جڑانوالہ:اہم تاریخی شخصیات کی جائے پیدائش
اسپیشل فیچر
جڑانوالہ شہر ضلع فیصل آباد میں بطور تحصیل ہیڈ کوارٹر شامل ہے۔ فیصل آباد سے مشرقی جانب ننکانہ صاحب اور پتوکی جانے والی شاہراہ پر 38کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 800فٹ ہے، اس کے جنوب میں لاہور سے ملتان جانے والی موٹر وے گزرتی ہے۔ ننکانہ سے شورکوٹ جانے والی ریلوے لائن پر ریلوے اسٹیشن قائم ہے۔ دریائے راوی جڑانوالہ سے بیس کلو میٹر جنوبی جانب بہتا ہے۔ جڑانوالہ کا علاقہ ساندل بار میں شمار کیا جاتا ہے۔ جہاں قدیم دور سے متعدد قبائل آباد تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنی بہادری کی وجہ سے اپنی آزادی برقرار رکھی۔
جڑانوالہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں سعید الرحمن ثاقب ''تاریخِ جڑانوالہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ موجودہ جڑانوالہ شہر چک نمبر 127گ ب کی حدود میں واقع ہے۔ شیر شاہ سوری کی تاریخی جرنیلی سڑک اور چک نمبر 240گ ب کے موڑ پر ایک تاریخی کنواں تھا اس کنویں کے ساتھ بوہڑ کا ایک بڑا درخت موجود تھا۔ درخت اور کنواں دونوں شیر شاہ سوری کے دور سے موجود تھے اور آنے جانے والوں کے لئے سایہ اور پانی کا ذریعہ بنتے تھے۔ چھیڑئوں اور گلہ بانوں کیلئے پانی پلانے اور سایہ کا انتظام تھا۔ اس وجہ سے جڑاں آلہ بوہڑ یا جڑاں آلہ کھوہ مشہور ہو گیا۔ اس مقام پر جھونپڑیوں کی ایک بستی بھی آباد ہو گئی۔ رفتہ رفتہ بوہڑ اور کھوہ کے الفاظ متروک ہو گئے اور بستی کا نام جڑانوالہ مشہور ہو گیا محکمہ مال کے ریکارڈ میں رہنہ جڑانوالہ کا نام اب تک موجود ہے۔
جھنگ برانچ اور گوگیرہ برانچ نہریں دریائے چناب سے نکال کر ان علاقوں میں لائی گئیں جن کی لمبائی 430میل ہے، نہر گوگیرہ 182میل لمبی ہے جو دنیا کی طویل ترین نہر ہے جو جڑانوالہ کے درمیان سے گزر کر گوگیرہ کی طرف چلی جاتی ہے۔ اس کے گردو نواح میں چکوک آباد کئے گئے پیداوار آنے کی صورت میں منڈیوں کی ضرورت محسوس کی گئی اور یوں محل و قوع کی مناسبت سے موجودہ جڑانوالہ کے مقام پر ایک ٹائون آباد کرنے کی منظوری دی گئی۔ چک نمبر 127گ ب نصرانی کے رقبہ سے 449ایکڑ ٹائون کیلئے مخصوص کر لیا گیا۔ اس ٹائون کی پلاننگ کیلئے سرگنگارام کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شہر کے درمیان غلہ منڈی قائم کی گئی، بس سٹینڈ، ریلوے سٹیشن کے نزدیک بنایا گیا، مساجد، مندر، گوردوارہ اور چرچ کے لئے علیحدہ علیحدہ فاصلے اور جگہیں رکھی گئیں۔ گلیاں اور بازار کھلے رکھے گئے، ڈپٹی کمشنر لائل پور کیپٹن فریئر کے نام پر فریئر آباد نام رکھا گیا لیکن جڑانوالہ کا نام اسی طرح زندہ رہا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی تبدیلی نام کی کوششیں کی گئیں لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔
جڑانوالہ کا علاقہ نیا آباد ہونے کے باوجود مختلف جگہوں پر تاریخی پس منظر والی خستہ حال عمارات اب بھی موجود ہیں۔ ان میں ''بگے محل‘‘ چک نمبر 653گ ب میں موجود ہے۔ یہ عمارت مغلیہ دور میں تعمیر ہوئی تھی جو بارہ کمروں پر مشتمل تھی، یہ بارہ دری کی طرح کھلے کمرے تھے، اس کی محرابوں کے دروازے اس قدر اونچے تھے کہ ان میں سے اونٹ گزر سکتا تھا۔ یہ روایت مشہور ہے کہ اس سفید محل کو شہزادہ دارالشکوہ نے تعمیر کرایا تھا جو اس علاقہ میں شکار کے لئے آیا کرتا تھا، اس سفید محل کی وجہ سے چک نمبر 453کو ''بگے محل‘‘ کہا جاتا ہے۔
جڑانوالہ کے جنوب مغرب میں سید والا روڈ پر ایک قدیم قبرستان موجود ہے جو علاقہ کی وسیع آبادی کا واحد قبرستان ہے۔ یہاں پر کبھی مدرسہ تھا جس کی وجہ سے اسے مدرسہ قبرستان کہا جاتا ہے۔ یہ قبرستان 141ایکڑ کے رقبہ پر مشتمل ہے۔ یہاں پر سفید مسالہ سے بنی ہوئی بے شمار قبریں موجود ہیں، یہ قبریں ابتدائے اسلام اور مغلیہ دور کی بنی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مدرسہ قبرستان میں پتلی اینٹوں سے تعمیر شدہ ایک طویل قبر موجود ہے جسے عرف عام میں پنج گزی اور پنج پیر کہا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق یہ قبر کسی صحابی کی ہے تاہم مستند حوالہ موجود نہ ہے۔
''مرزا صاحباں‘‘ کی رومانوی داستان کا تعلق بھی جڑانوالہ کے علاقہ دانا آباد سے ہے۔ مرزا کے والد کا نام ونجھل اور والدہ کا نام فتح بی بی تھا، ان کا ساہی راجپوت قبیلہ سے تعلق تھا۔ صاحبان کھیوہ خان ماہنی سیال کی بیٹی تھی جن کے نام پر جھنگ سے بارہ میل کے فاصلہ پر کھیوہ نام کا شہر آباد ہے۔
بھگت سنگھ موضع بنگلہ جڑانوالہ کا رہائشی تھا، جلیانوالہ باغ میں 400افراد مارے جانے پر اس نے مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا اور انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر سانڈرس کو لاہور میں قتل کردیا۔18اپریل 1929ء کو اسمبلی بلڈنگ دہلی پر بم پھینکا، بعد میں اسے گرفتار کر کے 23مارچ 1931ء کے دن حسینی والا ضلع فیروز پور کے مقام پر پھانسی دے دی گئی جہاں بھگت سنگھ کی سمادھی بنی ہوئی ہے۔ یہ مقام پہلے پاکستان کے پاس تھا،17جنوری 1961ء کو ایک معاہدہ کے تحت یہ مقام بھارت کے حوالے کردیا گیا۔ اس کے بدلے کچھ اور مقام بھارت سے حاصل کئے گئے۔
جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک حریت پسند سحر گل تھے، یہ بھی بھگت سنگھ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ بھگت سنگھ کے بھائی کلیر سنگھ اور کرتار سنگھ شورش کاشمیری کے ساتھ جیل میں رہے۔ سحر گل کو انقلابی سرگرمیوں کی وجہ گرفتار کرکے پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد انہیں رہائی نصیب ہوئی، 24 ستمبر 1980ء کو 75برس کی عمر میں وفات پائی۔شہر کے کاروباری مراکز میں مسجد بازار، ریل بازار، چوڑی بازار، انار کلی بازار، موچی بازار، ڈاہا بازار، مندر بازار، منڈی بازار، گوردوارہ بازار شامل ہیں جہاں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