راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

راول ڈیم: قدرت کا حسین شاہکار

اسپیشل فیچر

تحریر : دانیال حسن چغتائی


اسلام آباد، جو اپنی ہریالی اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ایسے مناظر اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے جو انسانی آنکھ کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راول ڈیم یا راول جھیل ہے جو وفاقی دارالحکومت کی آبی ضروریات پوری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہونے کے ساتھ سیاحت، تفریح اور ماحولیاتی توازن کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ مصنوعی جھیل فطرت کے حسن کی بہترین مثال ہے۔
راول ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1960ء میں ہوا اور یہ 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت کے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس کا افتتاح کیا۔ اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد نو تعمیر شدہ شہر اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور زرعی زمینوں کی آبپاشی تھا۔ یہ ڈیم دریائے کورنگ پر بنایا گیا ہے جو مری کی پہاڑیوں سے بہتا ہوا آتا ہے۔اس کی تعمیر میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اصولوں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ یہ پانی ذخیرہ کرے بلکہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بھی سمجھا جا سکے۔ تقریباً 8.8 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط یہ جھیل اپنے اندر کروڑوں گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتی ہے۔
راول ڈیم کا محل وقوع اسے منفرد بناتا ہے۔ اس کے ایک طرف مارگلہ کی بلند و بالا پہاڑیاں ہیں اور دوسری طرف اسلام آباد کے جدید علاقے جیسے بنی گالہ اور ملوٹ واقع ہیں۔ جھیل کا نیلا پانی، دور تک پھیلی ہوئی ہریالی اور پس منظر میں پہاڑوں کے سائے مل کر ایسا سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔
موسم سرما میں جب مارگلہ کی چوٹیوں پر ہلکی برف باری ہوتی ہے یا بادل نیچے اتر آتے ہیں تو راول جھیل کا منظر یورپی ملک کی وادی کا گماں دیتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت سورج کی نارنجی شعاعیں جب جھیل کی لہروں سے ٹکراتی ہیں تو پانی پر سونے کی چادر بچھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
راول ڈیم پاکستان کے بہترین سیاحتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کیلئے مختلف نوعیت کی تفریحی سہولیات موجود ہیں۔ جھیل کے کنارے واقع لیک ویو پارک جدید طرز کی تفریح کا مرکز ہے۔ یہاں خوبصورت باغات، بچوں کیلئے جھولے، اور پرندوں کیلئے بہت بڑا پنجرہ موجود ہے جو ایشیا کے بڑے پنجروں میں شمار ہوتا ہے۔ سیاحوں کیلئے موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں دستیاب ہیں، جن کے ذریعے جھیل کے وسط تک جا کر قدرتی حسن کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں خاندانوں کیلئے پکنک منانے کے مخصوص مقامات ہیں جہاں لوگ کھانا پکاتے ہیں اور خوشگوار وقت گزارتے ہیں۔ فوٹوگرافرز اور فنکاروں کیلئے یہ مقام جنت سے کم نہیں۔ یہاں پرندوں، پانی اور پہاڑوں کے عکس کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا مقبول مشغلہ ہے۔
راول جھیل کا ماحولیاتی نظام انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں کے ارد گرد موجود جنگلات میں مختلف قسم کے درخت جیسے کچنار، املتاس اور چیڑ پائے جاتے ہیں۔ جنگلی حیات میں گیدڑ، لومڑی، اور جنگلی سور کے علاوہ کئی قسم کے رینگنے والے جانور بھی یہاں کا حصہ ہیں۔
اس جھیل کی ایک بڑی خاصیت یہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما میں سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد علاقوں سے ہزاروں پرندے اڑ کر یہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہ پرندے جھیل کی رونق میں اضافہ کر دیتے ہیں اور پرندوں کے مشاہدے کے شوقین افراد کیلئے یہ بہترین موقع ہوتا ہے۔
راول ڈیم کی معاشی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ راولپنڈی کے باسیوں کیلئے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے نکالی جانے والی نہریں قریبی دیہاتوں کی زمینوں کو سیراب کرتی ہیں، جس سے مقامی زراعت کو فروغ ملتا ہے۔مچھلی کا شکار بھی یہاں کی معیشت کا حصہ ہے۔ محکمہ ماہی پروری یہاں باقاعدگی سے مچھلیوں کے بیج ڈالتا ہے، جس سے مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے بلکہ مقامی شکاریوں کو روزگار کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یہاں کی مچھلی جس میں راہو اور مہاشیر نمایاں ہیں اپنے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔
جہاں راول ڈیم خوبصورت مقام ہے، وہیں اسے کچھ سنگین خطرات کا بھی سامنا ہے۔ جھیل کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کا سیوریج اور فضلا براہِ راست جھیل میں گرنے سے پانی کی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بارشوں کے ساتھ پہاڑوں سے آنے والی ریت اور مٹی جھیل کی تہہ میں جمع ہو رہی ہے، جس سے اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ جھیل کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات نے اس کے قدرتی حسن اور ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور سی ڈی اے نے ان مسائل پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب پر کام جاری ہے تاکہ گندا پانی جھیل میں جانے سے پہلے صاف کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ جھیل کے گرد شجرکاری کی مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کئی بار جھیل کی صفائی اور تجاوزات کے خلاف احکامات جاری کیے ہیں۔
راول ڈیم اسلام آباد کا ایسا ورثہ ہے جو آنے والی نسلوں کیلئے آبِ حیات اور سکون کا پیغام ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، یہاں گندگی نہ پھیلائیں اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قومی اثاثے کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو ہم خوبصورت تفریحی مقام کھو دیں گے بلکہ آبی قلت کے بہت بڑے بحران کا بھی شکار ہو جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس

چین نے سائنس کی دنیا میں نئی تاریخ رقم کر دیسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں برتری حاصل کرنا آج کی دنیا میں معاشی اور صنعتی طاقت کی علامت بن چکا ہے۔ جو ممالک جدید تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی سائنس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ مستقبل کی عالمی قیادت کیلئے اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس تیار کرکے ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جسے نہ صرف سائنسی دنیا میں غیر معمولی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے مستقبل میں صاف، محفوظ اور تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی سمجھا جا رہا ہے۔چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلازما فزکس نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے ''مصنوعی سورج‘‘ منصوبے کے تحت تیار کیے گئے فیوژن ری ایکٹر کے دو اہم سپر کنڈکٹنگ مقناطیسی نظام کامیابی سے تمام تکنیکی اور عملی آزمائشوں میں سرخرو رہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں ''ٹورائیڈل فیلڈ‘‘ (TF) سپر کنڈکٹنگ مقناطیس ہے، جو اب تک کسی بھی فیوژن ری ایکٹر کیلئے تیار کیا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا مقناطیس بن چکا ہے۔یہ عظیم الشان مقناطیس اپنے حجم اور صلاحیت کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔ اس کی لمبائی 21 میٹر، چوڑائی 12 میٹر اور اونچائی 3.3 میٹر ہے، جبکہ اس کا مجموعی وزن 582 ٹن ہے۔ اس کا حجم بین الاقوامی فیوژن منصوبے (ITER )میں استعمال ہونے والے ٹورائیڈل مقناطیس سے تقریباً 1.3 گنا زیادہ ہے، جبکہ یہ تین گنا زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس منصوبے کی تکنیکی پیچیدگی اور چین کی انجینئرنگ مہارت کا واضح ثبوت ہیں۔سپر کنڈکٹنگ مقناطیس دراصل ٹوکامک فیوژن ری ایکٹر کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی کام انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان پیدا کرنا ہے، جو ایک کروڑ نہیں بلکہ دس کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر موجود پلازما کو قابو میں رکھتا ہے۔ اگر یہ مقناطیسی میدان نہ ہو تو پلازما کو کسی مادی برتن میں محفوظ رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ اتنی شدید حرارت ہر مادے کو پگھلا سکتی ہے۔ اسی لیے سپر کنڈکٹنگ مقناطیس کو فیوژن ری ایکٹر کا دل تصور کیا جاتا ہے۔اس منصوبے کی تیاری محض ایک صنعتی کامیابی نہیں بلکہ مسلسل چھ برس پر محیط تحقیق، ڈیزائننگ، انجینئرنگ اور سخت آزمائشوں کا نتیجہ ہے۔ اس دوران چینی سائنس دانوں نے 47 نئے پیٹنٹس حاصل کیے اور 14 تکنیکی معیارات بھی مرتب کیے، جو مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کیلئے رہنما اصول ثابت ہوں گے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چین بنیادی تحقیق کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہائی ٹمپریچر سپر کنڈکٹنگ سینٹرل سولینائیڈ کوائل بھی کامیابی سے مکمل بوجھ کی آزمائش سے گزر چکا ہے۔ یہ نظام 60 کلو ایمپئر کے مستحکم برقی رو پر کام کرتا ہے اور 6.03 میگا جولس(megajoules) توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کارکردگی کو عالمی معیار کے مطابق بلکہ کئی حوالوں سے دنیا میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کوائل پلازما کرنٹ پیدا کرنے، اسے برقرار رکھنے اور اس کی ساخت کو کنٹرول کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اس منصوبے کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ دونوں سپر کنڈکٹنگ نظاموں کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل طور پر چین میں تیار کی گئی ہے۔ اس سے بیرونی ممالک پر انحصار میں نمایاں کمی آئے گی اور سپلائی چین سے وابستہ خطرات بھی کم ہوں گے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی مسابقت اور برآمدی پابندیوں کے تناظر میں کسی بھی ملک کیلئے اپنی بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفالت غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔فیوژن توانائی کو مستقبل کی توانائی قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں کاربن کا اخراج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ایندھن نسبتاً وافر مقدار میں دستیاب ہے اور اس سے طویل المدتی تابکار فضلہ بھی روایتی جوہری ری ایکٹروں کے مقابلے میں بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ اگر سائنس دان تجارتی پیمانے پر فیوژن توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو توانائی کے بحران، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں بے حد مدد مل سکتی ہے۔چین کا ''CRAFT‘‘ (Comprehensive Research Facility For Fusion Technology) پروگرام اسی بڑے مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ایسی جدید ٹیکنالوجیز تیار کرنا ہے جو مستقبل میں تجارتی فیوژن بجلی گھروں کی بنیاد بن سکیں۔ اگرچہ اس منزل تک پہنچنے کیلئے ابھی مزید تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اس دوڑ میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔بلاشبہ دنیا کا سب سے بڑا سپر کنڈکٹنگ مقناطیس صرف ایک سائنسی آلہ نہیں بلکہ جدید تحقیق، قومی خود انحصاری، انجینئرنگ مہارت اور مستقبل کی صاف توانائی کے خواب کی علامت ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں فیوژن توانائی انسانیت کیلئے ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہے جہاں توانائی کی فراوانی، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی ایک ساتھ ممکن ہو سکیں۔

