائی ماحول میں زندہ رہتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم اب تک ان کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ تاہم، سنہری انڈے کا معمہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ مس بینیڈکٹ کے مطابق اس سنہری گول شے کے بارے میں ایک بڑی الجھن یہ تھی کہ اگر یہ واقعی ریلیکنٹس ہے تو اس کا باقی حصہ کہاں گیا اور یہ اس سے الگ کیسے ہوا؟ کیا یہ جاندار مر گیا اور یہ باقیات چھوڑ گیا، یا پھر اینیمون کا باقی حصہ الگ ہو کر سرک گیا؟

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

گھر کی خاموش دیواروں، لکڑی کے فرنیچر اور کتابوں کے ڈھیروں میں ایک ایسا دشمن پل رہا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خاموش تباہی پھیلانے والا کیڑا دیمک کہلاتا ہے۔ دیمک نہ صرف گھروں اور عمارتوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ قیمتی دستاویزات، کتب اور لکڑی سے بنی اشیاء کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی موجودگی کا اندازہ اس وقت کرتے ہیں جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیمک کی بروقت شناخت اور اس کا سدباب نہ کیا جائے تو یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑے معاشی نقصان میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔دیمک کا رنگ عموماً سفید بھورا ہوتا ہے، اس لئے اس کو سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک بھی کالی چیونٹی کی طرح خوراک کی طرف قطار بنا کر سفر کرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کالی چیونٹی سورج کی روشنی میں بھی کام کر سکتی ہے جبکہ دیمک سورج کی روشنی میں کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے دیمک مٹی کی سرنگ بنا کر اس سرنگ کے اندر قطار بنا کر سفر کرتی ہیں۔ دیمک ایک سوشل کیڑا ہے، اس کی کالونی میں ملکہ اور بادشاہ، سولجرز اور ورکرز ہوتے ہیں۔جب دیمک کی کالونی فل سائز میں پہنچتی ہے تو اس میں 60ہزار سے 2لاکھ تک ورکرز ہوتے ہیں۔ کالونی میں حکمرانی ملکہ کی ہوتی ہے جو 10ہزار سے 20ہزارتک ایک دن میں انڈے دیتی ہے اور اس کی عمر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دیمک کی خوراک عموماً لکڑی ہے اس کے علاوہ وہ کتابیں، کپڑے، فرنیچر، قیمتی پیپرز بھی کھا جاتی ہے۔کماد یا دوسری فصلوں میں دیمک کا حملہ جڑ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی مرغوب غذا بھی سوکھی ہوئی جڑیا تنا ہوتا ہے۔ کھیت میں سوکھے ہوئے پودے اس کے حملہ کی نشانی ہیں۔ اگر ان پودوں کو اُکھاڑا جائے تو جڑیں کٹی ہوئی ملیں گی۔ سوکھی ہوئی جڑیں ختم کرنے کے بعد دیمک تنے پر موجود سوکھے ہوئے پتوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ان کے خاتمہ کے بعد سبز پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ درختوں پر حملہ کی صورت میں پودے کی پہلے ایک شاخ سوکھتی ہے اور اس طرح تمام شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور پودا پورا ختم ہو جاتا ہے۔ کنو شاید واحد پودا ہے جو اس موذی کیڑے کا آخری دم تک مقابلہ کرتا ہے۔ کئی شاخیں سوکھ جانے کے باوجود بھی پودہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔کپاس ، گندم، مرچ اور دوسری سبزیوں وغیرہ میں دیمک کے حملہ کی صورت میں کھیت میں کئی پودے مختلف فاصلوں پر خشک ہو جاتے ہیں اور کئی دفعہ یہ نقصان معاشی حد سے زیادہ ہو جاتا ہے اور دیمک مارا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔فصلوں والی زمینوں پر عمارات بنائی جاتی ہیں تو ان عمارات میں بھی دیمک کا حملہ ہو جاتا ہے۔ عمارات کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے انجینئرز، آرکٹیکٹس اور کنسلٹنٹس دیمک مار دوائی کا استعمال تعمیرات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ انتہائی آسان، کم خرچ اور موثر ترین ہے۔ عمارات میں دیمک مار دوائی کا استعمال قبل از تعمیر اور تعمیر کے بعد کیا جاتا ہے قبل از تعمیر پہلی دفعہ بنیادیں کھودنے کے بعد بنیادوں کے فرش پر سپرے کیا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ فرش بندی کیلئے مٹی ڈال کر ہموار کرنے کے بعد پریشر پمپ کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے۔تعمیر شدہ عمارات جہاں دیمک کی مٹی کی سرنگیں موجود ہوں ماہر حشریات( انٹو مولوجسٹ) کی نگرانی میں کسی صحیح اور سفارش کردہ دیمک مار دوائی کا بذریعہ ڈرل اور انجیکشن کا طریقہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عمارت کی دیواروں کے اندر اور باہر ساتھ ساتھ 2فٹ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل کچی مٹی تک سوراخ کرکے دوائی کا محلول تقریباً 4لیٹر فی سوراخ بذریعہ پریشر مشین زیر زمین پہنچانا ضروری ہے تاکہ دیواروں کے ساتھ ساتھ دوائی کی تہہ لگ جائے اور دیمک الماریوں اور دروازوں تک دوائی کی تہہ کو پار کرنے کی کوشش کرے تو مرجائے۔ ایک بات بہت ضروری ہے کہ آج کل عطائی ڈاکٹروں کی طرح دیمک کنٹرول کے پروفیشن میں بھی عطائی قسم کے لوگ داخل ہو گئے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ادویات بھی جعلی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیمک کنٹرول کا کام صرف اور صرف انٹو مولوجیسٹ کی زیر نگرانی کروانا چاہئے اور اس سلسلہ میں دیمک مار دوائی بھی بااعتماد پارٹی سے خرید کرکے استعمال کروانی چاہئے۔ دیمک کنٹرول کے عمل کا خرچہ مقابلتاً گھر، عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ دروازوں، کھڑکیوں کو دیمک مار دوائی لگانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا جب تک عمارت کو دیمک سے صحیح طریقہ یعنی ڈرل اور پریشر مشین سے دوائی انجیکٹ نہ کی جائے تاہم فرنیچر وغیرہ دیمک مار دوائی لگانے کی وجہ سے دیمک اور گھن سے محفوظ رہتا ہے۔

فلاسفر!

فلاسفر!

