ماشکی ماضی کا کردار جواب نا پید ہے

ماشکی ماضی کا کردار جواب نا پید ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : اللہ دتہ ڈھنوت


لفظ ''ماشکی‘‘'مشک‘‘ سے نکلا ہے۔مشک کو عربی میں السقہ،فارسی میں خیک اور انگریزی میںWaterskin کہتے ہیں۔ اس کی تصغیر مشکیزہ یعنی پانی بھرنے کی کھال، چھاگل، جانور یا بھیڑ، بکری کی کھال سے بنی ہوئی مشک ہے۔ یہ چمڑے کا ایک ایسا بیگ ہوتا ہے جس میں دریا یا کنوئیں سے پانی بھر کر استعمال کی جگہ لے جایا جاتا تھا۔ اس طرح پرانے وقتوں میں پینے کے پانی کو گھر گھر پہنچانے والے کو ماشکی، سقہ اور بہشتی کہا جاتا تھا۔ماشکی ایک قدیم پیشہ ہے۔اگرچہ یہ پیشہ مفقود ہوچکا ہے تاہم اس کے آثار آج بھی کہیں کہیں دیکھے جاسکتے ہیں۔عربوں کے ہاں اس کا باقاعدہ محکمہ قائم تھا۔ انگریز فوج بھی ماشکی سے خدمات لیتی تھی۔ برطانوی شاعر رڈیارڈ کپلنگ نے اپنی ایک نظم کو Gunga Dinسے معنون کیا تھاجو انگریزوں کے دورِ حکومت میں ایک ماشکی کا نام تھا۔ اُس کا کام فوجی مشقوں اور لڑائی کے دوران زخمی فوجیوں کو پانی پلانا تھا۔ کپلنگ نے اپنی مذکورہ نظم میں گنگا دِن کی بہادری کی تعریف کی ہے جومیدانِ جنگ میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر زخمی اور پیاسے سپاہیوں کو اپنے مشکیزے سے پانی پلاتا تھا۔
مغل دور میں بھی ماشکی کنوئیں سے پانی نکال کر مشکیزہ گدھے پر لاد کر گھر گھر پانی پہنچانے کا کام کیا کرتے تھے۔ نظام سقہ کو مغل فرمانروا ہمایوں نے ایک دن کی بادشاہت عنایت کی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ہمایوں کوشیر شاہ سوری نے شکست دی تو دہلی واپس آتے ہوئے اسے دریا عبور کرنا پڑا،اُسے تیرنا نہیں آتا تھا۔ دریا کے کنارے پر نظام نامی سقّہ اپنے مشکیزے میں پانی بھر رہا تھا۔ اس نے ہمایوں کو دریا پار کرانے میں مدد کی تھی۔ ہمایوں کو جب دوبارہ اقتدار نصیب ہوا تو اس نے سقّہ کو اپنے دربار میں بلوایا اور اس کی خواہش پر اپنا تاج اس کے سر پر رکھ کر اسے ایک دن کی بادشاہت عنایت کی تھی۔اس کی یاد میں دلی کے بہشتی جامع مسجد کی سیڑھیوں اور ہمایوں کے مزار پر چاندی کے کٹوروں میں لوگوں کو پانی پلاتے رہے ہیں۔ وہاں کی ایک گلی بھی نظام سقّہ کے نام سے منسوب ہے۔بھارت میں ماشکیوں کی ایک باقاعدہ برادری ''آل انڈیا جماعت العباسی‘‘ کے نام سے موجود ہے جبکہ دوسری برادری ''مہاراشڑا بہشتی سماج‘‘ کہلاتی ہے۔
پرانے وقتوں میں آب رسانی کا نظام آج کی طرح نہیں تھا۔ گاؤں میں باقاعدہ ماشکی کا ایک کردار ہوتا تھا۔ گاؤں میں گھروں میں پانی کیلئے مٹکے یا گھڑے ہوتے تھے۔ ماشکی ان مٹکوں یا گھڑوں کو بھرتا تھاجبکہ صحرائی علاقوں میں پانی کے ٹوبے ہوتے تھے۔ دریااور ندی کے کنارے بسنے والے لوگ ندی اور دریا سے ان مشکوں میں پانی بھرا کرتے تھے اور اپنے استعمال میں لاتے تھے۔جبکہ شہری زندگی میں پانی کی ترسیل کا یہ سستا ذریعہ عام تھا۔پشتون خانہ بدوش جب جنوبی پنجاب میں آکر اپنے خیمے لگاتے تو ان کے پاس بھی پانی بھرنے کیلئے مشکیزے ہوتے تھے۔ماشکی کی خدمات شادی بیاہ، خوشی،غمی اور تہواروں کے مواقع پر بھی حاصل کی جاتی تھی۔ ضروریات کے لیے ماشکی سے پانی کی مشک خریدی جاتی تھی۔