آج کا دن
اسپیشل فیچر
7 سالہ جنگ کا خاتمہ
10 فروری 1763ء کو یورپ کی بڑی طاقتوں کے درمیان پیرس معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں سات سالہ جنگ ختم ہوئی۔ یہ جنگ 1756ء سے 1763ء تک جاری رہی اور اس میں برطانیہ، فرانس، سپین، پروشیا (جرمنی)اور دیگر یورپی طاقتیں شامل تھیں۔ اس جنگ کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے محاذ صرف یورپ تک محدود نہیں رہے بلکہ شمالی امریکا، کیریبین، افریقہ اور برصغیر تک پھیلے ہوئے تھے، اسی لیے اسے بعض مورخین دنیا کی پہلی عالمی جنگ بھی کہتے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ میں بھی نہایت اہم ثابت ہوا کیونکہ جنگ کے بعد برطانیہ نے مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے اپنی امریکی کالونیوں پر ٹیکس عائد کیے۔ انہی ٹیکسوں کے خلاف ردعمل نے بالآخر امریکی انقلاب (1776ء ) کو جنم دیا۔
ملکہ وکٹوریہ کی شادی
10 فروری 1840ء کو برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کی شادی جرمن شہزادے پرنس البرٹ سے ہوئی۔ البرٹ ایک تعلیم یافتہ، ذہین اور اصلاح پسند شخصیت تھے۔ شادی کے بعد انہوں نے ملکہ وکٹوریہ کے مشیر کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے صنعت، سائنس، تعلیم اور فنونِ لطیفہ کے فروغ پر خاص توجہ دی۔ 1851ء کی عظیم صنعتی نمائش انہی کی سرپرستی میں منعقد ہوئی جس نے برطانیہ کو صنعتی انقلاب کا عالمی رہنما ثابت کیا۔1861ء میں پرنس البرٹ کی وفات کے بعد ملکہ وکٹوریہ طویل عرصے تک سوگ میں رہیں۔
پیرس امن معاہدہ
10 فروری 1947ء کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پیرس امن معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدے اٹلی، رومانیہ، ہنگری، بلغاریہ اور فن لینڈ جیسے ممالک کے ساتھ کیے گئے، جو جنگ کے دوران نازی جرمنی کے اتحادی تھے۔ان معاہدوں کا بنیادی مقصد یورپ میں امن بحال کرنا اور جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو منظم کرنا تھا۔ اٹلی کو اپنی نوآبادیات سے دستبردار ہونا پڑا، فوجی طاقت محدود کر دی گئی اور جنگی نقصانات ادا کرنے کا پابند بنایا گیا۔ اسی طرح دیگر ممالک پر بھی فوجی اور سیاسی پابندیاں عائد کی گئیں۔ان معاہدوں کے نتیجے میں یورپ کا سیاسی نقشہ ایک بار پھر تبدیل ہوا۔
قیدیوں کا تبادلہ
10 فروری 1962ء کو سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ اس تبادلے میں امریکی جاسوس طیارے U-2 کے پائلٹ گیری پاورز کو سوویت جاسوس روڈولف ایبل کے بدلے رہا کیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ شدید نظریاتی دشمنی کے باوجود دونوں سپر پاورز مکمل جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتی تھیں۔یہ تبادلہ سرد جنگ کی نفسیاتی جنگ، خفیہ سفارتکاری اور طاقت کے توازن کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں دشمنی کے باوجود مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
کمپیوٹر کی تاریخی فتح
10 فروری 1996ء کو مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا جب IBM کے تیار کردہ سپر کمپیوٹرDeep Blue نے شطرنج کے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو ایک کھیل میں شکست دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کمپیوٹر نے عالمی سطح کے انسانی چیمپئن کو شطرنج جیسے پیچیدہ ذہنی کھیل میں ہرایا۔شطرنج کو انسانی ذہانت، منصوبہ بندی اور تخلیقی سوچ کی علامت سمجھا جاتا تھا اور طویل عرصے تک یہ تصور عام تھا کہ مشین انسان کو اس میدان میں شکست نہیں دے سکتی۔Deep Blue کی فتح نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