آخر اس گرم سی شام کو میں نے گھر میں کہہ دیا کہ مجھ سے ایسی تپش میں نہیں پڑھا جاتا۔ ابھی کچھ اتنی زیادہ گرمیاں بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ امتحان نزدیک تھا اور تیاری اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک قسم کا بہانہ تھا۔ گھر بھر میں صرف مجھے امتحان دینا تھا۔ حامد میاں امتحان سے فرنٹ ہوچکے تھے کہ اگلے سال دیں گے۔ ننھی عفت کو خواہ مخواہ اگلی جماعت میں شامل کردیا گیا تھا۔ باقی جو تھے وہ سب کے سب پاس یا فیل ہوچکے تھے۔لازمی طور پر میری ناز برداریاں سب سے زیادہ ہوتیں۔ طرح طرح کے ناشتے، ذرا ذرا دیر کے بعد پینے کی سرد چیزیں، اور ادھر ادھر کے کمروں میں مکمل خاموشی! بچوں کو ڈرایا جاتا کہ خبردار جوان سے بات کی تو، خبردار جوان کے کمرے کے نزدیک سے گزرے، خبردار جو یہ کیا جو وہ کیا، یہ امتحان دے رہے ہیں!ادھر امتحان کم بخت ایسا زبردست تھا کہ کسی طرح کتابیں قابو میں نہ آتی تھیں۔ آخر تنگ آکر میں نے کہہ ہی دیا کہ مجھ سے یہاں نہیں پڑھا جاتا۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ پہاڑ پر جاؤں گا۔ کئی دنوں تک گھر میں یہی ذکر ہوتا رہا۔ آخر ایک دن مجھ سے کہا گیا کہ تیار ہو جاؤں۔ ابا کے کوئی خاں صاحب یا خان بہادر کی قسم کے عزیز دوست ایک مہینے سے پہاڑ پر جا چکے تھے۔ وہاں تار بھیجا گیا اور انہوں نے مجھے بلا لیا۔ گھر میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں میری ہم عمر ایک لڑکی بھی ہے۔ اس پر میرے کان کھڑے ہوئے، چنانچہ تقریباً سارے گرم سوٹ ڈرائی کلین کرانے کیلئے دے دیے گئے۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ وہ فلسفہ پڑھتی ہے اور عینک لگاتی ہے۔ لا حول ولا قوۃ! چلو اس کا بھی فیصلہ ہو گیا۔ اب مزے سے پڑھیں گے۔ لیکن عجیب الجھن سی پیدا ہوگئی۔ فلسفی لڑکی! اس پر طرہ یہ کہ عینک لگاتی ہے۔میں وہاں پہنچا۔ ایک صاحب مجھے لینے آئے۔ میری عمر کے ہوں گے۔ بولے ''میں ہوں تو رفیق، لیکن مجھے رفو کہا جاتا ہے‘‘۔ ان کے مکان تک آٹھ دس میل کی چڑھائی تھی۔ وہ کار میں آئے تھے، لیکن ہم نے کار واپس بھیج دی کہ مزے مزے سے پیدل چلیں گے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں۔ پتہ چلا کہ وہ بھی کسی امتحان کے پھیر میں ہیں۔ وہ خان صاحب (یا خان بہادر) کے کچھ چچا کے ماموں کی بھتیجی کی خالہ کے پوتے کے چچازاد بھائی کی قسم کے عزیز تھے۔ کافی دیر حساب لگانے کے پتہ چلا کہ وہ تقریباً ان کے بھتیجے تھے۔ پھر ان فلاسفر صاحبہ کا ذکر ہوا۔ شکیلہ نام تھا۔ ہم دونوں سے عمر میں دوتین سال بڑی تھیں اور فلسفے کی کوئی بڑی ساری ڈگری لینے کی فکر میں تھیں۔ چلتے چلتے کافی دیر ہوگئی تھی۔ رفو ہاتھ سے اشارہ کر کے بولے ''بس یہ موڑ اور رہ گیا ہے‘‘۔سامنے بادل ہی بادل چھائے ہوئے تھے۔ آگے راستہ نظر نہ آتا تھا۔ رفو بولے ''ایک عجیب بات ہے۔ اس موڑ پر ہمیشہ یا تو بادل ہوتے ہیں یا دھند‘‘، اب ہم دھند میں سے گزر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ دھند صاف ہوئی تو موڑ کے بعد ان کی کوٹھی یکلخت سامنے نظر آنے لگی۔ بس ایک گہرا سا کھڈ تھا بیچ میں۔ لیکن ابھی آدھ میل کا چکر اور تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کوٹھی کے قریب درختوں کے جھنڈ میں ایک پتھر پر کوئی خاتون کھڑی تھیں۔ چھریرا قد، لہراتے ہوئے پریشان بال، ہلکا گلابی چہرہ اور ناک پر کالے فریم کی ایک عینک۔''