میونسپل کمیٹیوں کے ملازم ماشکی حضرات دن میں دو بار مشک سے شہر کی اہم سڑکوں اور کمیٹی کی حدود میں آنے والے محلہ جات کی سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا کرتے تھے۔ لاہورمیں جب ماشکی چھڑکاؤ کرتے تھے تو ان کے آگے ایک فرد گھنٹی بجایا کرتا تھا تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ چھڑکاؤ کرنے والا ماشکی پانی چھڑکا رہا ہے۔جب کبھی پہلوانوں کی کشتیوں کا دنگل ہوتا تو ماشکی دنگل میں لوگوں کو پانی پلاتا نظر آتا۔
بلوچستان میں آج بھی مشکیزہ بنایا اور استعمال کیا جاتا ہے۔بکری یا بکرے کو ذبح کرنے کے بعد کھال کو اتارنے میں کافی احتیاط کی جاتی ہے۔تا کہ اس میں سوراخ نہ ہوکیونکہ سوراخ ہونے کی صورت میں کھال مشکیزہ بنانے کے لئے کام نہیں آتی ہے۔کھال اتارنے کے بعد تقریبا ًچار ہفتوں تک اس تازہ چمڑے کو سورج کی تپش میں رکھ کر خشک کیا جاتا ہے۔پھر کیکر کی چھال لے کر ان کو گرم پانی میں ابالا جاتا ہے۔ دس دن تک یہ پانی کھال میں رکھا جاتا ہے۔جس سے یہ چمڑہ مضبوط ہوجاتا ہے ، پھرریشم کے دھاگوں سے غیر ضروری سوراخ بند کرکے صرف پانی ڈالنے اور نکالنے کیلئے ایک بڑا سوراخ رکھا جاتا ہے۔ پانی رکھنے کی وجہ کھال کی اصل رنگت سرخ رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔کھال مضبوط اور پائیدار بن جاتی ہے۔
مہاڑ کے گاؤں کٹھہ کامقامی کمیر بابا کو جس نے دیکھا ان کے ناتواں کندھوں پر جون کی چلچلاتی دھوپ اور گرمی کی شدت میں پانی کی مشک دیکھی۔وہ میانوالی سرگودھا روڈ پر ایک بس سٹاپ سے بس میں سوار ہوتا اور پانی کا گلاس مشک کے منہ پر لگا کر بھرتا اور پیاسے ہاتھوں میں تھما دیتا۔ ایک سیٹ سے دوسری سیٹ پر ہر پیاسا مشک کے ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھاتا۔کمیر بابا کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ کسی سے پانی کے پیسے نہیں لیتا تھا۔ اپنے کندھوں پر سوار مشک کا ٹھنڈا پانی وہ فرض سمجھ کر بس کے مسافروں کو پلاتاتھا۔ بابا کمیر کو دنیا سے رخصت ہوئے ایک عرصہ ہو چلا ہے مگر مہاڑ کے بزرگ آج بھی بابا کمیر کی بغیر معاوضہ پانی پلانے کی انسانیت کیلئے بے لوث خدمت کی مثال دیتے ہوئے دور خلاؤں میں گھورنے لگتے ہیں۔ معاشی خوشحالی سے بڑھنے والی قوت خرید نے پانی کے حصول کے لیے برقی موٹر پمپ کو عام کر دیاہے۔جدید دور میں پانی ٹھنڈا کرنے کیلئے برف اور ریفریجریٹر کا استعمال عام ہو چکا ہے۔زمانہ بدلا توبہت سی قدریں بھی دم توڑ گئیں۔ماشکی کا پیشہ ماضی کی یاد بن کر رہ گیا مگر آج بھی کئی جگہ دور افتادہ پہاڑی اور میدانی علاقوں میں پانی ٹھنڈا کرنے کا واحد ذریعہ مشکیزے،مٹکے یا گھڑے ہیں۔صدیوں سے پانی کی سپلائی کے متذکرہ پیشہ سے وابستہ محنت کش ماشکی حضرات کو کمتر گردانتے ہوئے جاگیردارانہ سماج میں کمّی قرار دے کر سماجی طور پر غیر اہم سمجھا جاتا تھا۔ماشکی کی طرح آج بھی معاشرے کے اہم کردارجولاہے، موچی، تیلی، کمہار، ترکھان، نائی وغیرہ جیسے''کمّّی‘‘ کے بارے میں ہماری سوچ جوں کی توں ہے حالانکہ کمی کا مطلب محنتی، کام کرنے والا یا ورکنگ کلاس کا فردہوتاہے۔ یعنی وہ جو اجرت پر کام کرکے رزق حلال کماتاہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد صادق گڑھ پیلس

