آج تم یاد بے حساب آئے! بیگم خورشید مرزا ریڈیو،ٹی وی اور فلم کی ممتاز اداکارہ (1989-1918ء)
اسپیشل فیچر
٭...بیگم خورشید مرزا 4مارچ 1918ء کو برٹش انڈیا دور میں علی گڑھ میں پیدا ہوئیں اور ان کا اصل نام خورشید جہاں تھا۔
٭...ان کا گھرانہ علی گڑھ کے پڑھے لکھے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا۔ان کے والد شیخ عبداللہ بیرسٹر تھے، جنہوں نے علی گڑھ گرلز کالج کی بنیاد رکھی تھی۔ ان کی بڑی بہن ڈاکٹر رشیدہ تھیں جو انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانی اراکین میں سے تھیں اور ان کی دوسری بہنیں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔
٭...ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کی۔ سکول کالج سے فارغ ہونے کے بعد انڈیا کے مختلف تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم کی سندیں حاصل کیں۔
٭...1934ء میں ان کی شادی دہلی کے ایک پولیس افسر اکبر حسین مرزا سے ہوئی اور وہ بیگم خورشید مرزا کہلائیں۔
٭... رینو کا دیوی کے نام سے ہندوستانی فلمی صنعت میں قدم رکھا۔پہلی فلم ''جیون پرابھت‘‘ 1937ء میں ریلیز ہوئی۔
٭...دوسری فلم ''بھابھی‘‘ 1938ء میں ریلیز ہوئی اور سپرہٹ ثابت ہوئی۔ فلم ''نیا سنسار‘‘ بھی ان کی ایک سپرہٹ فلم تھی۔
٭...1943ء میں لاہور سے زینت بیگم فلمز کی جانب سے ان کی فلم ''سہارا‘‘ ریلیز ہوئی۔
٭...1947ء میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا رخ کیا اور یہاں فلمی دنیا کے بجائے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہونے کو ترجیح دی۔
٭... ٹیلی ویژن پر ان کا پہلا ڈرامہ ''کرن کہانی‘‘ تھا۔70ء کی دہائی میں بیگم خورشید مرزا ٹی وی کی معروف فنکارہ تھیں۔
٭...1974ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''زیر، زبر، پیش‘‘اور ''انکل عرفی‘‘نشر ہوئیں۔
٭...1984ء میں ان کی ڈرامہ سیریل ''انا‘‘ بہت مقبول ہوئی۔
٭... ان کے دیگر معروف ڈراموں میں '' شمع، افشاں، عروسہ، رومی، شوشہ، پناہ، دھند اور ماسی شربتی ‘‘ شامل ہیں۔
٭...1982ء میں بیگم خورشید مرزا نے اپنی خود نوشت ایک مقامی میگزین میں 9اقساط میں لکھی ۔
٭...ان کی سوانح حیات ''A Woman of Substance: The Memoirs of Begum Khurshid Mirza‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جو ان کی بیٹی لبنی کاظم نے مرتب کی تھی۔
٭...ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں1985ء میں ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔
٭...ان کا انتقال 8فروری 1989ء کو لاہور میں ہوا اور ان کی تدفین میاں میر قبرستان میں کی گئی۔