آج کا دن
اسپیشل فیچر
شمسی توانائی کا آغاز
1954 میں ''بیل ٹیلی فون لیبارٹریز‘‘ نے دنیا کے پہلے قابلِ عمل شمسی سیل کا عوامی مظاہرہ پیش کیا۔ یہ ایک سائنسی سنگِ میل تھا جس نے سورج کی روشنی کو براہِ راست بجلی میں تبدیل کرنے کی عملی راہ ہموار کی۔ اس ایجاد نے توانائی کے متبادل ذرائع کی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کیں اور مستقبل میں شمسی توانائی کے وسیع استعمال کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی طور پر اس سیل کی کارکردگی محدود تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس ٹیکنالوجی میں بہتری آئی اور آج یہ صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے اہم ترین ذرائع میں شمار ہوتی ہے۔
نیو یارک: گاڑیوں کی رجسٹریشن
1901 ء میں آج کے دن امریکی ریاست نیویارک نے اپنے رہائشیوں سے موٹر گاڑیوں کو رجسٹر ڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نیویارک امریکہ کی پہلی ریاست تھی جس میں شہریوں کو یہ حکم جاری کیا گیا۔ مختلف اداروں کی جانب سے گاڑیاں رجسٹرڈ کرنے والوں کے لئے نمبر ڈسپلے کے لیے مخصوص لائسنس پلیٹیں فراہم کی گئیں۔ ان پلیٹوں میں 1903 ء تک رجسٹریشن کے ابتدائیہ اور اس کے بعد کے نمبر موجود تھے۔ ریاستی ادارے نے باقائدہ طور پر1910ء میں پلیٹیں جاری کرنا شروع کیں۔ پلیٹیں فی الحال نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف موٹر وہیکلز کی طرف سے جاری کی جاتی ہیں۔ موٹرسائیکلوں اور ٹریلرز کے علاوہ تمام گاڑیوں پر آگے اور پیچھے کی پلیٹیں ضروری ہیں۔
گیلی پولی کی جنگ
گیلی پولی مہم پہلی جنگ عظیم میں ایک فوجی مہم تھی جو 17 فروری 1915 سے شروع ہوئی لیکن باقائدہ جنگ کا آغاز 25اپریل کو ہوا۔یہ لڑائی 9 جنوری 1916ء تک جارہی ۔اس جنگ کا مقام جزیرہ نما گیلی پولی تھا۔اس جنگ کا مقصد ترک آبنائے کا کنٹرول سنبھال کر سلطنت عثمانیہ کو کمزور کرنا تھا جو اس وقت کی مرکزی طاقتوں میں سے ایک تھی۔ گیلی پولی مہم کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کو قسطنطنیہ میں جو کہ عثمانی دارالحکومت تھا میں اتحادی افواج کے جنگی جہازوں کی بمباری کا سامنا کرنا پڑا اور اس کا رابطہ سلطنت کے ایشیائی حصے سے کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ مہم میں منصوبہ بندی کی گئی کہ ترکی کی شکست کے بعد نہر سویز محفوظ ہو جائے گی ۔
نیپال میں شدید زلزلہ
اپریل 2015ء نیپال میں شدید زلزلہ آیا جسے گورکھا زلزلہ بھی کہا جاتا ہے۔اس خوفناک زلزلے میں8ہزار 964 افراد ہلاک اور21ہزار 952افرادزخمی ہوئے۔ یہ 25 اپریل 2015ء کو نیپال کے مقامی وقت کے مطابق 11بجکر56 منٹ پر آیا۔ اس زلزلے کی شدت 7.8 سے 8.1 تک ریکارڈ کی گئی تھی ۔ اس کا مرکز گورکھا ضلع کے مشرق میں بارپک، گورکھا میں تھا اور اس کا مرکز تقریباً 8.2 کلومیٹر (5.1 میل) گہرائی میں تھا۔ 1934ء کے نیپال، بہار زلزلے کے بعد نیپال میں آنے والی یہ بدترین قدرتی آفت تھی۔
سویز منصوبے کا آغاز
1859 میں برطانوی اور فرانسیسی انجینئروں نے نہرِ سویز کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ منصوبہ اس دور کے عظیم ترین انجینئرنگ کارناموں میں شمار ہوتا ہے، جس کا مقصد بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملانا تھا۔ اس نہر کی بدولت یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری راستہ مختصر ہوگیا اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ نہر سویز کی تعمیر میں کئی سال لگے اور ہزاروں مزدوروں نے اس میں حصہ لیا۔ بالآخر 1869ء میں یہ نہر مکمل ہوئی اور عالمی تجارت کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جس نے دنیا کے نقشے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