مسجد صادق گڑھ پیلس

مغل روایت اور عباسی وقار کی علامتریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور کی یادگار عمارتوں میں صادق گڑھ پیلس کا نام نمایاں ہے مگر اس عظیم الشان محل کے مغربی گوشے میں واقع ایک چھوٹی سی پُر وقار مسجد اپنی خاموش عظمت کے ساتھ آج بھی تاریخ کی گواہی دیتی ہے۔1882ء سے 1895ء کے درمیان تعمیر ہونے والی یہ مسجد خاص طور پر عباسی شاہی خاندان، بالخصوص نواب امیر صادق محمد خان چہارم کے لیے بنائی گئی تھی جو 1866ء سے 1899ء تک تخت نشین رہے۔صادق گڑھ پیلس کا وسیع رقبہ تقریباً ایک ہزار میٹر شمالاً جنوباً اور 330 میٹرشرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع و عریض احاطے کے مقابلے میں مسجد کا حصہ بڑا مختصر ہے اور یہ مرکزی عمارت کے عین مغرب میں واقع ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عباسی دور کی کئی دیگر عمارتوں مثلاً قلعہ دراوڑ کی نسبت یہ مسجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں ہے۔ وقت کی گرد ضرور چڑھی ہے مگر اس کا تاریخی وقار باقی ہے۔چونکہ یہ مسجد عوامی نہیں بلکہ شاہی خاندان کی نجی عبادت گاہ تھی اس لیے اس کی ساخت بھی سادہ مگر مزین ہے۔ یہ تین دروں والی مسجد ہے جس کے اوپر پیاز نما گنبد ایستادہ ہیں۔ اس مسجد کے نقشے میں مغلیہ دور کی دو مساجد کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ پہلی ہے پشاور کی مہابت خاں مسجد، جس کے کنگرے دار محرابی دروازے، مربع نما داخلی پورٹل اور ابھار دار گنبد اس مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں۔ دوسری ہے لاہور کی سنہری مسجد، جس کے بلند و بالا کونے دار مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں۔یوں صادق گڑھ پیلس کی یہ مسجد مغل فنِ تعمیر کی بازگشت معلوم ہوتی ہے۔مغل روایت کا تسلسل اور عباسی شناختمغل سلطنت کے زوال کے باوجود اس کی تہذیبی و انتظامی روایت برصغیر کے مسلم ریاستوں کے لیے ایک مثالی نمونہ رہی۔ ممتاز مورخ کیتھرین بی ایشر کے مطابق اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں بھی مغل بادشاہت مسلم ثقافت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ریاستِ بہاولپور کے عباسی حکمران چونکہ مابعد مغلیہ ریاستوں میں خوشحال اور بااثر شمار ہوتے تھے اس لیے ان کے لیے مغل طرزِ تعمیر سے وابستگی اختیار کرنا فطری امر تھا۔محلات کی تعمیر میں اگرچہ یورپی طرز اور جدید مواد کا استعمال دیکھا جاتا ہے مگر مساجد کی تعمیر میں ایک طرح کی روایت پسندی غالب رہتی ہے۔ عبادت گاہ کو عموماً کلاسیکی اسلوب ہی میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ روحانی وقار برقرار رہے۔ صادق گڑھ کی مسجد بھی اسی روایت کی امین ہے۔ایک ایسا بصری اشارہ کہ عباسی خاندان نے مغلیہ عظمت سے اپنی نسبت جوڑی اور اپنے اقتدار کو اسی تسلسل میں دیکھا۔تاہم یہ مسجد مکمل طور پر کلاسیکی مغل انداز کی نقل نہیں۔ ممتاز ماہرِ تعمیرات ایبّا کوخ کے مطابق مغل عہد کے آخری دور میں آرائش کا انداز زیادہ شگفتہ، پھول دار اور ابھری ہوئی اشکال پر مشتمل ہو گیا تھا۔ اسی رجحان کی جھلک صادق گڑھ کی مسجد میں نمایاں ہے۔اولاً اس کی سجاوٹ زیادہ تر سٹکو (Stucco) یعنی پلستر کی تہوں پر مشتمل ہے، جو اینٹوں پر چڑھائی گئی ہیں۔ دوم، اندرونی اور بیرونی دیواروں پر رنگین فریسکو پینٹنگز موجود ہیں جن میں بیل بوٹے، خم دار شاخیں، سرو کے درخت اور نباتاتی نقوش نمایاں ہیں۔ یہ آرائش نہایت دلکش مگر کسی قدر پر تکلف معلوم ہوتی ہے۔مزید برآں، سامنے کے برآمدے کے ستون اور پلاسٹر اپنی بنیادوں پر پھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے ان کی شکل گول اور ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بعض ستونوں کی بنیادیں یوں تراشی گئی ہیں جیسے وہ زمین سے اگتے ہوئے پھول ہوں‘ایک شاعرانہ تاثر، جو مغل دور کے آخری مرحلے کی تزئینی نفاست کو ظاہر کرتا ہے۔وقت کی دستبرد اور مرمت کی ضرورتاگرچہ سٹکو آرائش دیدہ زیب ہوتی ہے مگر یہ پتھر کی نسبت زیادہ نازک اور جلد متاثر ہونے والی ہے۔ اسی باعث مسجد کے کارنس (Cornice) کا بڑا حصہ جو پتوں کی قطار جیسا دکھائی دیتا تھا اب تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔ عمارت کے ماتھے کے فریسکو مدھم پڑ چکے ہیں اور داخلی دروازے کے اطراف کے پلاسٹر کے نچلے حصے جھڑ چکے ہیں۔تاہم مسجد کی مجموعی ساخت سلامت ہے اور اگر بروقت مرمت، صفائی اور تحفظ کا اہتمام کیا جائے تو اس کے تاریخی حسن کو بڑی حد تک بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ محض اینٹ اور پلستر کی عمارت نہیں بلکہ ایک عہد کی تہذیبی علامت ہے، جس کی بقا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔صادق گڑھ پیلس کی یہ چھوٹی سی مسجد اپنے حجم میں مختصر مگر معنی میں وسیع ہے۔ یہ عباسی ریاست کی خوشحالی، مغلیہ روایت سے وابستگی اور مذہبی سنجیدگی کی عکاس ہے۔ اس کی محرابوں میں تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور اس کے گنبدوں میں ماضی کی شان جھلکتی ہے۔وقت کی رفتار بے رحم سہی مگر سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو یہ مسجد آئندہ نسلوں کے لیے بھی اسی شان سے قائم رہ سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ورثے کی قدر پہچاننے کو تیار ہیں؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