یہی ہیں شکیلہ‘‘ رفو بولے۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ انہوں نے سر کی جنبش سے جواب دیا۔ اتنی بری نہیں تھیں جتنا میں سمجھے بیٹھا تھا۔ اگر وہ موٹی سی عینک نہ ہوتی تو شاید حسین کہہ سکتے تھے۔ یا کم از کم وہ بھدا سا سیاہ فریم نہ ہوتا۔ میں کنبے میں بہت جلد گھل مل گیا۔ رفو اور میں تو بالکل بے تکلف ہوگئے، لیکن شکیلہ تھیں کہ لی ہی نہیں پڑتی تھیں۔ نہ کبھی ہماری باتوں میں دلچسپی لیتیں نہ کبھی گفتگو میں شریک ہوتیں۔ ہم دونوں ان کے سامنے بہیترے ٹامک ٹوئیے مارتے، اول جلول باتیں کرتے، خوشامدیں کرتے، لیکن ان کی ناک ہمیشہ چڑھی رہتی۔ اور ان کا کام کیا تھا؟ صبح سے شام تک دس دس سیر وزنی کتابیں پڑھنا۔رات کو انگیٹھی کے سامنے بیٹھی سوچ رہی ہیں۔ اتنی سنجیدگی سے جیسے دنیا کے نظام کا دارومدار ان ہی کی سوچ بچار پر تو ہے۔ کبھی انگلی سے ہوا میں لکھنے لگتی ہیں۔ کبھی کرسی پر طبلہ بجنے لگتا ہے۔ کبھی جھنجھلا جھنجھلا پڑتی ہیں۔ پھر یکلخت ایک مسکراہٹ لبوں پر دوڑ جاتی ہے اور سرہلنے لگتا ہے، جیسے سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ دفعتاً مٹھیاں بھینچ لی جاتی ہیں اور غریب صوفے کے دوتین مکے رسید کیے جاتے ہیں۔ ادھر ہم انہیں دیکھ کر جھنجھلا اٹھتے۔ یہ تو نیم پاگل ہیں بالکل۔خان صاحب (یا خان بہادر) اور بیگم صاحبہ کا معاملہ ہی اور تھا۔ وہ ہمیشہ باتیں سیاسیات، معاشیات، فسادیات وغیرہ کی کرتے جن میں ہمیں ذرہ بھر دلچسپی نہ ہوتی۔ باقی تھے بچے وہ پہلے ہی سے احمق تھے، یا خاص طور پر احمق بنا دیے گئے تھے۔ اب بھلاہم کس سے باتیں کرتے؟ لے دے کے یہی ایک ہم عمر تھیں۔ یہی بے حد تنہائی پسند اور خشک مزاج واقع ہوئی تھیں اور ماشاء اللہ اپنی ہی دنیا میں بستی تھیں۔ کبھی منت سے کہا، ''ہمارے ساتھ بیڈ منٹن کھیل لیجیے‘‘، جواب ملا ''عینک ہے! عینک پر چڑیا لگے گی‘‘۔ کہا ''نہیں! ہم نہیں لگنے دیں گے، شاٹ نہیں ماریں گے۔ بس اچھال اچھال کر کھیلیں گے‘‘۔ کہنے لگیں، ''تو پھر وہ کھیل ہی کیا ہوا جو بے دلی سے کھیلا جائے۔ ویسے آپ دونوں تو سنگلز بھی کھیل سکتے، بھلا میں تیسری کیا کروں گی؟‘‘پھر کسی دن کہا، ''ہمارے ساتھ سیر کو چلیے‘‘، بولیں ''ابھی تو مجھے فرصت نہیں۔ بالکل فرصت نہیں۔ جب تک میں یہ تھیوری سمجھ نہیں لیتی‘‘۔ پوچھا ''تو کب تک سمجھ لیں گی آپ یہ تھیوری؟‘‘ جواب ملا ''کیا پتہ۔ شاید پانچ منٹ میں سمجھ لوں۔ اور سمجھ میں نہ آئے تو مہینے تک نہ آئے‘‘ اور جو کسی دن بہت خوش ہوئیں تو کہتیں، ''بس ابھی چلتے ہیں سیر کو، ذرا بچوں سے کہہ دیجیے کہ تیار ہوجائیں‘‘۔ بچوں کے نام پر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے، اور بات وہیں ختم ہوجاتی۔ عموماً میں اور رفو دونوں سیر کو جایا کرتے۔ کچھ دنوں تک تو یونہی ہوتا رہا۔ پھر ایک دن ہم نے تنگ آکر بغاوت کردی۔ آخر کیوں نہیں شریک ہوتیں یہ ہمارے ساتھ۔ جب ایک ہم عمر موجود ہے تو پھر ہم اس کی رفاقت سے کیوں محروم ہیں؟پہلے تو طے ہوا کہ ایک رات چپکے سے ان کی ساری کتابیں جلادی جائیں یا کسی ندی میں پھینک دی جائیں۔ پھر سوچا کہ ایک دوہفتے تک اور کتابیں آجائیں گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک تجویز رفو کے دماغ میں آئی۔ بولے، ''تو تمہیں سزا ہی دینی ہے نا انہیں؟‘‘۔ ''یقیناً!‘‘ میں نے سر ہلا کر کہا۔''تو کیوں نہ ان سے محبت کی جائے؟‘‘ وہ میرے کان میں بولے۔

