ڈل جھیل کا سحر

ڈل جھیل کا سحر

اسپیشل فیچر

تحریر : دانیال حسن چغتائی


جنت نظیر وادی کشمیر زندہ احساس کا نام ہے۔ ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گھری یہ وادی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے زمین پر جنت کہلاتی ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے جب یہاں کے حسن کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھا تھا کہ اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے۔
ڈل جھیل سری نگر کی پہچان اور یہاں کی معیشت و ثقافت کا مرکز ہے۔ جھیل کے شفاف پانی پر تیرتے شکارے اور عالیشان ہاؤس بوٹس ایسی دنیا تخلیق کرتے ہیں جو خوابوں سے کم نہیں۔
کچھ لوگ ڈل جھیل کو لداخ کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ حقیقتاً لداخ میں نہیں بلکہ سری نگر وادی کشمیر کا دل کہلاتی ہے۔ لداخ اپنی خوبصورت جھیلوں جیسے پینگونگ کے لیے مشہور ہے لیکن شکارے اور کشمیری چائے کا جادو سری نگر کی ڈل جھیل سے وابستہ ہے۔
بہت سے سیاحوں کا خواب ہوتا ہے کہ وہ غروبِ آفتاب کے وقت ڈل جھیل کے خاموش پانیوں میں شکارے پر سوار ہوں اور ہاتھ میں کشمیری قہوہ یا نون چائے یعنی گلابی چائے کا پیالہ ہو۔ یہ چائے کشمیری مہمان نوازی کی علامت ہے۔ طویل وقت میں پکنے والی یہ چائے بادام، پستے اور زعفران کی خوشبو سے مہکتی ہے جو جھیل کی ٹھنڈی ہواؤں میں عجیب سی تپش اور سکون بخشتی ہے۔
کشمیر کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جس کا ذکر قدیم سنسکرت کتابوں اور یونانی مورخین کے ہاں ملتا ہے۔ ہندو اور بدھ مت دور میں قدیم کشمیر علم و ادب کا مرکز تھا۔ اشوک اعظم کے دور میں یہاں بدھ مت پھیلا۔ کلہن کی مشہور کتاب راج ترنگنی کشمیر کی قدیم تاریخ کا سب سے مستند ماخذ مانی جاتی ہے۔
چودہویں صدی میں صوفیائے کرام، بالخصوص حضرت شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے کشمیر میں انقلاب برپا ہوا۔ انہوں نے اسلام پھیلایا بلکہ ایران سے ہنرمند لا کر کشمیر کو صنعت و حرفت قالین بافی، شال سازی کا مرکز بنا دیا۔
مغلوں نے یہاں نشاط و شالیمار کے باغات لگوائے۔ مغلوں کے بعد افغانوں اور پھر سکھوں نے یہاں حکومت کی۔ 1846 میں معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھ 75 لاکھ نانک شاہی سکوں میں بیچ دیا۔ یہیں سے جدید کشمیر کے دکھوں کا آغاز ہوا جو 1947 کی تقسیم ہند کے بعد مستقل سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔
کشمیر کی ثقافت کشمیرایت کے فلسفے پر مبنی ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں۔ کشمیری پھیرن جو لمبا لبادہ ہوتا یے، یہاں کی سردی کا مقابلہ کرنے کا روایتی طریقہ ہے۔ یہاں کی پشمینہ شالیں پوری دنیا میں اپنی نزاکت اور گرمائش کے لیے مشہور ہیں۔ لکڑی پر نقش و نگار اور پیپر ماشی کے فن میں کشمیریوں کا کوئی ثانی نہیں۔
روؤف یہاں کا مشہور لوک رقص ہے جو عید اور خوشی کے مواقع پر خواتین کرتی ہیں۔ صوفیانہ کلام اور ستار کی دھنیں یہاں کی فضاؤں میں رچی بسی ہیں۔ کشمیری وازوان اپنی لذت کے لیے مشہور ہے جس میں 36 قسم کے پکوان شامل ہوتے ہیں۔ گوشت کو مختلف طریقوں سے پکانا جیسے گشتابہ کشمیری فنِ طباخی کا کمال ہے۔
کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے اس کے جغرافیائی مقام اور مذہبی شناخت کے گرد گھومتی رہی ہے۔ کشمیر کو پیر واری پیروں کی زمین کہا جاتا ہے۔ یہاں کی درگاہیں درگاہ حضرت بل اور چرارِ شریف عوامی یکجہتی کے مراکز ہیں۔
1947 کے بعد سے کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ بن گیا۔ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور حالیہ سیاسی تبدیلیوں نے اس خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اپنی شناخت اور حقِ خودارادیت کے گرد گھومتی ہے۔
اگرچہ ڈل جھیل لداخ میں نہیں لیکن لداخ بذاتِ خود کشمیر کا اہم حصہ رہا ہے اور اب انتظامی طور پر الگ ہے۔ لداخ کو چھوٹا تبت کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ثقافت بدھ مت سے متاثر ہے اور یہاں کی بنجر پہاڑیاں، اونچے درے کھاردونگ لا اور سرد صحرا اسے وادی کشمیر سے بالکل مختلف لیکن اتنا ہی حسین بناتے ہیں۔
کشمیر برف پوش پہاڑوں اور جھیلوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانی عزم، بے پناہ ٹیلنٹ اور گہری روحانیت کی داستان ہے۔ ڈل جھیل کے پانیوں میں لرزتی ہاؤس بوٹ کی روشنی ہو یا کشمیری چائے کی بھاپ، یہ سب ایسی جنت کی یاد دلاتے ہیں جو امن اور سکون کی منتظر ہے۔ کشمیر کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے علم اور امن کا گہوارہ رہا ہے اور اس کی خوبصورتی اس کے لوگوں کی ہمت اور ان کی شاندار ثقافت میں پوشیدہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ایلون مسک کا مریخ منصوبہ خلا کی فتح یا انسانی وجود کا امتحان؟

