ناسا کے چاند مشن کی روانگی مؤخرخلائی تحقیق کی دنیا میں ہر پیش رفت جہاں امید کی نئی کرن بن کر سامنے آتی ہے، وہیں بعض اوقات تکنیکی رکاوٹیں بڑے منصوبوں کی رفتار کو سست بھی کر دیتی ہیں۔ ناسا کا انسان بردار چاند مشن ''آرٹیمس ٹو‘‘ بھی اسی نوعیت کی ایک تاخیر کا سامنا کر رہا ہے۔ آخری مرحلے میں کی جانے والی ویٹ ڈریس ریہرسل (wet dress rehearsal) کی ناکامی کے بعد اس اہم مشن کو مارچ تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی خلائی برادری کی نظریں ایک بار پھر ناسا کی تیاریوں پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ مشن نہ صرف انسانوں کی دوبارہ چاند پر واپسی کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ مستقبل میں مریخ سمیت دیگر سیاروں تک رسائی کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ تاہم یہ تاخیر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خلائی سفر میں احتیاط، جانچ اور مکمل تیاری ہر کامیابی کی اوّلین شرط ہے۔امریکی خلائی ادارہ پہلے 6 سے 11 فروری کے درمیان لانچ ونڈو کو ہدف بنا رہا تھا، تاہم اب مارچ میں لانچ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ چار خلا بازوں کو چاند کے گرد مدار میں بھیجنے کے اس مشن کو مؤخر کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب آخری مرحلے میں ہونے والی ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ ناکام ہو گئی۔ ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ انجینئرز نے ٹیسٹ کے دوران ٹرمینل کاؤنٹ ڈاؤن آپریشنز کی پہلی مشق کی، تاہم مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہونے کے باعث کاؤنٹ ڈاؤن پانچ منٹ باقی رہنے پر روک دیا گیا۔ ویٹ ڈریس ریہرسل کے دوران زمینی عملہ ''اسپیس لانچ سسٹم‘‘ (SLS) راکٹ میں ایندھن بھرنے، کاؤنٹ ڈاؤن چلانے اور بعدازاں فیول ٹینکس خالی کرنے کی مشق کرتا ہے۔ ریہرسل شروع ہونے کے بعد جلد ہی کئی مسائل سامنے آ گئے۔ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں سرد موسم نے فیولنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، جس کے نتیجے میں مائع ہائیڈروجن کا اخراج ہوا اور کارروائی روکنا پڑی۔ اس تاخیر کے باعث آرٹیمس ٹو کے عملے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوخ اور جیرمی ہینسن قرنطینہ سے باہر آ جائیں گے اور منصوبے کے مطابق کینیڈی اسپیس سینٹر کا سفر نہیں کریں گے۔17 جنوری کو ناسا نے 11 گھنٹے صرف کرتے ہوئے نہایت احتیاط کے ساتھ ''ایس ایل ایس‘‘ راکٹ کو ہینگر سے لانچ پیڈ تک چار میل (6.4 کلومیٹر) کے فاصلے پر منتقل کیا۔ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کو اس سے قبل غیر متوقع طور پر شدید سرد موسم کے باعث کئی دنوں کیلئے مؤخر کر دیا گیا تھا، کیونکہ سردی راکٹ کے نظام اور اُن جوڑوں (انٹرفیسز) کو متاثر کر سکتی ہے جو ایندھن کے اخراج کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، راکٹ کے محفوظ درجہ حرارت تک گرم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد عملے نے ''ایس ایل ایس‘‘ میں دو ملین لیٹر سے زائد انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن بھرنا شروع کیا، جسے منفی 252 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 423 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کیا گیا تھا۔ فوراً ہی ناسا نے ایک ایسے جوڑ میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج کو محسوس کیا جو راکٹ کے مرکزی حصے میں ایندھن منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ایس ایل ایس لانچز کے درمیان تین سال سے زائد وقفے کے باعث ہم مکمل طور پر یہ توقع رکھتے تھے کہ ہمیں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ پرواز سے پہلے مسائل سامنے لانے اور لانچ کے دن کامیابی کے زیادہ سے زیادہ امکانات پیدا کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔غیر متوقع اخراج کو درست کرنے کیلئے مائع ہائیڈروجن کا بہاؤ روکنا پڑا، راکٹ کو اتنا گرم ہونے دیا گیا کہ سیلز دوبارہ درست حالت میں آ سکیں اور ایندھن کے بہاؤ میں ضروری رد و بدل کیا گیا۔ بالآخر ناسا تمام ٹینکس کو مرکزی اور عبوری مرحلے میں ایندھن سے بھرنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے بعد عملے نے فرضی کاؤنٹ ڈاؤن کا آغاز کیا۔تاہم مشق کے کاؤنٹ ڈاؤن میں صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے تھے کہ مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہوا، جس کے باعث لانچ سیکوئنس خودکار طور پر روک دیا گیا۔ہائیڈروجن لیک کے علاوہ، ناسا نے یہ بھی دریافت کیا کہ اورین کریو ماڈیول میں دباؤ برقرار رکھنے والے ایک والو کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے، جس سے مزید تاخیر ہوئی۔ انجینئرز کو ٹیسٹ سے پہلے کے چند ہفتوں کے دوران آڈیو کمیونی کیشن چینلز میں بار بار ڈراپ آؤٹس (رکاوٹوں) کا سامنا بھی رہا اور ریہرسل کے دوران بھی ایسی کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ہمیشہ کی طرح حفاظت ہماری اوّلین ترجیح ہے، چاہے وہ ہمارے خلا باز ہوں، ہمارا عملہ، ہمارے نظام ہوں یا عوام۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ہم اسی وقت لانچ کریں گے جب ہمیں یقین ہو گا کہ ہم اس تاریخی مشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ناسا کا کہنا ہے کہ اب اسے مزید وقت درکار ہے تاکہ ٹیمیں ڈیٹا کا جائزہ لے سکیں اور دوسری ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ انجام دے سکیں۔ اب عملہ قرنطینہ سے باہر آ سکے گا، جس میں وہ 11 جنوری کو ہیوسٹن میں داخل ہوئے تھے اور اگلی لانچ ونڈو سے تقریباً دو ہفتے قبل دوبارہ قرنطینہ میں داخل ہوں گے۔جیرڈ آئزک مین نے مزید کہا کہ ٹیم مکمل طور پر ڈیٹا کا جائزہ لے گی، ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کے دوران سامنے آنے والے ہر مسئلے کی جانچ کرے گی، ضروری مرمت کرے گی اور دوبارہ ٹیسٹنگ کا عمل شروع کرے گی۔