آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


چین جاپان جنگ کا آغاز
7 جولائی 1937ء کو بیجنگ کے قریب واقع مارکو پولو پل پر جاپانی اور چینی افواج کے درمیان ایک فوجی جھڑپ ہوئی جو بعد میں دوسری چین جاپان جنگ کا آغاز ثابت ہوئی۔ ابتدا میں یہ ایک محدود تصادم تھا لیکن چند ہی دنوں میں یہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوگیا جو 1945ء تک جاری رہی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم کے ایشیائی محاذ کا اہم حصہ بن گئی۔اس جنگ میں کروڑوں چینی شہری متاثر ہوئے مورخین کے مطابق مارکو پولو پل کا واقعہ بیسویں صدی کے اہم ترین عسکری اور سیاسی واقعات میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے ایشیا میں ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی بنیاد رکھی۔
ہوائی کا الحاق
7 جولائی 1898ء کو امریکی صدر ولیم میک کنلے نے نیولینڈز ریزولوشن پر دستخط کیے جس کے ذریعے آزاد جمہوریہ ہوائی کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے چند سال قبل 1893ء میں ملکہ لیلی اوکالانی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اور امریکی مفادات کے حامی افراد نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ہسپانوی۔امریکی جنگ کے دوران بحرالکاہل میں ہوائی کی تزویراتی اہمیت بڑھ گئی، جس کے باعث امریکی کانگریس نے اس کے الحاق کی منظوری دی۔ بعد ازاں پرل ہاربر امریکی بحریہ کا سب سے اہم اڈہ بن گیا جہاں 1941ء میں جاپانی حملے نے امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔
برائیونی معاہدہ
7 جولائی 1991ء کو کروشیا کے جزائر برائیونی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس نے سلووینیا کی آزادی کے بعد شروع ہونے والی دس روزہ جنگ کا خاتمہ کیا۔ اس معاہدے میں سلووینیا، کروشیا، یوگوسلاویہ اور یورپی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔معاہدے کے مطابق سلووینیا اور کروشیا نے اپنی آزادی کے اعلان پر تین ماہ تک عملدرآمد مؤخر کرنے پر اتفاق کیا تاہم عملی طور پر یہ سقوطِ یوگوسلاویہ کی شروعات ثابت ہوا۔ اگرچہ اس معاہدے نے سلووینیا میں فوری خونریزی روک دی لیکن بعد میں کروشیا اور بوسنیا میں شدید جنگیں شروع ہوگئیں جن میں لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔
مریخ روور اپرچونیٹی
7 جولائی 2003ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے مشہور مریخی روور اپرچونیٹی (Opportunity) کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا۔جنوری 2004ء میں مریخ پر کامیاب لینڈنگ کے بعد اس روور نے اپنی متوقع 90 روزہ مدت کے بجائے تقریباً پندرہ برس تک کام جاری رکھا جو خلائی تحقیق کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ہزاروں تصاویر اور سائنسی معلومات زمین پر بھیجیں جن سے معلوم ہوا کہ مریخ پر ماضی میں مائع پانی موجود تھا۔ اس دریافت نے مریخ پر زندگی کے امکانات سے متعلق تحقیق کو نئی جہت دی۔ 2018ء میں طوفان کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
لندن 7/7 حملے
7 جولائی 2005ء کو لندن میں ٹرانسپورٹ سسٹم پر چار خودکش بم حملے کیے گئے۔ تین دھماکے زیرزمین ٹرینوں میں جبکہ چوتھا ایک ڈبل ڈیکر بس میں ہوا۔ ان حملوں میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ۔یہ برطانیہ کی جدید تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین سخت کیے، انٹیلی جنس اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا اور عوامی مقامات کی سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس سانحے نے پوری دنیا میں شہری سلامتی، شدت پسندی کے انسداد اور بین الاقوامی تعاون پر نئی بحث چھیڑ دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ورلڈ چاکلیٹ ڈے

ذائقے، تاریخ اور تہذیب کا دلکش سفرہر سال 7 جولائی کو دنیا بھر میں چاکلیٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن چاکلیٹ کی دلچسپ تاریخ، اس کی ثقافتی اہمیت، معاشی کردار اور دنیا بھر میں اس کی غیر معمولی مقبولیت کو اجاگر کرنے کیلئے مخصوص ہے۔7 جولائی کو ورلڈ چاکلیٹ ڈے منانے کی روایت کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس دن 1550ء میں چاکلیٹ یورپ میں متعارف ہوئی تھی ‘ تاہم چاکلیٹ کے عالمی دن کا انعقاد 2009 سے شروع ہوا اور اب یہ دنیا کے متعدد ممالک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ چاکلیٹ صرف ایک میٹھی غذا نہیں بلکہ خوشی، محبت، دوستی اور جشن کی علامت بھی بن چکی ہے۔