ایلون مسک کا مریخ منصوبہ خلا کی فتح یا انسانی وجود کا امتحان؟

انسانی تاریخ میں خلا کو تسخیر کرنے کا خواب ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر جدید دور میں ایلون مسک کے مریخ پر انسانی بستی بسانے کے منصوبے نے اس خواب کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ تاہم ماہرین کی تازہ آرا اس خواب کی ایک ہولناک حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس میں مریخ تک کا طویل اور کٹھن سفر انسانی جسم کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ خلائی تابکاری، کششِ ثقل کی کمی، ذہنی دباؤ اور جسمانی نظام کے بکھرنے جیسے عوامل وہ قیمت ہیں جو انسان کو اس جرات مندانہ مہم کے عوض چکانا پڑ سکتی ہے۔ یہ منصوبہ جہاں سائنسی ترقی کی علامت ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا انسان واقعی اس قدر بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہے، یا مریخ کا سفر انسانی وجود کیلئے ایک ناقابلِ تصور آزمائش ثابت ہوگا؟جسمانی ساخت میں تبدیلی سے لے کر مدافعتی نظام کے تباہ کن دباؤ اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں تک، انسانیت کا مریخ پر آباد ہونا انسانی جسم کیلئے بے شمار مسائل لے کر آ سکتا ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ 2050ء تک مریخ پر انسانی بستی قائم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم رائس یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ سولو من ( professor Scott Solomon ) کے مطابق اس سے قبل کئی بڑے چیلنجز اور بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات ملنا ابھی باقی ہیں، اس سے پہلے کہ مریخ پر مستقل انسانی موجودگی کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا سکے۔ اپنی آنے والی کتاب ''Becoming Martian: How Living in Space Will Change Our Bodies and Minds‘‘ میں سولو من اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے اہم اور اب تک حل طلب سوال یہ ہے کہ آیا انسان زمین کے باہر افزائشِ نسل کے قابل ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ کمزور یا تقریباً نہ ہونے والی کششِ ثقل اور زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ تابکاری والے ماحول میں، خلا یا کسی دوسرے سیارے پر بچے کی پیدائش ممکن بھی ہے یا نہیں۔اپنی کتاب میں سولو من وضاحت کرتے ہیں کہ خلا میں انسانوں کے درمیان جنسی تعلقات کا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا، اور کم کششِ ثقل کے ماحول میں جنین کی نشوونما اور بچے کی پیدائش کے بارے میں تحقیق بھی نہایت محدود ہے۔ مریخ پر نسل در نسل زندگی گزارنے کے ارتقائی اثرات بھی تاحال نامعلوم ہیں، تاہم سولو من کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ انسان وقت کے ساتھ قد میں چھوٹے ہو جائیں گے اور شاید زمین پر واپس آنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ایک انٹرویو میں پروفیسر اسکاٹ سولو من نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسان واقعی خلا کی گہرائیوں تک جانے کی سرحدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔میرے خیال میں قارئین کیلئے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں تو آگے کیا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ کہانی ہے جو میں یہاں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آیئے تصور کریں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔اپنی کتاب کیلئے تحقیق کے دوران سولو من نے ناسا، اسپیس ایکس اور خلا کی تحقیق پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور کمپنیوں کے درجنوں ماہرین سے گفتگو کی۔ اس عمل کے دوران اُن کیلئے سب سے حیران کن حقیقت یہ سامنے آئی کہ خلا میں افزائشِ نسل کے بارے میں ہمارا علم نہایت محدود ہے۔ پروفیسر کے مطابق،کسی دوسرے سیارے یا خلا میں کہیں ایک بستی یا شہر بسانے کا تصور دراصل یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ لوگ وہاں جا کر بچے پیدا کر سکیں گے اور ایک خاندان کی پرورش کر پائیں گے۔ کیا ہم مریخ پر بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ سوال ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، یا اگر جواب اثبات میں ہے مگر اس کے ساتھ سنگین مسائل جڑے ہوئے ہیں، تو ہمیں یہ سب کچھ جان لینا چاہیے، میرے خیال میں، اس سے پہلے کہ ہم زمین سے باہر مستقل انسانی آبادیاں بسانے کے عملی منصوبوں کی طرف قدم بڑھائیں۔مریخ پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ خلا میں وقت گزارنے والے خلا بازوں پر کی گئی وسیع تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں ہڈیوں کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ پر رہنے والی خواتین کی ہڈیاں زیادہ نازک ہوں گی، جو بچے کی پیدائش کے دوران ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زچگی بذاتِ خود ایک پرخطر عمل ہے، لہٰذا ہم ایسے منظرنامے کا تصور کر سکتے ہیں جہاں مریخ پر پیدا ہونے والی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ کہیں زیادہ ہو گا۔

