ہیرو شیما پر ایٹمی حملہ
اسپیشل فیچر
ہیروشیما اور ناگاساکی پر قیامت ڈھا کر کیا ا مریکہ کا مقصد پو را ہو گیا؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب آج تک انسانیت نام نہاد سپر پاور سے مانگتی ہے ۔ویسے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ 6 اگست 1945ء کو امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کیوں کیا؟ اس کے تین دن بعد امریکہ نے ناگاساکی پر ایٹمی حملہ کردیا۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر حملوں کے نتیجے میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس کے دو ہفتے بعد جاپان نے ہتھیار پھینک دئیے۔
سب سے پہلے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آخر امریکہ کو جاپان پر ایٹمی حملوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ایک وجہ تو یہ تھی کہ امریکہ اس جنگ کو جلد ختم کرنے کا خواہاں تھا کیونکہ اس کے فوجیوں کا نقصان ہو رہا تھا۔ ان حملوں سے امریکی سپاہیوں کی جانیں بچ گئیں۔ ان حملوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ جاپان ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ ان حملوں سے قبل یہ تاثر عام تھا کہ جاپان ہتھیار پھینکنے کیلئے تیار نہیں۔ ان ایٹمی حملوں کا ایک اور بڑا سبب یہ تھا کہ امریکہ پرل ہاربر (امریکہ کا بحری اڈہ) پر جاپانی حملوں کا انتقام لینے پر تلا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پرل ہاربر پر جاپانی حملے کے بعد ہی امریکہ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوا تھا۔
ہیروشیما پر حملے کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ اس شہرپرامریکہ نے کوئی فضائی حملہ نہیں کیا تھا۔ اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایٹم بم کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے یہ شہر مناسب ہے۔ہیروشیما اس زمانے میں جاپان کا ایک اہم فوجی اڈہ بھی تھا۔ امریکی صدر ٹرومین نے فیصلہ کیا تھا کہ جاپان کے دیگرشہروں پر ایٹمی حملوں سے کوئی خاطر خواہ تاثر پیدا نہیں ہوگا۔ اصل مقصد جاپان کی جنگ لڑنے کی صلاحیت کو ختم کر نا تھا۔ اس وقت ہیروشیما کی آبادی تین لاکھ اٹھارہ ہزار تھی اور یہ جاپان کا ساتواں بڑا شہر تھا۔یہاں فوجی اسلحہ سپلائی کرنے کا ایک بڑا ڈپوبھی تھا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہیروشیما پر ایٹمی حملوں سے 70ہزارافراد ہلاک ہو گئے جبکہ ناگاساکی پر حملوں سے 40 ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔ بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر مزید ہزاروں افراد موت کی وادی میں اتر گئے۔ تابکاری کے اثرات نے کئی بیماریاں پھیلا دیں جن میں سرطان کا مرض بھی شامل تھا۔ مجموعی طور پر 2 لاکھ افراد اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
اب اس بات پر بھی غور ضروری ہے کہ ہیروشیما کے بعد ناگاساکی کو کیوں ایٹمی حملوں کا نشانہ بنایا گیا؟ ناگاساکی اس وقت وہ شہر تھا جہاں بحری جہاز بنائے جاتے تھے۔ اس شہر کے اردگرد پہاڑیوں کی موجودگی نے تباہی کو کم کرنے میں مدد کی۔ یہاں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 60 ہزار سے 80ہزار بتائی جاتی ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ امریکہ نے جرمنی پر ایٹم بم کیوں نہیں برسائے؟ اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت تک ایٹم بم پوری طرح تیار ہی نہیں ہوا تھا جب جرمنی نے سرکاری طور پر ہتھیار پھینک دئیے۔ جرمنی نے 7مئی 1945ء کو اتحادی طاقتوں کے سامنے ہتھیار پھینکے تھے۔
امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر پھینکے جانے والے بموںکو''چھوٹا لڑکا‘‘ (Little Boy) اور ''موٹا آدمی‘‘ (Fat man) قرار دیا تھا۔ ابھی تک اس بات پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ کیا ایٹمی حملوں کا فیصلہ ایک سنجیدہ خیال تھا۔ ایٹم بم کا پہلا کامیاب تجربہ 16جولائی 1945ء کو نیو میکسیکو میں کیا جا چکا تھا۔ 1945ء میں کریمیا میں ہونے والی کانفرنس میں برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل، امریکہ کے صدر روز ویلٹ اور سابق سوویت یونین کے وزیراعظم جوزف سٹالن شریک ہوئے۔ مشہور جنرل گروز نے جنگ کے اختتام پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ تمام کمانڈروں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ جرمنی میں جنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے اورایٹم بم پھینکنے کیلئے جاپان کو ہی نشانہ بنانا چاہئے۔ اس بات پر تمام اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ایٹم بم پھینکنے کیلئے جرمنی پر ایٹمی حملہ کوئی پائیدار آپشن (Viable Option) نہیں تھا۔
اب ایک اہم سوال کی طرف آتے ہیں۔ امریکہ نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پر کیوں حملہ نہیں کیا؟ اس کی وجوہات بڑی ٹھوس ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹوکیو پر ایٹمی حملہ نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ یہاں جاپانی شہنشاہ کا گھر تھا۔ ٹوکیو پر ایٹم بم پھینکنے کا ارادہ اس وقت تبدیل کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ ایسا کرنا فوجی اہمیت کے حوالے سے مناسب نہ تھا۔ اگر جاپان پر ایٹمی حملہ کرنا ضروری تھا تو پھر جنوب سے حملہ کیا جائے اور ٹوکیو جنوب میں نہیں تھا۔ نیگاٹا کے علاوہ تمام اہداف جنوب میں واقع تھے۔ آخر میں ٹوکیو پر بم گرانے کا منصوبہ ترک کرکے ناگاساکی کا انتخاب کیا گیا جہاں دوسرا ایٹم بم گرایا گیا۔
امریکی جنگی ماہرین کے مطابق اگر ایٹم بم ایسے شہر پر گرایا جائے جہاں پہلے ہی بہت بمباری کی جا چکی ہو (جیسے کہ ٹوکیو) تو اس سے یہ تعین کرنا مشکل ہوگا کہ یہ کتنا طاقتور بم تھا کیونکہ فضائی حملوں سے پہلے ہی بہت نقصان ہو چکا تھا۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملوں کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ تھی کہ یہ فوجی لحاظ سے بڑے اہم شہر تھے۔ ٹوکیو پر حملے نہ کرنے کی ایک وجہ اوپر بیان کی جا چکی ہے کہ یہاں جاپان کے شہنشاہ کی رہائشگاہ تھی ۔ اس کے علاوہ جاپان کے بڑے فوجی افسروں کا ٹھکانہ بھی یہی تھا۔ اب اگر آپ ہتھیار پھینکنے کیلئے جاپان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان فوجی افسروں کو ہلاک کرنا ہرگز دانشمندی نہ ہو گی۔