خاندان خوش حال اورمستحکم معاشرے کی بنیاد
اسپیشل فیچر
خاندانی نظام کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر 1993ء میںاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے ''عالمی یوم خاندان‘‘ منانے کی منظوری دی گئی تھی۔ جس کے بعد سے یہ دن ہر سال 15مئی کو باقاعدگی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، خاندانی زندگی کو مضبوط بنانا اور خاندانی نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی کے متعلق شعور کو اجاگر کرنا ہے۔ اس طرح خاندان سے جڑے سماجی اور معاشی مسائل جو خاندان پر اثر انداز ہو رہے ہیںان کا سدِ باب کیا جاسکے۔
''عالمی یوم خاندان‘‘ کے موقع پر فیملی لائف کی اہمیت اور رشتوں کے حقوق بیان کئے جاتے ہیں تاکہ معاشرہ پُرامن اور خوشحال رہے۔ خاندان انسان کی پرورش کی سب سے پہلی سیڑھی ہوتا ہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے ''اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش(کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا پھر ا ن دونوںمیں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق)کو پھیلا دیا‘‘ (سورۃ النسا: 1)۔ گویا انسانی خاندانوں کی ابتداء کا پسِ منظر بیان کیا گیاکہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ تخلیقی سے خاندان بنایا۔یہ سلسلہ جس طرح ماضی میں ہر دور، ہر وقت اور ہر قسم کے حالات میں جاری رہا۔اسی طرح آج بھی ہے اور آخری انسان کی پیدائش تک جار ی رہے گا۔ یہی قدرتِ خداوندی اور منشائے ربانی ہے۔
خاندان کی بنیاد مرد و عورت مل کر رکھتے ہیں۔ اسلام میںخاندان کی بنیادی اکائیاں میاں، بیوی ہیں۔ مگر ان کے ساتھ ماں باپ، بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاںاور دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ خاندان میں انسان ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ مشکلات میں ایک دوسرے کے کام آتا ہے۔ مردو عورت دونوں مل کر اولاد کی تربیت کرتے ہیں۔ والدین اور بہن بھائیوں کے حقوق و فرائض کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اس طرح اکٹھے رہنے سے آپس میں پیا ر و محبت قا ئم رہتا ہے۔ جب گھر کے افراد ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹ لیتے ہیں تو اس خاندانی نظام سے بچوں کو تنہائی کا احساس نہیں ہوتا ۔بچے والدین اور دادا دادی کی سنگت میں رشتوںکی اہمیت کو سمجھنے لگتے ہیں۔
خاندانی نظام میں عورت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ عورت کو قدرت نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ ماں کی جھولی کو اولاد کی پہلی درس گاہ قرار دیا گیا ہے۔ عورت نسلِ انسانی کو پروان چڑھاتی ہے۔ لہٰذا اس کی معمولی سی غفلت، کوتاہی اور عدم توجہی پوری قوم کو نا قابلِ تلافی نقصان سے دو چار کر سکتی ہے۔ خاندان میںبیوی کی حیثیت سے عورت پر کئی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ جس میں شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اور ہر قسم کے مصائب و مشکلات میں الفت کا ساتھی بننا بھی ہے۔ جیسے مصائب و مشکلات میں حضرت خدیجہ ؓنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی۔ جب آپؓ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی ہوئی تو آپؓ نے اپنی ساری دولت حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قدموں پہ نچھاور کر دی ۔
عصرِ حاضر میں خاندانی نظام اپنی مذہبی و روحانی اقدار کو بھلانے کے باعث زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ مغربی معاشرہ اس حوالے سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔خاندانی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے امریکہ اور سویڈن سر فہرست ہیں۔ ان دونوں ممالک میں 70 فیصد کے قریب خاندان ٹوٹ چکے ہیں۔ مغرب میں خاندانی نظام کے اس بگاڑ کے اثرات اسلامی معاشرہ پر بھی ہورہے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں اب خاندان کی اکائی بکھر کر رہ گئی ہے۔ماں باپ اولاد پر اپنا کنٹرول کھو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج اسلامی تعلیمات سے روگردانی نے خاندانی نظام کو زوال کا شکار کر دیا ہے۔ خاندان کا ہرفرد اپنے حقوق و فرائض سے پہلو تہی کر رہا ہے۔ صبر، تحمل، برداشت، صلہ رحمی، اخوت و بھائی چارہ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آج غربت، بے روز گاری، معمولی جھگڑوں اور بے راہ روی کا شکار ہو کر اولاد کو قتل کیا جا رہا ہے۔
خاندانی نظام کے زوال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج معاشرہ مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے چند پُرفتن اور لغو نعروں میں بہک گیا ہے۔ ہر کوئی حدود و قیود سے آزاد زندگی گزارنا چاہتا ہے ،جہاں کوئی فرائض نہ ہوں ۔یہی وجہ ہے کہ اولاد والدین کی محبت و شفقت سے محروم جبکہ والدین کو اولاد کی طرف سے بے ادبی و عدم برداشت کے روّیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔خاندانی نظام کے بگاڑ کا اہم سبب دن بدن بڑھتی معاشرتی بے راہ روی بھی ہے۔
پچھلے کچھ عرصہ میں میڈیا نے جس تیزی سے ترقی کی ہے وہیں معاشرہ بے راہ روی کا شکار بھی ہوا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے ڈرامے خلع، طلاق جیسے مسائل میں ابہام پیدا کررہے ہیں۔ ہم سب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اسوہ ٔمبارکہ پر عمل کرنا ہو گا ۔ موجودہ وقت میں خاندانوں کی دیرینہ روایات کو برقرار رکھنے، فیملیز کے درمیان اتحاد، اتفاق، یگانگت، بھائی چارے کی فضا کے فروغ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شراکت، خاندانوں کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت پر مؤثرآگاہی و شعور بیداری کی ضرورت ہے۔