کم کارب یا کم چکنائی؟

دل کی صحت کا اصل راز کچھ اور نکلادل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے برسوں سے ایک بحث جاری ہے کہ کیا کم کارب غذا بہتر ہے یا کم چکنائی والی خوراک؟ کبھی ماہرین کاربوہائیڈریٹس کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو کبھی چکنائی کو مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث کا رخ بدل دیا ہے۔ یہ تحقیق ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی زیر نگرانی کی گئی جس میں تقریباً دو لاکھ مرد و خواتین کو لگ بھگ تیس برس تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کا دائرہ کار وسیع تھا اور52 لاکھ ''person-years‘‘ سے زائد ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج حیران کن تھے مگر سادہ بھی۔ اگر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا صحت بخش اجزا پر مشتمل ہو تو وہ دل کے لیے فائدہ مند ہے لیکن اگر وہی غذا پراسیسڈ اور غیر معیاری اشیا پر مبنی ہو تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔گویا اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے کارب لیتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ کارب کہاں سے آرہے ہیں۔ اسی طرح چکنائی کی مقدار سے زیادہ اہم اس کی نوعیت ہے۔تحقیق کے مطابق جن افراد نے سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج، گری دار میوے اور صحت بخش چکنائی استعمال کیں ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ نمایاں حد تک کم دیکھا گیا۔ ان افراد میں:اچھے کولیسٹرول (HDL) کی سطح بہتر رہی،جسم میں سوزش کے اشاریے کم رہے،کورونری ہارٹ ڈیزیز کا خطرہ کم ہوا۔اس کے برعکس وہ افراد جو بظاہر کم کارب یا کم چکنائی والی غذا لے رہے تھے مگر ان کی خوراک میں ریفائنڈ آٹا، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور ٹرانس فیٹس شامل تھیں انہیں دل کی صحت کے حوالے سے کوئی واضح فائدہ حاصل نہ ہوا۔یہ نتائج اس روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہیں کہ صرف کارب یا چکنائی کم کر دینا ہی کافی ہے۔کم کارب بمقابلہ کم چکنائیگزشتہ دہائیوں میں کم کارب ڈائیٹ اور کم چکنائی والی غذا کے حامیوں کے درمیان خاصی گرما گرمی رہی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹس موٹاپے اور ذیابیطس کی جڑ ہیں جبکہ دوسرا گروہ چکنائی کو دل کا دشمن قرار دیتا ہے۔مگر اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اگر کم کارب غذا میں سبزیاں، دالیں اور صحت بخش پروٹین شامل ہوں تو وہ مفید ہے اور اگر کم چکنائی والی غذا میں مکمل اناج اور قدرتی اجزا ہوں تو وہ بھی دل کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے۔ یعنی اصل مقابلہ کم کارب بمقابلہ کم چکنائی کا نہیں بلکہ معیاری خوراک بمقابلہ غیر معیاری خوراک کا ہے۔دل کی صحت کیلئے کوئی جادوئی فارمولا موجود نہیں۔ نہ مکمل کارب ترک کرنا ضروری ہے نہ ہر قسم کی چکنائی سے خوف زدہ ہونا۔ اصل حکمت یہ ہے کہ خوراک قدرتی، متوازن اور کم سے کم پراسیسڈ ہو۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ صحت مند دل کا راستہ کچن سے ہو کر گزرتا ہے‘مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہاں تازہ، سادہ اور معیاری اجزا استعمال ہوں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

رمضان کے مشروب وپکوان:دال قیمے کے سموسے

اجزاء:بھنا ہوا قیمہ ایک پیالی، مونگ کی دھلی دال آدھا پیالی، پیاز دو عدد درمیانی، سویا تین سے چار ڈنٹھل، ہری مرچیں تین سے چار عدد، سموسے کی پٹیاں حسب ضرورت، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:دال کو دھو کر بیس سے پچیس منٹ کیلئے بھگو کر رکھ دیں۔ پھر اسے پانی سے نکال کر قیمے میں ڈالیں اور اچھی طرح بھون لیں۔ جب یہ مکسچر ٹھنڈا ہو جائے تو اس میں باریک کٹی ہوئی پیاز، نمک، باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں اور سویا ڈال کر ملا لیں۔ سموسے کی پٹیوں سے تکونے سموسے بنا کر اس میں یہ مکسچر بھر دیں۔ آٹے کی لئی سے چپکا کر کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کر لیں۔ ٹماٹر اور سیب کا جوس: وٹامنز اور آئرن کا مجموعہٹماٹر اور سیب کا جوس وٹامنز، آئرن اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس جوس کو تیار کرنے کے لیے چھلے ہوئے سیب اور ٹماٹر کو پانی، لیموں کے قطرے اور شہد کے ساتھ بلینڈ کریں۔ یہ مشروب نہ صرف لذیذ ہوتا ہے بلکہ یہ جسم کو ضروری غذائیت بھی فراہم کرتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

آج تم یاد بے حساب آئے!قوی خان ورسٹائل اداکار(2023-1942)

٭...محمد قوی خان 13 نومبر 1942ء کوشاہجہاں پور (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔٭... قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین نے پشاور کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں قوی خان نے گورنمنٹ ہائی سکول سے اور پھر ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ٭...سکول اور کالج کے ڈراموں میں حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے ریڈیو سے رغبت ہوئی اور تھیٹر کی طرف مائل ہوئے۔٭... 1952میں فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ سٹارپروگرام ''ننھے میاں‘‘ سے کیا۔کئی سال تک اس پروگرام کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... لاہور میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا تو انہیں اس کے پہلے ڈرامے ''نذرانہ‘‘ میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ براہ راست نشر ہونے والے اس ڈرامہ میں ان کے مقابل کنول نصیر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔٭...1964ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ''رواج‘‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ 35سال تک فلموں میں کام کیا ان کے کریڈٹ پر 250فلمیں ہیں۔٭...زیادہ تر معاون کرداروں میں نظر آئے ، مثبت اور منفی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے ، اولڈ ، ولن اور کامیڈین کے طور پر بھی کردار نبھائے لیکن کبھی سولو ہیرو نہیں آئے۔٭... تادمِ مرگ ٹیلی وژن سے وابستہ رہے، یہ عرصہ لگ بھگ سات دہائیوں پر مشتمل ہے۔٭... سب سے زیادہ شہرت 1980ء کی دہائی میں نشر ہونے والے ڈرامے ''اندھیرا اجالا‘‘ سے ملی۔٭...1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا ، کامیاب نہ ہوسکے۔٭... 1990ء کی دہائی میں ایک ڈرامے کیلئے مرزا غالب کا کردار بھی نبھایا اوراسے امرکردیا۔٭... بطور پروڈیوسر 13فلمیں بنائیں،کچھ فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں جن میں پاسبان، اور روشنی وغیرہ شامل ہیں۔٭...1980 ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ جبکہ 2012ء میں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭...5 مارچ 2023ء کو کینیڈا میں 80 سال کی عمر میں سرطان سے انتقال ہوا۔ میڈوویل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔قوی خان کی مقبول فلمیں: محبت زندگی ہے ، ٹائیگر گینگ ، سوسائٹی گرل، سرفروش ، کالے چور، آج اور کل ، صائمہ، بیگم جان ، ناگ منی، رانگ نمبر ، انٹرنیشنل لٹیرے، سر کٹا انسان ، پری، قائداعظم زندہ باد ، چراغ کہاں روشنی کہاں ، پازیب، مسٹربدھو‘، بے ایمان ، منجی کتھے ڈاہواں ، نیلام، روشنی ، پہچان ، وطن ،جوانی دیوانی ، چوری چوری، محبت مر نہیں سکتی ۔مقبول ڈرامے: لاکھوں میں تین، دہلیز، الف نون، دورِ جنوں، اندھیرا اُجالا، انگار وادی، اُڑان، آشیانہ، سسر اِن لا، لاہوری گیٹ، مٹھی بھر مٹی، منچلے، مشعل، بیٹیاں، داستان، میرے قاتل میرے دلدار، پھر چاند پہ دستک، زندگی دھوپ تم گھنا سایہ، جو چلے تو جان سے گزر گئے، دُرِ شہوار، کلموہی، دو قدم دور تھے، حیا کے دامن میں، یہ عشق، سہیلیاں، نظرِ بد، الف اللہ اور انسان، خانی، آنگن، پرچھائیں، میراث۔

آج کا دن

آج کا دن

جوزف سٹالن کی وفات5 مارچ 1953ء کو سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا انتقال ہوا۔ وہ 1920ء کی دہائی کے وسط سے سوویت سیاست کے مرکز میں رہے اور 1924ء میں لینن کی وفات کے بعد اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کر لی۔ سٹالن کے دورِ حکومت کو صنعتی ترقی، سخت مرکزی کنٹرول اور سیاسی جبر کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں سوویت یونین نے تیزی سے صنعتی ترقی کی، زراعت کو اجتماعی نظام کے تحت منظم کیا گیا اور ملک کو ایک بڑی فوجی طاقت میں تبدیل کیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت فتح میں بھی ان کا کردار اہم تھا۔ چرچل کی فولٹن تقریر 5 مارچ 1946ء کو برطانوی رہنما ونسٹن چرچل نے امریکہ کی ریاست میسوری کے شہر فولٹن میں ویسٹ منسٹر کالج میں ایک تاریخی تقریر کی جسے آئرن کرٹن (IronCurtain) تقریر کہا جاتا ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ یورپ پرآہنی پردہ گر چکا ہے جو مشرقی یورپ کو سوویت اثر و رسوخ میں لے جا رہا ہے۔چرچل کی اس تقریر کو سرد جنگ کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان قریبی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سوویت یونین کے پھیلتے ہوئے اثر کو روکا جا سکے۔ اس تقریر نے عالمی سیاست میں دو بلاکوں ،مغربی سرمایہ دارانہ اور مشرقی سوشلسٹ کی واضح تقسیم کو نمایاں کیا۔بوسٹن قتل عام5 مارچ 1967ء کو این بی اے کی تاریخ کے ایک بدنام زمانہ واقعے کو ''بوسٹن میساکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ باسکٹ بال ٹیموں کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران پیش آیا۔میچ کے دوران کھلاڑیوں میں سخت جھگڑا شروع ہوا جو ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ اس واقعے نے این بی اے انتظامیہ کو سخت قوانین نافذ کرنے پر مجبور کیا تاکہ کھیل کے دوران تشدد پر قابو پایا جا سکے۔یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کھیلوں میں مسابقت بعض اوقات جذباتی شدت اختیار کر لیتی ہے۔ ٹائیپولو کی وفات5 مارچ 1770ء کو اٹلی کے مشہور مصور جیوانی باتیستا ٹائیپولو کا انتقال ہوا۔ وہ اٹھارویں صدی کے نمایاں طرز کے فنکار تھے۔ ان کی پینٹنگز اپنی روشنی، رنگوں کی چمک اور ڈرامائی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ٹائیپولو نے اٹلی، جرمنی اور سپین میں اہم شاہی عمارتوں اور گرجا گھروں کی تزئین کی۔ ان کے فن پارے مذہبی اور اساطیری موضوعات پر مبنی ہوتے تھے اور ان میں آسمانی مناظر اور وسیع فریسکو پینٹنگز نمایاں تھیں۔ان کی وفات کے بعد بھی یورپی فنِ مصوری پر ان کا اثر برقرار رہا۔ 1956اولمپکس5 مارچ 1956ء کو اٹلی کے شہر کورٹینا ڈی امپیزو میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ سرمائی اولمپکس یورپ میں جنگِ عظیم دوم کے بعد ہونے والے کھیلوں کے اہم مقابلوں میں سے ایک تھے۔ان میں دنیا بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور یہ کھیل سرد جنگ کے ماحول میں بھی بین الاقوامی ہم آہنگی کی علامت بنے۔ اس اولمپکس میں پہلی بار ٹیلی ویژن نشریات کے ذریعے کھیلوں کو وسیع پیمانے پر دکھایا گیا جس سے عالمی کھیلوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ سرمائی اولمپکس نے اٹلی کو ایک عالمی کھیلوں کے میزبان کے طور پر متعارف کرایا اور بعد ازاں بڑے عالمی ایونٹس کے انعقاد کی راہ ہموار کی۔

لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