ابتدائی جیومیٹری

ابتدائی جیومیٹری

جیومیٹری لکیروں کا کھیل ہے۔ علمائے جیومیٹری کو ہم لکیر کے فقیر کہہ سکتے ہیں۔ دنیا نے اتنی ترقی کر لی، ہر چیز بشمول سائنس اور مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی، لیکن جیومیٹری والوں کے ہاں اب تک زاویہ قائمہ درجہ کا ہوتا ہے اور مثلث کے اندرونی زاویوں کا مجموعہ درجے سے تجاوز نہیں کر پایا۔ امریکہ اور روس ہر معاملہ میں لڑتے ہیں، اس معاملے میں ملی بھگت ہے۔ ہم اپنے ملک میں اپنی پسند کا نظام لائیں گے تو اپنی اسمبلی میں ایک قانون بنوائیں گے، چند درجے ضرور بڑھائیں گے۔ مستطیل بھی پرانے زمانے میں جیسی چورس ہوتی تھی ویسی آج کل ہے۔ گول کرنا تو بڑی بات ہے کسی کو یہ توفیق تک نہ ہوئی کہ اس کے چار سے پانچ یا چھ ضلعے کر دے۔ ایک آدھ فالتو رہے تو اچھا ہی ہے۔ پاکستان کے ضلعوں میں ہم رد و بدل کرتے ہیں تو مستطیل وغیرہ کے ضلعوں میں کیوں نہیں کر سکے۔جیومیٹری میں بنیادی چیزیں ہیں، خط، نقطہ، دائرہ، مثلث وغیرہ۔ اب ہم تھوڑا تھوڑا حال ان کا لکھتے ہیں۔خطخط کی کئی قسمیں ہیں،جن کا ذکر نیچے کیا جا رہا ہے۔خط ِ مستقیم:یہ خط بالکل سیدھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر نقصان اٹھاتا ہے۔ سیدھے آدمی بھی نقصان اٹھاتے ہیں۔خطِ منحنی: یہ ٹیڑھا ہوتا ہے بالکل کھیر کی طرح، لیکن اس میں میٹھا نہیں ڈالا جاتا۔خط تقدیر: اسے فرشتے پکی سیاہی سے کھینچتے ہیں۔ یہ مستقیم بھی ہوتا ہے منحنی بھی۔ اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔خطِ ب رنگ: اس پر لگانے والے ٹکٹ نہیں لگاتے۔ ہمیں دگنے پیسے دینے پڑتے ہیں۔خط ِ شکستہ: یہ وہ خط ہے جس میں ڈاکٹر لوگ نسخے لکھتے ہیں۔ تبھی تو آج کل اتنے لوگ بیماریوں سے نہیں مرتے جتنے غلط دواؤں کے استعمال سے مرتے ہیں۔خطِ استوا: یہ اس لیے ہوتا ہے کہ کہیں تودنیا میں دن رات برابر ہوں، کہیں تو مساوات نظر آئے۔خط کی دیگر دو مشہور قسمیںحسینوں کے خطوط: یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں دور، بہت دور افق کے پار جانے کا ذکر ہوتا ہے، جہاں ظالم سماج نہ پہنچ سکے۔ یہ تصویر بتاں کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جو حسینوں کے چہروں پر ہوتے ہیں اور جن کو چھپانے کیلئے ہر سال کروڑوں روپے کی کریمیں، لوشن، پوڈر وغیرہ صرف کیے جاتے ہیں۔متوازی خطوط: یہ ویسے تو آمنے سامنے ہوتے ہیں، لیکن تعلقات نہایت کشیدہ۔ ان کو کتنا بھی لمبا کھینچ کے لے جائیے یہ کبھی آپس میں نہیں ملتے۔ کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں ان کو ملانے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ آج کل بڑے بڑے ناممکنات کو ممکن بنا دیا گیا ہے تو یہ کس شمار قطار میں ہیں۔نقطہنقطہ یعنی بِندی یعنی پوائنٹ۔ یہ محض کسی جگہ کی نشاندہی کیلئے ہوتا ہے۔ جیومیٹری کی کتابوں میں آیا ہے کہ نقطہ جگہ نہیں گھیرتا۔ ایک آدھ نقطہ کی حد تک یہ بات صحیح ہو گی لیکن چھ نقطوں سے تو آپ سارا پاکستان گھیر سکتے ہیں۔دائرہدائرے چھوٹے بڑے ہر قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قریب قریب سبھی گول ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ہے کہ ان میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔ جیومیٹری میں اس کی کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔ جو کسی نے پرانے زمانے میں فیصلہ کر دیا، اب تک چلا آ رہا ہے۔ ایک دائرہ اسلام کا دائرہ کہلاتا ہے۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا کرتے تھے، آج کل داخلہ منع ہے، صرف خارج کرتے ہیں۔مُثَلَّثتکون کے تین کونے ہوتے ہیں۔ چار کونوں والی بھی ہوتی ہوں گی، لیکن ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتیں۔ کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزریں۔مثلثیں کئی طرح کی ہوتی ہیں: مثلاً عشق کی مثلث: عاشق، معشوق اور رقیب۔ فلم بھی یہی مثلث ہوتی ہے، لیکن وہاں ان تینوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رقابت سے شادی تک فلم ساز کے خرچ پر ہوتی ہے۔