قدیم تہذیبوں سے جدید دنیا تک چاکلیٹ کی کہانی ہزاروں سال پرانی ہے۔ اس کی ابتدا وسطی اور جنوبی امریکہ کی قدیم تہذیبوں خصوصاً مایا اور ازٹیک اقوام سے ہوئی۔ ان تہذیبوں میں کوکو کے درخت کو مقدس سمجھا جاتا تھا اور اس کے بیجوں سے ایک مشروب تیار کیا جاتا تھا جو مذہبی رسومات، شاہی تقریبات اور خصوصی مواقع پر استعمال ہوتا تھا۔ ازٹیک حکمران کوکو کے بیجوں کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ انہیں بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپی مہم جو جب امریکہ پہنچے تو وہ کوکو کے بیج اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ابتدا میں چاکلیٹ صرف شاہی خاندانوں اور امرا تک محدود تھی لیکن بعد میں اس میں چینی، دودھ اور مختلف ذائقے شامل کیے گئے جس سے یہ زیادہ خوش ذائقہ اور مقبول ہوگئی۔ انیسویں صدی میں صنعتی انقلاب نے چاکلیٹ کی تیاری کو آسان، تیز اور نسبتاً سستا بنا دیا جس کے بعد یہ عام لوگوں کی دسترس میں بھی آگئی۔آج چاکلیٹ دنیا کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی غذاؤں میں شامل ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ سالگرہ، شادی، عید، کرسمس اور دیگر خوشی کے مواقع پر چاکلیٹ بطور تحفہ پیش کرنا ایک خوبصورت روایت بن چکی ہے۔کوکو کی پیداوار میں مغربی افریقہ کے ممالک خصوصاً آئیوری کوسٹ اور گھانا قابل ذکر ہیں۔صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کا استعمال اینٹی آکسیڈنٹس اور فلیونوئیڈز فراہم کرتا ہے جو دل کی صحت اور خون کی گردش کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم چینی اور چکنائی سے بھرپور چاکلیٹ کا زیادہ استعمال موٹاپے، ذیابیطس اور دانتوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال ضروری ہے۔ چاکلیٹ ڈے کی تقریبات اور مقبولیتچاکلیٹ ڈے کے موقع پر مختلف ممالک میں چاکلیٹ فیسٹیول، نمائشیں، کوکنگ مقابلے اور خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیاں نئی مصنوعات متعارف کراتی ہیں اور صارفین کے لیے خصوصی رعایتوں کا اعلان بھی کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی پسندیدہ چاکلیٹس، گھریلو ترکیبیں اور تصاویر شیئر کرکے اس دن کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔پاکستان میں بھی چاکلیٹ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات ہر بڑے شہر میں آسانی سے دستیاب ہیں جبکہ بیکریوں، کیفیز اور گھروں میں چاکلیٹ سے تیار کردہ کیک، براونیز، ڈیزرٹس اور دیگر اشیا کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔خوشیوں کا عالمی ذائقہورلڈ چاکلیٹ ڈے صرف ایک میٹھی چیز سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں بلکہ یہ ہمیں اس طویل سفر کی بھی یاد دلاتا ہے جو کوکو کے ایک چھوٹے سے بیج نے قدیم امریکی تہذیبوں سے شروع کیا اور آج پوری دنیا کے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دن اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کسانوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ذمہ دارانہ خریداری کی حوصلہ افزائی کرنے اور اعتدال کے ساتھ اس لذیذ نعمت سے لطف اندوز ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ چاکلیٹ بلاشبہ ذائقے، خوشی، تہذیب اور انسانوں کو قریب لانے والی ایک ایسی مشترکہ زبان ہے جسے دنیا بھر میں یکساں محبت سے سمجھا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل

کیا سائنس نے ایک نئی منزل عبور کر لی؟کائنات کے سب سے پراسرار اور طاقتور اجسام میں بلیک ہولز کو ہمیشہ ایک منفرد مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہو سکتی۔ کئی دہائیوں تک بلیک ہول صرف نظریاتی طبیعیات اور فلکیات کا موضوع رہے لیکن اب سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس نے بلیک ہول کے رویے کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کی پیڈربورن یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے بلیک ہول کی ایک تجرباتی نقل تیار کی جس میں ایسے آثار دیکھے گئے جو معروف سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کے پیش کردہ ''ہاکنگ ریڈی ایشن‘‘ اور بلیک ہول کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔یہ خبر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنسدانوں نے لیبارٹری میں حقیقی بلیک ہول بنا لیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دراصل محققین نے ایک ایسا تجرباتی نظام تشکیل دیا جو بلیک ہول کی بعض طبیعی خصوصیات کی نقل کرتا ہے۔ اس نظام میں روشنی اور جدید آپٹیکل فائبر ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس میں روشنی کا رویہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے مشابہ ہو جاتا ہے۔بلیک ہول کیا ہے؟بلیک ہول خلا کا وہ خطہ ہے جہاں مادہ انتہائی کثافت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی کششِ ثقل اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ کوئی بھی شے حتیٰ کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول کی سرحد کو ایونٹ ہورائزن کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز اس حد کے اندر داخل ہو جائے تو اس کا واپس آنا ممکن نہیں رہتا۔طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ بلیک ہول صرف مادے اور توانائی کو نگلتے ہیں مگر 1974ء میں برطانوی طبیعیات دان سٹیفن ہاکنگ نے ایک انقلابی نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق کوانٹم طبیعیات کے قوانین کے تحت بلیک ہول مکمل طور پر سیاہ نہیں ہوتے بلکہ نہایت معمولی مقدار میں تابکاری خارج کرتے ہیں، جسے Hawking Radiationکہا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل مسلسل جاری رہے تو انتہائی طویل مدت کے بعد بلیک ہول اپنی توانائی کھو کر مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔لیبارٹری میں کیا کیا گیا؟اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک حقیقی بلیک ہول بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک ایسا تجرباتی ماڈل تیار کیا جس میں روشنی کی لہروں کو اس انداز سے کنٹرول کیا گیا کہ وہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن جیسا رویہ اختیار کریں۔تجربے کے دوران محققین نے دیکھا کہ یہ مصنوعی نظام بھی توانائی خارج کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خود اس نظام کی حالت میں معمولی تبدیلی آتی ہے۔ طبیعیات کی زبان میں اسے بیک ری ایکشن(Backreaction) کہا جاتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تجربے کو منفرد بناتا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہاکنگ ریڈی ایشن کے نظریے کے اس حصے کا براہِ راست تجرباتی مشاہدہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔اس تحقیق کی اہمیتیہ کامیابی اس لیے اہم ہے کہ حقیقی بلیک ہول تک پہنچ کر ان پر تجربات کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مشاہدہ صرف دوربینوں اور فلکیاتی آلات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایسے اینالاگ نظام سائنسدانوں کو بلیک ہول کے نظریات کو عملی طور پر جانچنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یہ تحقیق کوانٹم میکینکس اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ جدید طبیعیات کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات الگ الگ حالات میں تو انتہائی کامیاب ہیں لیکن انہیں ایک متحد نظریے میں یکجا کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بلیک ہول اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بہترین قدرتی تجربہ گاہ سمجھے جاتے ہیں۔کیا حقیقی بلیک ہول بخارات بن جاتے ہیں؟سائنسی نظریے کے مطابق ہاں، لیکن یہ عمل ناقابلِ یقین حد تک سست ہوتا ہے۔ ایک ستارے کے انہدام سے بننے والے بلیک ہول کو مکمل طور پر ختم ہونے میں موجودہ کائنات کی عمر سے بھی کھربوں کھربوں گنا زیادہ وقت درکار ہوگا۔ اس لیے کسی حقیقی بلیک ہول کا بخارات بننا انسان شاید کبھی براہِ راست نہ دیکھ سکیں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مزید تجربات نہ صرف ہاکنگ ریڈی ایشن بلکہ بلیک ہول انفارمیشن پیراڈوکس جیسے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے کئی دہائیوں سے ماہرین فزک کو حیران کر رکھا ہے کہ اگر بلیک ہول بخارات بن کر ختم ہو جائے تو اس میں گرنے والے مادے کا کیا ہوتا ہے؟لیبارٹری میں بلیک ہول کی نقل تیار کرنے کا یہ تجربہ فلکیاتی طبیعیات اور کوانٹم سائنس کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اگرچہ یہ حقیقی بلیک ہول نہیں تھا لیکن اس نے سٹیفن ہاکنگ کے تقریباً نصف صدی پرانے نظریات کو سمجھنے کے لیے ایک راہ ہموار کی ہے۔ یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ سائنس میں بعض اوقات سب سے بڑی پیش رفت براہِ راست کائنات میں نہیں بلکہ ایک لیبارٹری کے محدود ماحول میں ہوتی ہے۔ مستقبل میں اسی نوعیت کے تجربات شاید ہمیں کائنات کے ان رازوں تک پہنچا دیں جو آج بھی انسانی فہم سے باہر ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

