لنڈا سنروڈ: آئس ہاکی کی عمر رسیدہ کھلاڑی کا سفر تمام
اسپیشل فیچر
کھیلوں کی دنیا میں بعض شخصیات محض ریکارڈ نہیں بناتیں بلکہ حوصلے، عزم اور جدوجہد کی ایسی مثال قائم کر جاتی ہیں جو نسلوں کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ 84 سالہ لیجنڈ لنڈا سنروڈ کا دنیا کی معمر ترین خاتون آئس ہاکی کھلاڑی کے طور پر ریٹائر ہونا بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ خبر صرف ایک کھلاڑی کے میدان چھوڑنے کی اطلاع نہیں بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ عمر خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ لنڈا سنروڈ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ آئس ہاکی کیلئے وقف کر کے ثابت کیا کہ کھیل محض نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ جذبہ اور لگن انسان کو ہر عمر میں متحرک رکھ سکتی ہے۔ ان کی شاندار جدوجہد کھیلوں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
لنڈا سنروڈ(Linda Sinrod)جن کا تعلق امریکہ سے ہے نے گزشتہ برس 7 اپریل کو دنیا کی معمر ترین خاتون ہاکی کھلاڑی کے طور پر آخری بار اپنی اسکیز پہنیں۔ 84 سال اور 198 دن کی عمر میں، انہوں نے کپیٹلز ویمنز ہاکی لیگ کیلئے ورجینیا کے آرلنگٹن میں ٹیم گرے کے ساتھ اپنا آخری میچ کھیلا، جو ان کی ٹیم 5-2 سے ہار گئی۔ لنڈا کیلئے ہمیشہ کھیل کا اصل مقصد صرف سکور نہیں بلکہ کھیل کے ذریعے یادگار اور معنی خیز تجربات حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو بتایاکہ یہ لمحہ ملی جلی کیفیت کا تھا۔ مجھے لگا جیسے میرے لیے ایک دور کا اختتام ہو گیا ہے، کیونکہ میں نے ہاکی کھیلنا اتنے عرصے تک بہت پسند کیا۔
ریکارڈ ساز کریئر رکھنے والی لنڈا سنروڈ نے آئس ہاکی کھیلنا 35 سال کی عمر میں شروع کیا۔وہ کالج میں فگر اسکیٹر تھیں، لیکن گریجویشن کے بعد انہوں نے یہ کھیل چھوڑ دیا۔ پھر ایک سردیوں کے دن، جب وہ اپنے گھر کے قریب جمی ہوئی جھیل پر اسکیٹنگ کر رہی تھیں، کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ آئس ہاکی آزمانا چاہیں گی۔
1975ء میں خواتین کیلئے اس کھیل کی کوئی پروفیشنل لیگ موجود نہیں تھی اور نہ ہی خواتین کھلاڑیوں کو اولمپک سطح پر پہچان حاصل تھی۔ اگرچہ باصلاحیت لڑکیاں چند آئیوی لیگ یونیورسٹیوں میں کھیل سکتی تھیں، مگر زیادہ تر اسکیٹرز کے پاس اعلیٰ سطح کی ٹیموں میں شامل ہونے کے مواقع نہیں تھے۔ اس کے باوجود، لنڈا کو یہ کھیل اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے کی پہلی خواتین آئس ہاکی ٹیم، ریڈکوٹس کی بانی اراکین میں شامل ہونے کیلئے نام درج کرایا، جہاں انہوں نے 10 سال تک اسکیٹنگ کی۔
چالیس کی دہائی کے وسط تک پہنچ کر لنڈا کو لگنے لگا تھا کہ وہ کھیلنے کیلئے بہت زیادہ عمر رسیدہ ہو چکی ہیں، چنانچہ انہوں نے آئس ہاکی سے پہلی بار ریٹائرمنٹ لے لی۔ تاہم تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد، انہوں نے اپنے کچھ پرانے ساتھی کھلاڑیوں کو گوگل پر تلاش کرنا شروع کیا اور سوچنے لگیں کہ اب وہ کیا کر رہے ہوں گے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک پرنس ولیم وائلڈکیٹس ٹیم کی کوچنگ کر رہا تھا، چنانچہ 67 سال کی عمر میں لنڈا نے دوبارہ میدان میں واپسی کا فیصلہ کیا اور اس ٹیم میں شامل ہو گئیں۔
لیگ کے زیادہ تر کھلاڑی اس سے کم از کم 20 سال چھوٹے تھے، مگر لنڈا نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ کھیل کا جوش اور اپنی ٹیم کے ساتھیوں کے ساتھ رفاقت ہی وہ طاقت تھی جس نے انہیں مزید آٹھ سال تک کھیل جاری رکھنے پر آمادہ رکھا۔ انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ پہلی بار جب انہوں نے دوبارہ کھیلا تو انہیں کوئی پینلٹی نہیں ملی، لیکن دوسری بار ایک ہی میچ میں انہیں دو پینلٹیز مل گئیں۔ یہ فیصلہ انہیں اس قدر الجھا گیا کہ وہ غلطی سے دوسری ٹیم کے پینلٹی باکس میں جا کر بیٹھ گئیں۔
پھر ان کی دوسری ریٹائرمنٹ کا وقت آیا، جب لیگ نے ان سے خود الگ ہونے کو کہا۔ 75 سال کی عمر میں انہیں بتایا گیا کہ وہ اب اتنی مسابقتی نہیں رہیں مگر لنڈا کو اس پر کوئی افسوس نہ ہوا۔ اگر وہ وہاں اسکیٹنگ نہیں کر سکتیں تو وہ کھیلنے کیلئے کوئی اور جگہ تلاش کر لیں گی۔ اسی جذبے کے ساتھ انہوں نے بعد ازاں کپیٹلز ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور ایک بار پھر آئس ہاکی کے میدان میں اپنی موجودگی ثابت کی۔
لنڈا نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں دوسروں کو یہ کہوں گی کہ کھیلنا شروع کرنے کیلئے کبھی بہت عمر رسیدہ نہیں ہوتے۔ میں نے حقیقت میں 45 سال کی عمر میں کھیل چھوڑ دیا تھا، کیونکہ مجھے لگا کہ میں کھیلنے کے لیے بہت بڑی ہو گئی ہوں، لیکن 67 سال کی عمر میں دوبارہ کھیلنے واپس آ گئی۔مزید یہ کہ خواتین کی ہاکی مردوں کی ہاکی جیسی نہیں ہوتی۔ یہاں چیکنگ نہیں ہوتی اور خواتین ہر شعبے سے تعلق رکھتی ہیں، کھیلتی ہیں اور لطف اٹھاتی ہیں۔ حقیقت میں، تقریباً سب کالج گریجویٹس ہوتی ہیں اور یہ کھیل واقعی بہت مزے دار ہے!