اداکارہ شمّی وہ پہلی ہیروئین تھیں جن کے نام پر فلم بنائی گئی

اداکارہ شمّی  وہ پہلی ہیروئین تھیں جن کے نام پر فلم بنائی گئی

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


50ء کی دہائی میں پاکستانی فلمی صنعت میں کئی ہیروئنوں نے اپنے نام کا سکہ جمایا۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا اور اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں فلمیں بن رہی تھیں۔ اس دور میں صبیحہ خانم، سُورن لتا، آشاپوسلے، بہار، شاہینہ، مسرت نذیر، میڈم نورجہاں اور نیلو کی مقبولت کا سورج چمک رہا تھا۔ لیکن ایک اور اداکارہ ایسی تھیں جنہوں نے اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ ان کا نام تھا شمّی۔ 1949ء میں فلم ’’شاہدہ‘‘ میں انہوں نے چائلڈ سٹار کی حیثیت سے کام کیا اور پھر 1950ء میںوہ فلم ’’بے قرار‘‘ میں معاون اداکارہ کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئیں۔ ان کا اصل نام شمشاد بیگم تھا۔ وہ 1937ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ وہ بڑی حسین و جمیل تھیں۔ 1950ء میں انہیں شہرت ملی جب ان کی پنجابی فلم ’’شمّی‘‘ ریلیز ہوئی۔ وہ واحد اداکارہ تھیں جن کے نام پر فلم بنائی گئی۔ ’’شمّی‘‘ کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ اس میں شمّی کے ساتھ سنتوش کمار ہیرو تھے۔ اس کے نغمات نے بھی دھوم مچا دی۔ خاص طور پر عنایت حسین بھٹی کا گایا ہوا یہ گیت ’’سُوہے جوڑے والیے‘‘ نے مقبولیت کی تمام حدیں پار کر لیں۔ یہ پنجابی نغمہ بھارت میں بھی بڑا مشہور ہوا۔ ’’شمّی‘‘ کی فلمساز نامور گلوکارہ ملکہ پکھراج تھیں۔ ملکہ پکھراج کا لاہور میں اپنا سٹوڈیو تھا۔ ملکہ پکھراج معروف گلوکارہ طاہرہ سید کی والدہ تھیں۔ شمّی نے 13 فلموں میں کام کیا جن میں 12 اردو اور ایک پنجابی فلم شامل تھی۔ ان کی فلم ’’روحی‘‘ پر 1954ء میں پابندی لگا دی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اس میں طبقاتی نفرت کو ہوا دی گئی تھی۔ ان کی دیگر فلموں میں ’’غلام، الزام، محبوبہ، تڑپ، خزاں کے بعد، اور پون‘‘ کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ فلم ’’غلام‘‘ انور کمال پاشا نے بنائی تھی جن کا اس زمانے میں طوطی بولتا تھا اس فلم میں شمّی کے علاوہ صبیحہ ار سنتوش کمار بھی تھے۔ اس فلم میں شمّی کی اداکاری کو پسند کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نیہں کہ وہ ایک عمدہ اداکارہ تھیں جو اپنے چہرے کے تاثرات سے شائقین کو بہت متاثر کرتی تھیں۔ پھر ان کے حسن و جمال نے بھی لوگوںکو دیوانہ بنا رکھا تھا۔ 1953ء میں ہی ان کی فلم ’’الزام‘‘ بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس کی ہدایات رفیق انور نے دی تھیں۔ اس فلم کی کہانی نعیم ہاشمی نے لکھی تھی اور اس کے نغمات یزدانی جالندھری اور نعیم ہاشمی کے زورِ قلم کا نتیجہ تھے۔ 1953ء میں ان کی ایک اور قابلِ ذکر فلم ’’محبوبہ‘‘ ریلیز ہوئی جس میں ان کے ساتھ سنتوش کمار اور آشا پوسلے نے کام کیا تھا۔ پھر اسی سال ان کی فلم ’’تڑپ‘‘ ریلیز ہوئی جس میں ان کے ساتھ سدھیر اور علاؤالدین نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی فلموں ’’سوہنی، خزاں کے بعد، پون، ساحل اور بغاوت‘‘ نے اوسط درجے کا بزنس کیا۔ 1953ء میں فلم ’’تڑپ‘‘ کی شوٹنگ کے دوران شمّی نے اداکار سدھیر سے شاہ کر لی۔ اگرچہ سدھیر نے بعد میں اداکارہ زیبا سے بھی شادی کی لیکن شمّی سے ان کی شادی برقرار رہی۔ یہاں شمّی کی ایک اور فلم ’’پون‘‘ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو بہت پسند کیا گیا۔ یہ فلم اسلم ایرانی کی بطور ہدایت کار پہلی فلم تھی اور اس میں ان کے ساتھ سدھیر، آشا پوسلے، نذر، ظریف، نگہت سلطانہ، غلام محمد اور مایا دیوی نے کام کیا تھا۔ اس کے فلمساز چوہدی عید محمد تھے۔ انور بٹالوی کی کہانی تھی اور عرش لکھنوی نے مکالمے تحریر کیے تھے۔ قتیل شفائی اور مشیر کاظمی کے دلکش گیتوں کی موسیقی نذیر جعفری نے مرتب کی۔ فلم کے گلوکاروں نے بھی کمال کیا اور بڑی لگن سے گیت گائے۔ ان گلوکاروں میں کوثر پروین، عنایت حسین بھٹی، سلیم رضا اور ظریف شامل تھے۔ عنایت حسین بھٹی نے ثابت کیا کہ وہ صرف پنجابی ہی نہیں بلکہ اردو زبان میں بھی گیت گا سکتے ہیں۔ ’’بغاوت‘‘ شمّی کی آخری فلم تھی جو ان کے شوہر سدھیر نے بنائی تھی۔ وہ اس سے پہلے ’’ساحل‘‘ بھی بنا چکے تھے۔ ’’شمّی‘‘ فلم کے ہدایت کار منشی دل نے ایک بار کہا تھا کہ شمّی نے صرف ایک پنجابی فلم میں کام کیا اور ان کی باقی تمام فلمیں اردو تھیں، اگر وہ پنجابی فلموں کی طرف توجہ دیتیں تو اردو فلموں سے زیادہ کامیابی حاصل کر سکتی تھیں اور انہیں مزید اچھے کردار مل سکتے تھے۔ شمّی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے مکالمے بولنے کا انداز بھی بہت اچھا تھا۔ ان کی فلمیں بھارتی فلموں کے مقابلے پر ریلیز ہوتی تھیں۔ اگرچہ بھارتی فلمیں تکنیکی طور پر زیادہ بہتر ہوتی تھیں لیکن پاکستانی اداکاروں اور دیگر عملے کی محنت نے کام کر دکھایا اور نوزائیدہ فلمی صنعت کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دیا۔ شمّی نے دیگر پاکستانی اداکاراؤں کی طرح پاکستانی فلمی صنعت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا اور اس دور میں بھی ان کی فلمیں بھارتی فلموں کا مقابلہ کرتی تھیں۔ یہاں ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ شمّی کی بڑی بہن سلمیٰ ممتاز پاکستانی فلمی صنعت کی شاندار اداکارہ تھیں جنہوں نے کیریکٹر ایکٹریس کے طور پر اپنے آپ کو منوایا تھا۔ لوگ آج بھی ’’ہیر رانجھا‘‘ میں ہیر کی ماں کو نہیں بھولے۔ یہ کردار سلمیٰ ممتاز نے ادا کیا تھا۔ 2001ء میں شمّی کا لاہور میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے جتنا کام کیا اسے اس لحاظ سے یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے بھارتی فلموں کے مقابلے میں پاکستانی فلمی صنعت کو استحکام دینے میں اپنی تمام صلاحیتیں صر ف کر دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