چین نے سائنس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دیسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا آج کی دنیا میں معاشی اور صنعتی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔ جو ممالک جدید تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی عالمی قیادت کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس تیار کرکے ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جسے نہ صرف سائنسی دنیا میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ''مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے گئے فیوژن ری ایکٹر کے دو اہم سپر کنڈکٹنگ مقناطیسی نظام کامیابی سے تمام تکنیکی اور عملی آزمائشوں میں سرخرو رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ''ٹورائیڈل فیلڈ‘‘ (TF) سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جو اب تک کسی بھی فیوژن ری ایکٹر کیلئے تیار کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس بن چکا ہے۔یہ عظیم الشان مقناطیس اپنے حجم اور صلاحیت کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے، جبکہ اس کا مجموعی وزن 582 ٹن ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے (ITER )میں استعمال ہونے والے ٹورائیڈل مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ تین گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگی اور چین کی انجینئرنگ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔سپر کنڈکٹنگ مقناطیس دراصل ٹوکامک فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو ایک کروڑ نہیں بلکہ دس کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر موجود پلازما کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی میدان نہ ہو تو پلازما کو کسی مادی برتن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اتنی شدید حرارت ہر مادے کو پگھلا سکتی ہے۔ اسی لیے سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کا دل تصور کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تیاری محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل چھ برس پر محیط تحقیق، ڈیزائننگ، انجینئرنگ اور سخت آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران چینی سائنس دانوں نے 47 نئے پیٹنٹس حاصل کیے اور 14 تکنیکی معیارات بھی مرتب کیے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کیلئے رہنما اصول ثابت ہوں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائیڈ کوائل بھی کامیابی سے مکمل بوجھ کی آزمائش سے گزر چکا ہے۔ یہ نظام 60 کلو ایمپئر کے مستحکم برقی رو پر کام کرتا ہے اور 6.03 میگا جولس(megajoules) توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بلکہ کئی حوالوں سے دنیا میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوائل پلازما کرنٹ پیدا کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سپر کنڈکٹنگ نظاموں کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ہے۔ اس سے بیرونی ممالک پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور سپلائی چین سے وابستہ خطرات بھی کم ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی مسابقت اور برآمدی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی ملک کیلئے اپنی بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفالت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔فیوژن توانائی کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ایندھن نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس سے طویل المدتی تابکار فضلہ بھی روایتی جوہری ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ اگر سائنس دان تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بے حد مدد مل سکتی ہے۔چین کا ''CRAFT‘‘ (Comprehensive Research Facility For Fusion Technology) پروگرام اسی بڑے مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو مستقبل میں تجارتی فیوژن بجلی گھروں کی بنیاد بن سکیں۔ اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ جدید تحقیق، قومی خود انحصاری، انجینئرنگ مہارت اور مستقبل کی صاف توانائی کے خواب کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں فیوژن توانائی انسانیت کیلئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہے جہاں توانائی کی فراوانی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی ایک ساتھ ممکن ہو سکیں۔

راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

اسلام آباد، جو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ایسے مناظر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جو انسانی آنکھ کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راول ڈیم یا راول جھیل ہے جو وفاقی دارالحکومت کی آبی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت، تفریح اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مصنوعی جھیل فطرت کے حسن کی بہترین مثال ہے۔راول ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1960ء میں ہوا اور یہ 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد نو تعمیر شدہ شہر اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی زمینوں کی آبپاشی تھا۔ یہ ڈیم دریائے کورنگ پر بنایا گیا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے بہتا ہوا آتا ہے۔اس کی تعمیر میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ یہ پانی ذخیرہ کرے بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی سمجھا جا سکے۔ تقریباً 8.8 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ جھیل اپنے اندر کروڑوں گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔راول ڈیم کا محل وقوع اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے ایک طرف مارگلہ کی بلند و بالا پہاڑیاں ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کے جدید علاقے جیسے بنی گالہ اور ملوٹ واقع ہیں۔ جھیل کا نیلا پانی، دور تک پھیلی ہوئی ہریالی اور پس منظر میں پہاڑوں کے سائے مل کر ایسا سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔موسم سرما میں جب مارگلہ کی چوٹیوں پر ہلکی برف باری ہوتی ہے یا بادل نیچے اتر آتے ہیں تو راول جھیل کا منظر یورپی ملک کی وادی کا گماں دیتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی نارنجی شعاعیں جب جھیل کی لہروں سے ٹکراتی ہیں تو پانی پر سونے کی چادر بچھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔راول ڈیم پاکستان کے بہترین سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے مختلف نوعیت کی تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ جھیل کے کنارے واقع لیک ویو پارک جدید طرز کی تفریح کا مرکز ہے۔ یہاں خوبصورت باغات، بچوں کیلئے جھولے، اور پرندوں کیلئے بہت بڑا پنجرہ موجود ہے جو ایشیا کے بڑے پنجروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاحوں کیلئے موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں دستیاب ہیں، جن کے ذریعے جھیل کے وسط تک جا کر قدرتی حسن کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خاندانوں کیلئے پکنک منانے کے مخصوص مقامات ہیں جہاں لوگ کھانا پکاتے ہیں اور خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔ فوٹوگرافرز اور فنکاروں کیلئے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں پرندوں، پانی اور پہاڑوں کے عکس کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا مقبول مشغلہ ہے۔راول جھیل کا ماحولیاتی نظام انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں کے ارد گرد موجود جنگلات میں مختلف قسم کے درخت جیسے کچنار، املتاس اور چیڑ پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات میں گیدڑ، لومڑی، اور جنگلی سور کے علاوہ کئی قسم کے رینگنے والے جانور بھی یہاں کا حصہ ہیں۔اس جھیل کی ایک بڑی خاصیت یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں پرندے اڑ کر یہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ پرندے جھیل کی رونق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور پرندوں کے مشاہدے کے شوقین افراد کیلئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔راول ڈیم کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ راولپنڈی کے باسیوں کیلئے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے نکالی جانے والی نہریں قریبی دیہاتوں کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو فروغ ملتا ہے۔