حکایت سعدیؒ:خسارہ

حکایت سعدیؒ:خسارہ

حضرت سعدی ایک قافلے کے ہمراہ بیابان قید طے کر رہے تھے کہ ایک پڑاؤ پر قافلہ رکا تو نیند کے غلبے نے ایسا مدہوش کیا کہ قافلے کی روانگی کا احساس نہ ہوا۔ ایک شتر سوار نے آپ کو اس حالت میں دیکھ کر جگایا اور کہا۔''کیا مرنے کا ارادہ ہے جو یوں غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ یاد رکھ، قافلے سے بچھڑنے کی صورت میں اس لق و دق بیابان میں ہی ہلاک ہو جائے گا۔ وقت کسی کی خاطر اپنی رفتار کم نہیں کرتا۔ اس کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اسے غفلت کی نیند میں برباد نہ کر‘‘۔حاصل کلام: سفر حیات کی نزاکتوں اور دشواریوں کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ بیابان قید کے غافل مسافر کی طرح ہلاکت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ غفلت میں پڑے ہوئے لوگ اعمال حسنہ کی برکتوں سے خالی دامن کی وجہ سے خسارے میں رہتے ہیں اور عاقبت میں نہ ختم ہونے والا عذاب ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!مینا شوری  من موہنی صورت والی اداکارہ (1921-1987ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!مینا شوری من موہنی صورت والی اداکارہ (1921-1987ء)

٭...1921ء میں پنجاب کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں، اصل نام خورشید جہاں تھا۔ ٭...وہ 40ء اور50ء کی دہائی میں ہندوستان اور پاکستان کی مشہور ترین ہیروئن تھیں۔٭...فلمی کریئر کا آغازبھارت میں سہراب مودی کی فلم ''سکندر‘‘ سے ہوا۔٭...1949ء میں ہدایتکار روپ کے شوری کی فلم ''ایک تھی لڑکی‘‘ میں جلوہ گر ہوئیں جوزبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس فلم کے گیت''لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا‘‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔ اس فلم کے بعد انہوں نے روپ کے شوری سے شادی کرلی اور پھر انہیں مینا شوری کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ٭... انہوں نے پرتھوی راج اورموتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے زیادہ خوش لباس ہیروئن تھیں ۔٭...مینا شوری نے پاکستان میں 54فلموں میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے۔ ٭...انہوں نے ہیروئن، سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار ادا کیے۔ کئی فلموں میں ماں کا کردار بھی ادا کیا۔ ٭...1956ء میں انورکمال پاشا کی فلم ''سرفروش‘‘ میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی کارکردگی کو بھی پسند کیاگیا۔ ان پر عکسبد ہونے والا گیت ''تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے‘‘ بہت مقبول ہوا۔٭...وہ اردواور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔٭...مینا شوری کی ذاتی زندگی مصائب و آلام کا شکار رہی۔پانچ شادیاں کیں۔ پہلی شادی روپ کے شوری، پھر ظہور راجہ، علی ناصر اور رضامیر سے بھی شادی کی۔ آخری شادی انہوں نے اسد بخاری سے کی جو اپنے وقت کے معروف اداکار اور فلمساز تھے۔٭...آخری عمر میں وہ سخت مالی تنگدستی کا شکار رہیں۔ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کردیا تھا اور وہ بالکل تنہا ہوچکی تھیں۔ ٭...9 فروری1987ء کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وہ ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت کا ایسا کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔مقبول پاکستانی فلمیںسرفروش، ستاروں کی دنیا، گل فروش، گلشن، تین اور تین، پھول اور کانٹے، موسیقار، مہمان، بیداری، موسیقار، جگا، بچہ جمورا، بہروپیا، جمالو، خاموش رہو، ترانہ، الزام، ناجو، اک سی ماں، امام دین گوہاویہ ، بڑا آدمیمقبول بھارتی فلمیںسکندر، ایک تھی لڑکی، شری متی 420، آگ کا دریا ، پتھروں کے سوداگر، شہر سے دور، پت جھڑ، چمن