مصنوعی ذہانت پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے

سائنسدانوں اور محققین کی وارننگمصنوعی ذہانت (AI) نے دنیا بھر میں تحقیق، تعلیم، صحافت اور کاروبار کے طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر دیا ہے۔ آج طلبہ اپنی اسائنمنٹس کی تیاری سے لے کر محققین تحقیقی مواد جمع کرنے تک، ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ ChatGPT، Gemini، Copilot اور دیگر جدید پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن ماہرین اب خبردار کر رہے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز پر مکمل انحصار سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً جب بات حوالہ جات اور تحقیقی ذرائع کی ہو۔حالیہ دنوں میں امریکہ میں منعقد ہونے والے مختلف سائنس میلوں اور تحقیقی مقابلوں کے ججوں نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد طلبہ اپنے پراجیکٹس میں ایسے حوالہ جات پیش کر رہے ہیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے یا جن میں مصنف، جرنل، اشاعت کی تاریخ اور دیگر تفصیلات غلط درج ہوتی ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان میں سے بڑی تعداد مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ حوالہ جات پر مشتمل تھی۔جعلی حوالہ جات کا بڑھتا ہوا مسئلہماہرین کے مطابق اے آئی کے چیٹ بوٹس بظاہر انتہائی اعتماد کے ساتھ معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن بعض اوقات وہ ایسی معلومات بھی تخلیق کر دیتے ہیں جن کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ ٹیکنالوجی کی زبان میں اس رجحان کو Hallucination کہا جاتا ہے۔جب کوئی صارف کسی مخصوص موضوع پر تحقیقی حوالہ جات طلب کرتا ہے تو بعض اوقات AI ایسے تحقیقی مقالوں کے نام، مصنفین اور جرائد تخلیق کر دیتا ہے جو حقیقت میں کبھی شائع ہی نہیں ہوئے۔ چونکہ یہ معلومات بظاہر مستند انداز میں پیش کی جاتی ہیں اس لیے بہت سے طلبہ اور نئے محققین انہیں درست سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں۔سائنس فیئر کے ججوں نے متعدد ایسے پراجیکٹس دیکھے ہیں جن میں حوالہ جات کی فہرست تو موجود تھی لیکن ان میں شامل کئی تحقیقی مقالے آن لائن تلاش کرنے کے باوجود نہیں مل سکے۔ مزید جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ یہ حوالہ جات مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے تھے۔صرف طلبہ ہی نہیں محققین بھی متاثریہ مسئلہ صرف سکول یا کالج کے طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ پیشہ ور محققین بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے بعض مقالات میں بھی ایسے حوالہ جات پائے گئے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں تھے۔ ان جعلی حوالہ جات کو Ghost References کا نام دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کوئی محقق غیر مصدقہ AI مواد کو براہ راست اپنے تحقیقی کام میں شامل کر لیتا ہے تو اس سے پورے تحقیقی عمل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔تحقیق کی دنیا میں حوالہ جات کی حیثیت بنیاد کی مانند ہوتی ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط معلومات پر قائم ہو تو تحقیق کے نتائج بھی مشکوک ہو جاتے ہیں؛چنانچہ تحقیقی ادارے اور جامعات اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کہاں غلطی کرتی ہے؟مصنوعی ذہانت دراصل معلومات کو سمجھنے کے بجائے زبان کےPatterns کی بنیاد پر جواب تیار کرتی ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ حقیقی ڈیٹا بیس سے منسلک نہیں ہوتی نتیجتاً بعض مواقع پر یہ ممکنہ طور پر درست دکھائی دینے والی لیکن حقیقت میں غلط معلومات تیار کر دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تجربات میں ماہرین نے مصنوعی ذہانت کو درست حوالہ جات فراہم کیے اور صرف ان کی فارمیٹنگ درست کرنے کا کہا۔ اس عمل کے دوران بھی AI نے بعض حوالوں میں مصنفین کے نام، جلد نمبر یا اشاعتی تفصیلات تبدیل کر دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف نئے حوالہ جات گھڑنے تک محدود نہیں بلکہ موجودہ معلومات میں غیر ارادی تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیم وتحقیق کیلئے خطرے کی گھنٹی تعلیم اور تحقیق درست معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اگر طالب علم مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کو تصدیق کے بغیر استعمال کرنے لگیں تو غلط معلومات تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس طرح طلبہ کے تحقیقی مقالے، تھیسس اور اسائنمنٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ماہرین مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اسے ایک مفید معاون ٹیکنالوجی قرار دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ AI کا استعمال نہیں بلکہ اس پر اندھا اعتماد ہے۔تحقیقی کام کے دوران ہر حوالہ، ہر دعوے اوراعدادوشمار کی اصل ماخذ سے تصدیق ضروری ہے۔ اگر AI کسی تحقیقی مقالے کا حوالہ فراہم کرے تو محقق کو چاہیے کہ اس مقالے کو جرنل کی ویب سائٹ یا ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے خود تلاش کرے۔ طلبہ کو بھی سکھایا جانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت تحقیق میں معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کی فراہم کردہ معلومات کو حتمی سچ نہیں سمجھنا چاہیے۔مستقبل کا چیلنجمصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں روز بروز بہتر ہو رہی ہیں اور آنے والے برسوں میں اس کا استعمال مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم جوں جوں یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے۔تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکزکو ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہوں گی جو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیں۔ مصنوعی ذہانت یقیناً علم اور تحقیق کی دنیا میں ایک انقلاب ہے لیکن کوئی بھی مشین انسانی تحقیق، تنقیدی جائزے اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ اسی لیے AI سے مدد ضرور لیں مگر اس کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں۔

