حیرت کی دنیا ابن الہیثم :بابائے آپٹکس
اسپیشل فیچر
دسویں صدی عیسوی کو سائنس کا'' سنہرا دور‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت مسلمان سائنسدان اپنے علم کا لوہا پوری دنیا میں منوا رہے تھے۔ آئے روز نت نئی ایجادات کر کے دنیا کو حیرت میں مبتلا کر رہے تھے ۔ دسویں صدی میں ایک نام منظرِ عام پر آتا ہے اور سائنس کی دنیا میں چھا جاتا ہے۔ یہ نام ابن الہیثم کا تھا اور پہلے کیمرے کی ایجاد کا سہرابھی اسی مسلمان سائنس دان کے سر ہے۔
ابن الہیثم نے ہی پہلی بار یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ روشنی توانائی کی ایک صورت ہے اور ہم چیزوں کو اس لیے دیکھ سکتے ہیں کہ روشنی ان سے ٹکراکر، پلٹ کرہماری آنکھوں تک پہنچتی ہے۔ یہ نظریہ انہوں نے تب پیش کیا جب سائنس دان توانائی کے نام سے بھی ناواقف تھے۔
ابن الہیثم نے جب آ نکھ کی ساخت کا مشاہدہ کیا تو انہیں مسور کے دانے سے ملتی جلتی لگی۔مسور کو عربی میں ''عدس‘‘ کہتے ہیں اس لیے انہوں نے اس کا نام ''عدسہ‘‘رکھ دیا۔ جب مسور کا لاطینی ترجمہ کیا گیا تو'' lens‘‘تھا جس سے lentilsکی اصطلاح وضع کر لی گئی۔ آج کل دوربین،عینک وغیرہ میں جو ''عدسے‘‘ استعمال کیے جاتے ہیں، وہ ابن الہیثم کی ایجاد ہیں۔
ابن الہیثم نے کشش ثقل یعنی gravity کے بارے میں بہت پہلے واضح طور پر بتا دیا تھا۔ اس کے بعد نیوٹن جیسے یورپی سائنسدان نے گریوٹی پر کام کیا۔ ابن الہیثم نے ''Pinhole Camera‘‘ایجاد کیااور اس کے علاوہ لفظ''کیمرہ‘‘بھی آپ کا دریافت کردہ ہے۔
دریائے نیل مصر کا سب سے بڑا دریاہے اس پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم واقع ہے جو کہ ابن الہیثم کے بنائے ہوئے نقشے پر تعمیر کیا گیا تھا۔میڈروڈ یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر ریکارڈ و مورینو بتاتے ہیں کہ وہ ایک عظیم ریاضی دان بھی تھے، ابن الہیثم ان پہلے ریاضی دانوں میں سے تھے جنہوں نے بڑے سوالوں کو حل کرنا سکھایا۔ انہوں نے ہندسوں کی مدد سے ایک تہائی سوالوں کے جواب دئیے۔یہ وہ سوال تھے جو ارشمیدس نے بارہ سو سال قبل پوچھے تھے۔ ابن الہیثم کو پہلے سائنسدان کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔
ابن الہیثم طبعیات، ریاضی، ہندسیات، (انجینئرنگ ) فلکیات اور اور علم الادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔ان کی وجہ شہرت آنکھوں اور روشنی کے متعلق تحقیقات ہیں۔ ابن الہیثم کے کام سے بہت سے سائنسدانوں نے استفادہ کیاجبکہ گلیلیونے اپنی دوربین انہی کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے بنائی۔
ابن الہیثم کی وجہ سے یورپ میں مائیکرو سکوپ اور ٹیلی سکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی تھی۔ ابن الہیثم نے محراب دار شیشے پر ایک نقطہ معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔جس سے عینک کے شیشے بنانے میں مدد ملی۔ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف یعنی مڑنا دریافت کیا ۔انہوں نے نظر کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے عدسوں کا استعمال کیا۔ان کی اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی شامل ہے۔ انہوں نے آنکھ کے ہر حصہ کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں آج کی جدید سائنس بھی رتی برابر تبدیلی نہیں کر سکی۔ان کی سب سے اہم کتاب ''کتاب المناظر‘‘ ہے، جو 1011ء اور 1021ء کے دوران لکھی گئی۔ انہیں ''بابائے آپٹکس‘‘ (Father of Optics) بھی کہا جاتا ہے۔
انہیں حقیقی سائنسدان کا نام دیا گیا۔وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے کہاکہ مفروضے کو تجربے سے ثابت کیا جانا ضروری ہے جو قابل توثیق ہوں اور ریاضی سے ثابت کیے جا سکتے ہوں۔انہوں نے زمین کی ساخت کے بارے میں بہت تحقیق کی اور سیاروں کی نقل وحرکت کے بارے میں تحریر کیا۔ابن الہیثم نے جیومیڑی اور الجبراکے درمیان تعلق کو جاننے کی ابتدا کی۔ موسیقی کے ذریعے جانوروں پر اثرات جاننے کی کوشش کی۔انہیں علم فلسفہ اور ریاضی دان کا ایک بڑا نام مانا جاتا ہے۔جمود(Law of Inertia) دریافت کیا جو بعد میں نیوٹن کے ''فرسٹ لاء آف موشن‘‘ کا حصہ بنا۔
ابن الہیثم کے بہت سارے کارنامے ہیں۔جن کو جاننے کیلئے ابن الہیثم کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ سائنس نے اس دنیا کا نظام ہی نہیں انسان کا اندازِفکر بھی بدل دیاہے ۔آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے وقت ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ایجاد کے پیچھے تحقیق کس کی ہے۔ایسی کچھ ایجادات جو کہ مسلمان سائنسدانوں کی بدولت آج ہم استعمال کر رہے ہیں۔ایسی بیشمار ایجادات ہیں جویورپی سائنسدانوں نے تھوڑی رد و بدل کے ساتھ اپنے نام سے منسوب کر لیں۔ کتنی غیر معمولی بات ہے کہ اب پتہ چل رہا
ہے کہ آج کے ماہرین طبیعات پر ایک ہزار پہلے کے ایک عرب سائنسدان کا کتنا قرض ہے۔ مسلم سائنسدانوں نے جس سائنسی علوم کی فصل بوئی تھی موجودہ دور اس کو کاشت کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
مسلمانوں نے جب تک علمی روش کو اپنایا اور اسے اپنی کامیابی کا سر چشمہ سمجھا یہ سارے جہاں پر حکومت کرتے رہے اور جوں ہی غفلت برتی زوال و پستی ان کا مقدر بن گئی۔دور قدیم میں مسلمان ہر میدان میں علم کے کوہ ہمالیہ ہوا کرتے اور مختلف علوم و فنون ان کے سینوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ابن الہیثم نے بہت سارے موضوعات میں محنت کر کے مہارت حاصل کی بعد میں ان کے دماغ میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ اپنی تحقیق و تجربات کو قیدِ تحریر میں لایا جائے تاکہ نہ صرف اپنی کتابیں وہ خود اپنے شاگردوں کو پڑھا سکیں بلکہ آئندہ نسلیں بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔آخر میں یہی کہوں گا کہ ہمارے عظیم مسلمان سائنسدانوں کی بدولت ہی آج سائنس نے انسان کو ایسی ایسی سہولیات بہم پہنچائی ہیں جن کے بارے میں وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