سگریٹ No شی

سگریٹ No شی

میں تو اخبار اس لیے پڑھتا تھا کہ دنیا کے بارے میں میری معلومات اپ ٹوڈیٹ رہیں۔ آج کا اخبار پڑھ کر پتہ چلا کہ میری تو اپنے بارے میں معلومات اپ ٹوڈیٹ نہیں ہیں۔ امریکی ڈاکٹروں نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ میں تو روزانہ کئی سگریٹ پھونک جاتا ہوں۔ یہی نہیں انہوں نے تو ہماری خواتین کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے حساب سے ہماری بیشتر خواتین سگریٹ نوش ہیں۔ہوا یوں کہ امریکی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ایک خاتون کے معائنے کے بعد کہا کہ اسے سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا ہے۔ مگر اس خاتون نے بتایا کہ میں نے تو کبھی سگریٹ نہیں پی۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ خاتون ٹھیک کہہ رہی تھی مگر غلط ڈاکٹروں نے بھی نہیں کہا تھا، کیوں کہ اس عورت کا خاوند سگریٹ پیتا تھا اور جب کوئی آپ کے سامنے سگریٹ کی ایک ڈبی پیتا ہے تو در اصل اس میں سے دو سگریٹ آپ بھی بذریعہ سانس پی جاتے ہیں۔ یوں ہماری ہر وہ عورت جس کا خاوند، بھائی یا باپ سگریٹ پیتا ہے، وہ سگریٹ نو ش ہے۔ ایک ایسی ہی محترمہ نے خاوند کو کہا، ''سگریٹ پینا چھوڑ دو یا مجھے۔‘‘ خاوند سوچ میں پڑگیا تو بیوی نے پوچھا، ''اب سوچنے کیا لگے ہو؟‘‘ تو خاوند بولا، ''سوچ رہا ہوں اب کھانا کون پکایا کرے گا؟‘‘۔میں نے سگریٹ کے بارے میں ایک کالم لکھا تھا۔ ایک خط آیا کہ آپ کا کالم پڑھ کر ہمیں سگریٹ No شی اتنی بری لگی کہ ہم نے توبہ کرلی کہ آئندہ کبھی آپ کے کالم نہیں پڑھیں گے۔ ظاہر ہے بندہ وہی کام کر سکتا ہے جو اس کیلئے آسان ہو۔ جیسے مارک ٹوئن نے کہا تھا کہ میرے لیے سگریٹ پینا نہ پینے کی نسبت آسان ہے کیونکہ سگریٹ سے جان چھڑانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ کہتا ہے، ''مجھے ایک بار پرانی چھتری سے جان چھڑانا تھا، کوڑے کے ڈرم میں پھینکی تو صفائی کرنے والا پہچان کر واپس کر گیا۔ سڑک پر پھینکی تو محلے دار پہچان کر دے گئے۔ آخر کار ایک دوست کو ادھار دے دی۔ اس کے بعد میں نے اس چھتری کی شکل نہیں دیکھی۔‘‘ویسے ٹی وی پر سگریٹ کے اشتہار دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم سگریٹ پئے بغیر زندہ کیسے ہیں؟ ایک اشتہار میں ایک شخص مخصوص برانڈ کا سگریٹ پی کر شکار کو نکلتا اور شیر کو مار کر لوٹتا۔ ففٹی ففٹی پروگرام میں اس کی پیروڈی کی گئی کہ ایک دن وہ اسی طرح سگریٹ پی کر شیر کے شکار کو نکلتا ہے مگر واپس آتا ہے تو زخمی اور بدحال ہوتا ہے۔ ایک شخص پوچھتا ہے، ''آج تم شیر کو نہیں مار سکے کیا وجہ ہوئی؟‘‘ تو وہ کہتا ہے، ''آج شیر نے بھی اسی برانڈ کا سگریٹ پی رکھا تھا۔‘‘ ویسے سگریٹ پینا کوئی کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام ہوتا تو بڑے بڑے افسروں اور سربراہوں نے سگریٹ پینے کیلئے الگ ملازم رکھے ہوتے۔حال ہی میں بین الاقوامی مشاورتی فرم پیٹ ماورک نے روس جانے والوں کیلئے جو ہدایات نامہ مرتب کیا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ روس میں دعوت کے دوران ریستوران میں گول میز منتخب کریں کیونکہ روسیوں کے ہاں کونے بدقسمی کی علامت ہوتے ہیں اور آخر میں بہترین سروس پر بیرے کوٹپ میں سگریٹ دیں۔ اگرچہ یسی ٹپ تو اس بیرے کو دینی چاہیے جو اچھی سروس نہ کرے۔ لیکن ایلین بینٹ نے کہہ رکھا ہے کہ روس میں رہنے کا صرف ایک ہی فائدہ ہے کہ یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے، جہاں سگریٹ کینسر نہیں کرتا کیونکہ کے جی بی کا حکم نہیں۔ اس وقت تک روس میں کے جی بی کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ اس لحاظ سے تو کے جی بی پر پابندی کے بعد روس میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہوگا، مگر پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ کہتے ہیں،''Cancer Cures Smoking‘‘ ۔سگریٹ کے شروع میں سگ آتا ہے سو اسے کسی ریٹ پر بھی منہ نہیں لگانا چاہیے۔ سگریٹ پینے والوں سے پوچھا جائے کہ میں صحت مند ہوں، یہ کون سا فعل ہے؟ حال، ماضی یا مستقبل؟ تو جواب ہوگا فعل ماضی۔ مشہور اداکار گریگری پیکر اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے نصیحت کی کہ آپ کی صحت کیلئے یہی بہتر ہے کہ فوراً سگریٹ نوشی چھوڑ دیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ میں آج سے سگریٹ نوشی ترک کر رہا ہوں تو وہ بولا، ''چونکہ اب تم سگریٹ نوشی چھوڑ ہی رہے ہو تو یہ سونے کا لائٹر مجھے گفٹ کر دو‘‘۔کہتے ہیں پہلے آدمی سگریٹ کو پیتا ہے، پھر سگریٹ سگریٹ کو پیتا ہے اورآخر میں سگریٹ آدمی کو پیتا ہے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ اتنے لوگ سگریٹ سے نہیں مرتے جتنے سگریٹ پر مرتے ہیں۔ انگریزی میں اسے سموکنگ کہتے ہیں لوگوں کو شاید سموکنگ پسند ہی اس لیے ہے کہ اس میں کنگ آتا ہے لیکن اس دور میں کنگ کہیں کے نہیں رہے۔ سو لگتا ہے عنقریب دھواں دینے والی گاڑیوں کی طرح دھواں دینے والے افراد کابھی چوراہوں میں چالان ہوا کرے گا۔اس تازہ تحقیق سے پہلے ہم سگریٹ پینے کیلئے دوسروں کے محتاج ہوتے تھے۔ اب سگریٹ پینا ترک کرنے کیلئے بھی دوسروں کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ہمارے ایک دوست نے کہا، ''میرے بچے کو اخبار منہ میں ڈالنے کی بڑی بری عادت تھی مگر اب نہیں رہی۔‘‘ پوچھا، ''تم نے یہ عادت کیسے چھڑوائی؟‘‘ بولا ''میں نے اخبار لینا بند کر دیا۔‘‘ سو سگریٹ پینے کی عادت بھی ایسے ہی چھڑوائی جا سکتی ہے۔ لیکن لوگ سگریٹ نوشی کو عادت ہی نہیں مانتے۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے، ''سگریٹ پینے سے عادت نہیں پڑتی کیونکہ میں گزشتہ بیس سالوں سے سگریٹ پی رہا ہوں، مجھے تو عادت نہیں پڑی۔‘‘ میں نے کہا، ''پھر تم سگریٹ چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ بولے، ''سبھی کہتے ہیں سگریٹ نہ پینا سودمند ہے اور میں سود کے بہت خلاف ہوں۔‘‘

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ساون: ہر فن مولا فنکار (1998-1920ء)

٭...1920ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اصل نام ظفر احمد بٹ تھا۔ ٭...غریب گھرانے سے تعلق کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے۔ ٭...جنگ عظیم دوئم میں وہ برٹش انڈین آرمی میں شامل ہو گئے۔ ملازمت کے دوران انہیں مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ ان میں مشرقِ وسطیٰ بھی شامل تھا۔ ٭...جنگ عظیم دوئم کے بعد فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ سیالکوٹ واپس چلے گئے۔ روزی کمانے کیلئے انہوں نے ٹانگہ چلانا شروع کر دیا۔٭...1950ء میں کراچی شفٹ ہوئے، جہاں ایک معمار اور پینٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ ٭...کراچی میں فلم ''کارنامہ‘‘ میں اداکار کی حیثیت سے کریئر کا آغاز کیا۔٭... صحافیوں کے مشورے پر لاہور چلے آئے اور پنجابی فلموں میں قسمت آزمائی کی۔آغا حسینی کی فلم ''سولہ آنے‘‘ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا گیا۔٭... فلم ''سورج مکھی‘‘ نے انہیں مقبولیت بخشی اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ٭...اپنی گرجدار آواز اور ڈیل ڈول کی وجہ سے وہ پنجابی فلموں میں جلد اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔٭...ایک ایکسٹرا سے چوٹی کے ولن بنے اور پھر کریکٹر ایکٹر زمیں صف اوّل کے اداکار ثابت ہوئے۔٭...ان کی شخصیت اور ڈیل ڈول کچھ ایسا تھا کہ وہ الگ ہی دکھائی دیتے تھے۔ ان کے گھنے سیاہ اور گھنگھریالے بال بھی ان کی خاص پہچان تھے۔٭...60ء اور 70ء کے عشرے میں پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ساون کا نام ایک بہترین اداکار اور مقبول ویلن کے طور پر لیا جاتا تھا۔٭...6 جولائی 1998ء کو فرشتہ اجل آن پہنچا اور ساون اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔مقبول پنجابی فلمیںبابا دینا، مالی، خزانچی، ذیلدار، ہاشو خان، خان چاچا، جگری یار، گونگا، پہلوان جی ان لندن‘‘، ''شیراں دے پتر شیر، جانی دشمن، ملنگی، ڈولی، چن مکھناں، سجن پیارا، بھریا میلہ، پنج دریا‘‘

آج کا دن

آج کا دن

AK-47کی پروڈکشن کا آغاز6جولائی 1947ء کو سوویت یونین میں معروف ہتھیار AK-47کی پروڈکشن کا آغاز کیا گیا۔اس رائفل کو روس کے معروف اسلحے کے ڈیزائنرمیخائل کلاشنکوف کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔ پروڈکشن میں جانے سے پہلے اس کو کئی تجربات سے گزارا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا کے معروف ترین ہتھیاروں میں شمار ہونے لگی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اس رائفل سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جس کی وجہ سے اسے دنیا کا مہلک ترین ہتھیار بھی تصور بھی کیا جاتا ہے۔پائپر الفا آئل پلیٹ فارم سانحہ1988ء میں شمالی سمندر میں واقع پائپر الفا تیل نکالنے والے پلیٹ فارم پر زوردار دھماکے اور خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں پورا پلیٹ فارم تباہ ہوگیا۔ اس المناک حادثے میں 167 ورکرز جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ دنیا کی تاریخ کا بدترین آف شور آئل ڈیزاسٹر سمجھا جاتا ہے۔ اس سانحے کے بعد سمندر میں تیل و گیس کی تنصیبات کے حفاظتی قوانین اور ہنگامی انتظامات میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں۔نائیجیریا میں سکول پر حملہ6 جولائی 2013 کو، نائیجیریا کے یوبی اسٹیٹ کے گاؤں مامودو میں مسلح افراد نے گورنمنٹ سیکنڈری سکول پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 42 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر طلباء تھے جبکہ عملے کے کچھ ارکان بھی مارے گئے۔ زندہ بچ جانے والوں کے مطابق، حملہ آوروں نے متاثرین کو ایک مرکزی مقام پر اکٹھا کیا اور پھر فائرنگ اور دھماکہ خیز مواد پھینکنا شروع کیا۔ فضائی حادثہایشیانا ایئر لائنز کی پرواز 214 ایک طے شدہ ٹرانس پیسفک مسافر پرواز تھی جس نے جنوبی کوریا کے شہر سیول کے قریب انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنی تھی ۔ 6 جولائی 2013ء کی صبح اپنی منزل کے قریب ریاستہائے متحدہ کے سان فرانسسکو بین الاقوامی ہوائی اڈے پرگر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار 307 افراد میں سے 3 کی موت ہو گئی۔ مزید 187 زخمی ہوئے، جن میں سے 49 کی حالت تشویشناک تھی۔شدید زخمیوں میں چار فلائٹ اٹینڈنٹ بھی شامل تھے ۔ریل حادثہ6جولائی 2013ء کو کینیڈا کے قصبے میں ایک میگنیٹک ٹرین کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ یہ خوفناک حادثہ اس وقت ہوا جب ایک مال بردار ٹرین خام تیل لے کر جارہی تھی وہ اپنی ٹریک سے نیچے اتر گئی جس کے نتیجے میں متعدد ٹینک کاروں میں دھماکے اور آگ لگ گئی۔ اس حادثے میں47 افراد مارے گئے،30 سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایک کلومیٹر تک اس دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔ ملاوی کی آزادی کا اعلان1964ء میں ملاوی نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس سے قبل یہ علاقہ نیاسالینڈ کے نام سے برطانوی نوآبادی تھا۔ آزادی کے بعد ملاوی ایک خودمختار ریاست بن گیا اور ہیسٹنگز کموزو بانڈا ملک کے پہلے وزیر اعظم بنے، جنہوں نے بعد ازاں صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ یہ آزادی افریقہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ۔

خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

خلائی دوربین کو بچانے کا مشن

ناسا نے جدید روبوٹ روانہ کر دیاجو دوربین کو محفوظ مدار میں پہنچائے گاخلائی تحقیق کی تاریخ میں اب تک بیشتر مشن نئے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کی کھوج کیلئے روانہ کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب انسان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خلا میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے سائنسی آلات کو بچانے کیلئے بھی باقاعدہ امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک غیر معمولی مثال امریکی خلائی ادارے ناسا کا وہ جرات مندانہ مشن ہے، جس کے تحت تقریباً دو دہائیوں سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک جدید روبوٹ خلا میں بھیجا ہے، جو دوربین کو تھام کر دوبارہ محفوظ مدار میں پہنچائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو نہ صرف سوئفٹ دوربین کی عمر میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں دیگر قیمتی خلائی دوربینوں اور مصنوعی سیاروں کو بھی اسی انداز میں بچانے کی نئی راہیں کھل جائیں گی، جس سے خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہونے کی توقع ہے۔''نارتھروپ گرومن‘‘ (Northrop Grumman) کے فضاء سے داغے جانے والے ''پیگاسس ایکس ایل‘‘ (Pegasus XL) راکٹ نے اپنی آخری پرواز مکمل کرتے ہوئے ایک نجی خلائی جہاز کو ایسے امدادی مشن پر روانہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ناسا کی معروف ترین خلائی دوربینوں میں سے ایک کو زمین پر واپس گرنے سے بچانا ہے۔ ناسا کے مطابق ''سوئفٹ بوسٹ‘‘ (Swift Boost) مشن کے تحت ''کٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز‘‘ (Katalyst Space Technologies) کی تیار کردہ لنک (LINK) سیٹلائٹ کو جمعہ 3 جولائی کو صبح 4 بج کر 36 منٹ (مشرقی امریکی وقت)، یعنی 08:36 جی ایم ٹی پر کامیابی سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ لنک سیٹلائٹ ناسا کی ''نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کے ساتھ جا کر ملے گی اور اسے کھینچتے ہوئے دوبارہ ایک محفوظ اور مستحکم مدار میں لے جائے گی، تاکہ اس کی زمین کی فضا میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔پیگاسس ایکس ایل راکٹ کو اس کے انجن کے سٹارٹ ہونے سے قبل نارتھروپ گرومن کے ''ایل1011 اسٹارگیزر‘‘ (L 1011 Stargazer)طیارے سے مارشل جزائر کے اوپر فضا میں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد راکٹ نے اپنا انجن جلایا اور لنک سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا۔ اس کامیاب لانچ سے قبل مشن کو دو مرتبہ مؤخر کرنا پڑا تھا۔ پہلی بار خراب موسم اور بعد ازاں راکٹ کے نیوی گیشن سسٹم سے متعلق سافٹ ویئر خرابی کے باعث پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔ تاہم تمام تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد یہ تاریخی مشن بالآخر کامیابی سے روانہ کر دیا گیا۔پیگاسس (Pegasus) تین مراحل پر مشتمل ایک ٹھوس ایندھن سے چلنے والا لانچ راکٹ ہے، جس کی لمبائی 55 فٹ (16.9 میٹر) ہے۔ یہ راکٹ 1,000 پونڈ (454 کلو گرام) تک وزنی پے لوڈ کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹارگیزر (Stargazer) طیارے سے علیحدہ ہونے کے بعد پیگاسس کے تینوں مراحل یکے بعد دیگرے فعال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں راکٹ تقریباً 10 منٹ کے اندر اپنی مطلوبہ بلندی اور مدار تک پہنچ جاتا ہے۔پیگاسس راکٹ نے 1990ء میں اپنی پہلی پرواز کی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک 45 خلائی مشن کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ اس راکٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے فضا میں موجود طیارے سے داغا جاتا ہے، جس کی بدولت اسے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی لچک اسے ایسے مشکل اور منفرد مداری زاویوں تک رسائی دیتی ہے، جہاں دنیا کے کئی بڑے خلائی اڈوں سے براہِ راست پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی خصوصیت اس بات کی بھی ایک اہم وجہ ہے کہ پیگاسس کو لنک (LINK) نامی روبوٹک سروسنگ سیٹلائٹ کے لانچ کیلئے منتخب کیا گیا۔ یہ سیٹلائٹ ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو زمین کے خط استوا کے مقابلے میں محض 20.6 درجے کے کم مداری زاویے پر گردش کر رہی ہے۔اس مشن کیلئے ناسا کی جانب سے پیگاسس راکٹ کے انتخاب کی ایک اور اہم وجہ وقت کی کمی بھی تھی، کیونکہ سوئفٹ خلائی دوربین کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا تھا۔ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ آبزرویٹری کو نومبر 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں رونما ہونے والے ''گیما رے برسٹس‘‘ (Gamma Ray Bursts) اور دیگر انتہائی طاقتور فلکیاتی مظاہر کا مطالعہ کیا جا سکے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دوربین آج بھی سائنسدانوں کیلئے نہایت قیمتی سائنسی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اس کا مدار اب خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث زمین کے نچلے مدار میں فضائی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سوئفٹ کی رفتار اور بلندی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بالآخر یہ دوربین زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل کر تباہ ہو جائے گی۔بدقسمتی سے سوئفٹ کو اس انداز میں ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا کہ خلا میں اس کی مرمت یا سروسنگ کی جا سکے۔ اسی طرح اس میں ایسے تھرسٹرز (Thrusters) بھی نصب نہیں کیے گئے تھے جو اسے اپنے زور پر دوبارہ بلند اور محفوظ مدار میں منتقل کرنے کے قابل بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسے بچانے کیلئے ایک علیحدہ روبوٹک امدادی مشن ناگزیر ہو گیا تھا۔

دی شارڈ

دی شارڈ

یورپ کی فضاؤں سے ہم کلام عظیم شاہکارانسان نے جب سے تعمیرات کے فن میں مہارت حاصل کی ہے، تب سے وہ آسمان کو چھونے کی آرزو لئے نت نئی اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتا چلا آ رہا ہے۔ جدید دور میں فلک بوس عمارتیں صرف رہائش یا کاروبار کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ وہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، فنی مہارت، انجینئرنگ کی صلاحیت اور شہری منصوبہ بندی کی آئینہ دار بن چکی ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ''دی شارڈ‘‘ بھی جدید تعمیراتی فن کا ایک ایسا ہی بے مثال شاہکار ہے، جو اپنی منفرد ساخت، شیشے سے مزین دلکش بیرونی خدوخال اور فلک بوس بلندی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2012ء کو افتتاح کے بعد یہ عمارت 310 میٹر (1,020 فٹ) کی بلندی کے ساتھ یورپ کی بلند ترین عمارت بن گئی اور آج بھی لندن کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔''دی شارڈ‘‘ دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر لندن برج کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ لندن کے تاریخی اور جدید حصوں کو ایک دوسرے سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف ایک بلند عمارت تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا شہری مرکز قائم کرنا تھا جہاں رہائش، تجارت، سیاحت اور تفریح کی تمام جدید سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔''دی شارڈ‘‘ کا ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ اطالوی معمار رینزو پیانو نے تیار کیا۔ ان کے مطابق اس عمارت کی ساخت چرچ کے میناروں، بحری جہازوں کے بادبانوں اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے شیشے کے ایک نوکیلے ٹکڑے سے متاثر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام ''دی شارڈ‘‘ رکھا گیا، جس کا مطلب شیشے کا نوکیلا ٹکڑا ہے۔ عمارت کے بیرونی حصے میں ہزاروں شیشے کے پینل نصب کیے گئے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی اور موسم کے مطابق اپنا رنگ بدلتے محسوس ہوتے ہیں، جس سے یہ عمارت مزید دلکش دکھائی دیتی ہے۔تقریباً 310 میٹر بلند اس عمارت میں 95منزلیں ہیں، جن میں سے 72 منزلیں قابلِ استعمال ہیں۔ اس میں جدید دفاتر، پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، عالمی معیار کا ہوٹل، اعلیٰ درجے کے ریستوران، کانفرنس ہال اور عوام کیلئے خصوصی مشاہداتی گیلری قائم کی گئی ہے۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر موجود مشاہداتی پلیٹ فارم سے لندن شہر کا تقریباً 65کلومیٹر تک پھیلا ہوا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ صاف موسم میں دریائے ٹیمز، لندن آئی، ٹاور برج، سینٹ پال کیتھیڈرل اور دیگر تاریخی عمارتیں نہایت خوبصورتی سے نظر آتی ہیں۔دی شارڈ جدید انجینئرنگ کا بھی ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں مضبوط فولادی ڈھانچے، اعلیٰ معیار کے کنکریٹ اور توانائی بچانے والے جدید شیشے استعمال کیے گئے ہیں۔ عمارت کی بیرونی سطح اس انداز سے تیار کی گئی ہے کہ قدرتی روشنی زیادہ سے زیادہ اندر داخل ہو سکے، جبکہ حرارت کا ضیاع کم سے کم ہو۔ اس کے باعث توانائی کی بچت ہوتی ہے اور ماحول پر بھی نسبتاً کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دی شارڈ کو جدید اور ماحول دوست تعمیرات کی ایک کامیاب مثال بھی قرار دیا جاتا ہے۔معاشی اعتبار سے بھی دی شارڈ نے لندن کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار ملا، جبکہ افتتاح کے بعد بھی دفاتر، ہوٹل، ریستوران اور دیگر کاروباری مراکز میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا بھر کی متعدد بین الاقوامی کمپنیاں یہاں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں، جس سے لندن کی حیثیت ایک عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔سیاحت کے میدان میں بھی ''دی شارڈ‘‘ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس کی شفاف شیشے کی دیواریں سورج کی روشنی میں چمکتی ہیں، جبکہ رات کے وقت جدید روشنیوں سے مزین یہ عمارت لندن کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کرسمس، نئے سال اور دیگر قومی تقریبات کے دوران دی شارڈ پر خصوصی روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو شہر کی رونق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔اگرچہ یورپ میں وقتاً فوقتاً نئی فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوتی رہتی ہیں، تاہم دی شارڈ اپنی منفرد شناخت، فن تعمیر، سیاحتی اہمیت اور جدید سہولتوں کے باعث آج بھی دنیا کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید انجینئرنگ، تخلیقی سوچ اور مؤثر منصوبہ بندی کسی بھی شہر کو عالمی سطح پر منفرد شناخت دلا سکتی ہے۔دی شارڈ محض شیشے اور فولاد کا ایک بلند ڈھانچہ نہیں بلکہ جدید برطانیہ کی ترقی، اختراع اور تعمیراتی مہارت کی علامت ہے۔ یہ عمارت اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب فن، سائنس اور انجینئرنگ یکجا ہو جائیں تو انسان نہ صرف زمین پر حیرت انگیز تعمیرات تخلیق کر سکتا ہے بلکہ آسمان سے ہم کلام ہونے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