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

منسا موسیٰ: تاریخ کا سب سے دولت مند آدمی کون تھا؟

تاریخ انسانی میں دولت مند افراد کی کمی نہیں رہی۔ قدیم مصر کے فرعون ہوں، روم کے شہنشاہ یا جدید دور کے ارب پتی سرمایہ دار، ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے جن کی دولت نے دنیا کو حیران کیا۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ تاریخ کا سب سے امیر آدمی کون تھا تو بیشتر مؤرخین کی انگلی مغربی افریقہ کے چودہویں صدی کے ایک حکمران، منسا موسیٰ، کی جانب اٹھتی ہے۔ ایک ایسا بادشاہ جس کی دولت کا درست اندازہ آج بھی ممکن نہیں اور جس کے سفرِ حج نے مصر کی معیشت تک کو متاثر کر دیا تھا۔سونے کی کانوں سے شاہی خزانے تکچودہویں صدی عیسوی میں جب یورپ کے بیشتر حصے سیاسی انتشار اور معاشی مسائل کا شکار تھے، مغربی افریقہ میں سلطنت مالی خوشحالی اور ترقی کی علامت تھی۔اور اس سلطنت کا وحکمران تھا ، منسا موسیٰ تھا، جس کا نام آج بھی دولت، اقتدار اور فیاضی کی مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔منسا موسیٰ 1312ء میں مالی سلطنت کا حکمران بنا۔ منسا دراصل شاہی لقب تھا جس کے معنی بادشاہ یا شہنشاہ کے ہیں۔ اُس کے دور میں مالی سلطنت موجودہ مالی، سینیگال، گنی، نائیجر اور موریطانیہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالا مال تھا خصوصاً سونے کی کانیں اس کی اصل طاقت تھیں۔مؤرخین کے مطابق اس زمانے میں دنیا کے معلوم سونے کا ایک بڑا حصہ مالی سے حاصل ہوتا تھا۔ بامبوک(Bambouk) اور بری(Bure) کے علاقے سونے کی پیداوار کے اہم مراکز تھے۔ یہی سونا منسا موسیٰ کی بے مثال دولت کی بنیاد بنا۔ اس کے علاوہ مالی کی سلطنت صحارا کے پار تجارت کے اہم راستوں پر قابض تھی۔ شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ جانے والے قافلے مالی سے گزرتے تھے، جس سے خزانے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔منسا موسیٰ کا سفر حجمنسا موسیٰ کی شہرت صرف دولت کی وجہ سے نہیں پھیلی، اس کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ 1324ء میں مکہ مکرمہ کے لیے کیا جانے والا حج کا سفر ہے۔یہ سفر اتنا پرشکوہ تھا کہ اس کی وجہ سے منسا موسیٰ کی شہرت نہ صرف اسلامی دنیا کے ایک بڑے حصے میں پھیل گئی بلکہ تاجروں کے ذریعے یورپ تک اس کے نام کا چرچا ہوا۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔ حج کے اس سفر میں موسیٰ کے ہمراہ 60 ہزار فوجی اور 12 ہزار غلام تھے جنہوں نے چار چار پاؤنڈ سونا اٹھا رکھا تھا۔ اس کے علاوہ 80 اونٹوں پر بھی سونا لدا ہوا تھا۔ اندازہ ہے کہ موسیٰ نے 125 ٹن سونا اس سفر میں خرچ کیا۔ اس سفر کے دوران وہ جہاں سے بھی گزرا، غربا اور مساکین کی مدد کرتا رہا اور ہر جمعہ کو ایک نئی مسجد بنواتا رہا۔ اس حج کے بعد منسا موسیٰ کا نام اسلامی دنیا کے بڑے حکمرانوں میں شمار ہونے لگا۔ عرب مؤرخین نے اس کے بارے میں تفصیل سے لکھا اور یورپی نقشہ سازوں نے اپنے نقشوں میں مالی کو نمایاں مقام دینا شروع کر دیا۔ چودہویں صدی کے بعض نقشوں میں منسا موسیٰ کو تاج پہنے اور ہاتھ میں سونے کا ڈلا تھامے دکھایا گیا ہے جو اس کی دولت کی عالمی شہرت کا ثبوت ہے۔دولت سے بڑھ کر علم و ثقافت کا سرپرستمنسا موسیٰ صرف دولت مند بادشاہ نہیں تھا بلکہ علم دوست حکمران بھی تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کسی سلطنت کی اصل طاقت صرف خزانے میں نہیں بلکہ علم و دانش میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت اس نے ٹمبکٹو کو علمی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ٹمبکٹو اُس کے دور میں دنیا کے اہم علمی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ مصر، مراکش اور اندلس سے علما ، فقہااور معمار یہاں آنے لگے۔ مدارس، مساجد اور کتب خانے قائم کیے گئے۔ فقہ، ریاضی، فلکیات، تاریخ اور ادب کی تعلیم دی جانے لگی اور ٹمبکٹو کی شہرت بغداد، قاہرہ اور قرطبہ جیسے علمی مراکز کے ہم پلہ سمجھی جانے لگی۔منسا موسیٰ کے روزمرہ معمولات کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں تاہم تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں گہری دلچسپی لیتا تھا۔ دربار میں مختلف علاقوں کے نمائندوں اور تاجروں سے ملاقاتیں کرتا، مشیروں سے مشورے کرتا اور سلطنت کے انتظامی امور کی نگرانی کرتا تھا۔ مذہبی رجحان کی وجہ سے عبادات اور اسلامی تعلیمات بھی اس کی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔اس کی شخصیت میں شاہانہ وقار اور مذہبی وابستگی کا دلچسپ امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بے پناہ دولت کا مالک تھا دوسری طرف مساجد اور تعلیمی اداروں کی تعمیر پر خطیر سرمایہ خرچ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک امیر حکمران نہیں بلکہ ایک دور اندیش ریاست ساز کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔1337ء کے قریب منسا موسیٰ کا انتقال ہوگیا اور اس عظیم حکمران کے بعد مالی کا علمی، ثقافتی اور مالیاتی مقام زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ منسا موسیٰ کے بعد مالی کی سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔ ایک ایک کرکے تمام علاقے ہاتھ سے نکل گئے اور 1854ء میں شہر گاد کے سونگھائی حکمران نے مالی کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔لیکن اس سلطنت کے نامور حکمران کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ آج جب دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست مرتب کی جاتی ہے تو جدید دور کے ارب پتی بھی اس کے سامنے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیناک برن کی جنگ23 جون 1314 ء کو سکاٹ لینڈ کی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ کا آغاز ہوا جسے بیناک برن کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں آزادی کی جدوجہد کا اہم مرحلہ تھی۔ سکاٹ فوج کی قیادت رابرٹ دی بروس کر رہے تھے جبکہ انگریز فوج کی قیادت ایڈورڈدوم کے ہاتھ میں تھی۔ سکاٹ لینڈ کئی برسوں سے انگریزی تسلط کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔ رابرٹ دی بروس نے سکاٹ قوم کو متحد کیا اور انگریز افواج کے خلاف مزاحمت کو منظم کیا۔ اس جنگ کے نتائج دور رس ثابت ہوئے۔ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی تحریک کو زبردست تقویت ملی اور رابرٹ دی بروس کی حیثیت ایک قومی ہیرو اور بادشاہ کے طور پر مستحکم ہوئی۔ بعد ازاں 1328ء میں انگلستان نے سکاٹ لینڈ کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ ٹائپ رائٹر پیٹنٹ کا اجرا 23 جون 1868ء کو امریکی موجدکرسٹوفر لیتھم شولز اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے آلے کا پیٹنٹ ملا جس نے تحریری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ یہ آلہ ٹائپ رائٹر تھا جسے جدید کمپیوٹر کی بورڈ کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں سرکاری اور تجارتی امور میں تحریری ریکارڈ کی اہمیت بڑھ رہی تھی لیکن تمام کام ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ شولز نے ایک ایسی مشین تیار کی جو حروف کو کاغذ پر تیزی اور یکسانیت کے ساتھ منتقل کر سکتی تھی۔ بعد ازاں اسی مشین کی بنیاد پر QWERTY کی بورڈ لے آؤٹ متعارف ہوا جو آج بھی دنیا بھر کے کمپیوٹروں اور موبائل آلات میں استعمال ہو رہا ہے۔ٹائپ رائٹر نے صحافت، کاروبار، عدالتی نظام، سرکاری دفاتر اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اولمپک کمیٹی کا قیام 23 جون 1894 کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) کا قیام فرانس کے شہر پیرس میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے قیام میں فرانسیسی ماہرِ تعلیم کوبرٹین نے مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا خیال تھا کہ کھیل مختلف قوموں کے درمیان امن، دوستی اور صحت مند مقابلے کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں جدید اولمپک تحریک وجود میں آئی۔ 23 جون کو پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی قائم کی گئی۔IOC کا بنیادی مقصد اولمپک کھیلوں کا انعقاد، ان کے اصولوں کی نگرانی اور عالمی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔ اس ادارے کے قیام کے دو سال بعد 1896 ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں جدید دور کے پہلے اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔ انٹارکٹک معاہدے کا نفاذ 23 جون 1961ء کوانٹارکٹک ٹریٹی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا۔ یہ معاہدہ سرد جنگ کے دور میں بین الاقوامی تعاون کی ایک غیر معمولی مثال سمجھا جاتا ہے۔انٹارکٹکا زمین کا سب سے جنوبی اور انتہائی سرد براعظم ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک کئی ممالک اس خطے پر دعوے کر رہے تھے جس سے مستقبل میں تنازعات کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک نے ایک معاہدہ تشکیل دیا جس کے تحت انٹارکٹکا کو صرف سائنسی تحقیق اور پرامن مقاصد کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔اس معاہدے نے براعظم میں فوجی سرگرمیوں، ہتھیاروں کی آزمائش اور جوہری دھماکوں پر پابندی عائد کی۔ سائنسدانوں کو تحقیق کے لیے آزادانہ رسائی دی گئی اور مختلف ممالک کے درمیان سائنسی معلومات کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔بریگزٹ ریفرنڈم23 جون 2016ء کو بریگزٹ ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں برطانیہ کے عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً 51.9 فیصد ووٹرز نے یورپی یونین چھوڑنے جبکہ 48.1 فیصد نے اس میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ ریفرنڈم کئی برسوں سے جاری سیاسی اور عوامی بحث کا نتیجہ تھا۔ یورپی یونین کے مخالفین کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کو اپنی سرحدوں، قوانین اور اقتصادی پالیسیوں پر مکمل خودمختاری حاصل ہونی چاہیے۔ دوسری جانب حامیوں کا خیال تھا کہ یورپی یونین کی رکنیت تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے لیے فائدہ مند ہے۔نتائج سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوئی، برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور ملک کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

چین کا جدید ٹیکنالوجی پارک

چین کا جدید ٹیکنالوجی پارک

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قائم ''ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس انویشن انڈسٹریل پارک‘‘ (embodied intelligence innovation industrial park) جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف صنعتی ترقی کی نئی سمتوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ مستقبل کی معیشت اور صنعت کا انحصار ذہین مشینوں اور خودکار نظاموں پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اس جدید صنعتی پارک میں مختلف ادارے اور ماہرین ایک ہی پلیٹ فارم پر کام کرتے ہوئے ایسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہے ہیں جو انسان اور مشین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر اور عملی بنا رہے ہیں۔یہ صنعتی پارک نہ صرف تحقیق اور ترقی کا مرکز ہے بلکہ اسے مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کا عملی نمونہ بھی سمجھا جا رہا ہے جہاں مشینیں انسانی ماحول میں خودمختار انداز میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔اس پارک میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور تحقیقی اداروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کیا گیا ہے تاکہ ایمبو ڈائیڈ انٹیلی جنس یعنی جسم میں استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے جدت لائی جا سکے۔ اس ماڈل کے ذریعے تحقیق، تجربات اور صنعتی پیداوار کے درمیان فاصلہ کم کر دیا گیا ہے، جس سے نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری کی رفتار نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔پارک کے اندر جدید ہیومنائیڈ روبوٹس نے حقیقی ماحول میں مختلف کام انجام دیئے۔ یہ روبوٹس نہ صرف اشیاء کو اٹھانے، منتقل کرنے اور ترتیب دینے جیسے کام کرتے ہیں بلکہ ٹیلی آپریشن کے ذریعے پیچیدہ صنعتی عمل بھی انجام دیتے ہیں۔ بعض مظاہروں میں انہیں انسانی حرکات کی نقل کرتے، کھیل کھیلتے اور مختلف انٹرایکٹو سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ''ہائی ڈینسٹی انوویشن کلچر‘‘ ہے، جس کے تحت مختلف ادارے ایک ہی جگہ پر موجود ہونے کی وجہ سے باہمی تعاون، ڈیٹا شیئرنگ اور تجرباتی ترقی کا عمل تیز ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ماڈل نے روایتی تحقیقاتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر مرحلہ الگ تھلگ ہوتا تھا۔چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ''embodied intelligence‘‘ مستقبل کی صنعت کا بنیادی ستون بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے روبوٹس کو صرف ڈیجیٹل سطح تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی دنیا میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ لاجسٹکس، صحت، اور خدمات کے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔مجموعی طور پر یہ صنعتی پارک اس بات کی واضح مثال ہے کہ چین مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کیلئے کس قدر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان تعاون کا نیا دور شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں روبوٹس روزمرہ زندگی اور صنعتی نظام کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔

فریج یا الماری:چاکلیٹ کیلئے بہترین جگہ کونسی؟

فریج یا الماری:چاکلیٹ کیلئے بہترین جگہ کونسی؟

ماہرین نے چاکلیٹ کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ بتادیاچاکلیٹ دنیا بھر میں پسند کی جانے والی غذاؤں میں شمار ہوتی ہے، مگر اس کی حفاظت اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر عرصہ دراز سے بحث جاری ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کو گرمی سے بچانے کیلئے فریج میں رکھنا ضروری ہے، جبکہ دوسرے اسے الماری یا کمرے کے درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اب اس دلچسپ بحث میں سائنسدانوں نے بھی حصہ لیا ہے اور تحقیق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ چاکلیٹ کے ذائقے، خوشبو، ساخت اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے کونسا طریقہ زیادہ موزوں ہے۔ ان کی رائے نے نہ صرف چاکلیٹ کے شوقین افراد کی توجہ حاصل کی ہے بلکہ خوراک کے ماہرین میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ ایک ایسی بحث ہے جس نے لوگوں کو دو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اگرچہ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ چاکلیٹ کمرے کے درجہ حرارت پر زیادہ لذیذ لگتی ہے، لیکن دوسرے لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فریج میں رکھی ہوئی چاکلیٹ زیادہ مزے دار اور اطمینان بخش محسوس ہوتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ فریج میں رکھنے کے بعد زیادہ مزیدار محسوس ہوتی ہے۔چاکلیٹ کو ٹھنڈا کرنے سے نہ صرف اس کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ اس کی ساخت بھی زیادہ دلکش ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عموماً ایسی غذاؤں کو پسند کرتے ہیں جو کھاتے وقت کچھ آواز پیدا کریں۔ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب آپ ٹھنڈی چاکلیٹ کی بار توڑتے ہیں تو اس سے زیادہ واضح اور خوشگوار ''چٹخنے‘‘ کی آواز آتی ہے۔یہ مشورہ بہت سے لوگوں کیلئے حیران کن نہیں ہوگا، کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر اکثر چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے حق میں دلائل دیتے نظر آتے ہیں۔ ایک ٹک ٹاک صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ میں کسی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر آپ چاکلیٹ فریج میں نہیں رکھتے تو پھر میں آپ سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔پروفیسر چارلس سپینس کے مطابق چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے فوائد تین جہتوں پر مشتمل ہیں۔خوشگوار ''چٹخنے‘‘کی آواز کے علاوہ، وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ٹھنڈی چاکلیٹ منہ میں نسبتاً آہستہ آہستہ پگھلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں چاکلیٹ کا ذائقہ اور لطف زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے اور اسے کھانے کا تجربہ زیادہ خوشگوار، پرلطف اور تسکین بخش محسوس ہوتا ہے۔یعنی فریج میں رکھی گئی چاکلیٹ نہ صرف بہتر ساخت اور آواز فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے آہستہ پگھلنے کی وجہ سے اس کے ذائقے سے لطف اندوز ہونے کا وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔مزید یہ کہ چاکلیٹ کو فریج میں رکھنے کے پیچھے ایک نفسیاتی پہلو بھی کارفرما ہوتا ہے۔ پروفیسر چارلس کے مطابق ''فریج سے نکالی گئی غذائیں عموماً تازگی کا احساس دلاتی ہیں، اور ہم سب تازہ خوراک پسند کرتے ہیں‘‘۔پروفیسر چارلس سپینس کا یہ مشورہ ان 80 فیصد چاکلیٹ شائقین کیلئے خوش آئند ہے جو ایک حالیہ سروے کے مطابق گرمیو ں میں اپنی چاکلیٹ پہلے ہی فریج میں رکھتے ہیں۔چاکلیٹ کمپنی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 2ہزار برطانوی شہریوں سے رائے لی گئی۔ نتائج کے مطابق 69 فیصد افراد چاکلیٹ کو اس لیے فریج میں رکھتے ہیں تاکہ وہ بہت جلد نہ پگھلے، جبکہ 51 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں ٹھنڈی چاکلیٹ کی کرکری ساخت اور اسے توڑنے پر پیدا ہونے والی خوشگوار ''چٹخ‘‘ کی آواز بے حد پسند ہے۔کیا چاکلیٹ صحت کیلئے مفید ہے؟چاکلیٹ بلاشبہ لوگوں کی پسندیدہ غذائی کمزوریوں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ہماری صحت کیلئے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔چاکلیٹ میں 300 سے زائد کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں، اسی لیے سائنسدان اس سے وابستہ مختلف طبی فوائد پر تحقیق کر رہے ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے 65 سال سے زائد عمر کے 8ہزارافراد کا مطالعہ کیا اور معلوم کیا کہ جو افراد معتدل مقدار میں چاکلیٹ کھاتے تھے، وہ چاکلیٹ نہ کھانے والوں کے مقابلے میں تقریباً ایک سال زیادہ زندہ رہے۔ ڈاکٹر نیل مارٹن نے مختلف خوشبوؤں کے ذریعے لوگوں کے دماغی ردعمل کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ چاکلیٹ کی خوشبو میں موجود کیمیائی مرکبات ناک کے حسّی خلیات پر اس قدر اثر انداز ہوتے ہیں کہ انسان خوشی اور سرشاری محسوس کرنے لگتا ہے۔100 گرام ڈارک چاکلیٹ میں 2.4 ملی گرام آئرن اور 90 ملی گرام میگنیشیم موجود ہوتا ہے، جو روزانہ درکار مقدار کا تقریباً ایک تہائی ہے۔اس کے برعکس، وائٹ چاکلیٹ میں کوکو کے ٹھوس اجزا موجود نہیں ہوتے، صرف کوکو بٹر شامل ہوتا ہے، اور اس میں چکنائی کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ 100گرام وائٹ ٹوبلیرون بار میں تقریباً 540 کیلوریز اور 30.7 گرام چکنائی موجود ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دانتوں کے ماہرین کے مطابق چاکلیٹ، زیادہ تر دوسری مٹھائیوں کے مقابلے میں دانتوں کیلئے کم نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ اسے عام طور پر جلدی چبا کر کھا لیا جاتا ہے، جبکہ دیگر مٹھائیاں دیر تک منہ میں رکھی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے اجزاء دانتوں پر پلاک (جراثیمی تہہ) بننے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتے ہیں۔چاکلیٹ میں فینائل ایتھائل امین (PEA) نامی مادہ بھی پایا جاتا ہے، جو دماغ میں قدرتی طور پر بننے والے مادے سے مشابہت رکھتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سیروٹونن اور اینڈورفنز جیسے خوشی پیدا کرنے والے کیمیکلز کی سطح بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔اسی طرح تھیوبرومین کیمیائی طور پر کیفین سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ مرکزی اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے اور مزاج کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 شادی حماقت ہے!

شادی حماقت ہے!