حکایت سعدیؒ:شیخی کا انجام

حکایت سعدیؒ:شیخی کا انجام

کسی گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے کافی عرصہ پردیس میں زندگی گزاری۔ واپس آیا تو وہ گاؤں والوں پر اپنی دھاک بٹھانے کیلئے انہیں عجیب و غریب باتیں سناتا۔ ایک روز کہنے لگا کہ جس وقت میں کابل گیا تو وہاں میں نے ایسی بلند چھلانگ لگائی کہ ایک بڑے اونچے درخت کو پھاند گیا اور اس درخت پر بیٹھے ہوئے تمام پرندے اڑ گئے۔ اگر کسی کو میری اس بات پر یقین نہیں ہے تو کابل جا کر تصدیق کر سکتا ہے۔یہ سن کر ایک دانا شخص بولا کہ کابل جانے کی کیا ضرورت ہے۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ یہ رہا اونچا درخت، لگاؤ چھلانگ اور اس کو پھاند جاؤ۔یہ سن کر شیخی باز سناٹے میں آ گیااور لگا بغلیں جھانکنے۔ سب اس پر پھبتیاں کسنے لگے۔حاصل کلامشیخی مارنے کا انجام شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!نعیم ہاشمی فلمی اداکار، شاعر، ادیب(1976-1914ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!نعیم ہاشمی فلمی اداکار، شاعر، ادیب(1976-1914ء)

٭...پاکستانی فلمی صنعت کے اوّلین اداکاروں میں شامل نعیم ہاشمی1914ء میں پیدا ہوئے۔٭...انڈین فلم انڈسٹری میں بی آر چوپڑہ کی فلم ''چاندنی چوک‘‘ سے 1946ء میں اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔٭...تقسیم ہند کے بعد لاہور کو اپنا مسکن بنایا اور اپنی فلمی سرگرمیاں شروع کیں۔٭...سید شوکت حسین رضوی کے ساتھ مل کر پاکستان کی فلم انڈسٹری کی از سرے نو تعمیر کا کام شروع کیا۔٭...پاکستان میں ان کی پہلی فلم ''الزام‘‘ تھی جو 1953ء میں منظر عام پر آئی۔٭...انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور میں سب سے پہلا اسٹیج ڈرامہ ''شادی‘‘پیش کیا تھا۔ اس ڈرامے کو 1948ء میں لاہور کے اوڈین سنیما ہال میں دکھایا گیا۔٭...انہوں نے پچاس کی دہائی میں ولن جبکہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کریکٹر ایکٹر کے طور پر کام کیا، مکالمے کی جاندارادائیگی ان کی پہچان تھی۔٭...انہیں انقلاب کشمیر کے موضوع پر فلم بنانے کا اعزاز حاصل ہے، جس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار ابراہیم خان نے بھی کام کیا تھا۔٭...وہ بڑے پائے کے ادیب بھی تھے اور شاعر بھی، بیشمار فلموں کیلئے گیت اور نعتیں بھی لکھیں، متعدد فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں۔٭...ان کی نعت ''شاہ مدینہ یثرب کے والی‘‘ آج بھی لوگوں میں مقبول ہے۔٭... مشہور فلموں میں ''سرفروش، نور السلام، شمع، خاتون، چھوٹی بیگم، ایاز، عذرا، بابل، بنارسی ٹھگ، دروازہ اور مادرِ وطن‘‘ قابل ذکر ہیں۔٭... پاکستان فلم انڈسٹری کی عظیم ہم جہت شخصیت کا انتقال 27 اپریل 1976ء کو ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

