پرتگالی نئی دنیا کی تلاش میں!
اسپیشل فیچر
پندرہویں اور سولہویں صدی کے دوران یورپیوں نے دنیا میں نئی دریافتوں کا آغاز ایک کے بعد دوسرے سمندری سفر سے کیا۔ شروع میں سپین اور پرتگال اس میں سب سے آگے تھے، البتہ انگلستان اور نیدرلینڈز بھی بعدازاں ان کے ہم پلہ ہو گئے۔
نئے علاقوں کی دریافتوں سے یورپیوں کا کرۂ ارض کے بارے میں علم وسیع ہوا، بالخصوص وہ سَب صحارہ افریقہ اور دو امریکی براعظموں کو جان پائے۔ ان خطوں میں ہونے والی فتوحات کے ساتھ مشنری بھی وہاں پہنچے اور یوں دنیا بھر میں یورپی سیاسی اور مذہبی اثرات پھیل گئے۔
پندرہویں اور سولہویں صدی میں دوردراز علاقوں پر نکلنے والے افراد کئی محرکات کے پیش نظر ایسا کر رہے تھے۔ تاہم ان میں سب سے اہم تجارت اور دولت تھے۔ ابتدائی دریافتوں میں مغربی افریقہ کے ساحل کے گرد چکر لگایا گیا، ان کا مقصد صحارہ کے ریگزار میں سے ہونے والی سونے کی تجارت کے متبادل راستہ تلاش کرنا بھی تھا۔ اس دور میں یورپی سمندری سفر کی بہتر تکنیک سے مزید آگے سفر کرنے کے قابل ہوئے، وہ ہندوستان اور پھر براعظم امریکا تک پہنچے۔
سپین اور پرتگال کی مختلف خطوں کی دریافتوں کی ابتدائی مہمات میں بحری جہازوں کے نئے ڈیزائن کا بہت ہاتھ تھا۔ پندرہویں صدی میں سپین اور پرتگال والوں کا جن بحری جہازوں پر زیادہ تر انحصار تھا نہیں ''گیلی‘‘ (galley) کہا جاتا تھا۔ اگرچہ یہ بہت تیز ہوتے اور انہیں موڑنا آسان ہوتا، لیکن ان کا ڈیزائن صرف بحیرہ روم کے پانیوں کے لیے کارآمد رہتا۔ زیادہ کھلے سمندر میں یہ غیرمؤثر اور غیر مستحکم ہوتے۔ طویل سمندری سفر کے لیے یورپی ملاحوں نے وہ بحری جہاز تیار کیے جنہیں کوگ (cog) کہا جاتا ہے۔ انہیں بحر بالٹک اور بحرشمال میں استعمال کیا جاتا۔ مزید بہتری کے لیے انہوں نے مسلم دنیا میں رائج بحری جہازوں کے ڈیزائنوں سے مدد لی اور نئے بحری جہاز بنانے میں کامیاب ہوئے جنہیں کاراولز (caravels) کہا جاتا تھا۔ یہ کھلے سمندر میں نہ صرف مستحکم رہتے بلکہ بادبانوں کا درست استعمال انہیں لمبے سفر کے قابل بناتا۔ یہ سمندری ہواؤں کو جہاز چلانے کے لیے خوب کام میں لاتے۔
اسطرلاب جہاز رانی کا ایک ایسا نیا آلہ تھا جو مسلم دنیا سے یورپیوں کے پاس آیا۔ دراصل مسلمان اسے ریگستانوں میں استعمال کرتے تھے۔ اس سے یورپی جہاز راں وقت اور سمت کا درست اندازہ لگانے کے قابل ہوئے۔ اسطرلاب کی جگہ اٹھارہویں صدی میں آلہ مسدس (sextant) نے لے لی۔
1415ء میں پرتگالیوں نے چند شہروں پر اپنا حق ملکیت ظاہر کیا۔ یہ شہر موجودہ مراکش میں شامل ہیں۔ 1433ء میں انہوں نے مغربی افریقہ کے ساحل کی باقاعدہ دریافتیں شروع کر دیں۔ اگست 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس نے، جس کی قومیت کا معاملہ آج تک زیربحث ہے، فرڈینانڈ اور ازابیلا کی معاونت سے سفر کیا اور بہاماس پہنچا جو ایسٹ انڈیز میں واقع ہے۔ فرڈینانڈ اور ازابیلا کی شادی سے وہ ریاست وجود میں آئی جو آج سپین کہلاتی ہے کیونکہ اس سے دونوں کے اقتدار میں رہنے والے علاقے ضم ہو گئے۔ کولمبس کا خیال تھا کہ وہ ہندوستان اور چین کی دولت سے بھرپور سرزمین پر جا پہنچا ہے جس کا ذکر وینس کے معروف سیاح مارکو پولو نے تیرہویں صدی میں کیا تھا، لیکن ایسا نہ تھا۔
اس کے بعد مشرقی انڈیز کہلانے والے علاقے میں زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنے کی ایک مہم کا آغاز ہوا۔ 1481ء میں پوپ کے اجازت نامے سے کینری جزائر کے جنوب کی تمام زمینیں پرتگال کی ملکیت قرار دے دی گئیں۔ 1493ء میں ہسپانوی قوم سے تعلق رکھنے والے پوپ الیگزینڈر ششم نے اعلان کیا کہ کیپ وردی جزائر کی تمام مغربی زمینیں سپین کو دی جائیں جبکہ اس پٹی کے مشرق میں واقع زمینیں پرتگال کی ملکیت ہوں۔ اس سے دونوں طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھ گیا۔ پرتگال کے بادشاہ کو لگا کہ پوپ الیگزینڈر کا جھکاؤ سپین کی طرف ہے۔
اس کا حل معاہدہ ٹورڈیسیلاس (Tordesillas) سے نکالا گیا۔ یہ سلطنت سپین اور پرتگال کے درمیان طویل اور تناؤ بھری سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اس سے اس دور کی دو سپر پاورز کے درمیان ''نئی دنیا‘‘ کو تقسیم کر دیا گیا۔ پرتگال کو مغربی افریقی ساحل اور ہندوستان تک پہنچنے والا بحرہند کا راستہ ملا۔ اس میں بحرالکاہل کے راستے بھی شامل تھے۔ سپین کو مغربی بحر اٹلانٹک اور مزید مغربی علاقے ملے۔ برازیل پرتگال کے حصے میں آیا۔