شادی کے بعد سے اس بات پر غور کرنے کی کچھ عادت سی ہو گئی ہے کہ شادی کرنا کوئی دانشمدانہ فعل ہے یا حماقت! یعنی اگر یہ دانشمندی ہے تو پھر بعض اوقات اپنے بے وقوف ہونے کا بے ساختہ احساس کیوں ہونے لگتا ہے اور اگر یہ حماقت ہے تو اس حماقت میں دنیا کیوں مبتلا نظر آتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ کوئی غور کرنے کی بات تھی تو شادی سے پہلے غور کیا ہوتا۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ غور کرنے کا شعور عام طور پر شادی کے بعد ہی پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ اس دنیا سے شادی کی رسم کب فنا ہو چکی ہوتی۔ یہاں تک پہنچنے کے بعد ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ شادی ہو چکنے کے بعد اس پر غور کرنے سے فائدہ ہی کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا فائدہ ایک شادی شدہ انسان کو تو خیر نہیں پہنچ سکتا۔ لیکن خلق اللہ کو فائدہ پہنچنے کا قوی امکان موجود ہے۔ جس طرح دنیا کے تمام تجربے حاصل کرنے والے بنی نوع انسان کے محسن ہیں۔ اسی طرح ہم شادی شدہ لوگ بھی آئندہ نسلوں کے محسن ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ نسلیں،دیکھیں ہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔ یقیناً وہ عظیم المرتبت شخص ہم سب کا محسن تھا جس نے سب سے پہلے زہر کھاکر مرنے کا تجربہ کیا اور دنیا کو زہر کے متعلق یہ شعور عطا کیا کہ اس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی شادی اس لیے کی ہے کہ غیر شادی شدہ ہم کو دیکھیں کہ شادی کرنے کے بعد انسان وہ ہوجاتا ہے جو ہم ہو گئے ہیں۔شادی تو خیر ایک مستقل مبحث بلکہ ایک فن مکمل ہے۔ اس صحرا کا صرف ایک ذرّہ اور اس قلزم کا صرف قطرہ اس وقت موضوع بحث ہے۔ یعنی بیوی بھی نہیں بلکہ بیوی کے رشتہ دار، اب اگر آپ اس ذرّے کی وسعتوں اور اسی قطرہ کی گہرائیوں پر غور کریں تو چیخ اُٹھیں گے۔اسی قطرہ میں دریا ہے اسی ذرّے میں صحرا ہے۔ بیوی کے رشتہ دار ایک شادی شدہ انسان کیلئے عام طور پر سانپ کے منہ والی چھچھوندر ثابت ہوتے ہیں جن کو نہ اگلا جائے نہ نگلا جاسکتا کہ وہ بیوی کے رشتہ دار ہیں۔ اور نگلا اس لئے نہیں جاسکتا کہ اپنے رشتہ دار نہیں ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کے متعلق ایک آدمی کو ہر وقت اگلنے یا نگلنے کااختیار حاصل رہتا ہے۔ ان سے دل خوش ہے، طبیعت میل کھا رہی ہے۔ دل قبول کر رہا ہے تو تعلقات قائم ہیں، ورنہ بہانہ ڈھونڈھ کر لڑ لئے۔ وہ اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش، لیکن بیوی کے رشتہ داروں کے متعلق تو یہ گویا ایک طے شدہ بات ہے کہ ان سے ہر حال میں تعلقات رکھنا ہیں۔ ان سے خلوص کا اظہار کرنا ہے، ان کی مدارات میں دل، جگر اور آنکھوں کے فرش بچھاکر ان پر جذبات کے گاؤ تکیے لگانا ہیں۔ اگر وہ بڑے ہیں تو سعادت مندی کے ان کو وہ جوہر دکھانا ہیں جو خود ان کی ذاتی اولاد سے ممکن نہ ہوں۔ اگر برابر کے ہیں تومحبت کا وہ اظہار کرنا ہے کہ وہ بھی منافقت کے قائل ہو جائیں۔ اگر چھوٹے ہیں تو اس قسم کی شفقت کرنا ہے جس میں گستاخی کا کوئی امکان نہ ہو۔البتہ اگر ادب کا پہلو نمایاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس قسم کی زبردستی اور نفس کشی سے ایک انسان کس حد تک جرائم پیشہ ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کی اخلاقی جرات فوت ہو جاتی ہے، ضمیر کی زبان پر فالج گر جاتا ہے۔ ایمانداری اختلاج میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی وہ انسان اگرکچھ باقی رہ جاتا ہے توصرف منافق، دروغ باف اور ایک حد تک ڈرپوک بھی۔ کچھ بھی ہو بیوی کے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات رکھنا ہی پڑتے ہیں۔ خواہ دل ہی دل میں وہ خودکشی یا فرار کے امکانات پر کتنا ہی غور کیوں نہ کرے۔ بیوی کے رشتہ داروں کی بھی عجیب عجیب قسموں سے ایک بیوی والے کو دوچار ہونا پڑتاہے۔ ان میں سے موت کا درجہ تو کم وبیش سب ہی کو حاصل ہوتا ہے۔بعض ہوتے ہیں محض موت، بعض ناگہانی موت، بعض غریب الوطنی کی موت اور بعض ہر حال میں ملک الموت، محض موت تو خاص خاص لوگ ہوتے ہیں جن کا ایک انسان تقریباً عادی ہو جاتا ہے مثلاً بیوی کے والد، بھائی، ماں، خالہ، چچا، چچی، ماموں اور ممانی وغیرہ۔ ناگہانی موت وہ رشتہ دار ہوتے ہیں جن کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا۔