بابر کے آباؤ اجداد
اسپیشل فیچر
بابر کا شجرہ ایشیا کو متاثر کرنے والے دو عظیم ترین معمارِ سلطنت تموچن عرف چنگیز خاں اور تیمور لنگ سے ملتا تھا۔ اپنے والد کی طرف سے پانچویں پشت میں وہ براہِ راست تیمور کی اولاد تھا۔ اور ماں کی طرف سے اس کا نسب چودھویں پشت میں چنگیز سے ملتا تھا۔ بابر کے دادا، تیموری حکمران، سلطان ابو سعید مرزا نے بہت خطرات اور ناکامیوں کے بعد ماورا النہر کو فتح کرنے میں کامیابی حاصل کی جو اس کے چچا کی ملکیت میں تھا اور خراسان کو جیت کر مکران و سندھ تک اپنی مملکت وسیع کر لی۔ اس کا دارالحکومت ہرات تھا اور یہاں اس نے 20 سال تک بڑی قوت و خوش حالی کے ساتھ اپنی وسیع سلطنت پر حکمرانی کی۔ یہاں تک کہ 1494ء میں اس نے ’’تباہی عراق‘‘ کے مشہور سانحے میں وفات پائی۔ اس علاقے کے دو ترکمانی قبیلوں کے ایک جھگڑے کو طے کرنے کی غرض سے اس نے صوبہ آذربائیجان میں داخل ہونے کی خطرناک جرأت کی اور اپنی پوری فوج کے ساتھ اردبیل کی پتلی سی گھاٹی میں پھنس گیا۔ نہ صرف وہ خود ختم ہو گیا بلکہ اس کی بے شمار فوج میں سے صرف چند لوگ یہ اندوہ ناک خبر سنانے کے لیے زندہ واپس آئے۔ اس موقع پر اتنا زبردست قتلِ عام ہوا تھا کہ یہ دن طویل عرصے تک یاد رہا اور پورے ماورا النہرمیں ایک ایسا مقررہ نقطہ زمانی سمجھا جانے لگا جس سے دیگر تاریخوں کو شمار کیا جاتا تھا۔ سلطان ابو سعید مرزا کی موت پر اس کی سلطنت اس کے بیٹوں میں بٹ گئی، جس میں سے چار خود مختار حکمران ہو گئے۔ سب سے بڑا بیٹا سلطان احمد مرزا قلبِ سلطنت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس میں وسیع شہرت کے صوبے سمر قند و بخارا شامل تھے جن کا نام ہی ثقافت، عیش و آرام اور دولت کا ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا بیٹا محمود مرزا، بدخشاں و ختلان اور ہندوکش و اسفرہ پہاڑوں کے درمیان واقع دیگر صوبوں کا حکمران بن گیا۔ اُلغ بیگ مرزا کے پاس کابل و غزنی کی حکومت رہی جس پر اپنے والد کی حیات میں اس کا قبضہ رہا تھا۔ چوتھے بیٹے عمر شیخ مرزا (بابر کے والد) نے بھی اپنی جاگیر فرغانہ کی سلطنت برقرار رکھی۔ فرغانہ ایک زرخیز علاقہ ہے جس کی آب و ہوا میں یکسانیت ہے۔ غلوں اور میوؤں کی پیداوار خوب ہے اور ہر طرح کے چھوٹے شکار بکثرت ملتے ہیں۔ یہ ایک بہت واضح جغرافیائی اکائی ہے اور مغرب کی سمت چھوڑ کر باقی تین طرف بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ ان پہاڑوں کے درمیانی خلاؤں سے عظیم دریائے سیمون مغرب سے مشرق کی سمت بہتا ہے اور کوہستانی حلقے میں گھرے ہوئے میدان کو دو غیرمساوی حصوں میں بانٹ دیتا ہے۔البتہ یہاں وسائل بہت زیادہ نہیں تھے۔ فرغانہ کسی بھی ایسے حکمران کی کچھ زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا جو فتوحات پر گامزن ہونے کے منصوبے بنا رہا ہو۔ اس کے باوجود بابر کے والد عمر شیخ مرزا پڑوسیوں کے معاملات میں مداخلت کے لیے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ جیسا کہ اس عہد میں عام طور سے ہوتا تھا، ان کے خاص حریف ان کے اپنے ہی خاندان والے تھے۔ اپنے بڑے بھائی سلطان احمد مرزا سے ان کے تعلقات مستقل طور پر معاندانہ تھے۔ عمر شیخ اپنے وسائل کی کمتری سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی سے خوف زدہ بھی تھا اور رشک بھی کرتا تھا۔ انجام کار تاشقند اور شاہ رُخیہ کے سرحدی صوبے جن پر دونوں ہی اپنا اپنا حق جتاتے تھے، ایک مستقل وجہ مخاصمت کی شکل اختیار کر گئے۔ بڑے بھائی کے مادی وسائل کی زبردست برتری کے باعث یہ مقابلہ بہت ہی غیر متوازن تھا اور اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ عمر شیخ مرزا کے لیے اس کش مکش کو جاری رکھنا جس چیز نے ممکن بنا دیا وہ اس کے خُسر اور بابر کے نانا یونس خاں کی امداد تھی۔ یونس خاں کا شجرہ چنگیز اعظم سے مل جاتا ہے۔ وہ اس رئیس کا سب سے بڑا بیٹا تھا جس نے منگولوں کے خاقان کی حیثیت سے حکومت کی تھی۔ لیکن وہ اپنے والد کا جانشین معمول کے مطابق نہ ہوا، کیونکہ آزاد اور خود مختار قبائل نے اس کے چھوٹے بھائی کو چن لیا تھا، جس کے باعث مجبوراً یونس خاں کو منگولستان چھوڑنا پڑا اور متعدد سال بحیثیت جلاوطن فرمانروا کے بدخشاں کے دربار میں گزارنے پڑے۔ یہاں اسے ایسی تعلیم حاصل ہوئی جو کم ہی اس کے ہم وطنوں کو نصیب ہوئی ہو گی۔ اس کی ناشائستہ عادتیں چھوٹ گئیں، جن کے باعث اس کے خاندان کے محکوم خانہ بدوش قبائل ذلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اور ان کے بجائے اس نے ایک تعلیم یافتہ ایرانی کے طور طریقے سیکھ لیے۔ 40 سال کی عمر میں اسے اس شائستہ آسائش کی زندگی سے سلطان ابو سعید مرزا نے، ( جو کہ بعد میں ’تباہی عراق‘ میں ختم ہو گیا) یکایک باہر کھینچ بلایا اور اسے منگولوں کی خاقانی پر دوبارہ اپنا حق جتانے کے لیے تیار کر لیا۔ آخر اپنے سرپرست کی مدد سے بہت سے نشیب و فراز کے بعد اس نے اپنا حق منوانے میںکامیابی حاصل کر لی اور 1465-66ء میں خاقان تسلیم کر لیا گیا۔ جب سلطان ابو سعید اور اس کی تمام فوج ختم ہو گئی تو یونس خاں نے اپنے تمام عظیم وسائل اپنے محسن کے بیٹوں کی مدد میں لگا دیے۔ اس نے اپنی تین بیٹیوں کی شادی تین مرزاؤں یعنی سمرقند کے سلطان احمد مرزا، بدخشاں کے سلطان محمود مرزا اور مرغانہ کے سلطان عمر شیخ مرزا سے کردی۔ اس طرح اسے اپنے دامادوں کے باہمی تنازعات میں ثالث بننے کے لیے ایک بہت عمدہ حیثیت حاصل ہو گئی۔ پھر ایک غیر معمولی اور راست باز و قابلِ محبت کردار کا انسان ہونے کی وجہ سے اس کی شخصیت کا اقتدار بھی ان پر بہت زیادہ تھا۔ لہٰذا یہ امر تعجب خیز نہیںکہ بابر کے نانا نے اپنے ہم عصروں کو بہت متاثر کیا تھا۔