احساس تشنگی، کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
اسپیشل فیچر
عام طور پر کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اس کامیابی کے قابل نہیں ہیں اور یہ ہی احساس زندگی میں آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔''ہم اس قابل نہیں ہیں‘‘ یا ''ہم فلاں کام میں اتنے بہتر اور اچھے نہیں‘‘۔ دراصل یہ احساس خود کا دوسروں کے ساتھ بلاوجہ موازنہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور عموماً یہ موازنہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جو آج زندگی کی دوڑ میں کامیاب اور ماہر ہیں اور اپنے مقاصد بخوبی حاصل کر لیتے ہیں۔
ہم اپنی خامیوں کا دوسروں کی خوبیوں سے موازنہ کر کے خود کو کمتر بنا لیتے ہیں حالانکہ کسی کے بڑا ہونے سے آپ چھوٹے نہیں ہو جاتے۔ مثلاً ایک نومولود مصنف کسی مشہور رائٹر کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ میں اتنا بہتر نہیں ہوں یا کوئی نیا گلوکار کسی منجھے ہوئے گلوکار کو دیکھ کر یہ سوچتا ہے کہ میں اتنا اچھاگلوکار نہیں ہوں۔
اپنا موازنہ ان لوگوں کے ساتھ کرنا جو آج ماہر اور کامیاب ہیں، زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہے کیونکہ آپ اس وقت ایک بہت ہی اہم حقیقت اور سچائی کو رد کر رہے ہوتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی فرد کسی بھی فن میں ماہر یا استاد پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی محنت،شوق اور لگن سے ہی اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے اور مسلسل سیکھتا ہوا ایک خاص مقام حاصل کرتا ہے۔ ہر وہ فرد جو کسی بھی فیلڈ میں کامیابی حاصل کرتا ہے، کہیں نہ کہیں سے شروعات کر تا ہے اور بتدریج اس مخصوص کام میں مہارت حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرتا ہے۔
انسان بنیادی طور پر جلد باز واقع ہو ا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ فوراًہی کوئی نیا ہنر سیکھ جائیں لیکن کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ کسی بھی کام میں مہارت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب انتہائی تحمل اور صبر سے کام لیا جائے۔ جادو کی کوئی بھی ایسی چھڑی نہیں ہے جس کی مدد سے آپ فوراً ہی کسی کام میں ماہر بن جائیں۔ایسے بے شمار طریقے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے اس ادھورے پن کے احساس کو با آسانی ختم کر سکتے ہیں۔
خودکلامی کے الفاظ میں تھوڑا سا ردوبدل کریں۔ یہ قطعاً مت کہیں کہ ''میں فلاں کام میں اچھا نہیں ہوں‘‘ بلکہ یہ کہنا شروع کریں کہ اس وقت میں فلاں کام میں اتنا اچھا نہیں ہوں لیکن انشاء اللہ مستقبل میں، میںاس میں مہارت حاصل کر لوں گا۔کامیاب اور ماہر افراد کے ساتھ مقابلہ کرنے اور دل شکستہ ہونے کی بجائے ان لوگوں کو ایک مثال کے طور پر قبول کریں اور سیکھیں کہ انہوں نے یہ مقام حاصل کرنے کے لئے کیا کیا تھا اور آپ کے وہاں تک پہنچنے کے کیا امکانات ہیں اور ان ممکنات پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
اپنے ارد گرد کامیاب افراد پر نظر رکھیں اور دیکھیں کہ وہ کون کون سی عادات ہیں جو کامیاب اور ماہر ہونے کیلئے آپ میں ابھی نہیں ہیں۔ آپ کو وہ عادات اپنی شخصیت میں پیدا کرنی پڑیں گی اور اس کیلئے آپ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔اگر کوئی بھی کام آپ سے پرفیکٹ نہیں ہو رہا تو اس پر خود کو ملامت نہ کریں بلکہ خود کو پرفیکٹ سے ایک درجہ کم پر آمادہ کریں جب تک کہ آپ پوری طرح کسی کام میں مہارت حاصل نہیں کر لیتے۔اپنے اندر سے اس احساس کو بالکل ختم کر دیں کہ آپ کسی مخصوص کام میں اچھے نہیں یا بہت بہتر نہیں ہیں کیونکہ اگر آپ کسی کام میں ماہر اور ایکسپرٹ ہو نا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو سیکھنا ہو گا اور اس کیلئے کوشش کرنا ہوگی۔ آپ نئی مہارت اپنی شخصیت میں پیدا کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کو علم چاہئے تو آپ وہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے خواب اور حقیقت کے درمیان فاصلے سے مت گھبرائیں۔ آپ اگر خواب دیکھ سکتے ہیں تو یقیناً آپ ان کو حاصل بھی کرسکتے ہیں۔
(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں)