راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار
اسپیشل فیچر
اسلام آباد، جو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ایسے مناظر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جو انسانی آنکھ کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راول ڈیم یا راول جھیل ہے جو وفاقی دارالحکومت کی آبی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت، تفریح اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مصنوعی جھیل فطرت کے حسن کی بہترین مثال ہے۔
راول ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1960ء میں ہوا اور یہ 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد نو تعمیر شدہ شہر اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی زمینوں کی آبپاشی تھا۔ یہ ڈیم دریائے کورنگ پر بنایا گیا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے بہتا ہوا آتا ہے۔اس کی تعمیر میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ یہ پانی ذخیرہ کرے بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی سمجھا جا سکے۔ تقریباً 8.8 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ جھیل اپنے اندر کروڑوں گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔
راول ڈیم کا محل وقوع اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے ایک طرف مارگلہ کی بلند و بالا پہاڑیاں ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کے جدید علاقے جیسے بنی گالہ اور ملوٹ واقع ہیں۔ جھیل کا نیلا پانی، دور تک پھیلی ہوئی ہریالی اور پس منظر میں پہاڑوں کے سائے مل کر ایسا سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔
موسم سرما میں جب مارگلہ کی چوٹیوں پر ہلکی برف باری ہوتی ہے یا بادل نیچے اتر آتے ہیں تو راول جھیل کا منظر یورپی ملک کی وادی کا گماں دیتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی نارنجی شعاعیں جب جھیل کی لہروں سے ٹکراتی ہیں تو پانی پر سونے کی چادر بچھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
راول ڈیم پاکستان کے بہترین سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے مختلف نوعیت کی تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ جھیل کے کنارے واقع لیک ویو پارک جدید طرز کی تفریح کا مرکز ہے۔ یہاں خوبصورت باغات، بچوں کیلئے جھولے، اور پرندوں کیلئے بہت بڑا پنجرہ موجود ہے جو ایشیا کے بڑے پنجروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاحوں کیلئے موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں دستیاب ہیں، جن کے ذریعے جھیل کے وسط تک جا کر قدرتی حسن کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خاندانوں کیلئے پکنک منانے کے مخصوص مقامات ہیں جہاں لوگ کھانا پکاتے ہیں اور خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔ فوٹوگرافرز اور فنکاروں کیلئے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں پرندوں، پانی اور پہاڑوں کے عکس کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا مقبول مشغلہ ہے۔
راول جھیل کا ماحولیاتی نظام انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں کے ارد گرد موجود جنگلات میں مختلف قسم کے درخت جیسے کچنار، املتاس اور چیڑ پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات میں گیدڑ، لومڑی، اور جنگلی سور کے علاوہ کئی قسم کے رینگنے والے جانور بھی یہاں کا حصہ ہیں۔
اس جھیل کی ایک بڑی خاصیت یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں پرندے اڑ کر یہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ پرندے جھیل کی رونق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور پرندوں کے مشاہدے کے شوقین افراد کیلئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔
راول ڈیم کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ راولپنڈی کے باسیوں کیلئے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے نکالی جانے والی نہریں قریبی دیہاتوں کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو فروغ ملتا ہے۔مچھلی کا شکار بھی یہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔ محکمہ ماہی پروری یہاں باقاعدگی سے مچھلیوں کے بیج ڈالتا ہے، جس سے مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ مقامی شکاریوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہاں کی مچھلی جس میں راہو اور مہاشیر نمایاں ہیں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔
جہاں راول ڈیم خوبصورت مقام ہے، وہیں اسے کچھ سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جھیل کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کا سیوریج اور فضلا براہِ راست جھیل میں گرنے سے پانی کی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی ریت اور مٹی جھیل کی تہہ میں جمع ہو رہی ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات نے اس کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سی ڈی اے نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے تاکہ گندا پانی جھیل میں جانے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جھیل کے گرد شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کئی بار جھیل کی صفائی اور تجاوزات کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔
راول ڈیم اسلام آباد کا ایسا ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے آبِ حیات اور سکون کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، یہاں گندگی نہ پھیلائیں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو ہم خوبصورت تفریحی مقام کھو دیں گے بلکہ آبی قلت کے بہت بڑے بحران کا بھی شکار ہو جائیں گے۔