آج کا دن

آج کا دن

''اپالو 14‘‘کی زمین پرواپسی1971ء میں ناسا کے اپالو پروگرام کے تحت خلائی مشن ''اپالو 14‘‘ کامیابی کے ساتھ اپنا تاریخی سفر مکمل کر کے زمین پر واپس پہنچا۔ یہ انسان کی چاند پر تیسری کامیاب لینڈنگ تھی۔ اس مشن کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر سائنسی تجربات کیے، مختلف نمونے جمع کیے اور اہم مشاہدات ریکارڈ کیے۔ یہ مشن انسانی تاریخ میں سائنسی ترقی کی ایک درخشاں مثال سمجھا جاتا ہے۔کھیل والی بال کی ایجاد1895ء میں امریکی ماہر جسمانی تربیت ولیم جی مورگن نے ایک نیا کھیل ایجاد کیا جسے انہوں نے ابتدائی طور پر ''منٹونیٹ‘‘ کا نام دیا۔ اس کھیل کا مقصد ایسا کھیل متعارف کرانا تھا جو باسکٹ بال کے مقابلے میں کم سخت ہو اور ہر عمر کے افراد آسانی سے کھیل سکیں۔ وقت کے ساتھ اس کھیل کے قواعد و ضوابط میں بہتری لائی گئی اور اس کا نام والی بال رکھا گیا۔ آج والی بال دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ہیلی دمدار ستارہ1986ء میں ہیلی نامی ایک دم دار ستارہ سورج کے نزدیک سے گزرا۔ دمدار ستارے کا یہ گزر 75 سال میں ایک بار ہوتا ہے جسے انسانی آنکھ دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب یہ ستارہ 2061ء میں دوبارہ نمودار ہو گا۔ اس طرح کے ستاروں کے مشاہدے سے خلاء میں موجود دیگر ستاروں اور سیاروں کی چال اور رفتار معلوم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔اس سے قبل بھی کئی ستارے زمین کے قریب سے گزر چکے ہیں جنہیں انسانی آنکھ دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ویتنام جنگ1965ء میں آج کے روز امریکہ کا پہلا فوجی دستہ جنوبی ویتنام پہنچا۔اس خونریز جنگ میں سب سے زیادہ نقصان شمالی ویت نام اور ویت کانگ کا ہوا، جن کی کل ہلاکتوں ا ور گمشدگیوں کی تعداد 11 لاکھ 76 ہزار ہے جبکہ 6لاکھ سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ چین کے1446 فوجی ہلاک اور4200 زخمی ہوئے، سوویت اتحاد کے 16 فوجی بھی مارے گئے۔ اس طرح شمالی ویت نام اور اس کے اتحادیوں کا کل جانی نقصان 11 لاکھ 77 ہزار 446 رہا جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 6 لاکھ 4 ہزار رہی۔بلقان معاہدہ 1934ء میں آج کے دن ترکی، یونان، یوگوسلاویہ اور رومانیہ کے درمیان ایتھنز میں بلقان معاہدہ طے پایا، جس کے مطابق بلقانی ممالک ایک دوسرے کے وجود کا احترام کرتے ہوئے حدود کی پاسداری کریں گے۔ خلافت کے خاتمے اور شکست کے بعد ترکی پر متعدد پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ پابندیوں کی وجہ سے ترکی کو کئی محاذوں پر سے پیچھے ہٹنا پڑا،بلقان معاہدہ بھی انہی پابندیوں کا سلسلہ تھا ۔بلقان معاہدے کے بعد بھی ترکی اور یونان کے درمیاں کئی لڑائیاں ہوئیں۔ا فضل گورو کوپھانسی2013ء میں آج کے روز حریت رہنما افضل گورو کوپھانسی دی گئی۔وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارامولہ میں پیدا ہوئے۔ ایم بی بی ایس کے دوسرے سال کے دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے،حملہ آوروں کیلئے اسلحے کے حصول میں سہولت کاراور انہیں پناہ دینے کے الزامات عائد کئے تھے۔