عبدالحمید ثانی کی معزولی27اپریل 1909 میں عبدالحمید ثانی، جو سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے، کو ایک سیاسی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ یہ واقعہ عثمانی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے پیچھے اصلاح پسند تحریکیں اور فوجی دباؤ کارفرما تھے۔ ان کی معزولی کے بعد ان کے بھائی محمد پنجم کو نیا سلطان مقرر کیا گیا۔ محمد پنجم کا دور نسبتاً علامتی حکمرانی کا حامل تھا، جبکہ اصل اختیارات حکومت کے دیگر اداروں کے پاس چلے گئے۔ یونان پر قبضہ1941ء میں آج کے دن یونان پر اس وقت قبضہ شروع ہوا جب نازی جرمنی نے اپنے اتحادی اٹلی کی مدد کیلئے سلطنتِ یونان پر حملہ کیا۔ جون 1941ء تک تمام یونان پر قبضہ کر لیا گیا۔ یہ قبضہ جرمنی اور اس کے اتحادی بلغاریہ کو اکتوبر 1944ء میں اتحادیوں کی جانب سے دباؤ پر دستبردار ہونے تک جاری رہا۔ '' اپالو 16‘‘ کی واپسی 27 اپریل 1972ء کو امریکہ کی طرف سے خلا میں بھیجا جانے والا خلائی جہاز'' اپالو 16‘‘ چاند سے واپس زمین پر اترا۔ ''اپالو 16‘‘ امریکہ کے اپالو خلائی پروگرام کا دسویں مشن تھا، جو ''ناسا‘‘ کے زیر انتظام تھا، اور چاند پر اترنے والا یہ پانچواں اور اختتامی مشن تھا۔ اس مشن کے دوران خلاء بازوں نے 71گھنٹے چاند پر گزارے اس دوران انہوں نے 20 گھنٹے 14 منٹ پر مشتمل تین بار چاند پر چہل قدمی بھی کی۔شمالی و جنوبی کوریامعاہدہ27 اپریل 2018 ء کو شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کے درمیان کوریا کے امن، خوشحالی اور دوبارہ اتحاد کیلئے پانمونجوم اعلامیہ پر کوریائی سربراہی اجلاس جوائنٹ سکیورٹی ایریا میں پیس ہاؤس کی جانب سے دستخط کئے گئے۔ اعلامیے کے مطابق شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کی حکومتوں نے کوریائی جنگ اور کوریائی تنازعے کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کیلئے تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔یہ اعلامیہ 6 ستمبر 2018ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ولو جزیرہ کی تباہی 27 اپریل 1978ء کو ولو آئی لینڈ، ویسٹ ورجینیا میں پلیزنٹس پاور اسٹیشن پر زیر تعمیر کولنگ ٹاور گر کر تباہ ہو گیا۔اس خوفناک حادثے میں تعمیراتی سائٹ پرموجود 51 کارکن جان بحق ہوئے۔ اسے امریکی تاریخ کا سب سے مہلک تعمیراتی حادثہ سمجھا جاتا ہے۔1970 کی دہائی کے دوران، دریائے اوہائیو کے کنارے وادی میں کوئلے سے چلنے والے بہت سے پاور پلانٹس بنائے جا رہے تھے۔ الیگینی پاور سسٹم ولو آئی لینڈ پر ایک اور بڑا پلانٹ بنا رہا تھا، جس میں دو الیکٹرک جنریٹر موجود تھے ۔ڈنیپروپیٹروسک دھماکے27اپریل 2012ء میں یوکرین میں ڈنیپرو پیٹروسک کے چار ٹرام سٹیشنز پر سلسلہ وار دھماکے ہوئے۔ یہ بم دھماکے دو گھنٹے کے اندر ہوئے۔ چار گھریلو ساختہ بم چار ٹرام اسٹیشنوں کے قریب کوڑے دان میں رکھے گئے تھے۔ پہلا بم اس وقت پھٹا جب ٹرام مسافروں کو لینے کیلئے سست ہو رہی تھی۔ دوسرا بم 30 منٹ بعد پھٹا۔ تیسرا بم دوسرے کے فوراً بعد پھٹا۔ چوتھے دھماکے کے بعد ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