ہمالیہ: دلچسپ معلومات
اسپیشل فیچر
٭: ہمالیہ جنوبی ایشیا کاایک سلسلۂ کوہ ہے جو کم و بیش 2400 کلومیٹر طویل ہے۔ اس میں بھارت، پاکستان، افغانستان، چین، بھوٹان اور نیپال کے علاقے شامل ہیں۔ ٭: ہمالیہ کو پہاڑی سلسلوں میں جس سے نوعمر تصور کیا جاتا ہے جو تقریبا پانچ کروڑ برس قبل وجود میں آیا۔ یہ انڈین اور یوروایشین ٹیکٹونک پلیٹس کے ٹکراؤ سے وجود میں آیا۔ ٭:ہمالیہ کی اونچائی میں اضافہ جاری ہے اور یہ سالانہ دو سینٹی میٹر بڑھ رہا ہے۔ ٭: ہمالیہ کا رقبہ 612,021 مربع کلومیٹر ہے جو دنیا کا 0.4 فیصد بنتا ہے۔٭: ہمالیہ بہت سے خوبصورت اور انوکھے جانوروں اور پودوں کی پناہ گاہ ہے۔ یہاں برفانی لیوپرڈ، چیتا، سرخ پانڈا، جسیم پانڈا، جنگلی بکری، تبتی بکری، چھوٹا ہرن اور پہاڑی بکری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں مختلف طرح کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ ٭: ہمالیہ کے بلند مقامات پر سب سے کارآمد جانور ’’یاک‘‘ ہے۔ یہ نقل و حمل کے ساتھ غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ دودھ اور گوشت کے ساتھ اس کی کھال، پشم، ہڈیوں اور دم کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا گوبر جلانے کے کام آتا ہے۔ ٭: دنیا کے تین بڑے دریا، سندھ، برہماپترا اور یانگ زی ہمالیہ سے اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔ ٭: ہمالیہ میں سیکڑوں جھیلیں ہیں۔ زیادہ تر جھیلیں پانچ ہزار میٹر سے کم بلندی پر پائی جاتی ہیں۔ بلندی میں اضافے کے ساتھ ان کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے۔ نیپال میں واقع جھیل ٹیلیچو دنیا کی بلند ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ ٭: ہمالیہ میں اندازاً 15 ہزار گلیشیر ہیں۔ ٭: ہمالیہ کے گلیشیر صاف شفاف پانی کا بہت بڑاذخیرہ ہیں۔ قطب شمالی اور انٹارکٹیکا کے بعد برف کا تیسر ابڑا اجتماع ہمالیہ میں ہے۔ ٭: ہمالیہ میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ واقع ہے۔ دیگر بلند چوٹیوں میں کے ٹو، کنگچن جونگا، لہوٹسے اور دھاؤلاگیری شامل ہیں۔ ٭: 75 فیصد نیپال ہمالیہ میں ہے۔ ٭: ہمالیہ ہزاروں سالوں سے چین- برصغیر اور چین - منگولیا کے درمیان قدرتی رکاوٹ کے طور پر کام کرتا رہا اور ان کے آپس کے میل جول میں رکاوٹ رہا۔ (انتخاب: وردہ بلوچ)