مچھلی کا شکار بھی یہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔ محکمہ ماہی پروری یہاں باقاعدگی سے مچھلیوں کے بیج ڈالتا ہے، جس سے مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ مقامی شکاریوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہاں کی مچھلی جس میں راہو اور مہاشیر نمایاں ہیں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔جہاں راول ڈیم خوبصورت مقام ہے، وہیں اسے کچھ سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جھیل کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کا سیوریج اور فضلا براہِ راست جھیل میں گرنے سے پانی کی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی ریت اور مٹی جھیل کی تہہ میں جمع ہو رہی ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات نے اس کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سی ڈی اے نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے تاکہ گندا پانی جھیل میں جانے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جھیل کے گرد شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کئی بار جھیل کی صفائی اور تجاوزات کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔راول ڈیم اسلام آباد کا ایسا ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے آبِ حیات اور سکون کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، یہاں گندگی نہ پھیلائیں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو ہم خوبصورت تفریحی مقام کھو دیں گے بلکہ آبی قلت کے بہت بڑے بحران کا بھی شکار ہو جائیں گے۔

سگریٹ No شی

سگریٹ No شی

میں تو اخبار اس لیے پڑھتا تھا کہ دنیا کے بارے میں میری معلومات اپ ٹوڈیٹ رہیں۔ آج کا اخبار پڑھ کر پتہ چلا کہ میری تو اپنے بارے میں معلومات اپ ٹوڈیٹ نہیں ہیں۔ امریکی ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ میں تو روزانہ کئی سگریٹ پھونک جاتا ہوں۔ یہی نہیں انہوں نے تو ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے حساب سے ہماری بیشتر خواتین سگریٹ نوش ہیں۔ہوا یوں کہ امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک خاتون کے معائنے کے بعد کہا کہ اسے سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا ہے۔ مگر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے تو کبھی سگریٹ نہیں پی۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ خاتون ٹھیک کہہ رہی تھی مگر غلط ڈاکٹروں نے بھی نہیں کہا تھا، کیوں کہ اس عورت کا خاوند سگریٹ پیتا تھا اور جب کوئی آپ کے سامنے سگریٹ کی ایک ڈبی پیتا ہے تو در اصل اس میں سے دو سگریٹ آپ بھی بذریعہ سانس پی جاتے ہیں۔ یوں ہماری ہر وہ عورت جس کا خاوند، بھائی یا باپ سگریٹ پیتا ہے، وہ سگریٹ نو ش ہے۔ ایک ایسی ہی محترمہ نے خاوند کو کہا، ''سگریٹ پینا چھوڑ دو یا مجھے۔‘‘ خاوند سوچ میں پڑگیا تو بیوی نے پوچھا، ''اب سوچنے کیا لگے ہو؟‘‘ تو خاوند بولا، ''سوچ رہا ہوں اب کھانا کون پکایا کرے گا؟‘‘۔میں نے سگریٹ کے بارے میں ایک کالم لکھا تھا۔ ایک خط آیا کہ آپ کا کالم پڑھ کر ہمیں سگریٹ No شی اتنی بری لگی کہ ہم نے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی آپ کے کالم نہیں پڑھیں گے۔ ظاہر ہے بندہ وہی کام کر سکتا ہے جو اس کیلئے آسان ہو۔ جیسے مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ میرے لیے سگریٹ پینا نہ پینے کی نسبت آسان ہے کیونکہ سگریٹ سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ کہتا ہے، ''مجھے ایک بار پرانی چھتری سے جان چھڑانا تھا، کوڑے کے ڈرم میں پھینکی تو صفائی کرنے والا پہچان کر واپس کر گیا۔ سڑک پر پھینکی تو محلے دار پہچان کر دے گئے۔ آخر کار ایک دوست کو ادھار دے دی۔ اس کے بعد میں نے اس چھتری کی شکل نہیں دیکھی۔‘‘ویسے ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہار دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم سگریٹ پئے بغیر زندہ کیسے ہیں؟ ایک اشتہار میں ایک شخص مخصوص برانڈ کا سگریٹ پی کر شکار کو نکلتا اور شیر کو مار کر لوٹتا۔ ففٹی ففٹی پروگرام میں اس کی پیروڈی کی گئی کہ ایک دن وہ اسی طرح سگریٹ پی کر شیر کے شکار کو نکلتا ہے مگر واپس آتا ہے تو زخمی اور بدحال ہوتا ہے۔ ایک شخص پوچھتا ہے، ''آج تم شیر کو نہیں مار سکے کیا وجہ ہوئی؟‘‘ تو وہ کہتا ہے، ''آج شیر نے بھی اسی برانڈ کا سگریٹ پی رکھا تھا۔‘‘ ویسے سگریٹ پینا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام ہوتا تو بڑے بڑے افسروں اور سربراہوں نے سگریٹ پینے کیلئے الگ ملازم رکھے ہوتے۔حال ہی میں بین الاقوامی مشاورتی فرم پیٹ ماورک نے روس جانے والوں کیلئے جو ہدایات نامہ مرتب کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ روس میں دعوت کے دوران ریستوران میں گول میز منتخب کریں کیونکہ روسیوں کے ہاں کونے بدقسمی کی علامت ہوتے ہیں اور آخر میں بہترین سروس پر بیرے کوٹپ میں سگریٹ دیں۔ اگرچہ یسی ٹپ تو اس بیرے کو دینی چاہیے جو اچھی سروس نہ کرے۔ لیکن ایلین بینٹ نے کہہ رکھا ہے کہ روس میں رہنے کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے، جہاں سگریٹ کینسر نہیں کرتا کیونکہ کے جی بی کا حکم نہیں۔ اس وقت تک روس میں کے جی بی کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اس لحاظ سے تو کے جی بی پر پابندی کے بعد روس میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہوگا، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ کہتے ہیں،''Cancer Cures Smoking‘‘ ۔سگریٹ کے شروع میں سگ آتا ہے سو اسے کسی ریٹ پر بھی منہ نہیں لگانا چاہیے۔ سگریٹ پینے والوں سے پوچھا جائے کہ میں صحت مند ہوں، یہ کون سا فعل ہے؟ حال، ماضی یا مستقبل؟ تو جواب ہوگا فعل ماضی۔ مشہور اداکار گریگری پیکر اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے نصیحت کی کہ آپ کی صحت کیلئے یہی بہتر ہے کہ فوراً سگریٹ نوشی چھوڑ دیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں آج سے سگریٹ نوشی ترک کر رہا ہوں تو وہ بولا، ''چونکہ اب تم سگریٹ نوشی چھوڑ ہی رہے ہو تو یہ سونے کا لائٹر مجھے گفٹ کر دو‘‘۔کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اورآخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے سموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید سموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں کنگ آتا ہے لیکن اس دور میں کنگ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔اس تازہ تحقیق سے پہلے ہم سگریٹ پینے کیلئے دوسروں کے محتاج ہوتے تھے۔ اب سگریٹ پینا ترک کرنے کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا، ''میرے بچے کو اخبار منہ میں ڈالنے کی بڑی بری عادت تھی مگر اب نہیں رہی۔‘‘ پوچھا، ''تم نے یہ عادت کیسے چھڑوائی؟‘‘ بولا ''میں نے اخبار لینا بند کر دیا۔‘‘ سو سگریٹ پینے کی عادت بھی ایسے ہی چھڑوائی جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ سگریٹ نوشی کو عادت ہی نہیں مانتے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ''سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ''پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ''سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

٭...1920ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اصل نام ظفر احمد بٹ تھا۔ ٭...غریب گھرانے سے تعلق کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ٭...جنگ عظیم دوئم میں وہ برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ ملازمت کے دوران انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ ان میں مشرقِ وسطیٰ بھی شامل تھا۔ ٭...جنگ عظیم دوئم کے بعد فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ سیالکوٹ واپس چلے گئے۔ روزی کمانے کیلئے انہوں نے ٹانگہ چلانا شروع کر دیا۔٭...1950ء میں کراچی شفٹ ہوئے، جہاں ایک معمار اور پینٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ ٭...کراچی میں فلم ''کارنامہ‘‘ میں اداکار کی حیثیت سے کریئر کا آغاز کیا۔٭... صحافیوں کے مشورے پر لاہور چلے آئے اور پنجابی فلموں میں قسمت آزمائی کی۔آغا حسینی کی فلم ''سولہ آنے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا گیا۔٭... فلم ''سورج مکھی‘‘ نے انہیں مقبولیت بخشی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ٭...اپنی گرجدار آواز اور ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ پنجابی فلموں میں جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔٭...ایک ایکسٹرا سے چوٹی کے ولن بنے اور پھر کریکٹر ایکٹر زمیں صف اوّل کے اداکار ثابت ہوئے۔٭...ان کی شخصیت اور ڈیل ڈول کچھ ایسا تھا کہ وہ الگ ہی دکھائی دیتے تھے۔ ان کے گھنے سیاہ اور گھنگھریالے بال بھی ان کی خاص پہچان تھے۔٭...60ء اور 70ء کے عشرے میں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ساون کا نام ایک بہترین اداکار اور مقبول ویلن کے طور پر لیا جاتا تھا۔٭...6 جولائی 1998ء کو فرشتہ اجل آن پہنچا اور ساون اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔مقبول پنجابی فلمیںبابا دینا، مالی، خزانچی، ذیلدار، ہاشو خان، خان چاچا، جگری یار، گونگا، پہلوان جی ان لندن‘‘، ''شیراں دے پتر شیر، جانی دشمن، ملنگی، ڈولی، چن مکھناں، سجن پیارا، بھریا میلہ، پنج دریا‘‘