ایلون مسک کا مریخ منصوبہ خلا کی فتح یا انسانی وجود کا امتحان؟
اسپیشل فیچر
انسانی تاریخ میں خلا کو تسخیر کرنے کا خواب ہمیشہ سے موجود رہا ہے، مگر جدید دور میں ایلون مسک کے مریخ پر انسانی بستی بسانے کے منصوبے نے اس خواب کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ تاہم ماہرین کی تازہ آرا اس خواب کی ایک ہولناک حقیقت کی نشاندہی کر رہی ہیں، جس میں مریخ تک کا طویل اور کٹھن سفر انسانی جسم کیلئے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ خلائی تابکاری، کششِ ثقل کی کمی، ذہنی دباؤ اور جسمانی نظام کے بکھرنے جیسے عوامل وہ قیمت ہیں جو انسان کو اس جرات مندانہ مہم کے عوض چکانا پڑ سکتی ہے۔ یہ منصوبہ جہاں سائنسی ترقی کی علامت ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا انسان واقعی اس قدر بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہے، یا مریخ کا سفر انسانی وجود کیلئے ایک ناقابلِ تصور آزمائش ثابت ہوگا؟
جسمانی ساخت میں تبدیلی سے لے کر مدافعتی نظام کے تباہ کن دباؤ اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں تک، انسانیت کا مریخ پر آباد ہونا انسانی جسم کیلئے بے شمار مسائل لے کر آ سکتا ہے۔ ایلون مسک کا ماننا ہے کہ 2050ء تک مریخ پر انسانی بستی قائم کرنا ممکن ہو سکتا ہے، تاہم رائس یونیورسٹی کے پروفیسر اسکاٹ سولو من ( professor Scott Solomon ) کے مطابق اس سے قبل کئی بڑے چیلنجز اور بنیادی سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات ملنا ابھی باقی ہیں، اس سے پہلے کہ مریخ پر مستقل انسانی موجودگی کو سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا سکے۔ اپنی آنے والی کتاب ''Becoming Martian: How Living in Space Will Change Our Bodies and Minds‘‘ میں سولو من اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سب سے اہم اور اب تک حل طلب سوال یہ ہے کہ آیا انسان زمین کے باہر افزائشِ نسل کے قابل ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ کمزور یا تقریباً نہ ہونے والی کششِ ثقل اور زمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ تابکاری والے ماحول میں، خلا یا کسی دوسرے سیارے پر بچے کی پیدائش ممکن بھی ہے یا نہیں۔
اپنی کتاب میں سولو من وضاحت کرتے ہیں کہ خلا میں انسانوں کے درمیان جنسی تعلقات کا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا، اور کم کششِ ثقل کے ماحول میں جنین کی نشوونما اور بچے کی پیدائش کے بارے میں تحقیق بھی نہایت محدود ہے۔ مریخ پر نسل در نسل زندگی گزارنے کے ارتقائی اثرات بھی تاحال نامعلوم ہیں، تاہم سولو من کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ انسان وقت کے ساتھ قد میں چھوٹے ہو جائیں گے اور شاید زمین پر واپس آنے کے قابل بھی نہ رہیں۔
ایک انٹرویو میں پروفیسر اسکاٹ سولو من نے کہا کہ ہم اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسان واقعی خلا کی گہرائیوں تک جانے کی سرحدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔میرے خیال میں قارئین کیلئے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جائیں تو آگے کیا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ کہانی ہے جو میں یہاں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آیئے تصور کریں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔
اپنی کتاب کیلئے تحقیق کے دوران سولو من نے ناسا، اسپیس ایکس اور خلا کی تحقیق پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور کمپنیوں کے درجنوں ماہرین سے گفتگو کی۔ اس عمل کے دوران اُن کیلئے سب سے حیران کن حقیقت یہ سامنے آئی کہ خلا میں افزائشِ نسل کے بارے میں ہمارا علم نہایت محدود ہے۔ پروفیسر کے مطابق،کسی دوسرے سیارے یا خلا میں کہیں ایک بستی یا شہر بسانے کا تصور دراصل یہ مفروضہ قائم کرتا ہے کہ لوگ وہاں جا کر بچے پیدا کر سکیں گے اور ایک خاندان کی پرورش کر پائیں گے۔ کیا ہم مریخ پر بچے پیدا کر سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ سوال ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، یا اگر جواب اثبات میں ہے مگر اس کے ساتھ سنگین مسائل جڑے ہوئے ہیں، تو ہمیں یہ سب کچھ جان لینا چاہیے، میرے خیال میں، اس سے پہلے کہ ہم زمین سے باہر مستقل انسانی آبادیاں بسانے کے عملی منصوبوں کی طرف قدم بڑھائیں۔
مریخ پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ہے۔ خلا میں وقت گزارنے والے خلا بازوں پر کی گئی وسیع تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کم کششِ ثقل والے ماحول میں ہڈیوں کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ پر رہنے والی خواتین کی ہڈیاں زیادہ نازک ہوں گی، جو بچے کی پیدائش کے دوران ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زچگی بذاتِ خود ایک پرخطر عمل ہے، لہٰذا ہم ایسے منظرنامے کا تصور کر سکتے ہیں جہاں مریخ پر پیدا ہونے والی خواتین کو بچے کی پیدائش کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ کہیں زیادہ ہو گا۔