لواری ٹنل:پاکستان کا قدیم ترین منصوبہ
اسپیشل فیچر
وادیٔ چترال پاکستان کی وہ خوبصورت ترین وادی ہے جو متعدد چھوٹی چھوٹی وادیوں کا ایک سحرانگیز جھرمٹ ہے۔ لگ بھگ 5 لاکھ نفوس پر مشتمل یہ وادی ان چند وادیوں میں سے ایک ہے جو 10ہزار230 فٹ بلندی پر واقع ہونے کے سبب دشوار گزار راستوں پر مشتمل تھی۔یہاں قباحت یہ تھی کہ انگریز دور کی تعمیر شدہ سڑک چترال کے باسیوں کیلئے صرف موسم گرما کے مہینوں کیلئے کارآمد ہوا کرتی تھی۔ سردی کے مہینوں میں بلندی میں ہونے کی وجہ سے پہاڑوں پر برف جم جانے کے سبب ہر قسم کی آمدورفت معطل رہتی تھی۔
وادیٔ چترال سے باہر جانے کے دو راستے ہی ممکن ہوا کرتے تھے۔ ایک راستہ افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں جا نکلتا تھا جبکہ دوسرا راستہ گلگت بلتستان میں نکلتا تھا۔ یہ راستہ چونکہ 12ہزار فٹ سے بھی زیادہ بلندی پر واقع تھا اس لئے یہ صرف گرمی کے چند ماہ ہی کارآمد ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ چترال کا دنیا سے رابطہ صرف ایک ہی راستے سے ممکن تھا لیکن وہ راستہ پاکستان کی بجائے افغانستان کے صوبہ آراندو میں نکلتا تھا جبکہ وہاں سے پشاور پہنچنے کیلئے افغانستان کے صوبہ کنڑ اور ننگر ہار سے گزرنا پڑتا تھا۔ یہ راستہ یوں قابل استعمال نہ تھا۔ 2009ء میں پاکستانی افواج نے سوات آپریشن کے بعد شدت پسندوں کو کنڑ میں دھکیل دیا تھا جس کے سبب یہ راستہ تقریباً ناقابل استعمال ہی رہا۔
وادیٔ چترال کے باسیوں کا احساس محرومی بڑھتا چلا گیا اور ان کی ہر آواز صدائے بصحرا ثابت ہوتی رہی، حتیٰ کہ جب 2003ء میں '' کوہاٹ ٹنل ‘‘ کو عوام کیلئے کھولا گیا تو اہل چترال نے پوری وادی کے درو دیوار پر اپنا احتجاج ان الفاظ کے ساتھ نوٹ کرانا شروع کر دیا '' اگر کوہاٹ ٹنل بن سکتی ہے تو چترال ٹنل کیوں نہیں ‘‘۔ اگرچہ چترال ٹنل جس کو درہ لواری کی مناسبت سے ''لواری ٹنل‘‘ کا نام دیا گیا کا منصوبہ برصغیر کے انگریز دور کا ہے لیکن اس پر عملاً کام 2005ء میں شروع ہوا۔ آئیں لواری ٹنل کی تاریخ اور پس منظر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
طوالت کے لحاظ سے '' لواری ٹنل منصوبہ‘‘ پاکستان کا سب سے قدیم منصوبہ ہے۔ شاید بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ یہ منصوبہ پاکستان بننے سے بھی بہت پہلے بنایا گیا تھا لیکن یہ بات فرنگی دور کے آخری سالوں کی ہے۔ اس کے بعد جب انگریز دور کا خاتمہ ہوا تو پاکستان میں 1955ء میں انگریز سرکار کی ہی بنائی ہوئی ڈرائنگز کے مطابق اس کے سروے کا کام شروع ہوا جو ایک سال کے اندر اندر مکمل کر لیا گیا تھا۔ برٹش آرکائیوز لائبریری میں موجود ریکارڈ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ لواری ٹنل پراجیکٹ کا تصور سب سے پہلے برصغیر میں انگریز دورکے ایک حکمران سر ناصر المک نے پیش کیا تھا۔