 ویٹ ڈریس ریہرسل ناکام

ویٹ ڈریس ریہرسل ناکام

ناسا کے چاند مشن کی روانگی مؤخرخلائی تحقیق کی دنیا میں ہر پیش رفت جہاں امید کی نئی کرن بن کر سامنے آتی ہے، وہیں بعض اوقات تکنیکی رکاوٹیں بڑے منصوبوں کی رفتار کو سست بھی کر دیتی ہیں۔ ناسا کا انسان بردار چاند مشن ''آرٹیمس ٹو‘‘ بھی اسی نوعیت کی ایک تاخیر کا سامنا کر رہا ہے۔ آخری مرحلے میں کی جانے والی ویٹ ڈریس ریہرسل (wet dress rehearsal) کی ناکامی کے بعد اس اہم مشن کو مارچ تک مؤخر کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی خلائی برادری کی نظریں ایک بار پھر ناسا کی تیاریوں پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یہ مشن نہ صرف انسانوں کی دوبارہ چاند پر واپسی کی جانب اہم قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ مستقبل میں مریخ سمیت دیگر سیاروں تک رسائی کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ تاہم یہ تاخیر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خلائی سفر میں احتیاط، جانچ اور مکمل تیاری ہر کامیابی کی اوّلین شرط ہے۔امریکی خلائی ادارہ پہلے 6 سے 11 فروری کے درمیان لانچ ونڈو کو ہدف بنا رہا تھا، تاہم اب مارچ میں لانچ کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ چار خلا بازوں کو چاند کے گرد مدار میں بھیجنے کے اس مشن کو مؤخر کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب آخری مرحلے میں ہونے والی ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ ناکام ہو گئی۔ ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ انجینئرز نے ٹیسٹ کے دوران ٹرمینل کاؤنٹ ڈاؤن آپریشنز کی پہلی مشق کی، تاہم مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہونے کے باعث کاؤنٹ ڈاؤن پانچ منٹ باقی رہنے پر روک دیا گیا۔ ویٹ ڈریس ریہرسل کے دوران زمینی عملہ ''اسپیس لانچ سسٹم‘‘ (SLS) راکٹ میں ایندھن بھرنے، کاؤنٹ ڈاؤن چلانے اور بعدازاں فیول ٹینکس خالی کرنے کی مشق کرتا ہے۔ ریہرسل شروع ہونے کے بعد جلد ہی کئی مسائل سامنے آ گئے۔ فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں سرد موسم نے فیولنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالی، جس کے نتیجے میں مائع ہائیڈروجن کا اخراج ہوا اور کارروائی روکنا پڑی۔ اس تاخیر کے باعث آرٹیمس ٹو کے عملے ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوخ اور جیرمی ہینسن قرنطینہ سے باہر آ جائیں گے اور منصوبے کے مطابق کینیڈی اسپیس سینٹر کا سفر نہیں کریں گے۔17 جنوری کو ناسا نے 11 گھنٹے صرف کرتے ہوئے نہایت احتیاط کے ساتھ ''ایس ایل ایس‘‘ راکٹ کو ہینگر سے لانچ پیڈ تک چار میل (6.4 کلومیٹر) کے فاصلے پر منتقل کیا۔ ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کو اس سے قبل غیر متوقع طور پر شدید سرد موسم کے باعث کئی دنوں کیلئے مؤخر کر دیا گیا تھا، کیونکہ سردی راکٹ کے نظام اور اُن جوڑوں (انٹرفیسز) کو متاثر کر سکتی ہے جو ایندھن کے اخراج کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، راکٹ کے محفوظ درجہ حرارت تک گرم ہونے کا انتظار کرنے کے بعد عملے نے ''ایس ایل ایس‘‘ میں دو ملین لیٹر سے زائد انتہائی ٹھنڈا مائع ہائیڈروجن بھرنا شروع کیا، جسے منفی 252 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 423 فارن ہائیٹ) تک ٹھنڈا کیا گیا تھا۔ فوراً ہی ناسا نے ایک ایسے جوڑ میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج کو محسوس کیا جو راکٹ کے مرکزی حصے میں ایندھن منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ایس ایل ایس لانچز کے درمیان تین سال سے زائد وقفے کے باعث ہم مکمل طور پر یہ توقع رکھتے تھے کہ ہمیں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ پرواز سے پہلے مسائل سامنے لانے اور لانچ کے دن کامیابی کے زیادہ سے زیادہ امکانات پیدا کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔غیر متوقع اخراج کو درست کرنے کیلئے مائع ہائیڈروجن کا بہاؤ روکنا پڑا، راکٹ کو اتنا گرم ہونے دیا گیا کہ سیلز دوبارہ درست حالت میں آ سکیں اور ایندھن کے بہاؤ میں ضروری رد و بدل کیا گیا۔ بالآخر ناسا تمام ٹینکس کو مرکزی اور عبوری مرحلے میں ایندھن سے بھرنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے بعد عملے نے فرضی کاؤنٹ ڈاؤن کا آغاز کیا۔تاہم مشق کے کاؤنٹ ڈاؤن میں صرف پانچ منٹ باقی رہ گئے تھے کہ مائع ہائیڈروجن کے اخراج کی شرح میں اچانک اضافہ ہوا، جس کے باعث لانچ سیکوئنس خودکار طور پر روک دیا گیا۔ہائیڈروجن لیک کے علاوہ، ناسا نے یہ بھی دریافت کیا کہ اورین کریو ماڈیول میں دباؤ برقرار رکھنے والے ایک والو کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے، جس سے مزید تاخیر ہوئی۔ انجینئرز کو ٹیسٹ سے پہلے کے چند ہفتوں کے دوران آڈیو کمیونی کیشن چینلز میں بار بار ڈراپ آؤٹس (رکاوٹوں) کا سامنا بھی رہا اور ریہرسل کے دوران بھی ایسی کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ جیرڈ آئزک مین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ہمیشہ کی طرح حفاظت ہماری اوّلین ترجیح ہے، چاہے وہ ہمارے خلا باز ہوں، ہمارا عملہ، ہمارے نظام ہوں یا عوام۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ہم اسی وقت لانچ کریں گے جب ہمیں یقین ہو گا کہ ہم اس تاریخی مشن کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ناسا کا کہنا ہے کہ اب اسے مزید وقت درکار ہے تاکہ ٹیمیں ڈیٹا کا جائزہ لے سکیں اور دوسری ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ انجام دے سکیں۔ اب عملہ قرنطینہ سے باہر آ سکے گا، جس میں وہ 11 جنوری کو ہیوسٹن میں داخل ہوئے تھے اور اگلی لانچ ونڈو سے تقریباً دو ہفتے قبل دوبارہ قرنطینہ میں داخل ہوں گے۔جیرڈ آئزک مین نے مزید کہا کہ ٹیم مکمل طور پر ڈیٹا کا جائزہ لے گی، ''ویٹ ڈریس ریہرسل‘‘ کے دوران سامنے آنے والے ہر مسئلے کی جانچ کرے گی، ضروری مرمت کرے گی اور دوبارہ ٹیسٹنگ کا عمل شروع کرے گی۔