لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل
اسپیشل فیچر
کیا سائنس نے ایک نئی منزل عبور کر لی؟
کائنات کے سب سے پراسرار اور طاقتور اجسام میں بلیک ہولز کو ہمیشہ ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ کئی دہائیوں تک بلیک ہول صرف نظریاتی طبیعیات اور فلکیات کا موضوع رہے لیکن اب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس نے بلیک ہول کے رویے کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کی پیڈربورن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تجرباتی نقل تیار کی جس میں ایسے آثار دیکھے گئے جو معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے پیش کردہ ''ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ اور بلیک ہول کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں حقیقی بلیک ہول بنا لیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل محققین نے ایک ایسا تجرباتی نظام تشکیل دیا جو بلیک ہول کی بعض طبیعی خصوصیات کی نقل کرتا ہے۔ اس نظام میں روشنی اور جدید آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں روشنی کا رویہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے مشابہ ہو جاتا ہے۔
بلیک ہول کیا ہے؟
بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں مادہ انتہائی کثافت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے تو اس کا واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول صرف مادے اور توانائی کو نگلتے ہیں مگر 1974ء میں برطانوی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق کوانٹم طبیعیات کے قوانین کے تحت بلیک ہول مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ نہایت معمولی مقدار میں تابکاری خارج کرتے ہیں، جسے Hawking Radiationکہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو انتہائی طویل مدت کے بعد بلیک ہول اپنی توانائی کھو کر مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔
لیبارٹری میں کیا کیا گیا؟
اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک حقیقی بلیک ہول بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک ایسا تجرباتی ماڈل تیار کیا جس میں روشنی کی لہروں کو اس انداز سے کنٹرول کیا گیا کہ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن جیسا رویہ اختیار کریں۔تجربے کے دوران محققین نے دیکھا کہ یہ مصنوعی نظام بھی توانائی خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خود اس نظام کی حالت میں معمولی تبدیلی آتی ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے بیک ری ایکشن(Backreaction) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تجربے کو منفرد بناتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہاکنگ ریڈی ایشن کے نظریے کے اس حصے کا براہِ راست تجرباتی مشاہدہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
اس تحقیق کی اہمیت
یہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ حقیقی بلیک ہول تک پہنچ کر ان پر تجربات کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مشاہدہ صرف دوربینوں اور فلکیاتی آلات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایسے اینالاگ نظام سائنسدانوں کو بلیک ہول کے نظریات کو عملی طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یہ تحقیق کوانٹم میکینکس اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جدید طبیعیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات الگ الگ حالات میں تو انتہائی کامیاب ہیں لیکن انہیں ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بلیک ہول اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بہترین قدرتی تجربہ گاہ سمجھے جاتے ہیں۔
کیا حقیقی بلیک ہول بخارات بن جاتے ہیں؟
سائنسی نظریے کے مطابق ہاں، لیکن یہ عمل ناقابلِ یقین حد تک سست ہوتا ہے۔ ایک ستارے کے انہدام سے بننے والے بلیک ہول کو مکمل طور پر ختم ہونے میں موجودہ کائنات کی عمر سے بھی کھربوں کھربوں گنا زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس لیے کسی حقیقی بلیک ہول کا بخارات بننا انسان شاید کبھی براہِ راست نہ دیکھ سکیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مزید تجربات نہ صرف ہاکنگ ریڈی ایشن بلکہ بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے ماہرین فزک کو حیران کر رکھا ہے کہ اگر بلیک ہول بخارات بن کر ختم ہو جائے تو اس میں گرنے والے مادے کا کیا ہوتا ہے؟لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل تیار کرنے کا یہ تجربہ فلکیاتی طبیعیات اور کوانٹم سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگرچہ یہ حقیقی بلیک ہول نہیں تھا لیکن اس نے سٹیفن ہاکنگ کے تقریباً نصف صدی پرانے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ سائنس میں بعض اوقات سب سے بڑی پیش رفت براہِ راست کائنات میں نہیں بلکہ ایک لیبارٹری کے محدود ماحول میں ہوتی ہے۔ مستقبل میں اسی نوعیت کے تجربات شاید ہمیں کائنات کے ان رازوں تک پہنچا دیں جو آج بھی انسانی فہم سے باہر ہیں۔