پس منظر اس منصوبے کا یوں ہے کہ ایک مرتبہ جب مہتر چترال ناصرالملک (مہتر، چترال کے حکمرانوں کا عہدہ ہوا کرتا تھا) شملہ میں وائسرائے ہند سے ملنے جا رہے تھے تو انہیں راستے میں درگئی ہائیڈرو پاور سٹیشن کی تعمیر کیلئے مالاکنڈ کی پہاڑی سرنگ بنانے کے عمل کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ دیر اور چترال کے درمیان عوام کو درپیش سفری مشکلات کا انہیں احساس تھا اس لئے انہوں نے فی الفور انگریز سائٹ انجینئر سے اس بارے اس کی رائے جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا کہ یہ منصوبہ عین ممکن ہے۔ چنانچہ دوران ملاقات انہوں نے جب وائسرائے سے اس منصوبے کی سفارش کی تو انہوں نے فوری طور پر لواری ٹنل پراجیکٹ کے ابتدائی سروے کے احکامات جاری کئے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب انگریز سرکار نے برصغیر پاک و ہند سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم خوش قسمتی سے انگریز دور میں اس منصوبے کا سروے اور ابتدائی ڈرائنگ ورک مکمل کر لیا گیا تھا۔
پاکستان بننے کے بعد 1955ء میں انگریز دور کی تیار کردہ ڈرائنگ ہی کی بنیاد پر پہلی مرتبہ اس پراجیکٹ کیلئے سروے کا آغاز کیا گیا جس نے ایک سال کے اندر اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کے حوالے کر دی لیکن کچھ وجوہات کے باعث اس پراجیکٹ پر کام شروع نہ ہو سکا۔ 1970ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو 1975ء میں لواری ٹنل منصوبے پر دیر کی طرف سے کام کا آغاز کر دیا گیا۔ بد قسمتی سے 1976ء میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس پر کام روک دیا گیا۔ اس کے بعد 2005ء تک یہ منصوبہ سرد خانہ کی نذر رہا۔ 2005ء میں جنرل پرویز مشرف نے اس منصوبے کے دوبارہ آغاز کا اعلان کیا۔ اس دوران لواری ٹنل کے '' ریل منصوبے‘‘ کو ''روڈ ٹنل منصوبے‘‘ میں بدل دیا گیا۔
لواری ٹنل صوبہ پختونخوا کے ضلع چترال اور ضلع دیر کے درمیان درہ لواری میں پہاڑوں کے نیچے سے گزرتی ہے۔ سڑک کے ذریعے یہ سرنگ چترال اور دیر کو آپس میں ملاتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دوسرنگیں ہیں، ان میں سے ایک کی لمبائی 8.5 کلومیٹر جبکہ دوسری کی لمبائی 1.9کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کی طویل ترین سرنگ ہے۔ اگست 2005ء میں پہلی مرتبہ دیر اور چترال دونوں اطراف سے کام کا آغاز زور و شور سے شروع ہوا۔ چترال کے لوگوں کیلئے جنوری2009ء کا ایک دن یادگار تھا جب اس ٹنل کی کھدائی کا کام اپنی تکمیل کو پہنچا۔
اس کے بعد عوام کی سہولت اور سردیوں کے موسم میں لواری ٹاپ کی بندش کے پیش نظر ہفتے میں تین دن مختلف اوقات میں اس زیر تکمیل ٹنل سے مسافر گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی جانے لگی۔ جس سے چترال کے علاقے میں خوراک کی سپلائی بہتر ہو گئی۔ 2013ء میں اس منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز کر دیا گیا۔ یوں 20جولائی 2017ء میں اس دیرینہ منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبے پر 26ارب، 85کروڑ 50لاکھ روپے لاگت آئی۔ جس کے ساتھ ہی چترال کے باسیوں نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ کئی کئی گھنٹوں کا بے یقینی کا سفر اب چند منٹوں میں بآسانی طے ہو جاتا ہے۔
خاور نیازی سابق بینکر اور
لکھاری ہیں ، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ
چکے ہیں